ادب کا بیان

Sunan Abu Dawood · Chapter 38 · 493 hadiths · Page 25 of 26

5262Sunan Abu Dawood

گرگٹ مارنے کا بیان۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْوَزَغِ، وَسَمَّاهُ فُوَيْسِقًا.

سعد ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے چھپکلی کو مارنے کا حکم دیا ہے، اور اسے فويسق (چھوٹا فاسق) کہا ہے۔

Amir bin Saad, quoting his father, said: The Messenger of Allah ﷺ ordered a gecko to be killed, and calling it a noxious little creature.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/السلام ٣٨ (٢٢٣٧)، (تحفة الأشراف: ٣٨٩٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٧٧، ١٧٩) (صحیح )
5263Sunan Abu Dawood

گرگٹ مارنے کا بیان۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَتَلَ وَزَغَةً فِي أَوَّلِ ضَرْبَةٍ فَلَهُ كَذَا وَكَذَا حَسَنَةً، وَمَنْ قَتَلَهَا فِي الضَّرْبَةِ الثَّانِيَةِ فَلَهُ كَذَا وَكَذَا حَسَنَةً أَدْنَى مِنَ الْأُولَى، وَمَنْ قَتَلَهَا فِي الضَّرْبَةِ الثَّالِثَةِ فَلَهُ كَذَا وَكَذَا حَسَنَةً أَدْنَى مِنَ الثَّانِيَةِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے چھپکلی کو پہلے ہی وار میں قتل کردیا اس کو اتنی اتنی نیکیاں ملیں گی، اور جس نے دوسرے وار میں اسے قتل کیا اسے اتنی اتنی نیکیاں ملیں گی، پہلے سے کم، اور جس نے تیسرے وار میں اسے ہلاک کیا اسے اتنی اتنی نیکیاں ملیں گی دوسرے وار سے کم ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone kills a gecko with the first blow, such and such number of good deeds will be recorded for him, if he kills it with the second blow, such and such number of good deeds will be recorded for him less than the former; and if he kills it with the third blow, such and such number of good deeds will be recorded for him, less than the former.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/السلام ٣٨ (٢٢٤٠)، (تحفة الأشراف: ١٢٧٣١، ١٢٥٨٨، ١٥٤٨٧)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأحکام ١ (١٤٨٢)، سنن ابن ماجہ/الصید ١٢ (٣٢٢٨)، مسند احمد (٢/٣٥٥) (صحیح )
5264Sunan Abu Dawood

گرگٹ مارنے کا بیان۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ سُهَيْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَخِي أَوْ أُخْتِي، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَعَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: فِي أَوَّلِ ضَرْبَةٍ سَبْعِينَ حَسَنَةً.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: پہلے وار میں ستر نیکیاں ہیں ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: For the first blow seventy good deeds will be recorded.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٢٥٨٨) (صحیح )
5265Sunan Abu Dawood

چینو نٹی کو بلا وجہ نہیں مارنا چاہیے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ الْمُغِيرَةِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: نَزَلَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ تَحْتَ شَجَرَةٍ فَلَدَغَتْهُ نَمْلَةٌ، فَأَمَرَ بِجِهَازِهِ فَأُخْرِجَ مِنْ تَحْتِهَا، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَأُحْرِقَتْ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ فَهَلَّا نَمْلَةً وَاحِدَةً.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: نبیوں میں سے ایک نبی ایک درخت کے نیچے اترے تو انہیں ایک چھوٹی چیونٹی نے کاٹ لیا، انہوں نے (غصے میں آ کر) سامان ہٹا لینے کا حکم دیا تو وہ اس کے نیچے سے ہٹا لیا گیا، پھر اس درخت میں آگ لگوا دی (جس سے سب چیونٹیاں جل گئیں) تو اللہ تعالیٰ نے انہیں وحی کے ذریعہ تنبیہ فرمائی: تم نے ایک ہی چیونٹی کو (جس نے تمہیں کاٹا تھا) کیوں نہ سزا دی (سب کو کیوں مار ڈالا؟ ) ۔

Abu Hurairah reported the prophet ﷺ as saying: A prophet got down beneath a tree and he was stung by an ant. He ordered regarding the baggage and it was removed from beneath it. He then ordered regarding it and it was burnt. Allah then revealed to him: why not (just) one ant?

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/السلام ٣٩ (٢٢٤١)، (تحفة الأشراف: ١٣٣١٩، ١٥٣٠٧، ١٣٨٧٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجھاد ١٥٣(٣٠١٩)، بدء الخلق ١٦ (٣٣١٩)، سنن النسائی/الصید ٣٨ (٤٣٦٣)، سنن ابن ماجہ/الصید ١٠ (٣٢٢٥)، مسند احمد (٢/٤٠٣) (صحیح )
5266Sunan Abu Dawood

چینو نٹی کو بلا وجہ نہیں مارنا چاہیے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ،، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ نَمْلَةً قَرَصَتْ نَبِيًّا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ، فَأَمَرَ بِقَرْيَةِ النَّمْلِ فَأُحْرِقَتْ، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ: أَفِي أَنْ قَرَصَتْكَ نَمْلَةٌ أَهْلَكْتَ أُمَّةً مِنَ الْأُمَمِ تُسَبِّحُ ؟.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: انبیاء میں سے ایک نبی کو ایک چیونٹی نے کاٹ لیا تو انہوں نے چیونٹیوں کی پوری بستی کو جلا ڈالنے کا حکم دے دیا، اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ انہیں تنبیہ فرمائی کہ ایک چیونٹی کے تجھے کاٹ لینے کے بدلے میں تو نے اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرنے والی پوری ایک جماعت کو ہلاک کر ڈالا ۔

Abu Hurairah reported Messenger of Allah ﷺ as saying: An ant stung a prophet. He ordered a colony of ants to be burned. Allah revealed to him: because an ant stung you, you have perished a community which glorifies Me.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ الجہاد ١٥٣ (٣٠١٩)، بدء الخلق ١٦ (٣٣١٩)، صحیح مسلم/ السلام ٣٩ (٢٢٤١)، سنن النسائی/ الصید ٣٨ (٤٣٦٣)، سنن ابن ماجہ/ الصید ١٠ (٣٢٢٥)، (تحفة الأشراف: ١٣٣١٩، ١٥٣٠٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٠٣) (صحیح )
5267Sunan Abu Dawood

چینو نٹی کو بلا وجہ نہیں مارنا چاہیے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنْ قَتْلِ أَرْبَعٍ مِنَ الدَّوَابِّ: النَّمْلَةُ، وَالنَّحْلَةُ، وَالْهُدْهُدُ، وَالصُّرَدُ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے چار جانوروں کے قتل سے روکا ہے چیونٹی، شہد کی مکھی، ہد ہد، لٹورا چڑیا۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ prohibited to kill four creatures: ants, bees, hoopoes, and sparrow-hawks.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الصید ١٠ (٣٢٢٤)، (تحفة الأشراف: ٥٨٥٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٣٢)، سنن الدارمی/الأضاحي ٢٦ (٢١٤٢) (صحیح )
5268Sunan Abu Dawood

چینو نٹی کو بلا وجہ نہیں مارنا چاہیے

حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاق الْفَزَارِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ ابْنِ سَعْدٍ، قَالَ أبو داود: وَهُوَ الْحَسَنُ بن سعد، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَانْطَلَقَ لِحَاجَتِهِ، فَرَأَيْنَا حُمَّرَةً مَعَهَا فَرْخَانِ، فَأَخَذْنَا فَرْخَيْهَا، فَجَاءَتِ الْحُمَرَةُ، فَجَعَلَتْ تُفَرِّشُ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَنْ فَجَعَ هَذِهِ بِوَلَدِهَا ؟ رُدُّوا وَلَدَهَا إِلَيْهَا، وَرَأَى قَرْيَةَ نَمْلٍ قَدْ حَرَّقْنَاهَا، فَقَالَ: مَنْ حَرَّقَ هَذِهِ ؟، قُلْنَا: نَحْنُ، قَالَ: إِنَّهُ لَا يَنْبَغِي أَنْ يُعَذِّبَ بِالنَّارِ إِلَّا رَبُّ النَّارِ.

عبداللہ (عبداللہ بن مسعود) ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے آپ اپنی حاجت کے لیے تشریف لے گئے، ہم نے ایک چھوٹی چڑیا دیکھی اس کے دو بچے تھے، ہم نے اس کے دونوں بچے پکڑ لیے، تو وہ چڑیا آئی اور (انہیں حاصل کرنے کے لیے) تڑپنے لگی، اتنے میں نبی اکرم ﷺ تشریف لے آئے اور آپ نے فرمایا: کس نے اس کے بچے لے کر اسے تکلیف پہنچائی ہے، اس کے بچے اسے واپس لوٹا دو ، آپ نے چیونٹیوں کی ایک بستی دیکھی جسے ہم نے جلا ڈالا تھا، آپ نے پوچھا: کس نے جلایا ہے؟ ہم نے کہا: ہم نے، آپ نے فرمایا: آگ کے پیدا کرنے والے کے سوا کسی کے لیے آگ کی سزا دینا مناسب نہیں ہے ۔

Abdur-Rahman bin Abdullah quoted his father as saying: When we were on a journey with the Messenger of Allah ﷺ and he had gone to releive himself, we saw a Hummarah with two young ones. We took the young ones. The Hummarah came and began to spread out its wings. Then the prophet ﷺ came and said: who has pained this young by the loss of her young? Give her young ones back to her. We also saw an ant-hill which we had burned. He asked? Who has burned this? We replied: we have. He said: it is not fitting that anyone but the lord of the fire should punish with fire.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٢٦٧٥)، (تحفة الأشراف: ٩٣٦٢) (صحیح )
5269Sunan Abu Dawood

مینڈک کو مارنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ،أَنَّ طَبِيبًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ضِفْدَعٍ يَجْعَلُهَا فِي دَوَاءٍ، فَنَهَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِهَا.

عبدالرحمٰن بن عثمان سے روایت ہے کہ ایک طبیب نے رسول اللہ ﷺ سے مینڈک کو دوا میں استعمال کرنے کے بارے میں پوچھا تو انہیں نبی اکرم ﷺ نے اسے مارنے سے منع فرمایا۔

Narrated Abdur Rahman ibn Uthman (RA) : When a physician consulted the Prophet ﷺ about putting frogs in medicine, he forbade him to kill them.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٣٨٧١)، (تحفة الأشراف: ٩٧٠٦) (صحیح )
5270Sunan Abu Dawood

کنکری مارنے کا بیان

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ صُهْبَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَذْفِ، قَالَ: إِنَّهُ لَا يَصِيدُ صَيْدًا وَلَا يَنْكَأُ عَدُوًّا، وَإِنَّمَا يَفْقَأُ الْعَيْنَ وَيَكْسِرُ السِّنَّ.

عبداللہ بن مغفل ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (کھیل کود اور ہنسی مذاق میں) ایک دوسرے کو کنکریاں مارنے سے منع فرمایا ہے، آپ نے فرمایا: نہ تو یہ کسی شکار کا شکار کرتی ہے، نہ کسی دشمن کو گھائل کرتی ہے۔ یہ تو صرف آنکھ پھوڑ سکتی ہے اور دانت توڑ سکتی ہے ۔

Abd bin Mughaffal said: The Messenger of Allah ﷺ prohibited throwing pebbles (in sport) saying: game is not caught by such means. Neither is an enemy injured, but it may sometimes put out an eye or break a tooth.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر سورة الفتح ٥ (٤٨٤١)، الذبائح ٥ (٥٤٧٩)، الأدب ١٢٢ (٦٢٢٠)، صحیح مسلم/الذبائح ١٠ (١٩٥٤)، سنن ابن ماجہ/الصید ١١ (٣٢٢٧)، (تحفة الأشراف: ٩٦٦٣)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/القسامة ٣٣ (٤٨١٩)، مسند احمد (٤/٨٦، ٥/٤٦، ٥٤، ٥٥، ٥٦، ٥٧) (صحیح )
5271Sunan Abu Dawood

ختنہ کا بیان

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْأَشْجَعِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، حَدَّثَنَامُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ، قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ الْكُوفِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ الْأَنْصَارِيَّةِ، أَنَّ امْرَأَةً كَانَتْ تَخْتِنُ بِالْمَدِينَةِ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تُنْهِكِي، فَإِنَّ ذَلِكَ أَحْظَى لِلْمَرْأَةِ وَأَحَبُّ إِلَى الْبَعْلِ، قَالَ أبو داود: رُوِيَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بِمَعْنَاهُ وَإِسْنَادِهِ، قَالَ أبو داود: لَيْسَ هُوَ بِالْقَوِيِّ، وَقَدْ رُوِيَ مُرْسَلًا، قَالَ أبو داود: وَمُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ مَجْهُولٌ وَهَذَا الْحَدِيثُ ضَعِيفٌ.

ام عطیہ انصاریہ ؓ سے روایت ہے کہ مدینہ میں ایک عورت عورتوں کا ختنہ کیا کرتی تھی تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: نیچا کر ختنہ مت کرو بہت نیچے سے مت کاٹو کیونکہ یہ عورت کے لیے زیادہ لطف و لذت کی چیز ہے اور شوہر کے لیے زیادہ پسندیدہ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ عبیداللہ بن عمرو سے مروی ہے انہوں نے عبدالملک سے اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث قوی نہیں ہے، وہ مرسلاً بھی روایت کی گئی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: محمد بن حسان مجہول ہیں اور یہ حدیث ضعیف ہے۔

Narrated Umm Atiyyah al-Ansariyyah (RA) : A woman used to perform circumcision in Madina. The Prophet ﷺ said to her: Do not cut severely as that is better for a woman and more desirable for a husband. Abu Dawud said: It has been transmitted by Ubaid Allah bin Amr from Abd al-Malik to the same effect through a different chain. Abu Dawud said: It is not a strong tradition. It has been transmitted in mursal form (missing the link of the Companions) Abu Dawud said: Muhammad bin Hasan is obscure, and this tradition is weak.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٨٠٩٣) (صحیح) (متابعات و شواہد سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں محمد بن حسان مجہول راوی ہیں )
5272Sunan Abu Dawood

عورتوں کا راستہ میں چلنا

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَبِي عَمْرِو بْنِ حِمَاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ،أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَهُوَ خَارِجٌ مِنَ الْمَسْجِدِ فَاخْتَلَطَ الرِّجَالُ مَعَ النِّسَاءِ فِي الطَّرِيقِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلنِّسَاءِ: اسْتَأْخِرْنَ، فَإِنَّهُ لَيْسَ لَكُنَّ أَنْ تَحْقُقْنَ الطَّرِيقَ، عَلَيْكُنَّ بِحَافَّاتِ الطَّرِيقِ، فَكَانَتِ الْمَرْأَةُ تَلْتَصِقُ بِالْجِدَارِ حَتَّى إِنَّ ثَوْبَهَا لَيَتَعَلَّقُ بِالْجِدَارِ مِنْ لُصُوقِهَا بِهِ.

ابواسید انصاری ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو اس وقت فرماتے ہوئے سنا جب آپ مسجد سے باہر نکل رہے تھے اور لوگ راستے میں عورتوں میں مل جل گئے تھے، تو رسول ﷺ نے عورتوں سے فرمایا: تم پیچھے ہٹ جاؤ، تمہارے لیے راستے کے درمیان سے چلنا ٹھیک نہیں، تمہارے لیے راستے کے کنارے کنارے چلنا مناسب ہے پھر تو ایسا ہوگیا کہ عورتیں دیوار سے چپک کر چلنے لگیں، یہاں تک کہ ان کے کپڑے (دوپٹے وغیرہ) دیوار میں پھنس جاتے تھے۔

Narrated Abu Usayd al-Ansari (RA) : Abu Usayd heard the Messenger of Allah ﷺ say when he was coming out of the mosque, and men and women were mingled in the road: Draw back, for you must not walk in the middle of the road; keep to the sides of the road. Then women were keeping so close to the wall that their garments were rubbing against it.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١١١٩٢) (حسن )
5273Sunan Abu Dawood

عورتوں کا راستہ میں چلنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي صَالِحٍ الْمَدَنِيِّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى أَنْ يَمْشِيَ يَعْنِي، الرَّجُلَ بَيْنَ الْمَرْأَتَيْنِ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے مرد کو دو عورتوں کے بیچ میں چلنے سے منع فرمایا ہے۔

Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : The Prophet ﷺ prohibited that one, i. e. man, should walk between two women.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٧٦٦٢) (موضوع) (داود بن ابی صالح حدیثیں گھڑتا تھا )
5274Sunan Abu Dawood

عورتوں کا راستہ میں چلنا

حدثنا محمد بن الصباح بن سفيان، وابن السرح، قالا: أخبرنا سفيان، عن الزهري، عن سعيد عن أبى هريرة، عن النبي صلي الله عليه وسلم: يقول الله عز وجل: يؤذيني ابن آدم، يسب الدهر، وأنا الدهر بيدي الأمر، أقلب الليل والنهار، قال ابن السرح، عن ابن المسيب مكان سعيد.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ عزوجل فرماتا ہے: ابن آدم (انسان) مجھے تکلیف پہنچاتا ہے، وہ زمانے کو گالی دیتا ہے حالانکہ زمانہ میں ہی ہوں، تمام امور میرے ہاتھ میں ہیں، میں ہی رات اور دن کو الٹتا پلٹتا ہوں ۔

Abu Hurairah reported the prophet ﷺ as saying: Allah most high says: “The son of Adam injures me by abusing time, whereas I am time. Authority is in my hand. I alternate the night and the day”. Ibn al-Sarh said: “on the authority of Ibn al-Musayyab instead of Saeed.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر سورة الجاثیة ١ (٤٨٢٦)، التوحید ٣٥ (٧٤٩١)، الأدب ١٠١ (٦١٨١)، صحیح مسلم/الألفاظ من الأدب ١ (٢٢٤٦)، (تحفة الأشراف: ١٣١٣١)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الکلام ١ (٣) (صحیح )
4793Sunan Abu Dawood

حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَائِشَةَ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَتْ: فَقَالَ، تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا عَائِشَةُ، إِنَّ مِنْ شِرَارِ النَّاسِ الَّذِينَ يُكْرَمُونَ اتِّقَاءَ أَلْسِنَتِهِمْ.

آپ نے یعنی نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اے عائشہ! لوگوں میں سب سے بدترین لوگ وہ ہیں وہ جن کا احترام و تکریم ان کی زبانوں سے بچنے کے لیے کیا جائے۔

The tradition mentioned above has been transmitted by Aishah through a different chain of narrators. This version has: The Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم said: Aishah! There are some bad people who are respected for fear of their tongues.

4879Sunan Abu Dawood

حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ أَبِي عِيسَى السَّيْلَحِينِيُّ، عَنْ أَبِي الْمُغِيرَةِ، كَمَا قَالَ ابْنُ الْمُصَفَّى

جیسا کہ ابن مصفیٰ نے روایت کیا ہے۔

This tradition has also been transmitted by ‘Isa bin Abi ‘Isa al-sailahini from Abu al-Mughirah, as Ibn al-musaffa said.

4925Sunan Abu Dawood

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مُطْعِمُ بْنُ الْمِقْدَامِ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَافِعٌ، قَالَ: كُنْتُ رِدْفَ ابْنِ عُمَرَ إِذْ مَرَّ بِرَاعٍ يَزْمُرُ فَذَكَرَ نَحْوَهُ، قال أَبُو دَاوُد: أُدْخِلَ بَيْنَ مُطْعِمٍ وَنَافِعٍ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى.

میں ابن عمر ؓ کے پیچھے سوار تھا، کہ ان کا گزر ایک چرواہے کے پاس سے ہوا جو بانسری بجا رہا تھا، پھر انہوں نے اسی طرح کی روایت ذکر کی۔

Nafi said: I was sitting behind Ibn Umar on the mount when he passed a shepherd who was blowing a pipe. He then mentioned the rest of the tradition in a similar manner. Abu Dawud said: Between Mutim and Nafi the name of a narrator Sulaiman bin Musa has been inserted.

4926Sunan Abu Dawood

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْمَلِيحِ، عَنْ مَيْمُونٍ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ ابْنِ عُمَرَ فَسَمِعَ صَوْتَ زَامِرٍ فَذَكَرَ نَحْوَهُ، قال أَبُو دَاوُد وَهَذَا أَنْكَرُهَا.

میں ابن عمر ؓ کے ساتھ تھا تو آپ نے ایک بانسری بجانے والے کی آواز سنی پھر راوی نے اسی طرح کی حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ ان احادیث میں سب سے زیادہ منکر ہے ۱؎۔

Nafi said: When we were with Ibn Umar, he heard the sound of a man who was blowing a pipe. He then mentioned a similar tradition. Abu Dawud said: This is more rejected.

4934Sunan Abu Dawood

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ،حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ مِثْلَهُ، قَالَ: عَلَى خَيْرِ طَائِرٍ، فَسَلَّمَتْنِي إِلَيْهِنَّ، فَغَسَلْنَ رَأْسِي وَأَصْلَحْنَنِي فَلَمْ يَرُعْنِي إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضُحًى، فَأَسْلَمْنَنِي إِلَيْهِ.

اس میں ہے ( ان عورتوں نے کہا ) اچھا نصیبہ ہے پھر میری ماں نے مجھے ان عورتوں کے سپرد کر دیا، انہوں نے میرا سر دھویا اور مجھے سجایا سنوارا ( میں جان نہیں پا رہی تھی کہ یہ سب کیا اور کیوں ہو رہا ہے ) کہ چاشت کے وقت رسول اللہ ﷺ نے ہی آ کر مجھے حیرانی میں ڈال دیا تو ان عورتوں نے مجھے آپ کے حوالہ کر دیا۔

Narrated Abu Usamah: The tradition mentioned above (No. 4915) has also been transmitted by Abu Usamah in a similar manner through a different chain of narrators. This version has: With good fortune. She (Umm Ruman) entrusted me to them. They washed my head and redressed me. No one came to me suddenly except the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم in the forenoon. So they entrusted me to him.

5078Sunan Abu Dawood

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ مُسْلِمٍ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَصْبَحْتُ أُشْهِدُكَ، وَأُشْهِدُ حَمَلَةَ عَرْشِكَ وَمَلَائِكَتَكَ وَجَمِيعَ خَلْقِكَ، أَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ، إِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا أَصَابَ فِي يَوْمِهِ ذَلِكَ مِنْ ذَنْبٍ، وَإِنْ قَالَهَا حِينَ يُمْسِي، غُفِرَ لَهُ مَا أَصَابَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ .

میں نے انس بن مالک ؓ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے صبح کے وقت «اللهم إني أصبحت أشهدك وأشهد حملة عرشك وملائكتك وجميع خلقك أنك أنت الله لا إله إلا أنت وحدك لا شريك لك وأن محمدا عبدك ورسولك» اے اللہ! میں نے صبح کی میں تجھے اور تیرے عرش کے اٹھانے والوں کو تیرے فرشتوں کو اور تیری تمام مخلوقات کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ تو ہی اللہ ہے تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے تو اکیلا ہے تیرا کوئی شریک نہیں ہے اور محمد ﷺ تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں کہا تو اس دن اس سے جتنے بھی گناہ سرزد ہوئے ہوں گے، سب معاف کر دیے جائیں گے، اور جس کسی نے ان کلمات کو شام کے وقت کہا تو اس رات میں اس سے جتنے گناہ سرزد ہوئے ہوں گے سب معاف کر دئیے جائیں گے۔

Narrated Anas ibn Malik: The Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم said: If anyone says in the morning: O Allah! in the morning we call Thee, the bearers of Thy Throne, Thy angels, and all Thy creatures to witness that Thou art Allah than Whom there is no god, Thou being alone and without a partner, and that Muhammad is Thy servant and Thy Messenger, Allah will forgive him any sins that he commits that day; and if he repeats them in the evening. Allah will forgive him any sins he commits that night.

5081Sunan Abu Dawood

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ مُسْلِمٍ الدِّمَشْقِيُّ وَكَانَ مِنْ ثِقَاتِ الْمُسْلِمِينَ مِنَ الْمُتَعَبِّدِينَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُدْرِكُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ يَزِيدُ: شَيْخٌ ثِقَةٌ، عَنْ يُونُسَ بْنِ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: مَنْ قَالَ إِذَا أَصْبَحَ وَإِذَا أَمْسَى: حَسْبِيَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ، وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ سَبْعَ مَرَّاتٍ، كَفَاهُ اللَّهُ مَا أَهَمَّهُ صَادِقًا كَانَ بِهَا أَوْ كَاذِبًا .

جو شخص صبح کے وقت اور شام کے وقت سات مرتبہ «حسبي الله لا إله إلا هو عليه توكلت وهو رب العرش العظيم» کافی ہے مجھے اللہ، صرف وہی معبود برحق ہے، اسی پر میں نے بھروسہ کیا ہے، وہی عرش عظیم کا رب ہے کہے تو اللہ اس کی پریشانیوں سے اسے کافی ہو گا چاہے ان کے کہنے میں وہ سچا ہو یا جھوٹا۔

Abu al-Darda said: if anyone says seven times morning and evening; “Allah sufficeth me: there is no god but He; on him is my trust- he, the Lord of the Throne (of glory) Supreme”, Allah will be sufficient for him against anything which grieves him, whether he is true or false in (repeating) them.