Sahih Bukhariصحيح البخاری

All 7,282 hadiths in order · Page 317 of 365

6748Sahih Bukhariصحیح

لعان کرنے والوں کی میراث کا بیان

حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَاأَنَّ رَجُلًا لَاعَنَ امْرَأَتَهُ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَانْتَفَى مِنْ وَلَدِهَا، فَفَرَّقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا، وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالْمَرْأَةِ.

مجھ سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا، کہا ہم سے مالک نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر (رض) نے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں لعان کیا اور اس کے بچہ کو اپنا بچہ ماننے سے انکار کردیا تو نبی کریم ﷺ نے دونوں کے درمیان جدائی کرا دی اور بچہ عورت کو دے دیا۔

Narrated Ibn Umar (RA) : A man and his wife had a case of Lian (or Mulaana) during the lifetime of the Prophet ﷺ and the man denied the paternity of her child. The Prophet ﷺ gave his verdict for their separation (divorce) and then the child was regarded as belonging to the wife only.

6749Sahih Bukhariصحیح

بچہ عورت کو ملے گا، خواہ وہ آزاد ہو یا لونڈی۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ عُتْبَةُ عَهِدَ إِلَى أَخِيهِ سَعْدٍ أَنَّ ابْنَ وَلِيدَةِ زَمْعَةَ مِنِّي، فَاقْبِضْهُ إِلَيْكَ، فَلَمَّا كَانَ عَامَ الْفَتْحِ أَخَذَهُ سَعْدٌ، فَقَالَ: ابْنُ أَخِي عَهِدَ إِلَيَّ فِيهِ، فَقَامَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ، فَقَالَ: أَخِي وَابْنُ وَلِيدَةِ أَبِي وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ، فَتَسَاوَقَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ابْنُ أَخِي قَدْ كَانَ عَهِدَ إِلَيَّ فِيهِ، فَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ: أَخِي وَابْنُ وَلِيدَةِ أَبِي وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ، الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ، ثُمَّ قَالَ لِسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ: احْتَجِبِي مِنْهُ لِمَا رَأَى مِنْ شَبَهِهِ بِعُتْبَةَ فَمَا رَآهَا حَتَّى لَقِيَ اللَّهَ.

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں عروہ نے اور ان سے عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ عتبہ اپنے بھائی سعد (رض) کو وصیت کر گیا تھا کہ زمعہ کی کنیز کا لڑکا میرا ہے اور اسے اپنی پرورش میں لے لینا۔ فتح مکہ کے سال سعد (رض) نے اسے لینا چاہا اور کہا کہ میرے بھائی کا لڑکا ہے اور اس نے مجھے اس کے بارے میں وصیت کی تھی۔ اس پر عبد بن زمعہ (رض) کھڑے ہوئے اور کہا کہ یہ میرا بھائی ہے اور میرے باپ کی لونڈی کا لڑکا ہے، اس کے بستر پر پیدا ہوا ہے۔ آخر یہ دونوں یہ معاملہ رسول اللہ ﷺ کے پاس لے گئے تو سعد (رض) نے کہا : یا رسول اللہ ! ، یہ میرے بھائی کا لڑکا ہے اس نے اس کے بارے میں مجھے وصیت کی تھی۔ عبد بن زمعہ نے کہا کہ یہ میرا بھائی ہے، میرے باپ کی باندی کا لڑکا اور باپ کے بستر پر پیدا ہوا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا، عبد بن زمعہ ! یہ تمہارے پاس رہے گا، لڑکا بستر کا حق ہے اور زانی کے حصہ میں پتھر ہیں۔ پھر سودہ بنت زمعہ (رض) سے کہا کہ اس لڑکے سے پردہ کیا کر کیونکہ عتبہ کے ساتھ اس کی شباہت آپ ﷺ نے دیکھ لی تھی۔ چناچہ پھر اس لڑکے نے ام المؤمنین کو اپنی وفات تک نہیں دیکھا۔

Narrated Aisha (RA) : Utba (bin Abi Waqqas) said to his brother Sad, "The son of the slave girl of Zama is my son, so be his custodian." So when it was the year of the Conquest of Makkah, Sad took that child and said, "He is my nephew, and my brother told me to be his custodian." On that, Abu bin Zama got up and said, but the child is my brother, and the son of my fathers slave girl as he was born on his bed." So they both went to the Prophet. Sad said, "O Allahs Apostle ﷺ ! (This is) the son of my brother and he told me to be his custodian." Then Abu bin Zama said, "(But he is) my brother and the son of the slave girl of my father, born on his bed." The Prophet ﷺ said, "This child is for you. O Abu bin Zama, as the child is for the owner of the bed, and the adulterer receives the stones." He then ordered (his wife) Sauda bint Zama to cover herself before that boy as he noticed the boys resemblance to Utba. Since then the boy had never seen Sauda till he died.

6750Sahih Bukhariصحیح

بچہ عورت کو ملے گا، خواہ وہ آزاد ہو یا لونڈی۔

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ : أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْوَلَدُ لِصَاحِبِ الْفِرَاشِ.

ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن زیاد نے بیان کیا، انہوں نے ابوہریرہ (رض) سے سنا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا لڑکا بستر والے کا حق ہوتا ہے۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said, "The boy is for the owner of the bed."

6751Sahih Bukhariصحیح

ولاء اس کے لئے ہے جو آزاد کرے۔ اور لقیط کی میراث کا بیان حضرت عمر نے کہا لقیط آزاد ہے

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: اشْتَرَيْتُ بَرِيرَةَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اشْتَرِيهَا فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ، وَأُهْدِيَ لَهَا شَاةٌ، فَقَالَ: هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ، قَالَ الْحَكَمُ: وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا وَقَوْلُ الْحَكَمِ: مُرْسَلٌ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: رَأَيْتُهُ عَبْدًا.

ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حکم نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے اسود نے اور ان سے عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ میں نے بریرہ (رض) کو خریدنا چاہا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ انہیں خرید لے، ولاء تو اس کے ساتھ قائم ہوتی ہے جو آزاد کر دے اور بریرہ (رض) کو ایک بکری ملی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ یہ ان کے لیے صدقہ تھی لیکن ہمارے لیے ہدیہ ہے۔ حکم نے بیان کیا کہ ان کے شوہر آزاد تھے۔ حکم کا قول مرسل منقول ہے۔ ابن عباس (رض) نے کہا کہ میں نے انہیں غلام دیکھا تھا۔

Narrated Aisha (RA) : I bought Barira (a female slave). The Prophet ﷺ said (to me), "Buy her as the Wala is for the manumitted." Once she was given a sheep (in charity). The Prophet ﷺ said, "It (the sheep) is a charitable gift for her (Barira) and a gift for us." Al-Hakam said, "Bariras husband was a free man." Ibn Abbas (RA) said, When I saw him, he was a slave."

6752Sahih Bukhariصحیح

ولاء اس کے لئے ہے جو آزاد کرے۔ اور لقیط کی میراث کا بیان حضرت عمر نے کہا لقیط آزاد ہے

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ.

ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے مالک نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر (رض) نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ولاء اسی کے ساتھ قائم ہوتی ہے جو آزاد کر دے۔

Narrated Ibn Umar (RA) : The Prophet ﷺ said, "The Wala is for the manumitted (of the slave)."

6753Sahih Bukhariصحیح

سائبہ کی میراث کا بیان

حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ ، عَنْ هُزَيْلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: إِنَّ أَهْلَ الْإِسْلَامِ لَا يُسَيِّبُونَ، وَإِنَّ أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ كَانُوا يُسَيِّبُونَ.

ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ابوقیس نے، ان سے ہزیل نے انہوں نے عبداللہ سے نقل کیا، انہوں نے فرمایا کہ عبداللہ (رض) نے فرمایا مسلمان سائبہ نہیں بناتے اور دور جاہلیت میں مشرکین سائبہ بناتے تھے۔

Narrated Abdullah (RA) : The Muslims did not free slaves as Saiba, but the People of the Pre-lslamic Period of Ignorance used to do so.

6754Sahih Bukhariصحیح

سائبہ کی میراث کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، اشْتَرَتْ بَرِيرَةَ لِتُعْتِقَهَا، وَاشْتَرَطَ أَهْلُهَا وَلَاءَهَا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي اشْتَرَيْتُ بَرِيرَةَ لِأُعْتِقَهَا، وَإِنَّ أَهْلَهَا يَشْتَرِطُونَ وَلَاءَهَا، فَقَالَ: أَعْتِقِيهَا فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ، أَوْ قَالَ أَعْطَى الثَّمَنَ، قَالَ: فَاشْتَرَتْهَا فَأَعْتَقَتْهَا، قَالَ وَخُيِّرَتْ، فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا، وَقَالَتْ: لَوْ أُعْطِيتُ كَذَا وَكَذَا مَا كُنْتُ مَعَهُ، قَالَ الْأَسْوَدُ: وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا. قَوْلُ الْأَسْوَدِ: مُنْقَطِعٌ، وَقَوْلُ ابْنِ عَبَّاسٍ: رَأَيْتُهُ عَبْدًا: أَصَحُّ.

ہم سے موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے اسود نے اور ان سے عائشہ (رض) نے کہ بریرہ کو انہوں نے آزاد کرنے کے لیے خریدنا چاہا لیکن ان کے نائکوں نے اپنے ولاء کی شرط لگا دی عائشہ (رض) نے کہا یا رسول اللہ ! میں نے آزاد کرنے کے لیے بریرہ کو خریدنا چاہا لیکن ان کے مالکوں نے اپنے لیے ان کی ولاء کی شرط لگا دی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ انہیں آزاد کر دے، ولاء تو آزاد کرنے والے کے ساتھ قائم ہوتی ہے۔ بیان کیا کہ پھر میں نے انہیں خریدا اور آزاد کردیا اور میں نے بریرہ کو اختیار دیا (کہ چاہیں تو شوہر کے ساتھ رہ سکتی ہیں ورنہ علیحدہ بھی ہوسکتی ہیں) تو انہوں نے شوہر سے علیحدگی کو پسند کیا اور کہا کہ مجھے اتنا اتنا مال بھی دیا جائے تو میں پہلے شوہر کے ساتھ نہیں رہوں گی۔ اسود نے بیان کیا کہ ان کے شوہر آزاد تھے۔ اسود کا قول منقطع ہے اور ابن عباس (رض) کا قول صحیح ہے کہ میں نے انہیں غلام دیکھا۔

Narrated Al-Aswad (RA) : Aisha (RA) bought Barira in order to manumit her, but her masters stipulated that her Wala (after her death) would be for them. Aisha (RA) said, "O Allahs Apostle ﷺ ! I have bought Barira in order to manumit her, but her masters stipulated that her Wala will be for them." The Prophet ﷺ said, "Manumit her as the Wala is for the one who manumits (the slave)," or said, "The one who pays her price." Then Aisha (RA) bought and manumitted her. After that, Barira was given the choice (by the Prophet) (to stay with her husband or leave him). She said, "If he gave me so much and so much (money) I would not stay with him." (Al-Aswad added: Her husband was a free man.) The sub-narrator added: The series of the narrators of Al-Aswads statement is incomplete. The statement of Ibn Abbas (RA) , i.e., when I saw him he was a slave, is more authentic.

6755Sahih Bukhariصحیح

اس شخص کا گناہ جو اپنے مالکوں کی مرضی کے خلاف کام کرے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: مَا عِنْدَنَا كِتَابٌ نَقْرَؤُهُ إِلَّا كِتَابُ اللَّهِ غَيْرَ هَذِهِ الصَّحِيفَةِ، قَالَ: فَأَخْرَجَهَا فَإِذَا فِيهَا أَشْيَاءُ مِنَ الْجِرَاحَاتِ وَأَسْنَانِ الْإِبِلِ، قَالَ: وَفِيهَا الْمَدِينَةُ حَرَمٌ مَا بَيْنَ عَيْرٍ إِلَى ثَوْرٍ، فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ، وَمَنْ وَالَى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ، وَالْمَلَائِكَةِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ، وَذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ، يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ، فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ، وَالْمَلَائِكَةِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ.

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم تیمی نے، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ علی (رض) نے بتلایا کہ ہمارے پاس کوئی کتاب نہیں ہے جسے ہم پڑھیں، سوا اللہ کی کتاب قرآن کے اور اس کے علاوہ یہ صحیفہ بھی ہے۔ بیان کیا کہ پھر وہ صحیفہ نکالا تو اس میں زخموں (کے قصاص) اور اونٹوں کی زکوٰۃ کے مسائل تھے۔ راوی نے بیان کیا کہ اس میں یہ بھی تھا کے عیر سے ثور تک مدینہ حرم ہے جس نے اس دین میں کوئی نئی بات پیدا کی یا نئی بات کرنے والے کو پناہ دی تو اس پر اللہ اور فرشتوں اور انسانوں سب کی لعنت ہے اور قیامت کے دن اس کا کوئی نیک عمل مقبول نہ ہوگا اور جس نے اپنے مالکوں کی اجازت کے بغیر دوسرے لوگوں سے مولات قائم کرلی تو اس پر فرشتوں اور انسانوں سب کی لعنت ہے، قیامت کے دن اس کا کوئی نیک عمل مقبول نہ ہوگا اور مسلمانوں کا ذمہ (قول و قرار، کسی کو پناہ دینا وغیرہ) ایک ہے۔ ایک ادنی مسلمان کے پناہ دینے کو بھی قائم رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔ پس جس نے کسی مسلمان کی دی ہوئی پناہ کو توڑا، اس پر اللہ کی، فرشتوں اور انسانوں سب کی لعنت ہے قیامت کے دن اس کا کوئی نیک عمل قبول نہیں کیا جائے گا۔

Narrated Ali (RA) : We have no Book to recite except the Book of Allah (Quran) and this paper. Then Ali took out the paper, and behold ! There was written in it, legal verdicts about the retaliation for wounds, the ages of the camels (to be paid as Zakat or as blood money). In it was also written: Medina is a sanctuary from Air (mountain) to Thaur (mountain). So whoever innovates in it an heresy (something new in religion) or commits a crime in it or gives shelter to such an innovator, will incur the curse of Allah, the angels and all the people, and none of his compulsory or optional good deeds will be accepted on the Day of Resurrection. And whoever (a freed slave) takes as his master (i.e. be-friends) some people other than hi real masters without the permission of his real masters, will incur the curse of Allah, the angels and all the people, and none of his compulsory, or optional good deeds will be accepted on the Day of Resurrection. And the asylum granted by any Muslim is to be secured by all the Muslims, even if it is granted by one of the lowest social status among them; and whoever betrays a Muslim, in this respect will incur the curse of Allah, the angels, and all the people, and none of his Compulsory or optional good deeds will be accepted on the Day of Resurrection."

6756Sahih Bukhariصحیح

اس شخص کا گناہ جو اپنے مالکوں کی مرضی کے خلاف کام کرے

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ، وَعَنْ هِبَتِهِ.

ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے اور ان سے ابن عمر (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے ولاء کے تعلق کو بیچنے، اس کو ہبہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔

Narrated Ibn Umar (RA) : The Prophet ﷺ forbade the selling of the Wala (of slaves) or giving it as a present.

6757Sahih Bukhariصحیح

جب کوئی (کافر) کسی مسلمان کے ہاتھ پر اسلام لائے۔ توحسن اس کے لیے ولاء نہیں سمجھتے تھے اور نبی ﷺ نے فرمایا کہ ولاء اس کے لئے ہے جو آزاد کرے اور تمیم داری سے بطریقہ رفع منقول ہے کہ آپ نے فرمایا کہ وہ اور لوگوں کے اعتبار سے اس میں موت اور زندگانی میں زیادہ قریب ہے اور لوگوں نے اس خبر کی صحت میں اختلاف کیا ہے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ جَارِيَةً تُعْتِقُهَا، فَقَالَ أَهْلُهَا: نَبِيعُكِهَا عَلَى أَنَّ وَلَاءَهَا لَنَا، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لَا يَمْنَعُكِ ذَلِكِ، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ.

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ان سے امام مالک (رح) نے بیان کیا، ان سے نافع نے، ان سے ابن عمر (رض) نے کہ ام المؤمنین عائشہ (رض) نے ایک کنیز کو آزاد کرنے کے لیے خریدنا چاہا تو کنیز کے مالکوں نے کہا کہ ہم بیچ سکتے ہیں لیکن ولاء ہمارے ساتھ ہوگی۔ ام المؤمنین نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس شرط کو مانع نہ بننے دو ، ولاء ہمیشہ اسی کے ساتھ قائم ہوتی ہے جو آزاد کرے۔

Narrated Ibn Umar (RA): That Aisha (RA) , the mother of the Believers, intended to buy a slave girl in order to manumit her. The slave girls master said, "We are ready to sell her to you on the condition that her Wala should be for us." Aisha (RA) mentioned that to Allahs Apostle ﷺ who said, "This (condition) should not prevent you from buying her, for the Wala is for the one who manumits (the slave)."

6758Sahih Bukhariصحیح

جب کوئی (کافر) کسی مسلمان کے ہاتھ پر اسلام لائے۔ توحسن اس کے لیے ولاء نہیں سمجھتے تھے اور نبی ﷺ نے فرمایا کہ ولاء اس کے لئے ہے جو آزاد کرے اور تمیم داری سے بطریقہ رفع منقول ہے کہ آپ نے فرمایا کہ وہ اور لوگوں کے اعتبار سے اس میں موت اور زندگانی میں زیادہ قریب ہے اور لوگوں نے اس خبر کی صحت میں اختلاف کیا ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: اشْتَرَيْتُ بَرِيرَةَ، فَاشْتَرَطَ أَهْلُهَا وَلَاءَهَا، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَعْتِقِيهَا فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْطَى الْوَرِقَ، قَالَتْ: فَأَعْتَقْتُهَا، قَالَتْ: فَدَعَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَيَّرَهَا مِنْ زَوْجِهَا، فَقَالَتْ: لَوْ أَعْطَانِي كَذَا وَكَذَا مَا بِتُّ عِنْدَهُ، فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا، قَالَ: وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا.

ہم سے محمد نے بیان کیا، کہا ہم کو جریر نے خبر دی، انہیں منصور نے، انہیں ابراہیم نے، انہیں اسود نے اور ان سے عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ میں نے بریرہ کو خریدنا چاہا تو ان کے مالکوں نے شرط لگائی کہ ولاء ان کے ساتھ قائم ہوگی۔ میں نے اس کا تذکرہ نبی کریم ﷺ سے کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ انہیں آزاد کر دو ، ولاء قیمت ادا کرنے والے ہی کے ساتھ قائم ہوتی ہے۔ بیان کیا کہ پھر میں نے آزاد کردیا۔ پھر انہیں نبی کریم ﷺ نے بلایا اور ان کے شوہر کے معاملہ میں اختیار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر مجھے یہ یہ چیزیں بھی وہ دیدے تو میں اس کے ساتھ رات گزارنے کے لیے تیار نہیں۔ چناچہ اس نے شوہر سے علیحدگی کو پسند کیا۔

Narrated Al-Aswad (RA) : Aisha said, "I bought Barira and her masters stipulated that the Wala would be for them." Aisha (RA) mentioned that to the Prophet ﷺ and he said, "Manumit her, as the Wala is for the one who gives the silver (i.e. pays the price for freeing the slave)." Aisha (RA) added, "So I manumitted her. After that, the Prophet ﷺ caller her (Barira) and gave her the choice to go back to her husband or not. She said, "If he gave me so much and so much (money) I would not stay with him." So she selected her ownself (i.e. refused to go back to her husband)."

6759Sahih Bukhariصحیح

اس امر کا بیان کہ عورت ولاء کی مستحق ہوگی۔

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: أَرَادَتْ عَائِشَةُ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ، فَقَالَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّهُمْ يَشْتَرِطُونَ الْوَلَاءَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اشْتَرِيهَا فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ.

ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر (رض) نے بیان کیا کہ عائشہ (رض) نے بریرہ (رض) کو خریدنا چاہا اور رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ یہ لوگ ولاء کی شرط لگاتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ خرید لو، ولاء تو اسی کے ساتھ قائم ہوتی ہے جو آزاد کرے (آزاد کرائے) ۔

Narrated Ibn Umar (RA): When Aisha (RA) intended to buy Barira, she said to the Prophet, "Bariras masters stipulated that they will have the Wala." The Prophet ﷺ said (to Aisha (RA) ), "Buy her, as the Wala is for the one who manumits."

6760Sahih Bukhariصحیح

اس امر کا بیان کہ عورت ولاء کی مستحق ہوگی۔

حَدَّثَنَا ابْنُ سَلَامٍ ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْطَى الْوَرِقَ، وَوَلِيَ النِّعْمَةَ.

ہم سے ابن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو وکیع نے خبر دی، انہیں سفیان نے، انہیں منصور نے، انہیں ابراہیم نے، انہیں اسود نے، اور ان سے عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ولاء اس کے ساتھ قائم ہوگی جو قیمت دے اور احسان کرے (آزاد کر کے) ۔

Narrated Aisha (RA) : Allahs Apostle ﷺ said, "The wala is for the one who gives the silver (pays the price) and does the favor (of manumission after paying the price)."

6761Sahih Bukhariصحیح

کسی قوم کا آزاد کردہ ان ہی میں سے ہے۔ اور بہن بیٹا بھی انہی میں سے ہے

حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ قُرَّةَ ، وَقَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَوْلَى الْقَوْمِ مِنْ أَنْفُسِهِمْأَوْ كَمَا قَالَ.

ہم سے آدم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے معاویہ بن قرہ اور قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کسی گھرانے کا غلام اسی کا ایک فرد ہوتا ہے أو كما قال.۔

Narrated Anas bin Malik (RA): The Prophet ﷺ said, "The freed slave belongs to the people who have freed him," or said something similar.

6762Sahih Bukhariصحیح

کسی قوم کا آزاد کردہ ان ہی میں سے ہے۔ اور بہن بیٹا بھی انہی میں سے ہے

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ أَوْ مِنْ أَنْفُسِهِمْ.

ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک (رض) نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی گھرانے کا بھانجا اس کا ایک فرد ہے۔ ( منهم. یا من أنفسهم کے الفاظ فرمائے) ۔

Narrated Anas bin Malik (RA): The Prophet ﷺ said, "The son of the sister of some people is from them or from their own selves."

6763Sahih Bukhariصحیح

26- بَابُ لاَ يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ وَلاَ الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ، وَإِذَا أَسْلَمَ قَبْلَ أَنْ يُقْسَمَ الْمِيرَاثُ فَلاَ مِيرَاثَ لَهُ:

باب : مسلمان کافر کا وارث نہیں ہوسکتا اور نہ کافر مسلمان کا اور اگر میراث کی تقسیم سے پہلے اسلام لایا تب بھی میراث میں اس کا حق نہیں ہوگا

Narrated Abu Huraira: The Prophet said, If somebody dies (among the Muslims) leaving some property, the property will go to his heirs; and if he leaves a debt or dependants, we will take care of them.

6764Sahih Bukhariصحیح

27- بَابُ مِيرَاثِ الْعَبْدِ النَّصْرَانِيِّ وَمُكَاتَبِ النَّصْرَانِيِّ، وَإِثْمِ مَنِ انْتَفَى مِنْ وَلَدِهِ:

باب : عیسائی غلام یا مکاتب عیسائی کی وراثت کا بیان اور جو اپنے بیٹے کی نفی کر دے اس کے گناہ کا بیان

Narrated Usama bin Zaid: the Prophet said, A Muslim cannot be the heir of a disbeliever, nor can a disbeliever be the heir of a Muslim.

6765Sahih Bukhariصحیح

اس شخص کا بیان جو کسی کے بھائی اور بھتیجا ہونے کا دعوی کرے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: اخْتَصَمَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، وَعَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ فِي غُلَام، فَقَالَ سَعْدٌ: هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، ابْنُ أَخِي عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَهِدَ إِلَيَّ أَنَّهُ ابْنُهُ انْظُرْ إِلَى شَبَهِهِ، وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ: هَذَا أَخِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِي مِنْ وَلِيدَتِهِ، فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى شَبَهِهِ فَرَأَى شَبَهًا بَيِّنًا بِعُتْبَةَ، فَقَالَ: هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ، الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ، وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ بِنْتَ زَمْعَةَ، قَالَتْ: فَلَمْ يَرَ سَوْدَةَ قَطُّ.

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ سعد بن ابی وقاص اور عبد بن زمعہ (رض) کا ایک لڑکے کے بارے میں جھگڑا ہوا۔ سعد (رض) نے کہا کہ یا رسول اللہ ! یہ میرے بھائی عتبہ بن ابی وقاص کا لڑکا ہے، اس نے مجھے وصیت کی تھی کہ یہ اس کا لڑکا ہے آپ اس کی مشابہت اس میں دیکھئیے اور عبد بن زمعہ نے کہا کہ میرا بھائی ہے یا رسول اللہ ! میرے والد کے بستر پر ان کی لونڈی سے پیدا ہوا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے لڑکے کی صورت دیکھی تو اس کی عتبہ کے ساتھ صاف مشابہت واضح تھی، لیکن آپ ﷺ نے فرمایا، عبد ! لڑکا بستر والے کا ہوتا ہے اور زانی کے حصہ میں پتھر ہیں اور اے سودہ بنت زمعہ ! (ام المؤمنین رضی اللہ عنہا) اس لڑکے سے پردہ کیا کر چناچہ پھر اس لڑکے نے ام المؤمنین کو نہیں دیکھا۔

Narrated Aisha (RA) : Sad bin Abi Waqqas (RA) and Abu bin Zama had a dispute over a boy. Sad said, "O Allahs Apostle ﷺ ! This (boy) is the son of my brother, Utba bin Abi Waqqas who told me to be his custodian as he was his son. Please notice to whom he bears affinity." And Abu bin Zama said, "This is my brother, O Allahs Apostle ﷺ ! He was born on my fathers bed by his slave girl." Then the Prophet ﷺ looked at the boy and noticed evident resemblance between him and Utba, so he said, "He (the toy) is for you, O Abu bin Zama, for the boy is for the owner of the bed, and the stone is for the adulterer. Screen yourself before the boy, O Sauda bint Zama." Aisha (RA) added: Since then he had never seen Sauda.

6766Sahih Bukhari(6767)صحیح

اس شخص کا بیان جو غیر کو اپنا باپ بنائے

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ هُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ، وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ، فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ. فَذَكَرْتُهُ لِأَبِي بَكْرَةَ فَقَالَ: وَأَنَا سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد نے بیان کیا یہ ابن عبداللہ ہیں، کہا ہم سے خالد نے بیان کیا، ان سے ابوعثمان نے اور ان سے سعد (رض) نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس نے اپنے باپ کے سوا کسی اور کے بیٹے ہونے کا دعویٰ کیا یہ جانتے ہوئے کہ وہ اس کا باپ نہیں ہے تو جنت اس پر حرام ہے۔ پھر میں نے اس کا تذکرہ ابوبکر (رض) سے کیا تو انہوں نے کہا کہ اس حدیث کو نبی کریم ﷺ سے میرے دونوں کانوں نے بھی سنا ہے اور میرے دل نے اس کو محفوظ رکھا ہے۔

Narrated Sad (RA) : I heard the Prophet ﷺ saying, "Whoever claims to be the son of a person other than his father, and he knows that person is not his father, then Paradise will be forbidden for him." I mentioned that to Abu Bakra, and he said, "My ears heard that and my heart memorized it from Allahs Apostle

6768Sahih Bukhariصحیح

اس شخص کا بیان جو غیر کو اپنا باپ بتائے

حَدَّثَنَا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ عِرَاكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِكُمْ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ أَبِيهِ فَهُوَ كُفْرٌ.

ہم سے اصبغ بن الفرج نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ کو عمرو نے خبر دی، انہیں جعفر بن ربیعہ نے، انہیں عراک نے اور انہیں ابوہریرہ (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اپنے باپ کا کوئی انکار نہ کرے کیونکہ جو اپنے باپ سے منہ موڑتا ہے (اور اپنے کو دوسرے کا بیٹا ظاہر کرتا ہے تو) یہ کفر ہے۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said, "Do not deny your fathers (i.e. claim to be the sons of persons other than your fathers), and whoever denies his father, is charged with disbelief."