ادب کا بیان

Sunan Abu Dawood · Chapter 38 · 493 hadiths · Page 23 of 26

5222Sunan Abu Dawood

رخسار پر بوسہ دینے کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْبَرَاءِ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ أَوَّلَ مَا قَدِمَ الْمَدِينَةَ، فَإِذَا عَائِشَةُ ابْنَتُهُ مُضْطَجِعَةٌ، قَدْ أَصَابَتْهَا حُمَّى، فَأَتَاهَا أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ لَهَا كَيْفَ أَنْتِ يَا بُنَيَّةُ ؟ وَقَبَّلَ خَدَّهَا.

براء ؓ کہتے ہیں کہ میں ابوبکر ؓ کے ساتھ آیا، پہلے پہل جب وہ مدینہ آئے تو کیا دیکھتا ہوں کہ ان کی بیٹی عائشہ ؓ لیٹی ہوئی ہیں اور انہیں بخار چڑھا ہوا ہے تو ابوبکر ؓ ان کے پاس آئے، ان سے کہا: کیا حال ہے بیٹی؟ اور ان کے رخسار کو چوما۔

Narrated Al-Bara ibn Azib: I went in with Abu Bakr when he had newly come to Madina and he found his daughter Aisha (RA) lying down afflicted with fever. Abu Bakr went to her, and saying: How are you, girlie? kissed her on the cheek.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٦٥٨٨) (صحیح )
5223Sunan Abu Dawood

ہاتھ پر بوسہ دینے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ، وَذَكَرَ قِصَّةً، قَالَ: فَدَنَوْنَا، يَعْنِي مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَبَّلْنَا يَدَهُ.

عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کا بیان ہے کہ عبداللہ بن عمر ؓ نے ان سے بیان کیا اور راوی نے ایک واقعہ ذکر کیا، اس میں ہے: تو ہم نبی اکرم ﷺ سے قریب ہوئے اور ہم نے آپ کے ہاتھ کو بوسہ دیا۔

Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : Ibn Umar told a story and said: We then came near the Prophet ﷺ and kissed his hand.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم (٢٦٤٧)، (تحفة الأشراف: ٧٢٩٨) (ضعیف) (اس کے راوی یزید بن ابی زیاد ضعیف ہیں )
5224Sunan Abu Dawood

جسم کے کسی اور حصہ پر بوسہ دینا

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، قال: يُحَدِّثُ الْقَوْمَ وَكَانَ فِيهِ مِزَاحٌ بَيْنَا يُضْحِكُهُمْ، فَطَعَنَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَاصِرَتِهِ بِعُودٍ، فَقَالَ: أَصْبِرْنِي، فَقَالَ: اصْطَبِرْ، قَالَ: إِنَّ عَلَيْكَ قَمِيصًا وَلَيْسَ عَلَيَّ قَمِيصٌ، فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَمِيصِهِ، فَاحْتَضَنَهُ وَجَعَلَ يُقَبِّلُ كَشْحَهُ، قَالَ: إِنَّمَا أَرَدْتُ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ.

اسید بن حضیر انصاری ؓ کہتے ہیں کہ وہ کچھ لوگوں سے باتیں کر رہے تھے اور وہ مسخرے والے آدمی تھے لوگوں کو ہنسا رہے تھے کہ اسی دوران نبی اکرم ﷺ نے ان کی کوکھ میں لکڑی سے ایک کو نچہ دیا، تو وہ بولے: اللہ کے رسول! مجھے اس کا بدلہ دیجئیے، آپ نے فرمایا: بدلہ لے لو تو انہوں نے کہا: آپ تو قمیص پہنے ہوئے ہیں میں تو ننگا تھا، اس پر نبی اکرم ﷺ نے اپنی قمیص اٹھا دی، تو وہ آپ سے چمٹ گئے، اور آپ کے پہلو کے بوسے لینے لگے، اور کہنے لگے: اللہ کے رسول! میرا منشأ یہی تھا۔

Narrated Usayd ibn Hudayr,: Abdur Rahman ibn Abu Layla, quoting Usayd ibn Hudayr, a man of the Ansar, said that while he was given to jesting and was talking to the people and making them laugh, the Prophet ﷺ poked him under the ribs with a stick. He said: Let me take retaliation. He said: Take retaliation. He said: You are wearing a shirt but I am not. The Prophet ﷺ then raised his shirt and the man embraced him and began to kiss his side. Then he said: This is what I wanted, Messenger of Allah!

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٥١) (صحیح الإسناد )
5225Sunan Abu Dawood

ٹانگ پر بوسہ دینے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنُ الطَّبَّاعِ، حَدَّثَنَا مَطَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْنَقُ، حَدَّثَتْنِي أُمُّ أَبَانَ بِنْتُ الْوَازِعِ بْنِ زَارِعٍ، عَنْ جِدِّهَا زَارِعٍ، وَكَانَ فِي وَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ، قَالَ: لَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ، فَجَعَلْنَا نَتَبَادَرُ مِنْ رَوَاحِلِنَا، فَنُقَبِّلُ يَدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِجْلَهُ، قَالَ: وَانْتَظَرَ الْمُنْذِرُ الْأَشَجُّ حَتَّى أَتَى عَيْبَتَهُ، فَلَبِسَ ثَوْبَيْهِ، ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ: إِنَّ فِيكَ خَلَّتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ: الْحِلْمُ وَالْأَنَاةُ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَا أَتَخَلَّقُ بِهِمَا أَمْ اللَّهُ جَبَلَنِي عَلَيْهِمَا ؟ قَالَ: بَلِ اللَّهُ جَبَلَكَ عَلَيْهِمَا، قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَبَلَنِي عَلَى خَلَّتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ.

زارع سے روایت ہے، وہ وفد عبدالقیس میں تھے وہ کہتے ہیں جب ہم مدینہ پہنچے تو اپنے اونٹوں سے جلدی جلدی اترنے لگے اور نبی اکرم ﷺ کے ہاتھوں اور پیروں کا بوسہ لینے لگے، اور منذر اشج انتظار میں رہے یہاں تک کہ وہ اپنے کپڑے کے صندوق کے پاس آئے اور دو کپڑے نکال کر پہن لیے، پھر نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے تو آپ نے ان سے فرمایا: تم میں دو خصلتیں ہیں جو اللہ کو محبوب ہیں: ایک بردباری اور دوسری وقار و متانت انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا یہ دونوں خصلتیں جو مجھ میں ہیں میں نے اختیار کیا ہے؟ (کسبی ہیں) (یا وہبی) اللہ نے مجھ میں پیدائش سے یہ خصلتیں رکھی ہیں، آپ نے فرمایا: بلکہ اللہ نے پیدائش سے ہی تم میں یہ خصلتیں رکھی ہیں، اس پر انہوں نے کہا: اللہ تیرا شکر ہے جس نے مجھے دو ایسی خصلتوں کے ساتھ پیدا کیا جن دونوں کو اللہ اور اس کے رسول پسند فرماتے ہیں۔

Narrated al-Wazi ibn Zari (RA) : Umm Aban, daughter of al-Wazi ibn Zari, quoting his grandfather, who was a member of the deputation of AbdulQays, said: When we came to Madina, we raced to be first to dismount and kiss the hand and foot of the Messenger of Allah ﷺ . But al-Mundhir al-Ashajj waited until he came to the bundle of his clothes. He put on his two garments and then he went to the Prophet ﷺ . He said to him: You have two characteristics which Allah likes: gentleness and deliberation. He asked: Have I acquired them or has Allah has created (them) my nature? He replied: No, Allah has created (them) in your nature. He then said: Praise be to Allah Who has created in my nature two characteristics which Allah and His Messenger like.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٣٦١٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٠٦) (صحیح) (البانی صاحب نے پہلے فقرے کی تحسین کی ہے، اور ہاتھ اور پاؤں چومنے کو ضعیف کہا ہے، بقیہ بعد کی حدیث کی تصحیح کی ہے، یعنی شواہد کے بناء پر، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: ٣ ؍ ٢٨٢ )
5226Sunan Abu Dawood

ٹانگ پر بوسہ دینے کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا و مُسْلِمٌ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ حَمَّادٍ يَعْنِيَانِ ابْنَ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْزَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قال النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا أَبَا ذَرٍّ، فَقُلْتُ: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَأَنَا فِدَاؤُكَ.

ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے مجھ کو پکارا: اے ابوذر! میں نے کہا: میں حاضر ہوں حکم فرمائیے اللہ کے رسول! میں آپ پر فدا ہوں۔

Narrated Abu Dharr (RA) : The Prophet ﷺ addressed me, saying: O Abu Dharr! I replied: At thy service and at thy pleasure, Messenger of Allah! may I be ransom for thee.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١١٩١٧) (حسن صحیح )
5227Sunan Abu Dawood

کسی کو یہ دعا دینا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری آنکھیں ٹھنڈی رکھے

حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ أَوْ غَيْرِهِ، أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ، قَالَ: كُنَّا نَقُولُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْعَمَ اللَّهُ بِكَ عَيْنًا وَأَنْعِمْ صَبَاحًا، فَلَمَّا كَانَ الْإِسْلَامُ، نُهِينَا عَنْ ذَلِكَ، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ مَعْمَرٌ: يُكْرَهُ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ: أَنْعَمَ اللَّهُ بِكَ عَيْنًا، وَلَا بَأْسَ أَنْ يَقُولَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَيْنَكَ.

عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ ہم زمانہ جاہلیت میں کہا کرتے تھے: أنعم الله بک عينا وأنعم صباحا اللہ تمہاری آنکھ ٹھنڈی رکھے اور صبح خوشگوار بنائے لیکن جب اسلام آیا تو ہمیں اس طرح کہنے سے روک دیا گیا۔ عبدالرزاق کہتے ہیں کہ معمر کہتے ہیں:أنعم الله بک عينا کہنا مکروہ ہے اور أنعم الله عينك کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔

Narrated Imran ibn Husayn: In the pre-Islamic period we used to say: May Allah make the eye happy for you, and Good morning but when Islam came, we were forbidden to say that. AbdurRazzaq said on the authority of Mamar: It is disapproved that a man should say: May Allah make the eye happy for you, but there is no harm in saying: May Allah make your eye happy.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٠٨٣٦) (ضعیف الإسناد) (قتادہ مدلس ہیں اور أنَّ سے روایت کئے ہیں نیز معمر نے شک سے روایت کیا ہے، قتادہ یا کسی اور سے )
5228Sunan Abu Dawood

کوئی کسی کو یہ دعا دے اللہ تیری حفاظت کرے تو صحیح ہے

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو قَتَادَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ فِي سَفَرٍ لَهُ، فَعَطِشُوا، فَانْطَلَقَ سَرْعَانُ النَّاسِ، فَلَزِمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ، فَقَالَ: حَفِظَكَ اللَّهُ بِمَا حَفِظْتَ بِهِ نَبِيَّهُ.

عبداللہ بن رباح انصاری کہتے ہیں کہ ابوقتادہ ؓ نے ہم سے بیان کیا کہ: نبی اکرم ﷺ اپنے ایک سفر میں تھے، لوگ پیاسے ہوئے تو جلدباز لوگ آگے نکل گئے، لیکن میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہی اس رات رہا (آپ کو چھوڑ کر نہ گیا) تو آپ نے فرمایا: اللہ تیری حفاظت فرمائے جس طرح تو نے اس کے نبی کی حفاظت کی ہے ۔

Abu Qatadah said: The Prophet ﷺ was on journey. The people became thirsty, and they went quickly. I guarded the Messenger of Allah ﷺ on that night. He said: May Allah guard you for the reason you have guarded His Prophet!

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم: (٤٣٧)، (تحفة الأشراف: ١٢٠٩١) (صحیح )
5229Sunan Abu Dawood

کسی کی تعظیم کے لئے کھڑا ہونے کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، قَالَ: خَرَجَ مُعَاوِيَةُ عَلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ وَابْنِ عَامِرٍ، فَقَامَ ابْنُ عَامِرٍ وَجَلَسَ ابْنُ الزُّبَيْرِ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ لِابْنِ عَامِرٍ: اجْلِسْ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَمْثُلَ لَهُ الرِّجَالُ قِيَامًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ.

ابومجلز کہتے ہیں کہ معاویہ ؓ ابن زبیر اور ابن عامر ؓ کے پاس آئے، تو ابن عامر کھڑے ہوگئے اور ابن زبیر بیٹھے رہے، معاویہ نے ابن عامر سے کہا: بیٹھ جاؤ کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو یہ چاہے کہ لوگ اس کے سامنے (با ادب) کھڑے ہوں تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم کو بنا لے ۔

Narrated Muawiyah (RA) : Abu Mijlaz said: Muawiyah went out to Ibn az-Zubayr and Ibn Amir. Ibn Amir got up and Ibn az-Zubayr remained sitting. Muawiyah said to Ibn Amir: Sit down, for I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Let him who likes people to stand up before him prepare his place in Hell.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأدب ١٣ (٢٧٥٥)، (تحفة الأشراف: ١١٤٤٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٩١، ٩٣، ١٠٠) (صحیح )
5230Sunan Abu Dawood

کسی کی تعظیم کے لئے کھڑا ہونے کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ أَبِي الْعَنِبَسِ عَنْ أَبِي الْعَدَبَّسِ، عَنْ أَبِي مَرْزُوقٍ، عَنْ أَبِي غَالِبٍ،عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَكِّئًا عَلَى عَصًا، فَقُمْنَا إِلَيْهِ، فَقَالَ: لَا تَقُومُوا كَمَا تَقُومُ الْأَعَاجِمُ، يُعَظِّمُ بَعْضُهَا بَعْضًا.

ابوامامہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس ایک چھڑی کا سہارا لیے ہوئے تشریف لائے تو ہم سب کھڑے ہوگئے، آپ نے فرمایا: عجمیوں کی طرح ایک دوسرے کے احترام میں کھڑے نہ ہوا کرو ۔

Narrated Abu Umamah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ came out to us leaning on a stick. We stood up to show respect to him. He said: Do not stand up as foreigners do for showing respect to one another.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الدعاء ٢ (٣٨٣٦)، (تحفة الأشراف: ٤٩٣٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٥٣، ٢٥٦) (ضعیف) (اس کے راوی ابوالدبس مجہول، اور ابومرزوق لین الحدیث ہیں لیکن بیٹھے ہوئے آدمی کے لئے باادب کھڑے رہنے کی ممانعت جابر ؓ کی حدیث سے صحیح مسلم میں مروی ہے )
5231Sunan Abu Dawood

کسی کا سلام پہنچانا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ غَالِبٍ، قَالَ: إِنَّا لَجُلُوسٌ بِباب الْحَسَنِ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، قَالَ: بَعَثَنِي أَبِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: ائْتِهِ، فَأَقْرِئْهُ السَّلَامَ، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: إِنَّ أَبِي يُقْرِئُكَ السَّلَامَ، فَقَالَ: عَلَيْكَ السَّلَامُ وَعَلَى أَبِيكَ السَّلَامُ.

غالب کہتے ہیں کہ ہم حسن کے دروازے پر بیٹھے تھے اتنے میں ایک شخص آیا اور کہنے لگا: میرے باپ نے میرے دادا سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں: مجھے میرے والد نے رسول اللہ ﷺ کے پاس بھیجا اور کہا: آپ کے پاس جاؤ اور آپ کو میرا سلام کہو میں آپ کے پاس گیا اور عرض کیا: میرے والد آپ کو سلام کہتے ہیں، آپ نے فرمایا: تم پر اور تمہارے والد پر بھی سلام ہو ۔

Narrated A man: Ghalib said: When we were sitting at al-Hasans door, a man came along. He said: My father told me on the authority of my grandfather, saying: My father sent me to the Messenger of Allah ﷺ and said: Go to him and give him a greeting. So I went to him and said: My father sends you a greeting. He said: Upon you and upon your father be peace.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم: (٢٩٣٤)، (تحفة الأشراف: ١٥٧١١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٦٦) (ضعیف) (اس کی سند میں کئی مجاہیل ہیں، البانی نے اسے حسن کہا ہے، صحیح ابی داود، ٣ ؍ ٤٨٢، جبکہ (٢٩٣٤) نمبر کی سابقہ حدیث (جو اس سند سے مفصل ہے) پر ضعف کا حکم لگایا ہے )
5232Sunan Abu Dawood

کسی کا سلام پہنچانا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ زَكَرِيَّا، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ عَائِشَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا،حَدَّثَتْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا: إِنَّ جِبْرِيلَ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلَامَ، فَقَالَتْ: وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ.

ابوسلمہ سے روایت ہے کہ عائشہ ؓ نے ان سے بیان کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا: جبرائیل تجھے سلام کہتے ہیں، تو انہوں نے کہا: وعليه السلام ورحمة الله ان پر بھی سلام اور اللہ کی رحمت ہو ۔

Aishah told that the Prophet ﷺ said to her: Gabriel gives you a greeting. Replying she said: Upon him be peace and grace of Allah.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/بدء الخلق ٦ (٣٢١٧)، و فضائل الصحابة ٣٠ (٣٧٦٨)، والأدب ١١١ (٦٢٠١)، الاستئذان ١٦ (٦٢٤٩)، ١٩ (٦٢٥٣)، صحیح مسلم/الآداب ٧ (٢٤٤٧)، سنن الترمذی/الاستئذان ٥ (٢٦٩٣)، سنن النسائی/عشرة النساء ٣ (٣٤٠٥)، سنن ابن ماجہ/ الآداب ١٢ (٣٦٩٦)، (تحفة الأشراف: ١٧٧٢٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٤٦، ١٥٠، ٢٠٨، ٢٢٤)، سنن الدارمی/الاستئذان ١٠ (٢٦٨٠) (صحیح )
5233Sunan Abu Dawood

کسی کی پکار پر لبیک کہنا صحیح ہے

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هَمَّامٍ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْفِهْرِيَّ، قَالَ: شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُنَيْنًا، فَسِرْنَا فِي يَوْمٍ قَائِظٍ شَدِيدِ الْحَرِّ، فَنَزَلْنَا تَحْتَ ظِلِّ الشَّجَرَةِ، فَلَمَّا زَالَتِ الشَّمْسُ، لَبِسْتُ لَأْمَتِي وَرَكِبْتُ فَرَسِي، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي فُسْطَاطِهِ، فَقُلْتُ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، قَدْ حَانَ الرَّوَاحُ، قَالَ: أَجَلْ، ثُمَّ قَالَ: يَا بِلَالُ، قُمْ فَثَارَ مِنْ تَحْتِ سَمُرَةٍ كَأَنَّ ظِلَّهُ ظِلُّ طَائِرٍ، فَقَالَ: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَأَنَا فِدَاؤُكَ، فَقَالَ: أَسْرِجْ لِي الْفَرَسَ، فَأَخْرَجَ سَرْجًا دَفَّتَاهُ مِنْ لِيفٍ لَيْسَ فِيهِ أَشَرٌ وَلَا بَطَرٌ، فَرَكِبَ وَرَكِبْنَا، وَسَاقَ الْحَدِيثَ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْفِهْرِيُّ لَيْسَ لَهُ إِلَّا هَذَا الْحَدِيثُ، وَهُوَ حَدِيثٌ نَبِيلٌ جَاءَ بِهِ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ.

ابوعبدالرحمٰن فہری کہتے ہیں کہ میں غزوہ حنین میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شریک تھا، ہم سخت گرمی کے دن میں چلے، پھر ایک درخت کے سایہ میں اترے، جب سورج ڈھل گیا تو میں نے اپنی زرہ پہنی اور اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، اس وقت آپ اپنے خیمہ میں تھے، میں نے کہا: السلام عليك يا رسول الله ورحمة الله وبرکاته کوچ کا وقت ہوچکا ہے، آپ نے فرمایا: ہاں، پھر آپ نے فرمایا: اے بلال! اٹھو، یہ سنتے ہی بلال ایک درخت کے نیچے سے اچھل کر نکلے ان کا سایہ گویا چڑے کے سایہ جیسا تھا ١ ؎ انہوں نے کہا: لبيك وسعديك وأنا فداؤك میں حاضر ہوں، حکم فرمائیے، میں آپ پر فدا ہوں آپ نے فرمایا: میرے گھوڑے پر زین کس دو تو انہوں نے زین اٹھایا جس کے دونوں کنارے خرما کے پوست کے تھے، نہ ان میں تکبر کی کوئی بات تھی نہ غرور کی ٢ ؎ پھر آپ سوار ہوئے اور ہم بھی سوار ہوئے (اور چل پڑے) پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبدالرحمٰن فہری سے اس حدیث کے علاوہ اور کوئی حدیث مروی نہیں ہے اور یہ ایک عمدہ اور قابل قدر حدیث ہے جسے حماد بن سلمہ نے بیان کیا ہے۔

Narrated Abu Abdur Rahman al-Fihri (RA) : I was present with the Messenger of Allah at the battle of Hunayn. We travelled on a hot day when the heat was extreme. We halted under the shade of a tree. When the sun passed the meridian, I put on my coat of mail and rode on my horse. I came to the Messenger of Allah ﷺ who was in a tent. I said: Peace, Allahs mercy and His blessings be upon you! The time of departure has come. He said: Yes. He then said: Rise, Bilal. He jumped out from beneath a gum-acacia tree and its shade was like that of a bird. He said: I am at your service and at your pleasure, and I make myself a sacrifice for you. He said: Put the saddle on the horse for me. He then took out a saddle, both sides of which were stuffed with palm-leaves; it showed no arrogance and pride. So he rode and we also rode. He then mentioned the rest of the tradition. Abu Dawud said: Abu Abdur-Rahman al-Fihri did not transmit any tradition except this one. This is a tradition of an expert transmitted by Hammad bin Salamah.

Notes · وضاحت
١ ؎: اشارہ ہے ان کے ضعف اور ان کی لاغری کی طرف۔ ٢ ؎: جیسے دنیا داروں کی زین میں ہوتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٢٠٦٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٨٦)، سنن الدارمی/السیر ١٦ (٢٤٩٦) (حسن )
5234Sunan Abu Dawood

کوئی یہ کہے کہ اللہ تجھے ہنستا رکھے

حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبِرَكِيُّ، وَسَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، وَأَنَا لِحَدِيثِ عِيسَى أَضْبَطُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقَاهِرِ بْنُ السَّرِيِّ يَعْنِي السُّلَمِيَّ، حَدَّثَنَا ابْنُ كِنَانَةَ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ مِرْدَاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: ضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ أَوْ عُمَرُ: أَضْحَكَ اللَّهُ سِنَّكَ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ.

مرداس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہنسے تو ابوبکر ؓ یا عمر ؓ نے آپ سے أضحک الله سنك اللہ آپ کو ہمیشہ ہنستا رکھے کہا، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔

Narrated Ibn Kinanah bin Abbas ibn Mirdas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ laughed Abu Bakr or Umar said to him: May Allah make your teeth laugh! He then mentioned the tradition.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المناسک ٥٦ (٣٠١٣)، (تحفة الأشراف: ٥١٤٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٥) (ضعیف) (اس کے راوی ابن کنانہ اور خود کنانہ بن عباس مجہول ہیں )
5235Sunan Abu Dawood

مکان تعمیر کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي السَّفَرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أُطَيِّنُ حَائِطًا لِي أَنَا وَأُمِّي، فَقَالَ: مَا هَذَا يَا عَبْدَ اللَّهِ ؟، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، شَيْءٌ أُصْلِحُهُ، فَقَالَ: الْأَمْرُ أَسْرَعُ مِنْ ذَلِكَ.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس سے گزرے، میں اور میری ماں اپنی ایک دیوار پر مٹی پوت رہے تھے، آپ نے فرمایا: عبداللہ! یہ کیا ہو رہا ہے؟ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کچھ مرمت (سرمت) کر رہا ہوں، آپ نے فرمایا: معاملہ تو اس سے بھی زیادہ تیزی پر ہے (یعنی موت اس سے بھی قریب آتی جا رہی ہے، اعمال میں جو کمیاں ہیں ان کی اصلاح و درستگی کی بھی فکر کرو) ۔

Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: The Messenger of Allah ﷺ came upon us when my mother and I were plastering a wall of mine. He asked: What is this, Abdullah ? I replied: It is something I am repairing. He said! The matter is quicker for you than that.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الزھد ٢٥ (٢٣٣٥)، سنن ابن ماجہ/الزھد ١٣ (٤١٦٠)، (تحفة الأشراف: ٨٦٥٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٦١) (صحیح )
5236Sunan Abu Dawood

مکان تعمیر کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهَنَّادٌ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ بِإِسْنَادِهِ بِهَذَا، قَالَ: مَرَّ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نُعَالِجُ خُصًّا لَنَا وَهَى، فَقَالَ: مَا هَذَا ؟، فَقُلْنَا: خُصٌّ لَنَا وَهَى فَنَحْنُ نُصْلِحُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا أَرَى الْأَمْرَ إِلَّا أَعْجَلَ مِنْ ذَلِكَ.

اس سند سے بھی اعمش سے (ان کی سابقہ سند سے) یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس سے گزرے ہم اپنے جھونپڑے کو درست کر رہے تھے جو گرنے کے قریب ہوگیا تھا، آپ نے فرمایا: یہ کیا ہے؟ ہم نے کہا: ہمارا یک بوسیدہ جھونپڑا ہے ہم اس کو درست کر رہے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مگر میں تو معاملہ (موت) کو اس سے زیادہ تیزی سے آگے بڑھتا دیکھ رہا ہوں (زندگی میں جو خامیاں رہ گئی ہیں ان کی اصلاح کی بھی کوشش کرو) ۔

The tradition mentioned above has also been transmitted by al-Amash through a different chain of narrators. This version has: The Messenger of Allah ﷺ came upon me when we were repairing our cottage that was broken. He asked: What is this? We replied: This cottage of ours has broken and we are repairing it. The Messenger of Allah ﷺ said: I see that the command is quicker than that.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٨٦٥٠) (صحیح )
5237Sunan Abu Dawood

مکان تعمیر کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ الْقُرَشِيُّ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ الْأَسَدِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ، فَرَأَى قُبَّةً مُشْرِفَةً، فَقَالَ: مَا هَذِهِ ؟ قَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ: هَذِهِ لِفُلَانٍ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، قَالَ: فَسَكَتَ وَحَمَلَهَا فِي نَفْسِهِ حَتَّى إِذَا جَاءَ صَاحِبُهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَلِّمُ عَلَيْهِ فِي النَّاسِ، أَعْرَضَ عَنْهُ، صَنَعَ ذَلِكَ مِرَارًا حَتَّى عَرَفَ الرَّجُلُ الْغَضَبَ فِيهِ، وَالْإِعْرَاضَ عَنْهُ، فَشَكَا ذَلِكَ إِلَى أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأُنْكِرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: خَرَجَ، فَرَأَى قُبَّتَكَ، قَالَ: فَرَجَعَ الرَّجُلُ إِلَى قُبَّتِهِ فَهَدَمَهَا، حَتَّى سَوَّاهَا بِالْأَرْضِ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَلَمْ يَرَهَا، قَالَ: مَا فَعَلَتِ الْقُبَّةُ ؟، قَالُوا: شَكَا إِلَيْنَا صَاحِبُهَا إِعْرَاضَكَ عَنْهُ فَأَخْبَرْنَاهُ فَهَدَمَهَا، فَقَالَ: أَمَا إِنَّ كُلَّ بِنَاءٍ وَبَالٌ عَلَى صَاحِبِهِ، إِلَّا مَا لَا إِلَّا مَا لَا يَعْنِي مَا لَا بُدَّ مِنْهُ.

انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نکلے (راہ میں) ایک اونچا قبہ دیکھا تو فرمایا: یہ کیا ہے؟ تو آپ کے اصحاب نے بتایا کہ یہ فلاں انصاری کا مکان ہے، آپ یہ سن کر چپ ہو رہے اور بات دل میں رکھ لی، پھر جب صاحب مکان رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور لوگوں کی موجودگی میں آپ کو سلام کیا تو آپ نے اس سے اعراض کیا (نہ اس کی طرف متوجہ ہوئے نہ اسے جواب دیا) ایسا کئی بار ہوا، یہاں تک کہ اسے معلوم ہوگیا کہ آپ اس سے ناراض ہیں اور اس سے اعراض فرما رہے ہیں تو اس نے اپنے دوستوں سے اس بات کی شکایت کی اور کہا: قسم اللہ کی! میں اپنے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی محبت و برتاؤ میں تبدیلی محسوس کرتا ہوں، تو لوگوں نے بتایا کہ: آپ ایک روز باہر نکلے تھے اور تیرا قبہ (مکان) دیکھا تھا (شاید اسی مکان کو دیکھ کر آپ ناراض ہوئے ہوں) یہ سن کر وہ واپس اپنے مکان پر آیا، اور اسے ڈھا دیا، حتیٰ کہ اسے (توڑ تاڑ کر) زمین کے برابر کردیا، پھر ایک روز رسول اللہ ﷺ نکلے اور اس مکان کو نہ دیکھا تو فرمایا: وہ مکان کیا ہوا، لوگوں نے عرض کیا: مالک مکان نے ہم سے آپ کی اس سے بےالتفاتی کی شکایت کی، ہم نے اسے بتادیا، تو اس نے اسے گرا دیا، آپ نے فرمایا: سن لو ہر مکان اپنے مالک کے لیے وبال ہے، سوائے اس مکان کے جس کے بغیر چارہ و گزارہ نہ ہو ۔

Narrated Anas ibn Malik: The Messenger of Allah ﷺ came out, and on seeing a high-domed building, he said: What is it? His companions replied to him: It belongs to so and so, one of the Ansar. He said: he said nothing but kept the matter in mind. When its owner came and gave him a greeting among the people, he turned away from him. When he had done this several times, the man realised that he was the cause of the anger and the rebuff. So he complained about it to his companions, saying: I swear by Allah that I cannot understand the Messenger of Allah ﷺ . They said: He went out and saw your domed building. So the man returned to it and demolished it, levelling it to the ground. One day the Messenger of Allah ﷺ came out and did not see it. He asked: What has happened to the domed building? They replied: Its owner complained to us about your rebuff, and when we informed him about it, he demolished it. He said: Every building is a misfortune for its owner, except what cannot, except what cannot, meaning except that which is essential.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٧٢٠)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الزھد ١٣ (٤١٦١)، مسند احمد (٣/٢٢٠) (حسن) (الصحیحة ٢٨٣٠ )
5238Sunan Abu Dawood

بالاخانے بنانے کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُطَرِّفٍ الرُّؤَاسِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى، عَنْ إِسْمَاعِيل، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ دُكَيْنِ بْنِ سَعِيدٍ الْمُزَنِيِّ، قَالَ: أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلْنَاهُ الطَّعَامَ، فَقَالَ: يَا عُمَرُ، اذْهَبْ فَأَعْطِهِمْ، فَارْتَقَى بِنَا إِلَى عِلِّيَّةٍ، فَأَخَذَ الْمِفْتَاحَ مِنْ حُجْرَتِهِ فَفَتَحَ.

دکین بن سعید مزنی ؓ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور آپ سے غلہ مانگا تو آپ نے فرمایا: عمر! جاؤ اور انہیں دے دو، تو وہ ہمیں ایک بالاخانے پر لے کر چڑھے، پھر اپنے کمرے سے چابی لی اور اسے کھولا۔

Narrated Dukayn ibn Saeed al-Muzani (RA) : We came to the Prophet ﷺ and asked him for some corn. He said: Go, Umar, and give them. He ascended with us a room upstairs, took a key from his apartment and opened it.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٣٥٤٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٧٤) (صحیح الإسناد )
5239Sunan Abu Dawood

یڑی کاٹنے کا بیان

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُبْشِيٍّ، قَالَ: قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَطَعَ سِدْرَةً صَوَّبَ اللَّهُ رَأْسَهُ فِي النَّارِ، سُئِلَ أَبُو دَاوُدَ عَنْ مَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: هَذَا الْحَدِيثُ مُخْتَصَرٌ، يَعْنِي: مَنْ قَطَعَ سِدْرَةً فِي فَلَاةٍ يَسْتَظِلُّ بِهَا ابْنُ السَّبِيلِ وَالْبَهَائِمُ عَبَثًا وَظُلْمًا بِغَيْرِ حَقٍّ يَكُونُ لَهُ فِيهَا، صَوَّبَ اللَّهُ رَأْسَهُ فِي النَّارِ.

عبداللہ بن حبشی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص (بلا ضرورت) بیری کا درخت کاٹے گا ١ ؎ اللہ اسے سر کے بل جہنم میں گرا دے گا ۔ ابوداؤد سے اس حدیث کا معنی و مفہوم پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ: یہ حدیث مختصر ہے، پوری حدیث اس طرح ہے کہ کوئی بیری کا درخت چٹیل میدان میں ہو جس کے نیچے آ کر مسافر اور جانور سایہ حاصل کرتے ہوں اور کوئی شخص آ کر بلا سبب بلا ضرورت ناحق کاٹ دے (تو مسافروں اور چوپایوں کو تکلیف پہنچانے کے باعث وہ مستحق عذاب ہے) اللہ ایسے شخص کو سر کے بل جہنم میں جھونک دے گا۔

Narrated Abdullah ibn Habashi (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone cuts the lote-tree, Allah brings him headlong into Hell. Abu Dawud was asked about the meaning of this tradition. He said: This is a brief tradition. It means that if anyone cuts uselessly, unjustly and without any right a lote-tree under the shade of which travellers and beasts take shelter, Allah will bring him into Hell headlong.

Notes · وضاحت
١ ؎: طبرانی کی ایک روایت میں من سدر الحرم (حرم کے بیر کے درخت) کے الفاظ وارد ہیں جس سے مراد کی وضاحت ہوجاتی ہے اور اشکال رفع ہوجاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٥٢٤٢) (صحیح )
5240Sunan Abu Dawood

یڑی کاٹنے کا بیان

حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ وَسَلَمَةُ يَعْنِي ابْنَ شَبِيبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، يَرْفَعُ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.

عروہ بن زبیر نے اس حدیث کو نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح مرفوعاً روایت کیا ہے۔

A similar report (as previous) was narrated from a man from Thaqif, from Urwah bin Az-Zubair, who attributed the Hadith to the Prophet ﷺ .

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٥٢٤٢، ١٩٠٤٤) (ضعیف) (عروہ تابعی ہیں اس لئے یہ روایت مرسل ہے )
5241Sunan Abu Dawood

یڑی کاٹنے کا بیان

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، وَحُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: سَأَلْتُ هِشَامَ بْنَ عُرْوَةَ، عَنْ قَطْعِ السِّدْرِ وَهُوَ مُسْتَنِدٌ إِلَى قَصْرِ عُرْوَةَ، فَقَالَ: أَتَرَى هَذِهِ الْأَبْوَابَ وَالْمَصَارِيعَ ؟ إِنَّمَا هِيَ مِنْ سِدْرِ عُرْوَةَ، كَانَ عُرْوَةُ يَقْطَعُهُ مِنْ أَرْضِهِ وَقَالَ: لَا بَأْسَ بِهِ، زَادَ حُمَيْدٌ، فَقَالَ: هِيَ يَا عِرَاقِيُّ جِئْتَنِي بِبِدْعَةٍ ؟ قَالَ: قُلْتُ: إِنَّمَا الْبِدْعَةُ مِنْ قِبَلِكُمْ، سَمِعْتُ مَنْ يَقُولُ بِمَكَّةَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَطَعَ السِّدْرَ، ثُمَّ سَاقَ مَعْنَاهُ.

حسان بن ابراہیم کہتے ہیں میں نے ہشام بن عروہ سے جو عروہ کے محل سے ٹیک لگائے ہوئے تھے بیر کے درخت کاٹنے کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: کیا تم ان دروازوں اور چوکھٹوں کو دیکھ رہے ہو، یہ سب عروہ کے بیر کے درختوں کے بنے ہوئے ہیں، عروہ انہیں اپنی زمین سے کاٹ کر لائے تھے، اور کہا: ان کے کاٹنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ حمید نے اتنا اضافہ کیا ہے کہ ہشام نے کہا: اے عراقی (بھائی) یہی بدعت تم لے کر آئے ہو، میں نے کہا کہ یہ بدعت تو آپ لوگوں ہی کی طرف کی ہے، میں نے مکہ میں کسی کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بیر کا درخت کاٹنے والے پر لعنت بھیجی ہے، پھر اسی مفہوم کی حدیث بیان کی۔

Narrated Hassan ibn Ibrahim: I asked Hisham ibn Urwah about the cutting of a lote-tree when he was leaning against the house of Urwah. He said: Do you not see these doors and leaves? These were made of the lote-tree of Urwah which Urwah used to cut from his hand? He said: There is no harm in it. Humayds version adds: You have brought an innovation, O Iraqi! He said: The innovation is from you. I heard someone say at Makkah: The Messenger of Allah ﷺ cursed him who cuts a lote-tree. He then mentioned the rest of the tradition to the same effect.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود (حسن) (الصحیحة ٦١٥ )