دشمن کے علاقوں میں قرآن لے جانے سے ممانعت۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ كَانَ يَنْهَى أَنْ يُسَافَرَ بِالْقُرْآنِ إِلَى أَرْضِ الْعَدُوِّ، مَخَافَةَ أَنْ يَنَالَهُ الْعَدُوُّ.
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ دشمن کی سر زمین میں قرآن لے کر جانے سے منع فرماتے تھے، کیونکہ یہ خطرہ ہے کہ کہیں دشمن اسے پا نہ لیں ١ ؎۔
It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah ﷺ used to forbid traveling with the Quran to the land of the enemy, lest the enemy gets hold of it. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس کی بےحرمتی کر بیٹھیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإمارة ٢٤ (١٨٦٩)، (تحفة الأشراف: ٨٢٨٦) (صحیح )