Sunan Ibne-Majah 2065

طلاق کا بیان

2065Sunan Ibne-Majah

کفارہ سے قبل ہی اگر ظہار کرنے والا جماع کر بیٹھے۔

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا ظَاهَرَ مِنَ امْرَأَتِهِ، فَغَشِيَهَا قَبْلَ أَنْ يُكَفِّرَ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: مَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَأَيْتُ بَيَاضَ حِجْلَيْهَا فِي الْقَمَرِ، فَلَمْ أَمْلِكْ نَفْسِي أَنْ وَقَعْتُ عَلَيْهَا، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَوَأَمَرَهُ أَلَّا يَقْرَبَهَا حَتَّى يُكَفِّرَ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے ظہار کیا، اور کفارہ کی ادائیگی سے قبل ہی جماع کرلیا، چناچہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور آپ سے اس کا ذکر کیا، آپ ﷺ نے پوچھا: تم نے ایسا کیوں کیا ؟ وہ بولا: اللہ کے رسول! میں نے اس کے پازیب کی سفیدی چاندنی رات میں دیکھی، میں بےاختیار ہوگیا، اور اس سے جماع کر بیٹھا، رسول اللہ ﷺ مسکرائے، اور اسے حکم دیا کہ کفارہ کی ادائیگی سے پہلے اس کے قریب نہ جائے۔

It was narrated from Ibn Abbas that a man declared Zihar upon his wife, then he had intercourse with her before offering expiation. He came to the Prophet ﷺ and told him about that. He said: "What made you do that?" He said: "I saw her ankles in the moonlight, and I could not control myself, and I had intercourse with her." The Messenger of Allah ﷺ smiled and told him not to go near her until he had offered expiation. (Hasan)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطلاق ١٧ (٢٢٢٣)، سنن الترمذی/الطلاق ١٩ (١١٩٩)، سنن النسائی/الطلاق ٣٣ (٣٤٨٧)، (تحفة الأشراف: ٦٠٣٦) (حسن) (سند میں حکم بن ابان ضعیف الحفظ ہیں، لیکن شواہد کی وجہ سے یہ حسن ہے )