Sahih Bukhariصحيح البخاری

All 7,282 hadiths in order · Page 316 of 365

6728Sahih Bukhariصحیح

نبی ﷺ کا فرمانا کہ ہمارا کوئی وارث نہ ہوگا۔ اور جو کچھ ہم نے چھوڑا وہ صدقہ ہے

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ ، وَكَانَ مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ذَكَرَ لِي مِنْ حَدِيثِهِ ذَلِكَ، فَانْطَلَقْتُ حَتَّى دَخَلْتُ عَلَيْهِ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: انْطَلَقْتُ حَتَّى أَدْخُلَ عَلَى عُمَرَ ، فَأَتَاهُ حَاجِبُهُ يَرْفَأُ، فَقَالَ: هَلْ لَكَ فِي عُثْمَانَ ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَالزُّبَيْرِ ، وَسَعْدٍ ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَأَذِنَ لَهُمْ، ثُمّ قَالَ: هَلْ لَكَ فِي عَلِيٍّ ، وَعَبَّاسٍ ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ عَبَّاسٌ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ: اقْضِ بَيْنِي وَبَيْنَ هَذَا، قَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَلَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ. يُرِيدُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفْسَهُ، فَقَالَ الرَّهْطُ: قَدْ قَالَ ذَلِكَ، فَأَقْبَلَ عَلَى عَلِيٍّ، وَعَبَّاسٍ، فَقَالَ: هَلْ تَعْلَمَانِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَلِكَ ؟ قَالَا: قَدْ قَالَ ذَلِكَ، قَالَ عُمَرُ: فَإِنِّي أُحَدِّثُكُمْ عَنْ هَذَا الْأَمْرِ، إِنَّ اللَّهَ قَدْ كَانَ خَصَّ رَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْفَيْءِ بِشَيْءٍ لَمْ يُعْطِهِ أَحَدًا غَيْرَهُ، فَقَالَ عَزَّ وَجَلَّ: مَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ إِلَى قَوْلِهِ قَدِيرٌ سورة الحشر آية 6 فَكَانَتْ خَالِصَةً لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاللَّهِ مَا احْتَازَهَا دُونَكُمْ، وَلَا اسْتَأْثَرَ بِهَا عَلَيْكُمْ، لَقَدْ أَعْطَاكُمُوهَا، وَبَثَّهَا فِيكُمْ حَتَّى بَقِيَ مِنْهَا هَذَا الْمَالُ، فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْفِقُ عَلَى أَهْلِهِ مِنْ هَذَا الْمَالِ نَفَقَةَ سَنَتِهِ، ثُمَّ يَأْخُذُ مَا بَقِيَ فَيَجْعَلُهُ مَجْعَلَ مَالِ اللَّهِ، فَعَمِلَ بِذَاكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيَاتَهُ، أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُونَ ذَلِكَ ؟ قَالُوا: نَعَمْ، ثُمَّ قَالَ لِعَلِيٍّ، وَعَبَّاسٍ: أَنْشُدُكُمَا بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمَانِ ذَلِكَ ؟ قَالَا: نَعَمْ، فَتَوَفَّى اللَّهُ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا وَلِيُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَبَضَهَا فَعَمِلَ بِمَا عَمِلَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ تَوَفَّى اللَّهُ أَبَا بَكْرٍ، فَقُلْتُ: أَنَا وَلِيُّ وَلِيِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَبَضْتُهَا سَنَتَيْنِ أَعْمَلُ فِيهَا مَا عَمِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ جِئْتُمَانِي وَكَلِمَتُكُمَا وَاحِدَةٌ، وَأَمْرُكُمَا جَمِيعٌ، جِئْتَنِي تَسْأَلُنِي نَصِيبَكَ مِنَ ابْنِ أَخِيكَ، وَأَتَانِي هَذَا يَسْأَلُنِي نَصِيبَ امْرَأَتِهِ مِنْ أَبِيهَا، فَقُلْتُ: إِنْ شِئْتُمَا دَفَعْتُهَا إِلَيْكُمَا، بِذَلِكَ فَتَلْتَمِسَانِ مِنِّي قَضَاءً غَيْرَ ذَلِكَ، فَوَاللَّهِ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ لَا أَقْضِي فِيهَا قَضَاءً غَيْرَ ذَلِكَ، حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ، فَإِنْ عَجَزْتُمَا فَادْفَعَاهَا إِلَيَّ فَأَنَا أَكْفِيكُمَاهَا.

ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا کہ مجھے مالک بن اوس بن حدثان نے خبر دی کہ محمد بن جبیر بن مطعم نے مجھ سے مالک بن اوس کی اس حدیث کا ایک حصہ ذکر کیا تھا۔ پھر میں خود مالک بن اوس کے پاس گیا اور ان سے یہ حدیث پوچھی تو انہوں نے بیان کیا کہ میں عمر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا پھر ان کے حاجب یرفاء نے جا کر ان سے کہا کہ عثمان، عبدالرحمٰن بن زبیر اور سعد آپ کے پاس آنا چاہتے ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ اچھا آنے دو ۔ چناچہ انہیں اندر آنے کی اجازت دے دی۔ پھر کہا، کیا آپ علی و عباس (رض) کو بھی آنے کی اجازت دیں گے ؟ کہا کہ ہاں آنے دو ۔ چناچہ عباس (رض) نے کہا کہ امیرالمؤمنین میرے اور علی (رض) کے درمیان فیصلہ کر دیجئیے۔ عمر (رض) نے کہا میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہیں کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ ہماری وراثت تقسیم نہیں ہوتی جو کچھ ہم چھوڑیں وہ سب راہ اللہ صدقہ ہے ؟ اس سے مراد نبی کریم ﷺ کی خود اپنی ہی ذات تھی۔ جملہ حاضرین بولے کہ جی ہاں، نبی کریم ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا تھا۔ پھر عمر، علی اور عباس (رض) کی طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا، کیا تمہیں معلوم ہے کہ نبی کریم ﷺ نے یہ فرمایا تھا ؟ انہوں نے بھی تصدیق کی کہ نبی کریم ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا تھا۔ عمر (رض) نے فرمایا پھر میں اب آپ لوگوں سے اس معاملہ میں گفتگو کروں گا۔ اللہ تعالیٰ نے اس فے کے معاملہ میں نبی کریم ﷺ کے لیے کچھ حصے مخصوص کر دئیے جو آپ کے سوا کسی اور کو نہیں ملتا تھا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا ما أفاء الله على رسوله سے ارشاد قدير تک۔ یہ تو خاص نبی کریم ﷺ کا حصہ تھا۔ اللہ کی قسم ! نبی کریم ﷺ نے اسے تمہارے لیے ہی مخصوص کیا تھا اور تمہارے سوا کسی کو اس پر ترجیح نہیں دی تھی، تمہیں کو اس میں سے دیتے تھے اور تقسیم کرتے تھے۔ آخر اس میں سے یہ مال باقی رہ گیا اور نبی کریم ﷺ اس میں سے اپنے گھر والوں کے لیے سال بھر کا خرچہ لیتے تھے، اس کے بعد جو کچھ باقی بچتا اسے ان مصارف میں خرچ کرتے جو اللہ کے مقرر کردہ ہیں۔ نبی کریم ﷺ کا یہ طرز عمل آپ کی زندگی بھر رہا۔ میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں، کیا آپ لوگوں کو معلوم ہے ؟ لوگوں نے کہا کہ جی ہاں۔ پھر آپ نے علی اور عباس (رض) سے پوچھا، میں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا آپ لوگوں کو یہ معلوم ہے ؟ انہوں نے بھی کہا کہ جی ہاں۔ پھر نبی کریم ﷺ کی وفات ہوگئی اور ابوبکر (رض) نے کہا کہ اب میں نبی کریم ﷺ کا نائب ہوں چناچہ انہوں نے اس پر قبضہ میں رکھ کر اس طرز عمل کو جاری رکھا جو نبی کریم ﷺ کا اس میں تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ابوبکر (رض) کو بھی وفات دی تو میں نے کہا کہ میں نبی کریم ﷺ کے نائب کا نائب ہوں۔ میں بھی دو سال سے اس پر قابض ہوں اور اس مال میں وہی کرتا ہوں جو رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر (رض) نے کیا۔ پھر آپ دونوں میرے پاس آئے ہو۔ آپ دونوں کی بات ایک ہے اور معاملہ بھی ایک ہی ہے۔ آپ (عباس رضی اللہ عنہ) میرے پاس اپنے بھتیجے کی میراث سے اپنا حصہ لینے آئے ہو اور آپ (علی رضی اللہ عنہ) اپنی بیوی کا حصہ لینے آئے ہو جو ان کے والد کی طرف سے انہیں ملتا۔ میں کہتا ہوں کہ اگر آپ دونوں چاہتے ہیں تو میں اسے آپ کو دے سکتا ہوں لیکن آپ لوگ اس کے سوا کوئی اور فیصلہ چاہتے ہیں تو اس ذات کی قسم جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہیں، میں اس مال میں اس کے سوا اور کوئی فیصلہ نہیں کرسکتا، قیامت تک، اگر آپ اس کے مطابق عمل نہیں کرسکتے تو وہ جائیداد مجھے واپس کر دیجئیے میں اس کا بھی بندوبست کرلوں گا۔

Narrated Malik bin Aus (RA) : I went and entered upon Umar, his doorman, Yarfa came saying Uthman, Abdur-Rahman, Az-Zubair and Sad are asking your permission (to see you). May I admit them? Umar said, Yes. So he admitted them Then he came again and said, May I admit Ali and Abbas? He said, Yes. Abbas said, O, chief of the believers! Judge between me and this man (Ali ). Umar said, I beseech you by Allah by Whose permission both the heaven and the earth exist, do you know that Allahs Apostle ﷺ said, Our (the Apostles) property will not be inherited, and whatever we leave (after our death) is to be spent in charity? And by that Allahs Apostle ﷺ meant himself. The group said, (No doubt), he said so. Umar then faced Ali and Abbas and said, Do you both know that Allahs Apostle ﷺ said that? They replied, (No doubt), he said so. Umar said, So let me talk to you about this matter. Allah favored His Apostle ﷺ with something of this Fai (i.e. booty won by the Muslims at war without fighting) which He did not give to anybody else; Allah said:-- And what Allah gave to His Apostle ﷺ ( Fai Booty) .........to do all things....(59.6) And so that property was only for Allahs Apostle ﷺ . Yet, by Allah, he neither gathered that property for himself nor withheld it from you, but he gave its income to you, and distributed it among you till there remained the present property out of which the Prophet ﷺ used to spend the yearly maintenance for his family, and whatever used to remain, he used to spend it where Allahs property is spent (i.e. in charity etc.). Allahs Apostle ﷺ followed that throughout his life. Now I beseech you by Allah, do you know all that? They said, Yes. Umar then said to Ali and Abbas, I beseech you by Allah, do you know that? Both of them said, Yes. Umar added, And when the Prophet ﷺ died, Abu Bakr (RA) said, I am the successor of Allahs Apostle, and took charge of that property and managed it in the same way as Allahs Apostle ﷺ did. Then I took charge of this property for two years during which I managed it as Allahs Apostle ﷺ and Abu Bakr (RA) did. Then you both (Ali and Abbas) came to talk to me, bearing the same claim and presenting the same case. (O Abbas!) You came to me asking for your share from the property of your nephew, and this man (Ali) came to me, asking for the share of h is wife from the property of her father. I said, If you both wish, I will give that to you on that condition (i.e. that you would follow the way of the Prophet ﷺ and Abu Bakr (RA) and as I (Umar) have done in man aging it). Now both of you seek of me a verdict other than that? Lo! By Allah, by Whose permission both the heaven and the earth exist, I will not give any verdict other than that till the Hour is established. If you are unable to manage it, then return it to me, and I will be sufficient to manage it on your behalf. "

6729Sahih Bukhariصحیح

نبی ﷺ کا فرمانا کہ ہمارا کوئی وارث نہ ہوگا۔ اور جو کچھ ہم نے چھوڑا وہ صدقہ ہے

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَقْتَسِمُ وَرَثَتِي دِينَارًا، مَا تَرَكْتُ بَعْدَ نَفَقَةِ نِسَائِي، وَمَئُونَةِ عَامِلِي، فَهُوَ صَدَقَةٌ.

ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرا ورثہ دینار کی شکل میں تقسیم نہیں ہوگا۔ میں نے اپنی بیویوں کے خرچہ اور اپنے عاملوں کی اجرت کے بعد جو کچھ چھوڑا ہے وہ سب صدقہ ہے۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : Allahs Apostle ﷺ said, "Not even a single Dinar of my property should be distributed (after my deaths to my inheritors, but whatever I leave excluding the provision for my wives and my servants, should be spent in charity."

6730Sahih Bukhariصحیح

نبی ﷺ کا فرمانا کہ ہمارا کوئی وارث نہ ہوگا۔ اور جو کچھ ہم نے چھوڑا وہ صدقہ ہے

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَاأَنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَرَدْنَ أَنْ يَبْعَثْنَ عُثْمَانَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ يَسْأَلْنَهُ مِيرَاثَهُنَّ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: أَلَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ.

ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعبنی نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عائشہ (رض) نے کہ جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی تو آپ کی بیویوں نے چاہا کہ عثمان (رض) کو ابوبکر (رض) کے پاس بھیجیں، اپنی میراث طلب کرنے کے لیے۔ پھر عائشہ (رض) نے یاد دلایا۔ کیا نبی کریم ﷺ نے نہیں فرمایا تھا کہ ہماری وراثت تقسیم نہیں ہوتی، ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ سب صدقہ ہے ؟

Narrated Urwa (RA) : Aisha (RA) said, "When Allahs Apostle ﷺ died, his wives intended to send Uthman to Abu Bakr (RA) asking him for their share of the inheritance." Then Aisha (RA) said to them, "Didnt Allahs Apostle ﷺ say, Our (Apostles) property is not to be inherited, and whatever we leave is to be spent in charity?"

6731Sahih Bukhariصحیح

نبی ﷺ کا فرمانا کہ جو شخص مال چھوڑے تو وہ اس کے گھر والوں کا ہے۔

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ، فَمَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ، وَلَمْ يَتْرُكْ وَفَاءً، فَعَلَيْنَا قَضَاؤُهُ، وَمَنْ تَرَكَ مَالًا، فَلِوَرَثَتِهِ.

ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو یونس بن یزید ایلی نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، کہا مجھ سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں مومنوں کا خود ان سے زیادہ حقدار ہوں۔ پس ان میں سے جو کوئی قرض دار مرے گا اور ادائیگی کے لیے کچھ نہ چھوڑے گا تو ہم پر اس کی ادائیگی کی ذمہ داری ہے اور جس نے کوئی مال چھوڑا ہوگا وہ اس کے وارثوں کا حصہ ہے۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said, "I am more closer to the believers than their own selves, so whoever (of them) dies while being in debt and leaves nothing for its repayment, then we are to pay his debts on his behalf and whoever (among the believers) dies leaving some property, then that property is for his heirs."

6732Sahih Bukhariصحیح

باپ اور ماں کی طرف سے اولاد کی میراث کا بیان۔ اور زیاد بن ثابت نے کہا کہ اگر کوئی مرد یا عورت بیٹی چھوڑے تو اس کو نصف ملے گا اور ان کے ساتھ کوئی بیٹا بھی ہوگا تو پہلے شرکاء کو دے کر باقی سے مرد کو دو حصہ کو اور عورت کو ایک حصہ دیا جائے گا۔

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا، فَمَا بَقِيَ فَهُوَ لِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ.

ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ ابن طاؤس نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابن عباس (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میراث اس کے حق داروں تک پہنچا دو اور جو کچھ باقی بچے وہ سب سے زیادہ قریبی مرد عزیز کا حصہ ہے۔

Narrated Ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ said, "Give the Faraid (the shares of the inheritance that are prescribed in the Quran) to those who are entitled to receive it. Then whatever remains, should be given to the closest male relative of the deceased ."

6733Sahih Bukhariصحیح

لڑکیوں کی میراث کا بیان

حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: مَرِضْتُ بِمَكَّةَ مَرَضًا فَأَشْفَيْتُ مِنْهُ عَلَى الْمَوْتِ، فَأَتَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي مَالًا كَثِيرًا وَلَيْسَ يَرِثُنِي إِلَّا ابْنَتِي، أَفَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثَيْ مَالِي ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: قُلْتُ: فَالشَّطْرُ، قَالَ: لَا، قُلْتُ: الثُّلُثُ، قَالَ: الثُّلُثُ كَبِيرٌ، إِنَّكَ إِنْ تَرَكْتَ وَلَدَكَ أَغْنِيَاءَ، خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَتْرُكَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ، وَإِنَّكَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً إِلَّا أُجِرْتَ عَلَيْهَا، حَتَّى اللُّقْمَةَ تَرْفَعُهَا إِلَى فِي امْرَأَتِكَ، فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ: أَأُخَلَّفُ عَنْ هِجْرَتِي، فَقَالَ: لَنْ تُخَلَّفَ بَعْدِي فَتَعْمَلَ عَمَلًا تُرِيدُ بِهِ وَجْهَ اللَّهِ، إِلَّا ازْدَدْتَ بِهِ رِفْعَةً وَدَرَجَةً، وَلَعَلَّ أَنْ تُخَلَّفَ بَعْدِي حَتَّى يَنْتَفِعَ بِكَ أَقْوَامٌ وَيُضَرَّ بِكَ آخَرُونَلَكِنْ الْبَائِسُ سَعْدُ بْنُ خَوْلَةَ يَرْثِي لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ مَاتَ بِمَكَّةَ، قَالَ سُفْيَانُ، وَسَعْدُ بْنُ خَوْلَةَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ.

ہم سے امام حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم سے زہری نے بیان کیا، کہا مجھے عامر بن سعد بن ابی وقاص نے خبر دی اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ میں مکہ مکرمہ میں (حجۃ الوداع میں) بیمار پڑگیا اور موت کے قریب پہنچ گیا۔ پھر نبی کریم ﷺ میری عیادت کے لیے تشریف لائے تو میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میرے پاس بہت زیادہ مال ہے اور ایک لڑکی کے سوا اس کا کوئی وارث نہیں تو کیا مجھے اپنے مال کے دو تہائی حصہ کا صدقہ کردینا چاہیے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ نہیں۔ بیان کیا کہ میں نے عرض کیا پھر آدھے کا کر دوں ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ نہیں۔ میں نے عرض کیا ایک تہائی کا ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ہاں۔ گو تہائی بھی بہت ہے، اگر تم اپنے بچوں کو مالدار چھوڑو تو یہ اس سے بہتر ہے کہ انہیں تنگدست چھوڑو اور وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں اور تم جو بھی خرچ کرو گے اس پر تمہیں ثواب ملے گا یہاں تک کہ اس لقمہ پر بھی ثواب ملے گا جو تم اپنی بیوی کے منہ میں رکھو گے۔ پھر میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیا میں اپنی ہجرت میں پیچھے رہ جاؤں گا ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اگر میرے بعد تم پیچھے رہ بھی گئے تب بھی جو عمل تم کرو گے اور اس سے اللہ کی خوشنودی مقصود ہوگی تو اس کے ذریعہ درجہ و مرتبہ بلند ہوگا اور غالباً تم میرے بعد زندہ رہو گے اور تم سے بہت سے لوگوں کو فائدہ ہوگا اور بہتوں کو نقصان پہنچے گا۔ قابل افسوس تو سعد ابن خولہ ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے ان کے بارے میں اس لیے افسوس کا اظہار کیا کہ (ہجرت کے بعد اتفاق سے) ان کی وفات مکہ مکرمہ میں ہی ہوگئی۔ سفیان نے بیان کیا کہ سعد ابن خولہ (رض) بنی عامر بن لوی کے ایک آدمی تھے۔

Narrated Sad bin Abi Waqqas (RA) : I was stricken by an ailment that led me to the verge of death. The Prophet ﷺ came to pay me a visit. I said, "O Allahs Apostle ﷺ ! I have much property and no heir except my single daughter. Shall I give two-thirds of my property in charity?" He said, "No." I said, "Half of it?" He said, "No." I said, "One-third of it?" He said, "You may do so) though one-third is also to a much, for it is better for you to leave your off-spring wealthy than to leave them poor, asking others for help. And whatever you spend (for Allahs sake) you will be rewarded for it, even for a morsel of food which you may put in the mouth of your wife." I said, "O Allahs Apostle ﷺ ! Will I remain behind and fail to complete my emigration?" The Prophet ﷺ said, "If you are left behind after me, whatever good deeds you will do for Allahs sake, that will upgrade you and raise you high. May be you will have long life so that some people may benefit by you and others (the enemies) be harmed by you." But Allahs Apostle ﷺ felt sorry for Sad bin Khaula as he died in Makkah. (Sufyan, a sub-narrator said that Sad bin Khaula was a man from the tribe of Bani Amir bin Luai.)

6734Sahih Bukhariصحیح

لڑکیوں کی میراث کا بیان

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ شَيْبَانُ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ: أَتَانَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ، بِالْيَمَنِ مُعَلِّمًا وَأَمِيرًا، فَسَأَلْنَاهُ عَنْ رَجُلٍ تُوُفِّيَ وَتَرَكَ ابْنَتَهُ وَأُخْتَهُ، فَأَعْطَى الِابْنَةَ النِّصْفَ، وَالْأُخْتَ النِّصْفَ.

مجھ سے محمود بن غیلان نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوالنضر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابومعاویہ شیبان نے بیان کیا، ان سے اشعث بن ابی الشعثاء نے، ان سے اسود بن یزید نے بیان کیا کہ معاذ بن جبل (رض) ہمارے یہاں یمن میں معلم و امیر بن کر تشریف لائے۔ ہم نے ان سے ایک ایسے شخص کے ترکہ کے بارے میں پوچھا جس کی وفات ہوئی ہو اور اس نے ایک بیٹی اور ایک بہن چھوڑی ہو اور اس نے اپنی بیٹی کو آدھا اور بہن کو بھی آدھا دیا ہو۔

Narrated Al-Aswad bin Yazid (RA) : Muadh bin Jabal came to us in Yemen as a tutor and a ruler, and we (the people of Yemen) asked him about (the distribution of the property of) a man who had died leaving a daughter and a sister. Muadh gave the daughter one-half of the property and gave the sister the other half.

6735Sahih Bukhariصحیح

پوتے کی میراث کا بیان جبکہ بیٹا نہ ہو۔ اور زید نے کہا کہ بیٹوں کی اولاد بمنزلہ اولاد کے ہے اگر ان کے علاوہ کوئی بیٹا نہ ہو پوتے بیٹوں کی طرح اور پوتیاں بیٹیوں کی طرح ہیں اور وہ اسی طرح ترکہ پاتے ہیں جس طرح بیٹے اوروں کو محروم کرتے ہیں اسی طرح یہ بھی محروم کرتے ہیں اور بیٹے کی اولاد بیٹے کی موجودگی میں ترکہ کی مستحق نہ ہوگی۔

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا فَمَا بَقِيَ، فَهُوَ لِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ.

ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ ابن طاؤس نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابن عباس نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پہلے میراث ان کے وارثوں تک پہنچا دو اور جو باقی رہ جائے وہ اس کو ملے گا جو مرد میت کا بہت نزدیکی رشتہ دار ہو۔

Narrated Ibn Abbas (RA) : Allahs Apostle ﷺ said, "Give the Faraid (shares prescribed in the Quran) to those who are entitled to receive it; and whatever remains, should be given to the closest male relative of the deceased.

6736Sahih Bukhariصحیح

بیٹی کی موجودگی میں نواسی کی میراث کا بیان

حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو قَيْسٍ ، سَمِعْتُ هُزَيْلَ بْنَ شُرَحْبِيلَ ، قَالَ: سُئِلَ أَبُو مُوسَى، عَنْ بِنْتٍ، وَابْنَةِ ابْنٍ، وَأُخْتٍ، فَقَالَ: لِلْبِنْتِ النِّصْفُ، وَلِلْأُخْتِ النَّصْفُ، وَأَتِ ابْنَ مَسْعُودٍ فَسَيُتَا بِعْنِي، فَسُئِلَ ابْنُ مَسْعُودٍ ، وَأُخْبِرَ بِقَوْلِ أَبِي مُوسَى، فَقَالَ لَقَدْ ضَلَلْتُ إِذًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُهْتَدِينَأَقْضِي فِيهَا بِمَا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِلْابْنَةِ النِّصْفُ، وَلِابْنَةِ ابْنٍ السُّدُسُ تَكْمِلَةَ الثُّلُثَيْنِ، وَمَا بَقِيَ فَلِلْأُخْتِ. فَأَتَيْنَا أَبَا مُوسَى، فَأَخْبَرْنَاهُ بِقَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: لَا تَسْأَلُونِي مَا دَامَ هَذَا الْحَبْرُ فِيكُمْ.

ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، کہا ہم سے ابوقیس عبدالرحمٰن بن ثروان نے، انہوں نے ہزیل بن شرحبیل سے سنا، بیان کیا کہ ابوموسیٰ (رض) سے بیٹی، پوتی اور بہن کی میراث کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ بیٹی کو آدھا ملے گا اور بہن کو آدھا ملے گا اور تو ابن مسعود (رض) کے یہاں جا، شاید وہ بھی یہی بتائیں گے۔ پھر ابن مسعود (رض) سے پوچھا گیا اور ابوموسیٰ (رض) کی بات بھی پہنچائی گئی تو انہوں نے کہا کہ میں اگر ایسا فتویٰ دوں تو گمراہ ہوچکا اور ٹھیک راستے سے بھٹک گیا۔ میں تو اس میں وہی فیصلہ کروں گا جو رسول اللہ ﷺ نے کیا تھا کہ بیٹی کو آدھا ملے گا، پوتی کو چھٹا حصہ ملے گا، اس طرح دو تہائی پوری ہوجائے گی اور پھر جو باقی بچے گا وہ بہن کو ملے گا۔ پھر ابوموسیٰ (رض) کے پاس آئے اور ابن مسعود (رض) کی بات ان تک پہنچائی تو انہوں نے کہا کہ جب تک یہ عالم تم میں موجود ہیں مجھ سے مسائل نہ پوچھا کرو۔

Narrated Huzail bin Shirahbil (RA) : Abu Musa (RA) was asked regarding (the inheritance of) a daughter, a sons daughter, and a sister. He said, "The daughter will take one-half and the sister will take one-half. If you go to Ibn Masud (RA), he will tell you the same." Ibn Masud (RA) was asked and was told of Abu Musas verdict. Ibn Masud (RA) then said, "If I give the same verdict, I would stray and would not be of the rightly-guided. The verdict I will give in this case, will be the same as the Prophet ﷺ did, i.e. one-half is for daughter, and one-sixth for the sons daughter, i.e. both shares make two-thirds of the total property; and the rest is for the sister." Afterwards we cams to Abu Musa (RA) and informed him of Ibn Masuds verdict, whereupon he said, "So, do not ask me for verdicts, as long as this learned man is among you."

6737Sahih Bukhariصحیح

باپ اور بھائی کی موجودگی میں دادا کی میراث کا بیان اور ابوبکر وابن عباس وابن زبیر نے کہا کہ دادا باپ کی طرح ہے اور ابن عباس نے پڑھا یابنی آدم (اے آدم کے بیٹو!) اور واتبعت ملة ابراہیم واسحق ویعقوب (اور میں نے اپنے باپوں ابراہیم، اسحق و یعقوب کی ملت کی پیروی کی) اور کسی نے بھی نہیں بیان کیا کہ حضرت ابوبکر کے زمانہ میں کسی نے ان کی مخالفت کی ہو حالانکہ اس زمانہ میں صحابہ کثیر تعداد میں موجود تھے اور ابن عباس نے کہا کہ میرا پوتا میرا وارث ہوگا، بھائی نہ ہوگا، اور میں اپنے پوتے کا وارث نہ ہوں گا اور حضرت عمرو، علی وابن مسعود وزید سے مختلف اقوال منقول ہیں۔

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا، فَمَا بَقِيَ فَلِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ.

ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا، ان سے ابن طاؤس نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابن عباس (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میراث اس کے حقدار تک پہنچا دو اور جو باقی رہ جائے وہ سب سے قریب والے مرد کو دے دو ۔

Narrated Ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ said, "Give the Faraid, (the shares prescribed in the Quran) to those who are entitled to receive it, and then whatever remains, should be given to the closest male relative of the deceased."

6738Sahih Bukhariصحیح

باپ اور بھائی کی موجودگی میں دادا کی میراث کا بیان اور ابوبکر وابن عباس وابن زبیر نے کہا کہ دادا باپ کی طرح ہے اور ابن عباس نے پڑھا یابنی آدم (اے آدم کے بیٹو!) اور واتبعت ملة ابراہیم واسحق ویعقوب (اور میں نے اپنے باپوں ابراہیم، اسحق و یعقوب کی ملت کی پیروی کی) اور کسی نے بھی نہیں بیان کیا کہ حضرت ابوبکر کے زمانہ میں کسی نے ان کی مخالفت کی ہو حالانکہ اس زمانہ میں صحابہ کثیر تعداد میں موجود تھے اور ابن عباس نے کہا کہ میرا پوتا میرا وارث ہوگا، بھائی نہ ہوگا، اور میں اپنے پوتے کا وارث نہ ہوں گا اور حضرت عمرو، علی وابن مسعود وزید سے مختلف اقوال منقول ہیں۔

حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أَمَّا الَّذِي، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ خَلِيلًا، لَاتَّخَذْتُهُ وَلَكِنْ خُلَّةُ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُأَوْ قَالَ خَيْرٌ، فَإِنَّهُ أَنْزَلَهُ أَبًا أَوْ قَالَ قَضَاهُ أَبًا.

ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے جو یہ فرمایا ہے کہ اگر میں اس امت کے کسی آدمی کو خلیل بناتا تو ان کو (ابوبکر (رض) کو) کو خلیل بناتا، لیکن اسلام کا تعلق ہی سب سے بہتر ہے تو اس میں نبی کریم ﷺ نے دادا کو باپ کے درجہ میں رکھا ہے۔

Narrated Ibn Abbas (RA) : The person about whom Allahs Apostle ﷺ said, "If I were to take a Khalil from this nation (my followers), then I would have taken him (i.e., Abu Bakr), but the Islamic Brotherhood is better (or said: good)," regarded a grandfather as the father himself (in inheritance).

6739Sahih Bukhariصحیح

اولاد وغیرہ کی موجودگی میں شوہر اور بیوی کی میراث کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ وَرْقَاءَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ الْمَالُ لِلْوَلَدِ، وَكَانَتِ الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ، فَنَسَخَ اللَّهُ مِنْ ذَلِكَ مَا أَحَبَّ، فَجَعَلَ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنْثَيَيْنِ سورة النساء آية 11، وَجَعَلَ لِلْأَبَوَيْنِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ، وَجَعَلَ لِلْمَرْأَةِ الثُّمُنَ وَالرُّبُعَ، وَلِلزَّوْجِ الشَّطْرَ وَالرُّبُعَ.

ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، ان سے ورقاء نے بیان کیا، ان سے ابن ابی نجیح نے بیان کیا، ان سے عطاء نے اور ان سے عبداللہ بن عباس (رض) نے بیان کیا کہ پہلے مال کی اولاد مستحق تھی اور والدین کو وصیت کا حق تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس میں سے جو چاہا منسوخ کردیا اور لڑکوں کو لڑکیوں کے دگنا حق دیا اور والدین کو اور ان میں سے ہر ایک کو چھٹے حصہ کا مستحق قرار دیا اور بیوی کو آٹھویں اور چوتھے حصہ کا حق دار قرار دیا اور شوہر کو آدھے یا چوتھائی کا حقدار قرار دیا۔

Narrated Ibn Abbas (RA) : (During the early days of Islam), the inheritance used to be given to ones offspring and legacy used to be bequeathed to the parents, then Allah cancelled what He wished from that order and decreed that the male should be given the equivalent of the portion of two females, and for the parents one-sixth for each of them, and for ones wife one-eighth (if the deceased has children) and one-fourth (if he has no children), for ones husband one-half (if the deceased has no children) and one-fourth (if she has children)."

6740Sahih Bukhariصحیح

اولاد وغیرہ کی موجودگی میں شوہر اور بیوی کی میراث کا بیان

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ: قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنِينِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي لَحْيَانَ سَقَطَ مَيِّتًا، بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ، ثُمَّ إِنَّ الْمَرْأَةَ الَّتِي قَضَى لَهَا بِالْغُرَّةِ تُوُفِّيَتْ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَنَّ مِيرَاثَهَا لِبَنِيهَا، وَزَوْجِهَا، وَأَنَّ الْعَقْلَ عَلَى عَصَبَتِهَا.

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابن المسیب نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے بنی لحیان کی ایک عورت ملیا بنت عویمر کے بچے کے بارے میں جو ایک عورت کی مار سے مردہ پیدا ہوا تھا کہ مارنے والی عورت کو خون بہا کے طور پر ایک غلام یا لونڈی ادا کرنے کا حکم فرمایا تھا۔ پھر وہ عورت بچہ گرانے والی جس کے متعلق نبی کریم ﷺ نے فیصلہ دیا تھا مرگئی تو نبی کریم ﷺ نے فیصلہ کیا کہ اس کی میراث اس کے لڑکوں اور شوہر کو دے دی جائے اور یہ دیت ادا کرنے کا حکم اس کے کنبہ والوں کو دیا تھا۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : Allahs Apostle ﷺ gave the judgment that a male or female slave should be given in Qisas for an abortion case of a woman from the tribe of Bani Lihyan (as blood money for the fetus) but the lady on whom the penalty had been imposed died, so the Prophets ordered that her property be inherited by her offspring and her husband and that the penalty be paid by her Asaba.

6741Sahih Bukhariصحیح

بیٹیوں کی موجودگی میں بہنیں جو عصبہ ہیں ان کی میراث کا بیان

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، قَالَ: قَضَى فِينَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: النِّصْفُ لِلْابْنَةِ وَالنِّصْفُ لِلْأُخْتِ. ثُمَّ قَالَ سُلَيْمَانُ: قَضَى فِينَا وَلَمْ يَذْكُرْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ہم سے بشر بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ان سے شعبہ بن حجاج نے، ان سے سلیمان اعمش نے، ان سے ابراہیم نخعی نے اور ان سے اسود بن یزید نے بیان کیا کہ معاذ بن جبل (رض) نے رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ہمارے درمیان یہ فیصلہ کیا تھا کہ آدھا بیٹی کو ملے گا اور آدھا بہن کو۔ پھر سلیمان نے جو اس حدیث کو روایت کیا تو اتنا ہی کہا کہ معاذ نے ہم کنبہ والوں کو یہ حکم دیا تھا یہ نہیں کہا کہ نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں۔

Narrated Al-Aswad (RA) : Muadh bin Jabal gave this verdict for us in the lifetime of Allahs Apostle. One-half of the inheritance is to be given to the daughter and the other half to the sister. Sulaiman said: Muadh gave a verdict for us, but he did not mention that it was so in the lifetime of Allahs Apostle.

6742Sahih Bukhariصحیح

بیٹیوں کی موجودگی میں بہنیں جو عصبہ ہیں ان کی میراث کا بیان

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبَّاسٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ ، عَنْ هُزَيْلٍ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : لَأَقْضِيَنَّ فِيهَا بِقَضَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: للْابْنَةِ النِّصْفُ، وَلِابْنَةِ الِابْنِ السُّدُسُ، وَمَا بَقِيَ فَلِلْأُخْتِ.

ہم سے عمرو بن عباس نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے ابوقیس (عبدالرحمٰن بن عزوان) نے، ان سے ہزیل بن شرحبیل نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن مسعود (رض) نے بیان کیا کہ میں نبی کریم ﷺ کے فیصلہ کے مطابق اس کا فیصلہ کروں گا، لڑکی کو آدھا، پوتی کو چھٹا اور جو باقی بچے بہن کا حصہ ہے۔

Narrated Huzail (RA) : Abdullah said, "The judgment I will give in this matter will be like the judgment of the Prophet, i.e. one-half is for the daughter and one-sixth for the sons daughter and the rest of the inheritance for the sister."

6743Sahih Bukhariصحیح

چند بہنوں اور ایک بہن کی میراث کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَرِيضٌ، فَدَعَا بِوَضُوءٍ، فَتَوَضَّأَ ثُمَّ نَضَحَ عَلَيَّ مِنْ وَضُوئِهِ، فَأَفَقْتُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا لِي أَخَوَاتٌ فَنَزَلَتْ آيَةُ الْفَرَائِضِ.

ہم سے عبداللہ بن عثمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو شعبہ بن حجاج نے خبر دی، ان سے محمد بن منکدر نے بیان کیا، انہوں نے جابر (رض) سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ میرے گھر تشریف لائے اور میں بیمار تھا۔ نبی کریم ﷺ نے پانی منگوایا اور وضو کیا، پھر اپنے وضو کے پانی سے مجھ پر چھینٹا ڈالا تو مجھے ہوش آگیا۔ میں نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میری بہنیں ہیں ؟ اس پر میراث کی آیت نازل ہوئی۔

Narrated Jabir (RA) : While I was sick, the Prophet ﷺ entered upon me and asked for some water to perform ablution, and after he had finished his ablution, he sprinkled some water of his ablution over me, whereupon I became conscious and said, "O Allahs Apostle ﷺ ! I have sisters." Then the Divine Verses regarding the laws of inheritance were revealed.

6744Sahih Bukhariصحیح

اللہ تعالیٰ کا قول کہ اے ﷺ وہ تم سے فتوی پوچھتے ہیں تم کہہ دو کہ اللہ تمہیں کلالہ کے متعلق حکم دیتا ہے۔ کہ اگر کوئی شخص مرجائے اور اس کی اولاد نہ ہو اور اس کی ایک بہن ہو تو بہن کے لئے نصف ہے جو وہ چھوڑے اور وہ اس بہن کا وارث ہوگا، اگر اس کی اولاد نہ ہو، اگر وہ دو بہنیں ہوں تو ان کے لئے دو ثلث ہے اس کا جو وہ چھوڑے اور اگر چند بھائی بہن ہو تو مرد کے لئے عورت کادو چند ہے، اللہ تعالیٰ تمہارے لئے بیان کرتا ہے تاکہ گمراہ نہ ہوجاؤ اور اللہ ہر چیز کو جاننے والاہے۔

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: آخِرُ آيَةٍ نَزَلَتْ خَاتِمَةُ سُورَةِ النِّسَاءِ يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلالَةِ سورة النساء آية 176.

ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، ان سے اسرائیل نے، ان سے ابواسحاق نے، ان سے براء (رض) نے بیان کیا کہ آخری آیت (میراث کی) سورة نساء کے آخر کی آیتیں نازل ہوئیں يستفتونک قل الله يفتيكم في الکلالة کہ آپ سے فتویٰ پوچھتے ہیں، کہہ دیجئیے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں کلالہ کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے۔

Narrated Al-Bara (RA) : The last Quranic Verse that was revealed (to the Prophet) was the final Verse of Surat-an-Nisa, i.e., They ask you for a legal verdict Say: Allah directs (thus) About those who leave No descendants or ascendants as heirs.... (4.176)

6745Sahih Bukhariصحیح

عورت کے دو چچازاد بھائیوں کا بیان کہ ان میں سے ایک ماں شریک بھائی ہو۔ اور دوسرا شوہر ہو اور حضرت علی نے کہا شوہر کو نصف اور ماں شریک بھائی کو چھٹا حصہ ملے گا اور باقی ان دونوں کے درمیان آدھا آدھا تقسم ہوگا

حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ، فَمَنْ مَاتَ وَتَرَكَ مَالًا، فَمَالُهُ لِمَوَالِي الْعَصَبَةِ، وَمَنْ تَرَكَ كَلًّا أَوْ ضَيَاعًا، فَأَنَا وَلِيُّهُ فَلِأُدْعَى لَهُ. الْكَلُّ: الْعِيَالُ.

ہم سے محمود نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو اسرائیل نے خبر دی، انہیں ابوحصین نے، انہیں ابوصالح نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں مسلمانوں کا خود ان کی ذات سے بھی زیادہ ولی ہوں۔ پس جو شخص مرجائے اور مال چھوڑ جائے تو وہ اس کے وارثوں کا حق ہے اور جس نے بیوی بچے چھوڑے ہوں یا قرض ہو، تو میں ان کا ولی ہوں، ان کے لیے مجھ سے مانگا جائے۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : Allahs Apostle ﷺ said, "I am more closer to the believers than their ownselves, so whoever (among them) dies leaving some inheritance, his inheritance will be given to his Asaba, and whoever dies leaving a debt or dependants or destitute children, then I am their supporter."

6746Sahih Bukhariصحیح

عورت کے دو چچازاد بھائیوں کا بیان کہ ان میں سے ایک ماں شریک بھائی ہو۔ اور دوسرا شوہر ہو اور حضرت علی نے کہا شوہر کو نصف اور ماں شریک بھائی کو چھٹا حصہ ملے گا اور باقی ان دونوں کے درمیان آدھا آدھا تقسم ہوگا

حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ رَوْحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا، فَمَا تَرَكَتِ الْفَرَائِضُ فَلِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ.

ہم سے امیہ بن بسطام نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ان سے روح نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن طاؤس نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عبداللہ بن عباس (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میراث اس کے وارثوں تک پہنچا دو اور جو کچھ اس میں سے بچ رہے وہ قریبی عزیز مرد کا حق ہے۔

Narrated Ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ said, "Give the Faraid (the shares of the inheritance that are prescribed in the Quran) to those who are entitled to receive it; and whatever is left should be given to the closest male relative of the deceased."

6747Sahih Bukhariصحیح

ذوی الارحام کا بیان۔

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ، قُلْتُ لِأَبِي أُسَامَةَ ، حَدَّثَكُمْ إِدْرِيسُ ، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْابْنِ عَبَّاسٍ وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ سورة النساء آية 33 وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ سورة النساء آية 33 قَالَ: كَانَ الْمُهَاجِرُونَ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ، يَرِثُ الْأَنْصَارِيُّ، الْمُهَاجِرِيَّ دُونَ ذَوِي رَحِمِهِ، لِلْأُخُوَّةِ الَّتِي آخَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمْ، فَلَمَّا نَزَلَتْ: وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ سورة النساء آية 33 قَالَ: نَسَخَتْهَا: وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ سورة النساء آية 33.

مجھ سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے ابواسامہ سے پوچھا کیا آپ سے ادریس نے بیان کیا تھا، ان سے طلحہ نے بیان کیا، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس (رض) نے ولکل جعلنا موالي اور والذين عقدت أيمانکم کے متعلق بتلایا کہ مہاجرین جب مدینہ آئے تو ذوی الارحام کے علاوہ انصار و مہاجرین بھی ایک دوسرے کی وراثت پاتے تھے۔ اس بھائی چارگی کی وجہ سے جو نبی کریم ﷺ نے ان کے درمیان کرائی تھی، پھر جب آیت جعلنا موالي نازل ہوئی تو فرمایا کہ اس نے والذين عقدت أيمانکم کو منسوخ کردیا۔

Narrated Ibn Abbas (RA) : regarding the Holy Verse:--And to everyone, We have appointed heirs. When the emigrants came to Medina, the Ansar used to be the heir of the emigrants (and vice versa) instead of their own kindred by blood (Dhawl-l-arham), and that was because of the bond of brotherhood which the Prophet ﷺ had established between them, i.e. the Ansar and the emigrants. But when the Divine Verse:-- And to everyone We have appointed heirs, (4.33) was revealed, it cancelled the other, order i.e. To those also, to whom Your right hands have pledged.