Sunan Ibne-Majah 3711

آداب کا بیان۔

3711Sunan Ibne-Majah

مرد سے کہنا کہ صبح کیسی کی ؟

حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق الْهَرَوِيُّ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ إِسْحَاق بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، حَدَّثَنِي جَدِّي أَبُو أُمِّي مَالِكُ بْنُ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ السَّاعِدِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي أُسَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ: قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ: وَدَخَلَ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، قَالُوا: وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، قَالَ: كَيْفَ أَصْبَحْتُمْ؟، قَالُوا: بِخَيْرٍ نَحْمَدُ اللَّهَ، فَكَيْفَ أَصْبَحْتَ بِأَبِينَا وَأُمِّنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: أَصْبَحْتُ بِخَيْرٍ أَحْمَدُ اللَّهَ.

ابواسید ساعدی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب عباس بن عبدالمطلب ؓ کے یہاں تشریف لے گئے تو فرمایا: السلام عليكم انہوں نے (جواب میں) وعليك السلام ورحمة الله وبرکاته کہا، آپ ﷺ نے فرمایا: كيف أصبحتم آپ نے صبح کیسے کی ؟ جواب دیا: بخير نحمد الله خیریت سے کی اس پر ہم اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں، لیکن آپ نے کیسے کی؟ ہمارے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: الحمد لله میں نے بھی خیریت کے ساتھ صبح کی ۔

It was narrated that Abu Usaid Saidi said: "The Messenger of Allah( ﷺ saw) said to Abbas bin Abdul-Muttalib, when he entered upon them: "As-Salamu alaikum They said: Wa alaikas-salamuwa rahmatullahi wa barakutuhu: He said: How are you this morning? They said: Well, praise is to Allah. And how are you this morning, may our fathers and mothers be ransomed for you, a Messenger of Allah? ﷺ He said: I am well, praise is to Allah." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١١٩٣، ومصباح الزجاجة: ١٢٩٤) (ضعیف) (سند میں عبد اللہ بن عثمان مستور راوی ہیں، امام بخاری فرماتے ہیں، مالک بن حمزہ عن أبیہ عن جدہ أن النبی ﷺ دعا للعباس، الحدیث لایتابع علیہ اس کا کوئی متابع نہیں ہے )