Sunan Ibne-Majah 3992

فتنوں کا بیان

3992Sunan Ibne-Majah

امتوں کا فرقوں میں بٹ جانا۔

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: افْتَرَقَتْ الْيَهُودُ عَلَى إِحْدَى وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، فَوَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ، وَسَبْعُونَ فِي النَّارِ، وَافْتَرَقَتْ النَّصَارَى عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، فَإِحْدَى وَسَبْعُونَ فِي النَّارِ، وَوَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَتَفْتَرِقَنَّ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، وَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ، وَثِنْتَانِ وَسَبْعُونَ فِي النَّارِ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ هُمْ؟ قَالَ: الْجَمَاعَةُ.

عوف بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہود اکہتر ( ٧١ ) فرقوں میں بٹ گئے جن میں سے ایک جنت میں جائے گا اور ستر ( ٧٠ ) جہنم میں، نصاریٰ کے بہتر فرقے ہوئے جن میں سے اکہتر ( ٧١ ) جہنم میں اور ایک جنت میں جائے گا، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! میری امت تہتر ( ٧٣ ) فرقوں میں بٹ جائے گی جن میں سے ایک فرقہ جنت میں جائے گا، اور بہتر ( ٧٢ ) فر قے جہنم میں ، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! وہ کون ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: الجماعة۔

It was narrated from Awf bin Malik that the Messenger of Allah ﷺ said: "The Jews split into seventy-one sects, one of which will be in Paradise and seventy in Hell. The Christians split into seventy-two sects, seventy-one of which will be in Hell and one in Paradise. I swear by the One in Whose Hand is the soul of Muhammad, my nation will split into seventy-three sects, one of which will be in Paradise and seventy-two in Hell." It was said: "O Messenger of Allah, who are they?" He said: "The main body." (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اہل سنت والجماعت جنہوں نے حدیث اور قرآن کو نہیں چھوڑا اس وجہ سے اہل سنت ہوئے، اور جماعت المسلمین کے ساتھ رہے تھے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٩٠٨، ومصباح الزجاجة: ١٤٠٣) (صحیح) (عباد بن یوسف کندی مقبول راوی ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر حدیث صحیح ہے )