جعفر بن محمد اپنے والد محمد باقر سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے عرفات میں ظہر اور عصر ایک اذان سے پڑھی، ان کے درمیان کوئی نفل نہیں پڑھی، البتہ اقامت دو تھیں، اور مغرب و عشاء جمع (مزدلفہ) میں ایک اذان اور دو اق امتوں سے پڑھی، ان کے درمیان بھی کوئی نفل نہیں پڑھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو حاتم بن اسماعیل نے ایک لمبی حدیث میں مسنداً بیان کیا ہے اور حاتم بن اسماعیل کی طرح اسے محمد بن علی الجعفی نے جعفر سے، اور جعفر نے اپنے والد محمد سے، محمد نے جابر ؓ سے روایت کیا ہے البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں کہ آپ نے مغرب اور عشاء ایک اذان اور ایک اقامت سے پڑھی ١ ؎۔
Jafar bin Muhammad reported on the authority of his father The Prophet ﷺ prayed the noon and the afternoon prayers with one adhan and two iqamahs at ‘Arafah and he did not offer supererogatory prayers between them. He prayed the sunset and night prayers at Al Muzdalifah with one adhan and two iqamahs and he did not offer supererogatory prayers between them. Abu Dawud said This tradition has been narrated by Hatim bin Ismail as a part of the lengthy tradition. Muhammad bin Ali Al Ju’fi narrated it from Jafar from his father on the authority of Jabir, like the tradition transmitted by Hatim bin Ismail. But this version has He offered the sunset and night prayers with one adhan and one iqamah.
Notes · وضاحت
١ ؎: اور یہ روایت سنداً و واقعۃً ضعیف ہے، صحیح یہی ہے کہ دونوں نماز ایک اذان اور دو اق امتوں سے ادا کیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ١٩٣٢٠) (ضعیف) یہ حدیث معلق ہے، اس کی ابتدائی سند کو ابوداود نے ذکر نہیں کیا ہے، اور اس میں اقامة کا لفظ شاذ ہے، اقامتین محفوظ ہے، جیسا کہ گزرا (ملاحظہ ہو: ١٩٠٥- ١٩٠٦ )
جابر ؓ کہتے ہیں کہ پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں نے تو یہاں (منیٰ میں) نحر کیا ہے اور منیٰ پورا کا پورا نحر کرنے کی جگہ ہے ، اور عرفات میں وقوف کیا تو فرمایا: میں نے یہاں وقوف کیا ہے لیکن پورا میدان عرفات وقوف (ٹھہرنے) کی جگہ ہے ، اور مزدلفہ میں وقوف تو فرمایا: میں یہاں ٹھہرا ہوں لیکن پورا مزدلفہ وقوف (ٹھہرنے) کی جگہ ہے ۔
Jabir said then the Prophet ﷺ said “I sacrificed here and the whole of Mina is the place of sacrifice”. He stationed at ‘Arafah and said “I stationed here and the whole of ‘Arafah is the place of station”. He stationed at Al Muzadalifah and said “I stationed here and the whole of Al Muzadalifah is the place of station. ”
اس سند سے بھی جعفر سے یہی حدیث مروی ہے اس میں اتنا اضافہ ہے: فانحروا في رحالکم کہ تم لوگ اپنی قیام گاہوں میں نحر کرو۔
The aforesaid tradition has also been transmitted by Hafs bin Ghiyath from Jafar with the same chain of narrators. But this version adds “Sacrifice in your dwellings. ”
اس سند سے بھی جابر ؓ سے یہی حدیث مروی ہے البتہ اس میں یعقوب نے واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى پڑھنے کے بعد یہ ادراج کیا ہے کہ آپ نے ان دونوں رکعتوں میں توحید (یعنی قل هو الله أحد ) اور قل يا أيها الکافرون پڑھیں ، اور اس میں یہ ادراج بھی کیا کہ علی ؓ نے کوفہ میں کہا یعقوب کہتے ہیں کہ میرے والد نے فرمایا: جابر ؓ نے علی ؓ کا یہ قول ذکر نہیں کیا: (میں نبی اکرم ﷺ کے پاس فاطمہ ؓ کے خلاف غصہ دلانے چلا) ، اور یعقوب نے فاطمہ ؓ کا واقعہ ذکر کیا، میرے والد جعفر کا کہنا ہے کہ جابر ؓ نے اس حرف یعنی فذهبت محرشا کا ذکر نہیں کیا ہے۔
The tradition has also been transmitted by Jabir through a different chain of narrators. He narrated this tradition and added the words “he recited in two rak’ahs the surah relating to Unity of Allaah” and “Say, O disbelievers” to the Quranic verse “And take the station of Abraham as a place of prayer. “. This version has Ali said in Kufah. The narrator said “My father said Jabir did not say these words. I went to complain (against Fatimah). He then narrated the story of Fatimah. ”
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم (١٩٠٥)، ( تحفة الأشراف: ٢٥٩٣) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ قریش اور ان کے ہم مذہب لوگ مزدلفہ میں ہی ٹھہرتے تھے اور لوگ انہیں حمس یعنی بہادر و شجاع کہتے تھے جب کہ سارے عرب کے لوگ عرفات میں ٹھہرتے تھے، تو جب اسلام آیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ﷺ کو عرفات آنے اور وہاں ٹھہرنے پھر وہاں سے مزدلفہ لوٹنے کا حکم دیا اور یہی حکم اس آیت میں ہے: ثم أفيضوا من حيث أفاض الناس (سورۃ البقرہ: ١٩٩) تم لوگ وہاں سے لوٹو جہاں سے سبھی لوگ لوٹتے ہیں۔ یعنی عرفات سے ۔
Aishah said “Quraish and those who followed their religion used to station at Al Muzdalifah and they were called Al Hums and the rest of Arabs used to station at ‘Arafah. When Islam came, Allaah the most High commanded His Prophet ﷺ to go to ‘Arafah and station there then go quickly from it. That is in accordance with the words of Him Who is exalted “Then go quickly from where the people went quickly. ”
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ٩١ (١٦٦٥)، و تفسیر البقرة ٣٥ (٤٥٢٠)، م /الحج ٢١ (١٢١٩)، سنن النسائی/ الحج ٢٠٢ (٣٠١٥)، (تحفة الأشراف: ١٧١٩٥)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج ٥٣ (٨٨٤)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٥٨ (٣٠١٨) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے یوم الترویہ (آٹھویں ذی الحجہ) کو ظہر اور یوم عرفہ (نویں ذی الحجہ) کو فجر منیٰ میں پڑھی۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ offered the noon prayer on the 8th of Dhul-Hijjah (Yawm at-Tarwiyah) and dawn prayer on the 9th of Dhul-Hijjah (Yawm al-Arafah) in Mina.
عبدالعزیز بن رفیع کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک ؓ سے سوال کیا اور کہا: مجھے آپ وہ بتائیے جو رسول اللہ ﷺ سے آپ کو یاد ہو کہ آپ نے ظہر یوم الترویہ (آٹھویں ذی الحجہ) کو کہاں پڑھی؟ انہوں نے کہا: منیٰ میں، میں نے عرض کیا تو لوٹنے کے دن آپ ﷺ نے عصر کہاں پڑھی؟ فرمایا: ابطح میں، پھر کہا: تم وہی کرو جو تمہارے امراء کریں ١ ؎۔
Abd Al Aziz bin Rufai’ said I asked Anas bin Malik (RA) saying “Tell me something you knew about the Messenger of Allah ﷺ viz where he offered the noon prayer on Yawm Al Tarwiyah (8th of Dhu Al Hijjah). He replied, In Mina I asked Where did he pray the afternoon prayer on Yaum Al Nafr (12th or 13th of Dhu Al Hijjah). He replied In al-Abtah he then said “Do as your commanders do. ”
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس طرح کے چھوٹے چھوٹے مسئلوں میں امیر کی مخالفت نہ کرو کیوں کہ ان کی مخالفت بسا اوقات فتنوں اور فساد کا موجب ہوتی ہے، خصوصاً جب کہ امراء ظالم ہوں ورنہ رسول اللہ ﷺ کی اتباع تو ہر حال میں بہتر ہے۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ یوم عرفہ (نویں ذی الحجہ) کو فجر پڑھ کر منیٰ سے چلے یہاں تک کہ عرفات آئے تو نمرہ میں اترے اور نمرہ عرفات میں امام کے اترنے کی جگہ ہے، جب ظہر کا وقت آنے کو ہوا تو رسول اللہ ﷺ (نمرہ سے) عین دوپہر میں چلے اور ظہر اور عصر کو جمع کیا، پھر لوگوں میں خطبہ دیا ١ ؎ پھر چلے اور عرفات میں موقف میں وقوف کیا۔
Ibn Umar said the Messenger of Allah ﷺ proceeded from Mina when he offered the dawn prayer on Yaum Al ‘Arafah (9th of Dhu Al Hijjah) in the morning till he came to ‘Arafah and he descended at Namrah. This is the place where the imam (prayer leader at ‘Arafah) takes his place. When the time of the noon prayer came, the Messenger of Allah ﷺ proceeded earlier and combined the noon and afternoon prayers. He then addressed the people (i. e., recited the sermon) and proceeded. He stationed at a place of stationing in ‘Arafah.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس کے برخلاف جابر ؓ کی ایک حدیث میں نماز سے پہلے خطبہ کا ذکر ہے، دونوں حدیثوں میں تطبیق یہ دی جاتی ہے کہ ابن عمر ؓ کی اس حدیث کو عام نصیحت پر محمول کرلیا جائے، اور جابر ؓ کی روایت کو عرفہ کے مسنون خطبہ پر، یا یہ کہا جائے کہ ابن عمر ؓ والی روایت میں راوی کو وہم ہوگیا ہے، واللہ اعلم۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٨٤١٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٢٩) (حسن )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ جب حجاج نے عبداللہ بن زبیر ؓ کو قتل کیا تو ابن عمر ؓ کے پاس (پوچھنے کے لیے آدمی) بھیجا کہ رسول اللہ ﷺ آج (یعنی عرفہ) کے دن (نماز اور خطبہ کے لیے) کس وقت نکلتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا جب یہ وقت آئے گا تو ہم خود چلیں گے، پھر جب ابن عمر ؓ نے چلنے کا ارادہ کیا تو لوگوں نے کہا: ابھی سورج ڈھلا نہیں، انہوں نے پوچھا: کیا اب ڈھل گیا؟ لوگوں نے کہا: ابھی نہیں ڈھلا، پھر جب لوگوں نے کہا کہ سورج ڈھل گیا تو وہ چلے۔
Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : When al-Hajjaj killed Ibn Zubayr, he sent a message to Ibn Umar asking him: At which moment the Messenger of Allah ﷺ used to proceed (to Arafat) this day? He replied: When it happens so, we shall proceed. When Ibn Umar intended to proceed, the people said: The sun did not decline. He (Ibn Umar) asked: Did it decline? They replied: It did not decline. When they said that the sun had declined, he proceeded.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المناسک ٥٤ (٣٠٠٩)، (تحفة الأشراف: ٧٠٧٣)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج ٨٧ (١٦٦٠)، موطا امام مالک/الحج ٦٤ (١٩٥)، مسند احمد (٢/٢٥) (حسن )
نبی ط بن شریط ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو عرفات میں سرخ اونٹ پر کھڑے ہو کر خطبہ دیتے دیکھا۔
Narrated Nubayt: Nubayt had seen the Prophet ﷺ in Arafat.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الحج ١٩٨ (٣٠١٠)، ١٩٩ (٣٠١١)، (تحفة الأشراف: ١١٥٨٩)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٥٨(١٢٨٦)، مسند احمد (٤/ ٣٠٥، ٣٠٦) (صحیح) (مؤلف کے علاوہ دوسروں کے یہاں سند میں عن رجل کا اضافہ نہیں ہے اور سلمہ کا اپنے والد سے سماع ثابت ہے اس لئے یہ حدیث صحیح ہے )
خالد بن عداء بن ہوذہ ؓ کہتے ہیں عرفہ کے دن میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایک اونٹ پر دونوں رکابوں کے درمیان کھڑے ہو کر لوگوں کو خطبہ ١ ؎ دیتے دیکھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن العلاء نے وکیع سے اسی طرح روایت کیا ہے جیسے ہناد نے۔
Al-Adda ibn Khalid ibn Hudhah said: I saw the Messenger of Allah ﷺ on 9 Dhul-Hijjah on a camel standing at the stirrups. Abu Dawud said: Ibn al-Ala has reported this tradition from Waki as narrated by Hammad.
Notes · وضاحت
١ ؎: یہی صحیح ہے اور باب کی پہلی حدیث جس میں میدان عرفات میں منبر پر خطبہ دینے کا تذکرہ ہے وہ سند کے اعتبار سے کمزور ہے، واضح رہے کہ اس وقت وہاں منبر تھا ہی نہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ منبر پر خطبہ دیتے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٩٨٤٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٠) (صحیح )
یزید بن شیبان کہتے ہیں ہمارے پاس ابن مربع انصاری آئے ہم عرفات میں تھے (وہ ایسی جگہ تھی جسے عمرو (عمرو بن عبداللہ) امام سے دور سمجھتے تھے) ، انہوں نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ کا بھیجا ہوا قاصد ہوں، آپ کا فرمان ہے کہ اپنے مشاعر (نشانیوں کی جگہوں) پر ٹھہرو ١ ؎ اس لیے کہ تم اپنے والد ابراہیم کے وارث ہو۔
Yazid ibn Shayban said: We were in a place of stationing at Arafat which Amr (ibn Abdullah) thought was very far away from where the imam was stationing, when Ibn Mirba al-Ansari came to us and told (us): I am a messenger for you from the Messenger of Allah ﷺ . He tells you: Station where you are performing your devotions for you are an heir to the heritage of Abraham.
Notes · وضاحت
١ ؎: مشاعر سے مراد مناسک حج کے مقامات اور قدیم مواقف ہیں، یعنی ان جگہوں پر تم بھی ٹھہرو کیونکہ ان جگہوں پر وقوف تمہارے باپ ابراہیم کے زمانہ ہی سے بطور وراثت چلا آ رہا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحج ٥٣ (٨٨٣)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٥٥ (٣٠١١) سنن النسائی/ الحج ٢٠٢ (٣٠١٧)، ( تحفة الأشراف: ١٥٥٢٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٣٧) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عرفات سے لوٹے، آپ پر اطمینان اور سکینت طاری تھی، آپ ﷺ کے ردیف اسامہ ؓ تھے، آپ نے فرمایا: لوگو! اطمینان و سکینت کو لازم پکڑو اس لیے کہ گھوڑوں اور اونٹوں کا دوڑانا کوئی نیکی نہیں ہے ۔ عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں: میں نے انہیں (گھوڑوں اور اونٹوں کو) ہاتھ اٹھائے دوڑتے نہیں دیکھا یہاں تک کہ آپ ﷺ جمع (مزدلفہ) آئے، (وہب کی روایت میں اتنا زیادہ ہے) : پھر آپ ﷺ نے اپنے ساتھ فضل بن عباس ؓ کو بٹھایا اور فرمایا: لوگو! گھوڑوں اور اونٹوں کو دوڑانا نیکی نہیں ہے تم اطمینان اور سکینت کو لازم پکڑو ۔ عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں: پھر میں نے کسی اونٹ اور گھوڑے کو اپنے ہاتھ اٹھائے (دوڑتے) نہیں دیکھا یہاں تک کہ آپ ﷺ منیٰ آئے۔
Ibn Abbas said The Messenger of Allah ﷺ returned from ‘Arafah preserving a quiet demeanor and he took Usamah up behind him (on the Camel). He said “O people preserve a quiet demeanor for piety does not consist in exciting the Horses and the Camels (i. e., in driving them quickly). ” He (Ibn Abbas) said “Thereafter I did not see them raising their hands running quickly till he came to Al Muzdalifah. ” The narrator Wahb added He took Al Fadl bin Abbas up behind him (on the Camel) and said O people piety does not consist in exciting the Horses and the Camels (i. e., in driving them quickly), you must preserve a quiet demeanor”. He (Ibn Abbas) said “Thereafter I did not see them raising their hands till he came to Mina. ”
کریب کہتے ہیں کہ میں نے اسامہ بن زید ؓ سے پوچھا: جس شام کو آپ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سوار ہو کر آئے تھے آپ نے کیا کیا کیا؟ وہ بولے: ہم اس گھاٹی میں آئے جہاں لوگ اپنے اونٹ رات کو قیام کے لیے بٹھاتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے اپنی اونٹنی بیٹھا دی، پھر پیشاب کیا، (زہیر نے یہ نہیں کہا کہ پانی بہایا) پھر آپ ﷺ نے وضو کا پانی منگایا اور وضو کیا، جس میں زیادہ مبالغہ نہیں کیا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! نماز، (پڑھی جائے) ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نماز آگے چل کر (پڑھیں گے) ۔ اسامہ کہتے ہیں: پھر آپ ﷺ سوار ہوئے یہاں تک کہ مزدلفہ آئے، وہاں آپ نے مغرب پڑھی پھر لوگوں نے اپنی سواریاں اپنے ٹھکانوں پر بٹھائیں یہاں تک کہ عشاء کی اقامت ہوئی، آپ ﷺ نے عشاء پڑھی، پھر لوگوں نے اونٹوں سے اپنے بوجھ اتارے، (محمد کی روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ کریب کہتے ہیں) پھر میں نے پوچھا: صبح ہوئی تو آپ لوگوں نے کیسے کیا؟ انہوں نے کہا: آپ ﷺ کے ساتھ فضل بن عباس ؓ سوار ہوئے، اور میں پیدل قریش کے لوگوں کے ساتھ ساتھ چلا۔
Ibrahim bin Uqabah said “Kuraib told me that he asked Umamah bin Zaid saying tell me how you did in the evening when you rode behind the Messenger of Allah ﷺ . He said “We came to the valley where the people make their Camels kneel down to take rest at night. ” The Messenger of Allah ﷺ made his she Camel kneel down and he then urinated. He then called for water for ablution and performed the ablution but he did not perform minutely (but performed lightly). I asked Messenger of Allah ﷺ , prayer? He replied “Prayer ahead of you”. He then mounted (the Camel) till we came to Al Muzadalifah. There iqamah for the sunset prayer was called. The people then made their Camels kneel down at their places. The Camels were not unloaded as yet, iqamah for the night prayers was called and he prayed. The people then unloaded the Camels. The narrator Muhammad added in his version of the tradition How did you do when the morning came? He replied Al Fadl rode behind him and I walked on foot among the people of the Quraish who went ahead.
علی ؓ کہتے ہیں کہ پھر (ارکان عرفات سے فراغت کے بعد) آپ ﷺ نے اسامہ ؓ کو پیچھے سوار کرلیا اور درمیانی چال سے اونٹ ہانکنے لگے، لوگ دائیں اور بائیں اپنے اونٹوں کو مار رہے تھے آپ ان کی طرف متوجہ نہیں ہوتے تھے اور فرماتے تھے: لوگو! اطمینان سے چلو ، اور آپ ﷺ عرفات سے اس وقت لوٹے جب سورج ڈوب گیا۔
Narrated Ali ibn Abu Talib: The Prophet then took up Usamah behind him (on the camel), and drove the camel at a quick pace. The people were beating their camels right and left, but he did not pay attention to them; he was saying: O people, preserve a quiet demeanour. He proceeded (from Arafat) when the sun had set.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحج ٥٥٤ (٨٨٥)، ( تحفة الأشراف: ١٠٢٢٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٧٢، ٧٥، ٧٦، ٨١) (حسن ) (مگر لا یلتفت کا لفظ صحیح نہیں ہے، صحیح لفظ یلتفت ہے جیسا کہ ترمذی میں ہے )
عروہ کہتے ہیں کہ میں بیٹھا ہوا تھا کہ اسامہ بن زید ؓ سے سوال کیا گیا: رسول اللہ ﷺ حجۃ الوداع میں عرفات سے لوٹتے وقت کیسے چلتے تھے؟ فرمایا: تیز چال چلتے تھے، اور جب راستہ پا جاتے تو دوڑتے۔ ہشام کہتے ہیں: نص ، عنق سے بھی زیادہ تیز چال کو کہتے ہیں۔
Hisham bin Urwah reported on the authority of his father Usamah bin Zaid was asked when I was sitting along with him, how did the Messenger of Allah ﷺ travel during the Farewell Pilgrimage when he proceeded from ‘Arafah to Al Muzdalifah? He replied he was travelling at a quick pace and when he found an opening he urged on his Camel. Hisham said “Nass (running or urging on the Camel) is above ‘anaq (going at a quick pace). ”
عبداللہ بن عباس ؓ کے غلام کریب کی روایت ہے کہ انہوں نے اسامہ بن زید ؓ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ عرفات سے لوٹے جب گھاٹی میں آئے تو اترے، پیشاب کیا اور وضو کیا لیکن بھرپور وضو نہیں کیا، میں نے آپ سے عرض کیا: نماز (کا وقت ہوگیا ہے) آپ ﷺ نے فرمایا: نماز آگے چل کر پڑھیں گے ، پھر آپ سوار ہوئے جب مزدلفہ پہنچے تو اترے وضو کیا اور اچھی طرح سے وضو کیا، پھر نماز کی تکبیر کہی گئی تو آپ ﷺ نے مغرب پڑھی پھر ہر شخص نے اپنے اونٹ کو اپنے قیام گاہ میں بٹھایا پھر عشاء کی اقامت ہوئی تو آپ نے عشاء پڑھی اور درمیان میں کچھ نہیں پڑھا۔
Usamah bin Zaid said: The Messenger of Allah ﷺ returned from ‘Arafah. When he came to the mountain path, he alighted, urinated and performed the ablution, but he did not perform it completely. I said to him Prayer? He said “The prayer will be offered ahead of you. ” He then mounted. When he reached Al Muzdalifah he alighted performed the ablution, performed it well. Thereafter iqamah for the prayer was called and he offered the sunset prayer. Then everyone made his Camel kneel down at his place. Iqamah was then called for night prayer and he offered it but he did not pray between them.