ظہار کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْعُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: تَبَارَكَ الَّذِي وَسِعَ سَمْعُهُ كُلَّ شَيْءٍ، إِنِّي لَأَسْمَعُ كَلَامَ خَوْلَةَ بِنْتِ ثَعْلَبَةَ وَيَخْفَى عَلَيَّ بَعْضُهُ وَهِيَ تَشْتَكِي زَوْجَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهِيَ تَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَكَلَ شَبَابِي، وَنَثَرْتُ لَهُ بَطْنِي حَتَّى إِذَا كَبِرَتْ سِنِّي، وَانْقَطَعَ وَلَدِي ظَاهَرَ مِنِّي اللَّهُمَّ إِنِّي أَشْكُو إِلَيْكَ فَمَا بَرِحَتْ حَتَّى نَزَلَ جِبْرَائِيلُ بِهَؤُلَاءِ الْآيَاتِ قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللَّهِ سورة المجادلة آية 1.
ام المؤمنین عائشہ ؓ نے کہا بابرکت ہے وہ ذات جو ہر چیز کو سنتی ہے، میں خولہ بنت ثعلبہ ؓ کی بات سن رہی تھی، کچھ باتیں سمجھ میں نہیں آرہی تھیں، وہ رسول اللہ ﷺ سے اپنے شوہر کی شکایت کر رہی تھیں کہ میرا شوہر میری جوانی کھا گیا، میں اس کی اولاد جنتی رہی، جب میں بوڑھی ہوگئی اور ولادت کا سلسلہ منقطع ہوگیا، تو اس نے مجھ سے ظہار کرلیا، اے اللہ! میں تجھ ہی سے شکوہ کرتی ہوں، وہ ابھی وہاں سے ہٹی بھی نہیں تھیں کہ جبرائیل (علیہ السلام) یہ آیتیں لے کر اترے: قد سمع الله قول التي تجادلک في زوجها وتشتکي إلى الله (سورة المجادلة: 1) اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو تجھ سے اپنے شوہر کے بارے میں جھگڑ رہی تھی اور اللہ سے شکوہ کر رہی تھی ١ ؎۔
It was narrated from Urwah bin Zubair, that Aisha (RA) said: "Blessed is the One Whose hearing encompasses all things. I heard some of the words of Khawlah bint ThaIabah, but some of her words were not clear to me, when she complained to the Messenger of Allah ﷺ about her husband, and said: O Messenger of Allah, he has consumed my youth and I split my belly for him (i.e., bore him many children), but when I grew old and could no longer bear children, he declared Zihar upon me; O Allah, I complain to You. She continued to complain until Jibrai l brought down these Verses: Indeed Allah has heard the statement of she who pleads with you ( O Muhammad ﷺ ) concerning her husband, and complains to Allah. (Sahih)