ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے چھپکلی کو پہلے ہی وار میں قتل کردیا اس کو اتنی اتنی نیکیاں ملیں گی، اور جس نے دوسرے وار میں اسے قتل کیا اسے اتنی اتنی نیکیاں ملیں گی، پہلے سے کم، اور جس نے تیسرے وار میں اسے ہلاک کیا اسے اتنی اتنی نیکیاں ملیں گی دوسرے وار سے کم ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone kills a gecko with the first blow, such and such number of good deeds will be recorded for him, if he kills it with the second blow, such and such number of good deeds will be recorded for him less than the former; and if he kills it with the third blow, such and such number of good deeds will be recorded for him, less than the former.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/السلام ٣٨ (٢٢٤٠)، (تحفة الأشراف: ١٢٧٣١، ١٢٥٨٨، ١٥٤٨٧)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأحکام ١ (١٤٨٢)، سنن ابن ماجہ/الصید ١٢ (٣٢٢٨)، مسند احمد (٢/٣٥٥) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: نبیوں میں سے ایک نبی ایک درخت کے نیچے اترے تو انہیں ایک چھوٹی چیونٹی نے کاٹ لیا، انہوں نے (غصے میں آ کر) سامان ہٹا لینے کا حکم دیا تو وہ اس کے نیچے سے ہٹا لیا گیا، پھر اس درخت میں آگ لگوا دی (جس سے سب چیونٹیاں جل گئیں) تو اللہ تعالیٰ نے انہیں وحی کے ذریعہ تنبیہ فرمائی: تم نے ایک ہی چیونٹی کو (جس نے تمہیں کاٹا تھا) کیوں نہ سزا دی (سب کو کیوں مار ڈالا؟ ) ۔
Abu Hurairah reported the prophet ﷺ as saying: A prophet got down beneath a tree and he was stung by an ant. He ordered regarding the baggage and it was removed from beneath it. He then ordered regarding it and it was burnt. Allah then revealed to him: why not (just) one ant?
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/السلام ٣٩ (٢٢٤١)، (تحفة الأشراف: ١٣٣١٩، ١٥٣٠٧، ١٣٨٧٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجھاد ١٥٣(٣٠١٩)، بدء الخلق ١٦ (٣٣١٩)، سنن النسائی/الصید ٣٨ (٤٣٦٣)، سنن ابن ماجہ/الصید ١٠ (٣٢٢٥)، مسند احمد (٢/٤٠٣) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: انبیاء میں سے ایک نبی کو ایک چیونٹی نے کاٹ لیا تو انہوں نے چیونٹیوں کی پوری بستی کو جلا ڈالنے کا حکم دے دیا، اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ انہیں تنبیہ فرمائی کہ ایک چیونٹی کے تجھے کاٹ لینے کے بدلے میں تو نے اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرنے والی پوری ایک جماعت کو ہلاک کر ڈالا ۔
Abu Hurairah reported Messenger of Allah ﷺ as saying: An ant stung a prophet. He ordered a colony of ants to be burned. Allah revealed to him: because an ant stung you, you have perished a community which glorifies Me.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ الجہاد ١٥٣ (٣٠١٩)، بدء الخلق ١٦ (٣٣١٩)، صحیح مسلم/ السلام ٣٩ (٢٢٤١)، سنن النسائی/ الصید ٣٨ (٤٣٦٣)، سنن ابن ماجہ/ الصید ١٠ (٣٢٢٥)، (تحفة الأشراف: ١٣٣١٩، ١٥٣٠٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٠٣) (صحیح )
عبداللہ (عبداللہ بن مسعود) ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے آپ اپنی حاجت کے لیے تشریف لے گئے، ہم نے ایک چھوٹی چڑیا دیکھی اس کے دو بچے تھے، ہم نے اس کے دونوں بچے پکڑ لیے، تو وہ چڑیا آئی اور (انہیں حاصل کرنے کے لیے) تڑپنے لگی، اتنے میں نبی اکرم ﷺ تشریف لے آئے اور آپ نے فرمایا: کس نے اس کے بچے لے کر اسے تکلیف پہنچائی ہے، اس کے بچے اسے واپس لوٹا دو ، آپ نے چیونٹیوں کی ایک بستی دیکھی جسے ہم نے جلا ڈالا تھا، آپ نے پوچھا: کس نے جلایا ہے؟ ہم نے کہا: ہم نے، آپ نے فرمایا: آگ کے پیدا کرنے والے کے سوا کسی کے لیے آگ کی سزا دینا مناسب نہیں ہے ۔
Abdur-Rahman bin Abdullah quoted his father as saying: When we were on a journey with the Messenger of Allah ﷺ and he had gone to releive himself, we saw a Hummarah with two young ones. We took the young ones. The Hummarah came and began to spread out its wings. Then the prophet ﷺ came and said: who has pained this young by the loss of her young? Give her young ones back to her. We also saw an ant-hill which we had burned. He asked? Who has burned this? We replied: we have. He said: it is not fitting that anyone but the lord of the fire should punish with fire.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٢٦٧٥)، (تحفة الأشراف: ٩٣٦٢) (صحیح )
عبدالرحمٰن بن عثمان سے روایت ہے کہ ایک طبیب نے رسول اللہ ﷺ سے مینڈک کو دوا میں استعمال کرنے کے بارے میں پوچھا تو انہیں نبی اکرم ﷺ نے اسے مارنے سے منع فرمایا۔
Narrated Abdur Rahman ibn Uthman (RA) : When a physician consulted the Prophet ﷺ about putting frogs in medicine, he forbade him to kill them.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٣٨٧١)، (تحفة الأشراف: ٩٧٠٦) (صحیح )
عبداللہ بن مغفل ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (کھیل کود اور ہنسی مذاق میں) ایک دوسرے کو کنکریاں مارنے سے منع فرمایا ہے، آپ نے فرمایا: نہ تو یہ کسی شکار کا شکار کرتی ہے، نہ کسی دشمن کو گھائل کرتی ہے۔ یہ تو صرف آنکھ پھوڑ سکتی ہے اور دانت توڑ سکتی ہے ۔
Abd bin Mughaffal said: The Messenger of Allah ﷺ prohibited throwing pebbles (in sport) saying: game is not caught by such means. Neither is an enemy injured, but it may sometimes put out an eye or break a tooth.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر سورة الفتح ٥ (٤٨٤١)، الذبائح ٥ (٥٤٧٩)، الأدب ١٢٢ (٦٢٢٠)، صحیح مسلم/الذبائح ١٠ (١٩٥٤)، سنن ابن ماجہ/الصید ١١ (٣٢٢٧)، (تحفة الأشراف: ٩٦٦٣)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/القسامة ٣٣ (٤٨١٩)، مسند احمد (٤/٨٦، ٥/٤٦، ٥٤، ٥٥، ٥٦، ٥٧) (صحیح )
ام عطیہ انصاریہ ؓ سے روایت ہے کہ مدینہ میں ایک عورت عورتوں کا ختنہ کیا کرتی تھی تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: نیچا کر ختنہ مت کرو بہت نیچے سے مت کاٹو کیونکہ یہ عورت کے لیے زیادہ لطف و لذت کی چیز ہے اور شوہر کے لیے زیادہ پسندیدہ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ عبیداللہ بن عمرو سے مروی ہے انہوں نے عبدالملک سے اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث قوی نہیں ہے، وہ مرسلاً بھی روایت کی گئی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: محمد بن حسان مجہول ہیں اور یہ حدیث ضعیف ہے۔
Narrated Umm Atiyyah al-Ansariyyah (RA) : A woman used to perform circumcision in Madina. The Prophet ﷺ said to her: Do not cut severely as that is better for a woman and more desirable for a husband. Abu Dawud said: It has been transmitted by Ubaid Allah bin Amr from Abd al-Malik to the same effect through a different chain. Abu Dawud said: It is not a strong tradition. It has been transmitted in mursal form (missing the link of the Companions) Abu Dawud said: Muhammad bin Hasan is obscure, and this tradition is weak.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٨٠٩٣) (صحیح) (متابعات و شواہد سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں محمد بن حسان مجہول راوی ہیں )
ابواسید انصاری ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو اس وقت فرماتے ہوئے سنا جب آپ مسجد سے باہر نکل رہے تھے اور لوگ راستے میں عورتوں میں مل جل گئے تھے، تو رسول ﷺ نے عورتوں سے فرمایا: تم پیچھے ہٹ جاؤ، تمہارے لیے راستے کے درمیان سے چلنا ٹھیک نہیں، تمہارے لیے راستے کے کنارے کنارے چلنا مناسب ہے پھر تو ایسا ہوگیا کہ عورتیں دیوار سے چپک کر چلنے لگیں، یہاں تک کہ ان کے کپڑے (دوپٹے وغیرہ) دیوار میں پھنس جاتے تھے۔
Narrated Abu Usayd al-Ansari (RA) : Abu Usayd heard the Messenger of Allah ﷺ say when he was coming out of the mosque, and men and women were mingled in the road: Draw back, for you must not walk in the middle of the road; keep to the sides of the road. Then women were keeping so close to the wall that their garments were rubbing against it.
حدثنا محمد بن الصباح بن سفيان، وابن السرح، قالا: أخبرنا سفيان، عن الزهري، عن سعيد عن أبى هريرة، عن النبي صلي الله عليه وسلم: يقول الله عز وجل: يؤذيني ابن آدم، يسب الدهر، وأنا الدهر بيدي الأمر، أقلب الليل والنهار، قال ابن السرح، عن ابن المسيب مكان سعيد.
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ عزوجل فرماتا ہے: ابن آدم (انسان) مجھے تکلیف پہنچاتا ہے، وہ زمانے کو گالی دیتا ہے حالانکہ زمانہ میں ہی ہوں، تمام امور میرے ہاتھ میں ہیں، میں ہی رات اور دن کو الٹتا پلٹتا ہوں ۔
Abu Hurairah reported the prophet ﷺ as saying: Allah most high says: “The son of Adam injures me by abusing time, whereas I am time. Authority is in my hand. I alternate the night and the day”. Ibn al-Sarh said: “on the authority of Ibn al-Musayyab instead of Saeed.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر سورة الجاثیة ١ (٤٨٢٦)، التوحید ٣٥ (٧٤٩١)، الأدب ١٠١ (٦١٨١)، صحیح مسلم/الألفاظ من الأدب ١ (٢٢٤٦)، (تحفة الأشراف: ١٣١٣١)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الکلام ١ (٣) (صحیح )
آپ نے یعنی نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اے عائشہ! لوگوں میں سب سے بدترین لوگ وہ ہیں وہ جن کا احترام و تکریم ان کی زبانوں سے بچنے کے لیے کیا جائے۔
The tradition mentioned above has been transmitted by Aishah through a different chain of narrators. This version has: The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Aishah! There are some bad people who are respected for fear of their tongues.
میں ابن عمر ؓ کے پیچھے سوار تھا، کہ ان کا گزر ایک چرواہے کے پاس سے ہوا جو بانسری بجا رہا تھا، پھر انہوں نے اسی طرح کی روایت ذکر کی۔
Nafi said: I was sitting behind Ibn Umar on the mount when he passed a shepherd who was blowing a pipe. He then mentioned the rest of the tradition in a similar manner. Abu Dawud said: Between Mutim and Nafi the name of a narrator Sulaiman bin Musa has been inserted.
میں ابن عمر ؓ کے ساتھ تھا تو آپ نے ایک بانسری بجانے والے کی آواز سنی پھر راوی نے اسی طرح کی حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ ان احادیث میں سب سے زیادہ منکر ہے ۱؎۔
Nafi said: When we were with Ibn Umar, he heard the sound of a man who was blowing a pipe. He then mentioned a similar tradition. Abu Dawud said: This is more rejected.
اس میں ہے ( ان عورتوں نے کہا ) اچھا نصیبہ ہے پھر میری ماں نے مجھے ان عورتوں کے سپرد کر دیا، انہوں نے میرا سر دھویا اور مجھے سجایا سنوارا ( میں جان نہیں پا رہی تھی کہ یہ سب کیا اور کیوں ہو رہا ہے ) کہ چاشت کے وقت رسول اللہ ﷺ نے ہی آ کر مجھے حیرانی میں ڈال دیا تو ان عورتوں نے مجھے آپ کے حوالہ کر دیا۔
Narrated Abu Usamah: The tradition mentioned above (No. 4915) has also been transmitted by Abu Usamah in a similar manner through a different chain of narrators. This version has: With good fortune. She (Umm Ruman) entrusted me to them. They washed my head and redressed me. No one came to me suddenly except the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم in the forenoon. So they entrusted me to him.
میں نے انس بن مالک ؓ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے صبح کے وقت «اللهم إني أصبحت أشهدك وأشهد حملة عرشك وملائكتك وجميع خلقك أنك أنت الله لا إله إلا أنت وحدك لا شريك لك وأن محمدا عبدك ورسولك» اے اللہ! میں نے صبح کی میں تجھے اور تیرے عرش کے اٹھانے والوں کو تیرے فرشتوں کو اور تیری تمام مخلوقات کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ تو ہی اللہ ہے تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے تو اکیلا ہے تیرا کوئی شریک نہیں ہے اور محمد ﷺ تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں کہا تو اس دن اس سے جتنے بھی گناہ سرزد ہوئے ہوں گے، سب معاف کر دیے جائیں گے، اور جس کسی نے ان کلمات کو شام کے وقت کہا تو اس رات میں اس سے جتنے گناہ سرزد ہوئے ہوں گے سب معاف کر دئیے جائیں گے۔
Narrated Anas ibn Malik: The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: If anyone says in the morning: O Allah! in the morning we call Thee, the bearers of Thy Throne, Thy angels, and all Thy creatures to witness that Thou art Allah than Whom there is no god, Thou being alone and without a partner, and that Muhammad is Thy servant and Thy Messenger, Allah will forgive him any sins that he commits that day; and if he repeats them in the evening. Allah will forgive him any sins he commits that night.
جو شخص صبح کے وقت اور شام کے وقت سات مرتبہ «حسبي الله لا إله إلا هو عليه توكلت وهو رب العرش العظيم» کافی ہے مجھے اللہ، صرف وہی معبود برحق ہے، اسی پر میں نے بھروسہ کیا ہے، وہی عرش عظیم کا رب ہے کہے تو اللہ اس کی پریشانیوں سے اسے کافی ہو گا چاہے ان کے کہنے میں وہ سچا ہو یا جھوٹا۔
Abu al-Darda said: if anyone says seven times morning and evening; “Allah sufficeth me: there is no god but He; on him is my trust- he, the Lord of the Throne (of glory) Supreme”, Allah will be sufficient for him against anything which grieves him, whether he is true or false in (repeating) them.