کتے کی قیمت زنا کی اجرت نجومی کی اجرت اور سانڈ چھوڑنے کی اجرت سے ممانعت۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، أَنْبَأَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَمَنِ السِّنَّوْرِ.
جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بلی کی قیمت سے منع کیا ہے۔
It was narrated from Abu Az-Zubair that Jabir said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade the price of a cat." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ بلی بلا قیمت اکثر جگہوں پر مل جاتی ہے، اور اس کی نسل بھی بہت ہوتی ہے، قیمت سے خریدنے کی ضرورت نہیں ہوتی، اکثر علماء کہتے ہیں کہ یہ نہی تنزیہی ہے (یعنی نہ خریدنا زیادہ اچھا ہے)، ابوہریرہ ؓ اور تابعین کی ایک جماعت سے یہ مروی ہے کہ بلی کی قیمت کسی حال میں لینا جائز نہیں، اور اہل حدیث کا بھی یہی مذہب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ: (تحفة الأشراف: ٢٧٨٣)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/البیوع ٤٩ (١٢٧٩)، سنن النسائی/الصید ١٦ (٤٣٠٠)، البیوع ٩٠ (٤٦٧٢)، سنن ابی داود/البیوع ٦٤ (٣٤٧٩)، مسند احمد (٣/٣٣٩، ٣٤٩) (صحیح) (سند میں ابن لہیعہ مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، ایسا ہی ابوالزبیر کی روایت کا معاملہ ہے، لیکن شواہد کی بناء پر حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الصحیحة: ٢٩٧١ )