بریدہ ؓ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: انسان کے جسم میں تین سو ساٹھ جوڑ ہیں اور انسان کو چاہیئے کہ ہر جوڑ کی طرف سے کچھ نہ کچھ صدقہ دے، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! اتنی طاقت کس کو ہے؟ آپ نے فرمایا: مسجد میں تھوک اور رینٹ کو چھپا دینا اور (موذی) چیز کو راستے سے ہٹا دینا بھی صدقہ ہے، اور اگر ایسا اتفاق نہ ہو تو چاشت کی دو رکعتیں ہی تمہارے لیے کافی ہیں ۔
Narrated Abu Buraydah (RA) : I heard the Messenger of Allah ﷺ say: A human being has three hundred and sixty joints for each of which he must give alms. The people asked him: Who is capable of doing this ? He replied: It may be mucus in the mosque which you bury, and something which you remove from the road; but if you do not find such, two rakahs in the forenoon will be sufficient for you.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٩٦٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٥٤، ٣٥٩) (صحیح )
ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ابن آدم کے ہر جوڑ پر صبح ہوتے ہی صدقہ عائد ہوجاتا ہے، تو اس کا اپنے ملاقاتی سے سلام کرلینا بھی صدقہ ہے، اس کا معروف (اچھی بات) کا حکم کرنا بھی صدقہ ہے اور منکر (بری بات) سے روکنا بھی صدقہ ہے، اس کا راستہ سے تکلیف دہ چیز ہٹانا بھی صدقہ ہے، اور اس کا اپنی بیوی سے ہمبستری بھی صدقہ ہے لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ تو اس سے اپنی شہوت پوری کرتا ہے، پھر بھی صدقہ ہوگا؟ (یعنی اس پر اسے ثواب کیونکر ہوگا) تو آپ نے فرمایا: کیا خیال ہے تمہارا اگر وہ اپنی خواہش (بیوی کے بجائے) کسی اور کے ساتھ پوری کرتا تو گنہگار ہوتا یا نہیں؟ (جب وہ غلط کاری کرنے پر گنہگار ہوتا تو صحیح جگہ استعمال کرنے پر اسے ثواب بھی ہوگا) اس کے بعد آپ نے فرمایا: اشراق کی دو رکعتیں ان تمام کی طرف سے کافی ہوجائیں گی (یعنی صدقہ بن جائیں گی) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حماد نے اپنی روایت میں امر و نہی (کے صدقہ ہونے) کا ذکر نہیں کیا۔
Narrated Abu Dharr (RA) : The Prophet ﷺ said: In the morning alms are due from every bone in mans fingers and toes. Salutation to everyone he meets is alms; enjoining good is alms; forbidding what is disreputable is alms; removing what is harmful from the road is alms; having sexual intercourse with his wife is alms. The people asked: He fulfils his desire, Messenger of Allah; is it alms? He replied: Tell me if he fulfilled his desire where he had no right, would he commit a sin ? He then said: Two rakahs which one prays in the forenoon serve instead of all that. Abu Dawud said: Hammad did not mention enjoining good and forbidding what is disreputable.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ١٣ (٧٢٠)، (تحفة الأشراف: ١١٩٢٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٦٧، ١٧٨) (صحیح )
ابوالاسود الدیلی نے ابوذر سے یہی حدیث روایت کی ہے اور نبی اکرم ﷺ کا ذکر اس کے وسط میں کیا ہے۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Abu Dharr through a different chain of narrators. In this version the transmitter mentioned the Prophet ﷺ in the middle of the tradition.
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک شخص نے جس نے کبھی کوئی بھلا کام نہیں کیا تھا کانٹے کی ایک ڈالی راستے پر سے ہٹا دی، یا تو وہ ڈالی درخت پر (جھکی ہوئی) تھی (آنے جانے والوں کے سروں سے ٹکراتی تھی) اس نے اسے کاٹ کر الگ ڈال دیا، یا اسے کسی نے راستے پر ڈال دیا تھا اور اس نے اسے ہٹا دیا تو اللہ اس کے اس کام سے خوش ہوا اور اسے جنت میں داخل کردیا ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: A man never did a good deed but removed a thorny branch from the road; it was either in the tree and someone cut it and threw it on the road, or it was lying in it, he removed it. Allah accepted this good deed of his and brought him into Paradise.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٢٣٢٣)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان ٣٢ (٦٥٢)، المظالم ٢٨ (٢٤٧٢)، صحیح مسلم/البر والصلة ٣٦ (١٩١٤)، الإمارة ٥١ (١٩١٤)، سنن الترمذی/البر والصلة ٣٨ (١٩٥٨)، سنن ابن ماجہ/الأدب ٧ (٣٦٨٢)، موطا امام مالک/صلاة الجماعة ٢ (٦)، مسند احمد (٢/٣٤١) (حسن صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے وہ کبھی اسے موقوفاً روایت کرتے ہیں اور کبھی اسے نبی اکرم ﷺ تک پہنچاتے ہیں کہ جب سونے لگو تو آگ گھر میں موجود نہ رہنے دو (بجھا کر سوؤ) ۔
Salim quoting his father (Ibn Umar) said ( sometimes he traced back to the Prophet ﷺ : Do not leave a fire burning in your houses while you are asleep.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الاستئذان ٤٩ (٦٢٩٣)، صحیح مسلم/الأشربة ١٢ (٢٠١٥)، سنن الترمذی/الأطعمة ١٥(١٨١٣)، سنن ابن ماجہ/الأدب ٤٦ (٣٧٦٩)، (تحفة الأشراف: ٦٨١٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٧، ٤٤) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ایک چوہیا آئی اور چراغ کی بتی کو پکڑ کر کھینچتی ہوئی لائی اور رسول اللہ ﷺ کے سامنے اس چٹائی پر ڈال دیا جس پر آپ بیٹھے تھے اور درہم کے برابر جگہ جلا دی، (یہ دیکھ کر) آپ نے فرمایا: جب سونے لگو تو اپنے چراغوں کو بجھا دیا کرو، کیونکہ شیطان چوہیا جیسی چیزوں کو ایسی باتیں سجھاتا ہے تو وہ تم کو جلا دیتی ہے ۔
Ibn Abbas said: A mouse came dragging a wick and dropped before the Messenger of Allah ﷺ on the mat on which he was sitting with the result that it burned a hole in it about the size of dirham. He (the prophet) said: When you go to sleep, extinguish your lamps, for the devil guides a creature like this to do thus and sets you on fire.
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب سے ہماری سانپوں سے لڑائی شروع ہوئی ہے ہم نے کبھی ان سے صلح نہیں کی (سانپ ہمیشہ سے انسان کا دشمن رہا ہے، اس کا پالنا اور پوسنا کبھی درست نہیں) جو شخص کسی بھی سانپ کو ڈر کر مارنے سے چھوڑ دے وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: We have not made peace with them since we fought with them, so he who leaves any of them alone through fear does not belong to us.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٤١٤٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٤٧، ٤٣٢، ٥٢٠) (حسن صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص سانپوں کو ان کے انتقام کے ڈر سے چھوڑ دے یعنی انہیں نہ مارے وہ ہم میں سے نہیں ہے، جب سے ہماری ان سے لڑائی چھڑی ہے ہم نے ان سے کبھی بھی صلح نہیں کی ہے (وہ ہمیشہ سے موذی رہے ہیں اور موذی کا قتل ضروری ہے) ۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ said: He who leaves the snakes along through fear of their pursuit, does not belong to us. We have not made peace with them since we have fought with them.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٦٢٢١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٣٠) (صحیح )
عباس بن عبدالمطلب ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: ہم زمزم کے آس پاس کی جگہ کو (جھاڑو دے کر) صاف ستھرا کردینا چاہتے ہیں وہاں ان چھوٹے سانپوں میں سے کچھ رہتے ہیں؟ تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں مار ڈالنے کا حکم دیا۔
Narrated Al-Abbas ibn Abdul Muttalib: Al-Abbas said to the Messenger of Allah ﷺ : We wish to sweep out Zamzam, but in it there are some of these Jinnan, meaning small snakes; so the Messenger of Allah ﷺ ordered that they should be killed.
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سانپوں کو مار ڈالو، دو دھاریوں والوں کو بھی اور دم کٹے سانپوں کو بھی، کیونکہ یہ دونوں بینائی کو زائل کردیتے اور حمل کو گرا دیتے ہیں (زہر کی شدت سے) ، سالم کہتے ہیں: عبداللہ بن عمر ؓ جس سانپ کو بھی پاتے مار ڈالتے، ایک بار ابولبابہ یا زید بن الخطاب نے ان کو ایک سانپ پر حملہ آور دیکھا تو کہا: رسول اللہ ﷺ نے گھریلو سانپوں کو مارنے سے منع فرمایا ہے ١ ؎۔
Ibn Umar reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: Kill snakes, kill those which have two streaks and those with small tails, for they obliterate the eyesight and cause miscarriage. Salim said: Abdullah (bin Umar) used to kill every snake which he found. Abu Lubabah or Zaid bin al-Khattab saw him chasing a snake. He said: He (the Prophet) prohibited house-snakes.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس لئے کہ وہ جن و شیاطین بھی ہوسکتے ہیں، انہیں مارنے سے پہلے وہاں سے غائب ہوجانے یا اپنی شکل تبدیل کرلینے کی تین بار آگاہی دے دینی چاہیے اگر وہ وہاں سے غائب نہ ہو پائیں یا اپنی شکل نہ بدلیں تو دوسری روایات کی روشنی میں مار سکتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/بدء الخلق ١٤ (٣٢٩٧)، صحیح مسلم/السلام ٣٧ (٢٢٣٣)، (تحفة الأشراف: ١٢١٤٧)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الطب ٤٢ (٣٥٣٥)، موطا امام مالک/الاستئذان ١٢ (٣٢)، مسند احمد (٣/٤٣٠، ٤٥٢، ٤٥٣) (صحیح )
ابولبابہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سانپوں کو مارنے سے روکا ہے جو گھروں میں ہوتے ہیں مگر یہ کہ دو منہ والا ہو، یا دم کٹا ہو (یہ دونوں بہت خطرناک ہیں) کیونکہ یہ دونوں نگاہ کو اچک لیتے ہیں اور عورتوں کے پیٹ میں جو (بچہ) ہوتا ہے اسے گرا دیتے ہیں۔
Abu Lubabah said: The Messenger of Allah ﷺ prohibited killing the jinnan (small snakes) that are in the house, except the one which have two streaks and the one with small tail, for they obliterate the eyesight and cause miscarriage.
نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر ؓ نے لبابہ ؓ کی حدیث سننے کے بعد ایک سانپ اپنے گھر میں پایا، تو اسے (باہر کرنے کا) حکم دیا تو وہ بقیع کی طرف بھگا دیا گیا۔
Nafi said: After that, that is, after Abu Lubabah had mentioned him this tradition, Ibn Umar found a snake in his house; he commanded regarding it and it was driven away to al-Baqi.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٢١٤٧) (صحیح الإسناد )
اسامہ نے نافع سے یہی حدیث روایت کی ہے اس میں ہے نافع نے کہا: پھر اس کے بعد میں نے اسے ان کے گھر میں دیکھا۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Nafi through a different chain of transmitters. In this version Nafi said: After that I saw it again in his house.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٢١٤٧) (صحیح الإسناد )
محمد بن ابو یحییٰ کہتے ہیں کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا کہ وہ اور ان کے ایک ساتھی دونوں ابو سعید خدری ؓ کی عیادت کے لیے گئے پھر وہاں سے واپس ہوئے تو اپنے ایک اور ساتھی سے ملے، وہ بھی ان کے پاس جانا چاہتے تھے (وہ ان کے پاس چلے گئے) اور ہم آ کر مسجد میں بیٹھ گئے پھر وہ ہمارے پاس (مسجد) میں آگئے اور ہمیں بتایا کہ انہوں نے ابو سعید خدری ؓ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ بعض سانپ جن ہوتے ہیں جو اپنے گھر میں بعض زہریلے کیڑے (سانپ وغیرہ) دیکھے تو اسے تین مرتبہ تنبیہ کرے (کہ دیکھ تو پھر نظر نہ آ، ورنہ تنگی و پریشانی سے دو چار ہوگا، اس تنبیہ کے بعد بھی) پھر نظر آئے تو اسے قتل کر دے، کیونکہ وہ شیطان ہے (جیسے شیطان شرارت سے باز نہیں آتا، ایسے ہی یہ بھی سمجھانے کا اثر نہیں لیتا، ایسی صورت میں اسے مار دینے میں کوئی حرج نہیں ہے) ۔
Narrated Abu Saeed al-Khudri (RA) : Muhammad ibn Abu Yahya said that his father told that he and his companion went to Abu Saeed al-Khudri to pay a sick visit to him. He said: Then we came out from him and met a companion of ours who wanted to go to him. We went ahead and sat in the mosque. He then came back and told us that he heard Abu Saeed al-Khudri say: The Messenger of Allah ﷺ said: Some snakes are jinn; so when anyone sees one of them in his house, he should give it a warning three times. If it return (after that), he should kill it, for it is a devil.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٤٤٤٤) (صحیح) (اس کے رواة میں ایک راوی مجہول ہے، ہاں اگلی سند سے یہ واقعہ صحیح ہے )
ابوسائب کہتے ہیں کہ میں ابو سعید خدری ؓ کے پاس آیا، اسی دوران کہ میں ان کے پاس بیٹھا ہوا تھا ان کی چارپائی کے نیچے مجھے کسی چیز کی سر سراہٹ محسوس ہوئی، میں نے (جھانک کر) دیکھا تو (وہاں) سانپ موجود تھا، میں اٹھ کھڑا ہوا، ابوسعید ؓ نے کہا: کیا ہوا تمہیں؟ (کیوں کھڑے ہوگئے) میں نے کہا: یہاں ایک سانپ ہے، انہوں نے کہا: تمہارا ارادہ کیا ہے؟ میں نے کہا: میں اسے ماروں گا، تو انہوں نے اپنے گھر میں ایک کوٹھری کی طرف اشارہ کیا اور کہا: میرا ایک چچا زاد بھائی اس گھر میں رہتا تھا، غزوہ احزاب کے موقع پر اس نے رسول اللہ ﷺ سے اپنے اہل کے پاس جانے کی اجازت مانگی، اس کی ابھی نئی نئی شادی ہوئی تھی، رسول اللہ ﷺ نے اسے اجازت دے دی اور حکم دیا کہ وہ اپنے ہتھیار کے ساتھ جائے، وہ اپنے گھر آیا تو اپنی بیوی کو کمرے کے دروازے پر کھڑا پایا، تو اس کی طرف نیزہ لہرایا (چلو اندر چلو، یہاں کیسے کھڑی ہو) بیوی نے کہا، جلدی نہ کرو، پہلے یہ دیکھو کہ کس چیز نے مجھے باہر آنے پر مجبور کیا، وہ کمرے میں داخل ہوا تو ایک خوفناک سانپ دیکھا تو اسے نیزہ گھونپ دیا، اور نیزے میں چبھوئے ہوئے اسے لے کر باہر آیا، وہ تڑپ رہا تھا، ابوسعید کہتے ہیں، تو میں نہیں جان سکا کہ کون پہلے مرا آدمی یا سانپ؟ (گویا چبھو کر باہر لانے کے دوران سانپ نے اسے ڈس لیا تھا، یا وہ سانپ جن تھا اور جنوں نے انتقاماً اس کا گلا گھونٹ دیا تھا) تو اس کی قوم کے لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، اور آپ سے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیے کہ وہ ہمارے آدمی (ساتھی) کو لوٹا دے، (زندہ کر دے) آپ نے فرمایا: اپنے آدمی کے لیے مغفرت کی دعا کرو (اب زندگی ملنے سے رہی) پھر آپ نے فرمایا: مدینہ میں جنوں کی ایک جماعت مسلمان ہوئی ہے، تم ان میں سے جب کسی کو دیکھو (سانپ وغیرہ موذی جانوروں کی صورت میں) تو انہیں تین مرتبہ ڈراؤ کہ اب نہ نکلنا ورنہ مارے جاؤ گے، اس تنبیہ کے باوجود اگر وہ غائب نہ ہو اور تمہیں اس کا مار ڈالنا ہی مناسب معلوم ہو تو تین بار کی تنبیہ کے بعد اسے مار ڈالو ۔
Abu al-Saib said I went to visit Abu Sa’ld al-Khudri, and while I was sitting I heard a movement under under his couch. When I looked and found a snake there, I got up. Abu Sa’ld said: what is with you? I said: Here is a snake. He said: what do you want ? I said: I shall kill it. He then pointed to a room in his house in front of his room and said: My cousin (son of my uncle) was in this room. He asked his permission to go to his wife on the occasion of the battle of Troops (Ahzab), as he was recently married. The Messenger of Allah ﷺ gave him permission and ordered him to take his weapon with him. He came to his house and found his wife standing at the door of the house. When he pointed to her with the lance, she said; do not make haste till you see what has brought me out. He entered the house and found an ugly snake there. He pierced in the lance while it was quivering. He said: I do not know which of them died first, the man or the snake. His people then came to the Messenger of Allah ﷺ and said: supplicate Allah to restore our companion to life for us. He said: Ask forgiveness for your Companion. Then he said: In Madina a group of Jinn have embraced Islam, so when you see one of them, pronounce a waring to it three times and if it appears to you after that, kill it after three days.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/السلام ٣٧ (٢٢٣٦)، سنن الترمذی/الصید ١٥ (١٤٨٤)، موطا امام مالک/الاستئذان ١٢ (٣٣)، (تحفة الأشراف: ٤٤١٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤١) (حسن صحیح )
اس سند سے ابن عجلان سے یہی حدیث مختصراً مروی ہے، اس میں ہے کہ اسے (سانپ کو) تین بار آگاہ کر دو، (اگر جن وغیرہ ہو تو چلے جاؤ) پھر اس کے بعد اگر وہ تمہیں نظر آئے تو اسے مار ڈالو کیونکہ وہ شیطان ہے۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Ibn Ajilan through a different chain of narrators briefly. This version has: He should give it a warning three times. If it appears to him after that, he should kill it, for it is a devil.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٥٢٥٧)، (تحفة الأشراف: ٤٤١٣) (حسن صحیح )
ہشام بن زہرہ کے غلام ابوسائب نے خبر دی ہے کہ وہ ابو سعید خدری ؓ کے پاس آئے، پھر راوی نے اسی جیسی اور اس سے زیادہ کامل حدیث ذکر کی اس میں ہے: اسے تین دن تک آگاہ کرو اگر اس کے بعد بھی وہ تمہیں نظر آئے تو اسے مار ڈالو کیونکہ وہ شیطان ہے ۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Abu Saeed al-Khudri in a similar manner through a different chain of narrators. This version is more perfect. In this version he said: give it a warning for three days; if it appears to you after that, then kill it, for it is only a devil.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٥٢٥٧)، (تحفة الأشراف: ٤٤١٣) (صحیح )
ابولیلیٰ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے گھروں میں نکلنے والے سانپوں کے متعلق دریافت کیا گیا، تو آپ نے فرمایا: جب تم ان میں سے کسی کو اپنے گھر میں دیکھو تو کہو: میں تمہیں وہ عہد یاد دلاتا ہوں جو تم سے نوح (علیہ السلام) نے لیا تھا، وہ عہد یاد دلاتا ہوں جو تم سے سلیمان (علیہ السلام) نے لیا تھا کہ تم ہمیں تکلیف نہیں پہنچاؤ گے اس یاددہانی کے باوجود اگر وہ دوبارہ ظاہر ہوں تو ان کو مار ڈالو ۔
Narrated Abdur Rahman Ibn Abu Layla (RA) : The Messenger of Allah ﷺ was asked about the house-snakes. He said: When you see one of them in your dwelling, say: I adjure you by the covenant which Noah made with you, and I adjure you by the covenant which Solomon made with you not to harm us. Then if they come back, kill them.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصید ١٥ (١٤٨٥)، (تحفة الأشراف: ١٢١٥٢) (ضعیف) (اس کے راوی محمد بن ابی لیلی ضعیف ہیں )
ابن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ سبھی سانپوں کو مارو سوائے اس سانپ کے جو سفید ہوتا ہے چاندی کی چھڑی کی طرح (یعنی سفید سانپ کو نہ مارو) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: تو ایک آدمی نے مجھ سے کہا: جن اپنی چال میں مڑتا نہیں اگر وہ سیدھا چل رہا ہو تو یہی اس کی پہچان ہے، إن شاء اللہ۔
Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : Kill all the snakes except the little white one which looks like a silver wand. Abu Dawud said: A man said to me: A white snake does not wind in its movement. If it is correct, that is a sign in it, if Allah wills.