فتنوں سے سلامتی کی امید کس کے متعلق کی جاسکتی ہے۔
حدثنا هشام بن عمار حدثنا عبد العزيز بن محمد الدراوردي حدثنا زيد بن أسلم عن عبد الله بن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «الناس كإبل مائة لا تكاد تجد فيها راحلة».
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگوں کی مثال ان سو اونٹوں کے مانند ہے، جن میں سے ایک بھی سواری کے لائق نہیں پاؤ گے ١ ؎۔
It was narrated from Abdullah bin Umar that the Messenger of Allah ﷺ Said: People are like a hundred camels;you can hardly find worth riding among them. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: سواری میں استعمال ہونے والا جانور نرم مزاج اور سیدھا ہوتا ہے، لیکن عملاً کمیاب، ایسے سیکڑوں آدمیوں میں سے کوئی کوئی ہوتا ہے، جو دوستی اور تعلقات کو استوار کرنے کے لائق ہوتا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اکثر لوگوں میں مختلف انداز کی کمیاں پائی جاتی ہیں، کامل و مکمل اور بھر پور شخصیت والے کم ہی لوگ ہوتے ہیں، امام بخاری نے اس حدیث کو کتاب الرقاق کے باب رفع الامانہ میں اسی لئے ذکر کیا ہے کہ اخیر امت میں لوگ اس باب میں بھی کمیاب ہوں گے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٧٤٠)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الرقاق ٣٥ (٦٤٩٨)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٦٠ (٢٥٤٧)، سنن الترمذی/الأمثال ٧ (٢٨٧٢)، مسند احمد (٢/٧٠، ١٢٣، ١٣٩) (صحیح )