ذمی کافروں کو سلام کا جواب کیسے دیں ؟
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، فَقُولُوا وَعَلَيْكُمْ.
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب اہل کتاب (یہود و نصاریٰ ) میں سے کوئی تمہیں سلام کرے تو تم (جواب میں صرف) وعليكم کہو (یعنی تم پر بھی تمہاری نیت کے مطابق) ۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: When any of the People of the Book greets you with Salam (peace), then say, Wa alaikum (and also upon you)."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٢٧)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الإستئذان ٢٢ (٦٢٥٨)، استتابة المرتدین ٤ (٦٩٢٦)، صحیح مسلم/السلام ٤ (٢١٦٣)، سنن ابی داود/الأدب ١٤٩ (٥٢٠٧)، سنن الترمذی/تفسیر القرآن ٥٨ (٣٣٠١)، مسند احمد (٣/١٤٠، ١٤٤، ١٩٢، ٢١٤، ٢٤٣، ٢٦٢، ٢٨٩) (صحیح )