Sunan Ibne-Majah 3503

طب کا بیان

3503Sunan Ibne-Majah

اونٹوں کے پیشاب کا بیان۔

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ نَاسًا مِنْ عُرَيْنَةَ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ خَرَجْتُمْ إِلَى ذَوْدٍ لَنَا، فَشَرِبْتُمْ مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَافَفَعَلُوا.

انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ آئے، انہیں مدینے کی آب و ہوا راس نہ آئی، اور بیمار ہوگئے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر تم ہمارے اونٹوں کے پاس جا کر ان کے دودھ اور پیشاب پیتے (تو اچھا ہوتا) ، تو انہوں نے ایسا ہی کیا ١ ؎۔

It was narrated from Anas that some people from Umamah came to the Messenger of Allah ﷺ but they were averse to the climate of AI-Madinah. He said: "Why dont you go out to a flock of camels of ours, and drink their milk and urine." And they did that. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اونٹ کے پیشاب سے علاج کو آپ ﷺ نے مباح قرار دیا، لہذا ونٹ کے پیشاب کو شراب پر قیاس نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ شراب کے حرام ہونے اور اونٹ کے پیشاب کے مباح ہونے کے سلسلہ میں احادیث الگ الگ وارد ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٦٧ (٢٣٧)، الزکاة ٦٨ (١٥٠١)، الجہاد ١٥٢ (٣٠١٨)، المغازي ٣٧ (٤١٩٢، ٤١٩٣)، الطب ٥ (٥٦٨٥)، ٦ (٥٦٨٦)، ٢٩ (٥٧٢٧)، الحدود ١ (٦٨٠٢)، ٢ (٦٨٠٣)، ٣ (٦٨٠٤)، ٤ (٦٨٠٥)، الدیات ٢٢ (٦٨٩٩)، صحیح مسلم/القسامة ٢ (١٦٧١)، سنن الترمذی/الحدود ٣ (٤٣٦٤)، الأطعمة ٣٨ (١٨٤٥)، الطب ٦ (٢٠٤٢)، سنن النسائی/الطہارة ١٩١ (٣٠٦)، (تحفة الأشراف: ٧٢٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٦١، ١٦٣، ١٧٠، ٢٣٣) (صحیح) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: ٢٥٧٨ )