(عورت کو اپنے پر) حرام کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ قَزْعَةَ، حَدَّثَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْعَائِشَةَ، قَالَتْ: آلَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نِسَائِهِ، وَحَرَّمَ فَجَعَلَ الْحَرامَ حَلالا، وَجَعَلَ فِي الْيَمِينِ كَفَّارَةً.
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیویوں سے ایلاء کیا، اور اپنے اوپر حلال کو حرام ٹھہرا لیا ١ ؎ اور قسم کا کفارہ ادا کیا ٢ ؎۔
It was narrated that Aisha (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ swore to keep away from his wives and declared them as unlawful for him, so he made something permissible forbidden, and he offered expiation for having sworn to do so.” (Da’if)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ماریہ قبطیہ کو یا شہد کو۔ ٢ ؎: مطلب یہ ہے کہ کوئی اپنی بیوی کو اپنے اوپر حرام کرلے تو طلاق نہ پڑے گی، بلکہ قسم کا کفارہ دینا ہوگا، قسم کا کفارہ قرآن مجید میں مذکور ہے، دس مسکینوں کو کھانا کھلانا، یا ان کو کپڑا پہنانا، یا ایک مومن غلام آزاد کرنا، اور اگر ان تینوں میں سے کوئی چیز بھی میسر نہ ہو تو تین دن کا روزہ رکھنا۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطلاق ٢١ (١٢٠١)، (تحفة الأشراف: ١٧٦٢١) (صحیح )