Sunan Abu Dawood

All 5,295 hadiths in order · Page 95 of 265

1886Sunan Abu Dawood

رمل کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَنَّهُ حَدَّثَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ وَقَدْ وَهَنَتْهُمْ حُمَّى يَثْرِبَ، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: إِنَّهُ يَقْدَمُ عَلَيْكُمْ قَوْمٌ قَدْ وَهَنَتْهُمُ الْحُمَّى وَلَقُوا مِنْهَا شَرًّا، فَأَطْلَعَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَا قَالُوهُ، فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَرْمُلُوا الْأَشْوَاطَ الثَّلَاثَةَ، وَأَنْ يَمْشُوا بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ، فَلَمَّا رَأَوْهُمْ رَمَلُوا، قَالُوا: هَؤُلَاءِ الَّذِينَ ذَكَرْتُمْ أَنَّ الْحُمَّى قَدْ وَهَنَتْهُمْ، هَؤُلَاءِ أَجْلَدُ مِنَّا، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَلَمْ يَأْمُرْهُمْ أَنْ يَرْمُلُوا الْأَشْوَاطَ كُلَّهَا إِلَّا إِبْقَاءً عَلَيْهِمْ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مکہ آئے اور لوگوں کو مدینہ کے بخار نے کمزور کردیا تھا، تو مشرکین نے کہا: تمہارے پاس وہ لوگ آ رہے ہیں جنہیں بخار نے ضعیف بنادیا ہے، اور انہیں بڑی تباہی اٹھانی پڑی ہے، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اکرم ﷺ کو ان کی اس گفتگو سے مطلع کردیا، تو آپ نے حکم دیا کہ لوگ (طواف کعبہ کے) پہلے تین پھیروں میں رمل کریں اور رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان عام چال چلیں، تو جب مشرکین نے انہیں رمل کرتے دیکھا تو کہنے لگے: یہی وہ لوگ ہیں جن کے متعلق تم لوگوں نے یہ کہا تھا کہ انہیں بخار نے کمزور کردیا ہے، یہ لوگ تو ہم لوگوں سے زیادہ تندرست ہیں۔ عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں: آپ ﷺ نے انہیں تمام پھیروں میں رمل نہ کرنے کا حکم صرف ان پر نرمی اور شفقت کی وجہ سے دیا تھا ١ ؎۔

Ibn Abbas said The Messenger of Allah ﷺ came to Makkah while the fever of Yathrib (Madina) had weakened them. Thereupon the disbelievers said “The people whom the fever has weakened and who suffer misery at Madina are coming to you. ” Allaah, the exalted, informed the Prophet ﷺ of what they had said. He, therefore, ordered them to perform ramal (walk proudly with swift pace) in first three circuits and walk ordinarily between the two corners (Yamani Corner and the Black Stone). When they saw them the believers walking proudly, they said” These are the people about whom you mentioned that the fever had weakened them, but they are more vigorous than us. ” Ibn Abbas said “He did not order them to walk proudly in all circuits (of the circumambulation) out of mercy upon them. ”

Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ فی الواقع یہ لوگ کمزور اور دبلے پتلے تھے۔
Takhrij · تخریج
* تخريج: صحیح البخاری/الحج ٥٥ (١٦٠٢)، والمغازي ٤٤ (٤٢٥٦)، صحیح مسلم/الحج ٣٩ (١٢٦٦)، سنن النسائی/الکبری/ الحج (٣٩٤٢)، (تحفة الأشراف: ٥٤٣٨)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج ٣٩ (٨٦٣)، مسند احمد (١/٢٢١، ٢٥٥، ٣٠٦، ٣١٠، ٣١١، ٣٧٣) (صحیح )
1887Sunan Abu Dawood

رمل کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ: فِيمَ الرَّمَلَانُ الْيَوْمَ وَالْكَشْفُ عَنِ الْمَنَاكِبِ، وَقَدْ أَطَّأَ اللَّهُ الْإِسْلَامَ وَنَفَى الْكُفْرَ وَأَهْلَهُ مَعَ ذَلِكَ، لَا نَدَعُ شَيْئًا كُنَّا نَفْعَلُهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

اسلم کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب ؓ کو کہتے سنا: اب رمل اور مونڈھے کھولنے کی کیا ضرورت ہے؟ اب تو اللہ نے اسلام کو مضبوط کردیا ہے اور کفر اور اہل کفر کا خاتمہ کردیا ہے، اس کے باوجود ہم ان باتوں کو نہیں چھوڑیں گے جو رسول اللہ ﷺ کے وقت میں کیا کرتے تھے ١ ؎۔

Aslam said: I heard Umar ibn al-Khattab say: What is the need of walking proudly (ramal) and moving the shoulders (while going round the Kabah)? Allah has now strengthened Islam and obliterated disbelief and the infidels. In spite of that we shall not forsake anything that we used to do during the time of the Messenger of Allah ﷺ .

Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ شرع کی جس بات کی علت و حکمت سمجھ میں نہ آئے اس کو علی حالہ چھوڑ دینا چاہیے، کیونکہ ایسی صورت میں سب سے بڑی حکمت یہ ہے کہ یہ اللہ کے رسول کی اتباع ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المناسک ٢٩(٢٩٥٢)، ( تحفة الأشراف: ١٠٣٩١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٤٥) (حسن صحیح )
1888Sunan Abu Dawood

رمل کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا جُعِلَ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةِ وَرَمْيُ الْجِمَارِ لِإِقَامَةِ ذِكْرِ اللَّهِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیت اللہ کا طواف کرنا اور صفا ومروہ کے درمیان سعی کرنا اور کنکریاں مارنا، یہ سب اللہ کی یاد قائم کرنے کے لیے مقرر کئے گئے ہیں ۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said: Going round the House (the Kabah), running between as-Safa and lapidation of the pillars are meant for the remembrance of Allah.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحج ٦٤ (٩٠٢)، ( تحفة الأشراف: ١٧٥٣٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٦٤، ٧٥، ١٣٨)، سنن الدارمی/المناسک ٣٦ (١٨٩٥) (ضعیف) (اس کے راوی عبیداللہ ضعیف ہیں )
1889Sunan Abu Dawood

رمل کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اضْطَبَعَ فَاسْتَلَمَ وَكَبَّرَ، ثُمَّ رَمَلَ ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ، وَكَانُوا إِذَا بَلَغُوا الرُّكْنَ الْيَمَانِيَ وَتَغَيَّبُوا مِنْ قُرَيْشٍ مَشَوْا ثُمَّ يَطْلُعُونَ عَلَيْهِمْ يَرْمُلُونَ، تَقُولُ قُرَيْشٌ: كَأَنَّهُمُ الْغِزْلَانُ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَكَانَتْ سُنَّةً.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اضطباع کیا، پھر استلام کیا، اور تکبیر بلند کی، پھر تین پھیروں میں رمل کیا، جب لوگ (یعنی صحابہ کرام ؓ) رکن یمانی پر پہنچتے اور قریش کی نظروں سے غائب ہوجاتے تو عام چال چلتے پھر جب ان کے سامنے آتے تو رمل کرتے، قریش کہتے تھے: گویا یہ ہرن ہیں، ابن عباس ؓ کہتے ہیں: تو یہ فعل سنت ہوگیا۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ wore the mantle under his right armpit with the end over his left shoulder, and touched the corner (Black Stone), then uttered Allah is most great and walked proudly in three circuits of circumambulation. When they (the Companions) reached the Yamani corner, and disappeared from the eyes of the Quraysh, they walked as usual; When they appeared before them, they walked proudly with rapid strides. Thereupon the Quraysh said: They look to be the deer (that are jumping). Ibn Abbas said: Hence this became the sunnah (model behaviour of the Prophet).

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٥٧٧٧، ٥٧٧٩) (صحیح )
1890Sunan Abu Dawood

رمل کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ اعْتَمَرُوا مِنْ الْجِعْرَانَةِ فَرَمَلُوا بِالْبَيْتِ ثَلَاثًا وَمَشَوْا أَرْبَعًا.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ نے جعرانہ سے عمرہ کا احرام باندھا تو بیت اللہ کے تین پھیروں میں رمل کیا اور چار میں عام چال چلی۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ and his Companions performed Umrah from al-Jiranah and walked proudly with rapid strides round the House (the Kabah) in three circuits and walked as usual in four circuits.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/ الحج ٢٩ (٢٩٥٣)، ( تحفة الأشراف: ٥٧٧٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٤٧، ٢٩٥، ٣٠٥، ٣٠٦، ٣١٤) (صحیح )
1891Sunan Abu Dawood

رمل کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَمَلَ مِنَ الْحَجَرِ إِلَى الْحَجَرِ، وَذَكَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ ذَلِكَ.

نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر ؓ نے حجر اسود سے حجر اسود تک رمل کیا، اور بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایسا کیا ہے۔

Nafi said Ibn Umar walked proudly (ramal) from the corner (Black Stone) to the corner (Black Stone) and mentioned that the Messenger of Allah ﷺ had done so.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٣٩ (١٢٦٢)، ( تحفة الأشراف: ٧٩٠٦)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج ٦٣ (١٦١٦)، سنن النسائی/الحج ١٥٠ (٢٩٤٣)، سنن الترمذی/الحج ٣٣ (٨٥٦)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٢٩ (٢٩٥٠)، موطا امام مالک/الحج ٣٤(١٠٨)، مسند احمد (٢/١٠٠، ١١٤)، سنن الدارمی/المناسک ٢٧ (١٨٨٢) (صحیح )
1892Sunan Abu Dawood

طواف میں دعاء کرنا

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ: رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ.

عبداللہ بن سائب ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دونوں رکن (یعنی رکن یمانی اور حجر اسود) کے درمیان ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار (سورۃ البقرہ: ٩٦) کہتے سنا، اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما، اور آخرت میں بھی، اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا لے ۔

Narrated Abdullah ibn as-Saib: I heard the Messenger of Allah ﷺ say between the two corners: O Allah, bring us a blessing in this world and a blessing in the next and guard us from punishment of Hell.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٥٣١٦)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری/ الحج (٣٩٣٤)، مسند احمد (٣/٤١١) (حسن )
1893Sunan Abu Dawood

طواف میں دعاء کرنا

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ إِذَا طَافَ فِي الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ أَوَّلَ مَا يَقْدَمُ فَإِنَّهُ يَسْعَى ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ وَيَمْشِي أَرْبَعًا ثُمَّ يُصَلِّي سَجْدَتَيْنِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ آتے ہی سب سے پہلے جب حج و عمرہ کا طواف کرتے تو آپ تین پھیروں میں دوڑ کر چلتے اور باقی چار میں معمولی چال چلتے، پھر دو رکعتیں پڑھتے۔

Ibn Umar said When the Messenger of Allah ﷺ observed the circumambulation at hajj and ‘Umrah on his arrival, he ran three circuits and walked four, then he made two prostrations.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ الحج ٦٣ (١٦١٦)، صحیح مسلم/ الحج ٣٩ (١٢٦١)، سنن النسائی/ الحج ١٥١ (٢٩٤٤)، ( تحفة الأشراف: ٨٤٥٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١١٤) (صحیح )
1894Sunan Abu Dawood

نماز عصر کے بعد طواف کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، وَالْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ وَهَذَا لَفْظُهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَاهَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا تَمْنَعُوا أَحَدًا يَطُوفُ بِهَذَا الْبَيْتِ وَيُصَلِّي أَيَّ سَاعَةٍ شَاءَ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ. قَالَ الْفَضْلُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ لَا تَمْنَعُوا أَحَدًا.

جبیر بن مطعم ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اس گھر (کعبہ) کا طواف کرنے اور نماز پڑھنے سے کسی کو مت روکو، رات اور دن کے جس حصہ میں بھی وہ کرنا چاہے کرنے دو ۔ فضل کی روایت کے میں ہے: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال يا بني عبد مناف لا تمنعوا أحدا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے بنی عبد مناف! کسی کو مت روکو ۔

Narrated Jubayr ibn Mutim: The Prophet ﷺ said: Do not prevent anyone from going round this House (the Kabah) and from praying any moment he desires by day or by night. The narrator Fadl (ibn Yaqub) said: The Messenger of Allah ﷺ said: Banu Abdu Munaf, do not stop anyone.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحج ٤٢ (٨٦٨)، سنن النسائی/المواقیت ٤١ (٥٨٦)، والحج ١٣٧ (٢٩٢٧)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٤٩ (١٢٥٦)، (تحفة الأشراف: ٣١٨٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٨٠، ٨١، ٨٤)، سنن الدارمی/المناسک ٧٩ (١٩٦٧) (صحیح )
1895Sunan Abu Dawood

قران کرنے والے کا طواف

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: لَمْ يَطُفْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا أَصْحَابُهُ بَيْنَ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةِ إِلَّا طَوَافًا وَاحِدًا طَوَافَهُ الْأَوَّلَ.

ابوزبیر کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ ؓ کو کہتے سنا کہ نبی اکرم ﷺ اور آپ کے صحابہ نے (جنہوں نے قران کیا تھا) صفا اور مروہ کے درمیان صرف ایک ہی سعی کی اپنے پہلے طواف کے وقت۔

Jabir bin Abdallah said “Neither the Prophet ﷺ nor his Companions ran between Al Safa’ and Al Marwah except once and that was his first running. ”

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ١٧ (١٢١٣)، سنن النسائی/الحج ١٨٢ (٢٩٨٩)، ( تحفة الأشراف: ٢٨٠٢)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج ١٠٢ (٩٤٧)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٣٩ (٢٩٧٢)، مسند احمد (٣/٣١٧) (صحیح )
1896Sunan Abu Dawood

قران کرنے والے کا طواف

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِينَ كَانُوا مَعَهُ لَمْ يَطُوفُوا حَتَّى رَمَوْا الْجَمْرَةَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب نے جو آپ کے ساتھ تھے، اس وقت تک طواف نہیں کیا جب تک کہ ان لوگوں نے رمی جمار نہیں کرلیا۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Companions of the Messenger of Allah ﷺ who accompanied him did not go round the Kabah till they threw pebbles at the Jamrah (pillar at Mina).

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، ( تحفة الأشراف: ١٦٦٠١)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری/ الحج (٤١٧٢، ٤١٧٣) (صحیح) (یہ سابقہ حدیث نمبر: ١٧٨١ کا ایک ٹکڑا ہے)
1897Sunan Abu Dawood

قران کرنے والے کا طواف

حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُؤَذِّنُ، أَخْبَرَنِي الشَّافِعِيُّ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهَا: طَوَافُكِ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةِ يَكْفِيكِ لِحَجَّتِكِ وَعُمْرَتِكِ، قَالَ الشَّافِعِيُّ: كَانَ سُفْيَانُ رُبَّمَا قَالَ: عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ، وَرُبَّمَا قَالَ: عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا: بیت اللہ کا تمہارا طواف اور صفا ومروہ کی سعی حج و عمرہ دونوں کے لیے کافی ہے ۔ شافعی کہتے ہیں: سفیان نے اس روایت کو کبھی عطاء سے اور انہوں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت کیا ہے، اور کبھی عطاء سے مرسلاً روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے عائشہ ؓ سے فرمایا۔

Ata said The Prophet ﷺ said to Aisha (RA) Your observance of circumambulation of the Kaabah and your running between Al Safa’ and al Marwah (only once) are sufficient for your Hajj and your ‘Umrah. Al Shafi’i said The narrator Sufyan has transmitted this tradition from Ata on the authority of Aisha (RA) and also narrated it on the authority of Ata stating that the Prophet ﷺ said to Aisha (RA) (may Allah be pleased with her).

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، ( تحفة الأشراف: ١٧٣٨١) (صحیح )
1898Sunan Abu Dawood

ملتزم کا بیان

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَفْوَانَ، قَالَ: لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ، قُلْتُ: لَأَلْبَسَنَّ ثِيَابِي، وَكَانَتْ دَارِي عَلَى الطَّرِيقِ، فَلَأَنْظُرَنَّ كَيْفَ يَصْنَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْطَلَقْتُ، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ خَرَجَ مِنْ الْكَعْبَةِ هُوَ وَأَصْحَابُهُ وَقَدِ اسْتَلَمُوا الْبَيْتَ مِنَ الْبَابِ إِلَى الْحَطِيمِ، وَقَدْ وَضَعُوا خُدُودَهُمْ عَلَى الْبَيْتِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسْطَهُمْ.

عبدالرحمٰن بن صفوان ؓ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے مکہ فتح کیا تو میں نے کہا: میں اپنے کپڑے پہنوں گا (میرا گھر راستے میں تھا) پھر میں دیکھوں گا کہ رسول اللہ ﷺ کیا کرتے ہیں، تو میں گیا تو نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ اور آپ کے صحابہ کعبۃ اللہ کے اندر سے نکل چکے ہیں اور سب لوگ بیت اللہ کے دروازے سے لے کر حطیم تک کعبہ سے چمٹے ہوئے ہیں، انہوں نے اپنے رخسار بیت اللہ سے لگا دئیے ہیں اور رسول اللہ ﷺ ان سب کے بیچ میں ہیں۔

Narrated Abdur Rahman ibn Safwan (RA) : When the Messenger of Allah ﷺ conquered Makkah, I said (to myself): I shall put on my clothes, and my house lay on the way, I shall watch how the Messenger of Allah ﷺ behaves. So I went out. I saw that the Prophet ﷺ and his Companions had come out from the Kabah and embraced the House (the Kabah) from its entrance (al-Bab) to al-Hatim. They placed their cheek on the House (the Kabah) while the Messenger of Allah ﷺ was amongst them.

Notes · وضاحت
١ ؎: ” ملتزم “: کعبہ کا وہ حصہ جو حجر اسود اور کعبہ کے دروازے کے درمیان واقع ہے، لوگ اس سے چمٹ کر دعا مانگتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٩٧٠٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٣٠، ٤٣١) (ضعیف) (اس کے راوی یزید ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحہ ٢١٣٨ )
1899Sunan Abu Dawood

ملتزم کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: طُفْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ، فَلَمَّا جِئْنَا دُبُرَ الْكَعْبَةِ، قُلْتُ: أَلَا تَتَعَوَّذُ ؟ قَالَ: نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ، ثُمَّ مَضَى حَتَّى اسْتَلَمَ الْحَجَرَ وَأَقَامَ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْبَابِ فَوَضَعَ صَدْرَهُ وَوَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ وَكَفَّيْهِ هَكَذَا وَبَسَطَهُمَا بَسْطًا، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ.

شعیب بن محمد بن عبداللہ بن عمرو بن العاص کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمرو ؓ کے ساتھ طواف کیا، جب ہم لوگ کعبہ کے پیچھے آئے تو میں نے کہا: کیا آپ پناہ نہیں مانگیں گے؟ اس پر انہوں نے کہا: ہم پناہ مانگتے ہیں اللہ کی آگ سے، پھر وہ آگے بڑھتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے حجر اسود کا استلام کیا، اور حجر اسود اور کعبہ کے دروازے کے درمیان کھڑے رہے اور اپنا سینہ، اپنے دونوں ہاتھ اپنی دونوں ہتھیلیاں اس طرح رکھیں اور انہوں نے انہیں پوری طرح پھیلایا، پھر بولے: اسی طرح میں نے رسول اللہ ﷺ کو کرتے دیکھا ہے ١ ؎۔

Amr bin Shuaib reported on the authority of his father: I went round the Kabah along with Abdullah ibn Amr. When we came behind the Kabah I asked: Do you not seek refuge? He uttered the words: I seek refuge in Allah from the Hell-fire. He then went (farther) and touched the Black Stone, and stood between the corner (Black Stone) and the entrance of the Kabah. He then placed his breast, his face, his hands and his palms in this manner, and he spread them, and said: I saw the Messenger of Allah ﷺ doing like this.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی آپ ﷺ ملتزم سے چمٹے ہوئے تھے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المناسک ٣٥ (٢٩٦٢)، ( تحفة الأشراف: ٨٧٧٦) (حسن) (اس کے راوی مثنی ضعیف ہیں، لیکن شواہد اور متابعات کی وجہ سے تقویت پا کر یہ حسن ہے )
1900Sunan Abu Dawood

ملتزم کا بیان

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا السَّائِبُ بْنُ عَمْرٍو الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ،عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُودُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَيُقِيمُهُ عِنْدَ الشُّقَّةِ الثَّالِثَةِ مِمَّا يَلِي الرُّكْنَ الَّذِي يَلِي الْحَجَرَ مِمَّا يَلِي الْبَابَ، فَيَقُولُ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ: أُنْبِئْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي هَا هُنَا، فَيَقُولُ: نَعَمْ، فَيَقُومُ فَيُصَلِّي.

عبداللہ بن سائب کہتے ہیں کہ وہ ابن عباس ؓ کو لے کر جاتے (جب ان کی بینائی ختم ہوگئی) اور ان کو اس تیسرے کونے کے پاس کھڑا کردیتے جو اس رکن کعبہ کے قریب ہے جو حجر اسود کے قریب ہے اور دروازے سے ملا ہوا ہے تو ابن عباس ؓ ان سے کہتے: کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ اس جگہ نماز پڑھتے تھے؟ وہ کہتے: ہاں، تو ابن عباس ؓ کھڑے ہوتے اور نماز پڑھتے۔

Abdullah ibn as-Saib reported on the authority of his father as-Saib that he used to lead Ibn Abbas (when he become blind) and make him stand in the third corner that was adjacent to the corner (Black Stone) near the entrance of the Kabah. Ibn Abbas used to say: Has it been reported to you that the Messenger of Allah ﷺ would pray in this place. He would reply: Yes. He then used to stand (there) and pray.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الحج ١٣٣ (٢٩٢١)، ( تحفة الأشراف: ٥٣١٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤١٠) (ضعیف) (اس کے راوی محمد بن عبداللہ بن سائب مجہول ہیں )
1901Sunan Abu Dawood

صفا اور مر وہ کا بیان

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ. ح وحَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ حَدِيثُ السِّنِّ: أَرَأَيْتِ قَوْلَ اللَّهِ تَعَالَى: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ سورة البقرة آية 158 ؟ فَمَا أَرَى عَلَى أَحَدٍ شَيْئًا أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا، قَالَتْ عَائِشَةُ: كَلَّا، لَوْ كَانَ كَمَا تَقُولُ، كَانَتْ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا، إِنَّمَا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي الْأَنْصَارِ، كَانُوا يُهِلُّونَ لِمَنَاةَ وَكَانَتْ مَنَاةُ حَذْوَ قُدَيْدٍ وَكَانُوا يَتَحَرَّجُونَ أَنْ يَطُوفُوا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَلَمَّا جَاءَ الْإِسْلَامُ، سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ سورة البقرة آية 158.

عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے کہا اور میں ان دنوں کم سن تھا: مجھے اللہ تعالیٰ کے ارشاد إن الصفا والمروة من شعائر الله کے سلسلہ میں بتائیے، میں سمجھتا ہوں کہ اگر کوئی ان کے درمیان سعی نہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں، عائشہ ؓ نے جواب دیا: ہرگز نہیں، اگر ایسا ہوتا جیسا تم کہہ رہے ہو تو اللہ کا قول فلا جناح عليه أن يطوف بهما کے بجائے فلا جناح عليه أن لا يطوف بهما تو اس پر ان کی سعی نہ کرنے میں کوئی گناہ نہیں ہوتا، یہ آیت دراصل انصار کے بارے میں اتری، وہ مناۃ (یعنی زمانہ جاہلیت کا بت) کے لیے حج کرتے تھے اور مناۃ قدید ١ ؎ کے سامنے تھا، وہ لوگ صفا ومروہ کے بیچ سعی کرنا برا سمجھتے تھے، جب اسلام آیا تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں پوچھا، اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: إن الصفا والمروة من شعائر الله ٢ ؎۔

Urwa bin Al Zubair said I said to Aisha (RA) , wife of the Prophet ﷺ while I was a boy. What do you think about the pronouncement of Allaah, the Exalted “Lo! (The Mountains) Al Safa’ and Al Marwah are among the indications of Allaah. “I think there is no harm for anyone if he does not run between them. Aisha (RA) (may Allah be pleased with her) said Nay, had it been so as you said, it would have been thus. It is no sin on him not to go around them. This verse was revealed about the Ansaar, they used to perform hajj for Manat. Manat was erected in front of Qudaid. Hence they used to avoid going around Al Safa and Al Marwah. When Islam came, they asked the Messenger of Allah ﷺ about it. Allaah, the Exalted therefore revealed the verse “Lo! (The Mountains) Al Safa’ and Al Marwah are among the indications of Allaah.

Notes · وضاحت
١ ؎: ” مناة قديد “: مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک دیہات کا نام ہے۔ ٢ ؎: بلاشبہ صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں ( سورة البقرة: ١٥٨ )
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ٧٩ (١٦٤٣)، والعمرة ١٠ (١٧٩٠)، وتفسیرالبقرة ٢١(٤٤٩٥)، و تفسیر النجم ٣ (٤٨٦١)، سنن النسائی/الحج ١٦٨ (٢٩٧١)، ( تحفة الأشراف: ١٦٨٢٠، ١٧١٥١)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحج ٤٣ (١٢٧٧)، سنن الترمذی/تفسیر سورة البقرة (٢٩٦٩)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٤٣ (٢٩٨٦)، موطا امام مالک/الحج ٤٢ (١٢٩)، مسند احمد (٦/١٤٤، ١٦٢، ٢٢٧) (صحیح )
1902Sunan Abu Dawood

صفا اور مر وہ کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَمَرَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ وَمَعَهُ مَنْ يَسْتُرُهُ مِنَ النَّاسِ، فَقِيلَ لِعَبْدِ اللَّهِ: أَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَعْبَةَ ؟ قَالَ: لَا.

عبداللہ بن ابی اوفی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عمرہ کیا تو بیت اللہ کا طواف کیا اور مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز پڑھی، آپ کے ساتھ کچھ ایسے لوگ تھے جو آپ کو آڑ میں لیے ہوئے تھے، تو عبداللہ ؓ سے پوچھا گیا: کیا رسول اللہ ﷺ کعبہ میں داخل ہوئے؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں۔

Abd Allaah bin Abi Aufa said the Messenger of Allah ﷺ performed ‘Umrah and went round the House (the Kaabah) and prayed behind the station (Maqam Ibrahim) two rak’ahs and he was accompanied by so many people that he was hidden by them. Abd Allaah bin Abi Aufa was asked Did the Messenger of Allah ﷺ enter the Kaabah ? He replied “No”.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ٥٣ (١٦٠٠)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٤٤ (٢٩٩٠)، ( تحفة الأشراف: ٥١٥٥، ٥١٥٦)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحج ٦٨ (١٣٣٢)، مسند احمد (٤/٣٥٣، ٣٥٥، ٣٨١)، سنن الدارمی/المناسک ٧٧ (١٩٦٣) (صحیح )
1903Sunan Abu Dawood

صفا اور مر وہ کا بیان

حَدَّثَنَا تَمِيمُ بْنُ الْمُنْتَصِرِ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى، بِهَذَا الْحَدِيثِ، زَادَ: ثُمَّ أَتَى الصَّفَا وَ الْمَرْوَةَ فَسَعَى بَيْنَهُمَا سَبْعًا ثُمَّ حَلَقَ رَأْسَهُ.

اس سند سے بھی عبداللہ بن ابی اوفی ؓ سے یہی حدیث مروی ہے البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے: پھر آپ صفا ومروہ آئے اور ان کے درمیان سات بار سعی کی، پھر اپنا سر منڈایا۔

Ismail bin Abi Khalid said I heard Abd Allaah bin Abi Aufa narrated this tradition. His version added “He then came to Al Safa’ and Al Marwah and ran between them seven times and then shaved his head.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، ( تحفة الأشراف: ٥١٥٥، ٥١٥٦) (صحیح )
1904Sunan Abu Dawood

صفا اور مر وہ کا بیان

حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ جُمْهَانَ، أَنَّ رَجُلًا، قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بَيْنَ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةِ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنِّي أَرَاكَ تَمْشِي وَالنَّاسُ يَسْعَوْنَ، قَالَ: إِنْ أَمْشِ، فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي، وَإِنْ أَسْعَ، فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْعَى، وَأَنَا شَيْخٌ كَبِيرٌ.

کثیر بن جمہان سے روایت ہے کہ صفا ومروہ کے درمیان عبداللہ بن عمر ؓ سے ایک شخص نے پوچھا: ابوعبدالرحمٰن! میں آپ کو (عام چال چلتے) دیکھتا ہوں جب کہ لوگ دوڑتے ہیں؟ انہوں نے کہا: اگر میں عام چال چلتا ہوں تو اس لیے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو عام چال چلتے دیکھا ہے اور اگر میں دوڑ کر کرتا ہوں تو اس لیے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو سعی (دوڑتے) کرتے دیکھا ہے اور میں بہت بوڑھا شخص ہوں۔

Kathir ibn Jamhan said: A man asked Abdullah ibn Umar between as-Safa and al-Marwah: Abdur Rahman, I see you walking while the people are running (between as-Safa and al-Marwah)? He replied: If I walk, I saw the Messenger of Allah ﷺ running. I am too old.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحج ٣٩ (٨٦٤)، سنن النسائی/الحج ١٧٤ (٢٩٧٩)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٤٣ (٢٩٨٨)، ( تحفة الأشراف: ٧٣٧٣، ٧٣٧٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٥٣) (صحیح )
1905Sunan Abu Dawood

رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حج کا حال

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّقَيْلِيُّ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيَّانِوَرُبَّما زَادَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ الْكَلِمَةَ وَالشَّيْءَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَيْهِ سَأَلَ عَنِ الْقَوْمِ حَتَّى انْتَهَى إِلَيَّ، فَقُلْتُ: أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، فَأَهْوَى بِيَدِهِ إِلَى رَأْسِي فَنَزَعَ زِرِّي الْأَعْلَى ثُمَّ نَزَعَ زِرِّي الْأَسْفَلَ ثُمَّ وَضَعَ كَفَّهُ بَيْنَ ثَدْيَيَّ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ غُلَامٌ شَابٌّ، فَقَالَ: مَرْحَبًا بِكَ وَأَهْلًا يَا ابْنَ أَخِي، سَلْ عَمَّا شِئْتَ فَسَأَلْتُهُ وَهُوَ أَعْمَى، وَجَاءَ وَقْتُ الصَّلَاةِ فَقَامَ فِي نِسَاجَةٍ مُلْتَحِفًا بِهَا، يَعْنِي ثَوْبًا مُلَفَّقًا، كُلَّمَا وَضَعَهَا عَلَى مَنْكِبِهِ رَجَعَ طَرَفَاهَا إِلَيْهِ مِنْ صِغَرِهَا فَصَلَّى بِنَا وَرِدَاؤُهُ إِلَى جَنْبِهِ عَلَى الْمِشْجَبِ، فَقُلْتُ: أَخْبِرْنِي عَنْ حَجَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ بِيَدِهِ: فَعَقَدَ تِسْعًا، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَثَ تِسْعَ سِنِينَ لَمْ يَحُجَّ، ثُمَّ أُذِّنَ فِي النَّاسِ فِي الْعَاشِرَةِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجٌّ، فَقَدِمَ الْمَدِينَةَ بَشَرٌ كَثِيرٌ كُلُّهُمْ يَلْتَمِسُ أَنْ يَأْتَمَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَعْمَلَ بِمِثْلِ عَمَلِهِ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَرَجْنَا مَعَهُ حَتَّى أَتَيْنَا ذَا الْحُلَيْفَةِ، فَوَلَدَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ فَأَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ أَصْنَعُ، فَقَالَ: اغْتَسِلِي وَاسْتَذْفِرِي بِثَوْبٍ وَأَحْرِمِي، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ ثُمَّ رَكِبَ الْقَصْوَاءَ حَتَّى إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ نَاقَتُهُ عَلَى الْبَيْدَاءِ، قَالَ جَابِرٌ: نَظَرْتُ إِلَى مَدِّ بَصَرِي مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ مِنْ رَاكِبٍ وَمَاشٍ وَعَنْ يَمِينِهِ مِثْلُ ذَلِكَ وَعَنْ يَسَارِهِ مِثْلُ ذَلِكَ وَمِنْ خَلْفِهِ مِثْلُ ذَلِكَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا وَعَلَيْهِ يَنْزِلُ الْقُرْآنُ وَهُوَ يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ فَمَا عَمِلَ بِهِ مِنْ شَيْءٍ عَمِلْنَا بِهِ، فَأَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالتَّوْحِيدِ: لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ، وَأَهَلَّ النَّاسُ بِهَذَا الَّذِي يُهِلُّونَ بِهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا مِنْهُ وَلَزِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلْبِيَتَهُ، قَالَ جَابِرٌ: لَسْنَا نَنْوِي إِلَّا الْحَجَّ، لَسْنَا نَعْرِفُ الْعُمْرَةَ حَتَّى إِذَا أَتَيْنَا الْبَيْتَ مَعَهُ اسْتَلَمَ الرُّكْنَ فَرَمَلَ ثَلَاثًا وَمَشَى أَرْبَعًا ثُمَّ تَقَدَّمَ إِلَى مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ فَقَرَأَ: وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى سورة البقرة آية 125 فَجَعَلَ الْمَقَامَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ، قَالَ: فَكَانَ أَبِي، يَقُولُ: قَالَ ابْنُ نُفَيْلٍ وَ عُثْمَانُ: وَلَا أَعْلَمُهُ ذَكَرَهُ إِلَّا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ سُلَيْمَانُ: وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بِ: قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وَ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الْبَيْتِ فَاسْتَلَمَ الرُّكْنَ ثُمَّ خَرَجَ مِنَ الْبَابِ إِلَى الصَّفَا، فَلَمَّا دَنَا مِنْ الصَّفَا قَرَأَ: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ سورة البقرة آية 158 نَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ، فَبَدَأَ بِالصَّفَا فَرَقِيَ عَلَيْهِ حَتَّى رَأَى الْبَيْتَ فَكَبَّرَ اللَّهَ وَوَحَّدَهُ، وَقَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ أَنْجَزَ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ، ثُمَّ دَعَا بَيْنَ ذَلِكَ وَقَالَ مِثْلَ هَذَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ نَزَلَ إِلَى الْمَرْوَةِ حَتَّى إِذَا انْصَبَّتْ قَدَمَاهُ رَمَلَ فِي بَطْنِ الْوَادِي حَتَّى إِذَا صَعَدَ مَشَى حَتَّى أَتَى الْمَرْوَةَ فَصَنَعَ عَلَى الْمَرْوَةِ مِثْلَ مَا صَنَعَ عَلَى الصَّفَا حَتَّى إِذَا كَانَ آخِرُ الطَّوَافِ عَلَى الْمَرْوَةِ، قَالَ: إِنِّي لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ لَمْ أَسُقْ الْهَدْيَ وَلَجَعَلْتُهَا عُمْرَةً، فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ لَيْسَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُحْلِلْ وَلْيَجْعَلْهَا عُمْرَةً، فَحَلَّ النَّاسُ كُلُّهُمْ وَقَصَّرُوا إِلَّا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ، فَقَامَ سُرَاقَةُ بْنُ جُعْشُمٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِلْأَبَدِ ؟ فَشَبَّكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَابِعَهُ فِي الْأُخْرَى، ثُمَّ قَالَ: دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ هَكَذَا مَرَّتَيْنِ، لَا بَلْ لِأَبَدِ أَبَدٍ، لَا بَلْ لِأَبَدِ أَبَدٍ، قَالَ: وَقَدِمَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ الْيَمَنِ بِبُدْنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا مِمَّنْ حَلَّ وَلَبِسَتْ ثِيَابًا صَبِيغًا وَاكْتَحَلَتْ، فَأَنْكَرَ عَلِيٌّ ذَلِكَ عَلَيْهَا، وَقَالَ: مَنْ أَمَرَكِ بِهَذَا ؟ فَقَالَتْ: أَبِي، فَكَانَ عَلِيٌّ، يَقُولُ بِالْعِرَاقِ: ذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحَرِّشًا عَلَى فَاطِمَةَ فِي الْأَمْرِ الَّذِي صَنَعَتْهُ مُسْتَفْتِيًا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الَّذِي ذَكَرَتْ عَنْهُ فَأَخْبَرْتُهُ أَنِّي أَنْكَرْتُ ذَلِكَ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ: إِنَّ أَبِي أَمَرَنِي بِهَذَا، فَقَالَ: صَدَقَتْ صَدَقَتْ، مَاذَا قُلْتَ حِينَ فَرَضْتَ الْحَجَّ ؟ قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أُهِلُّ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَإِنَّ مَعِيَ الْهَدْيَ فَلَا تَحْلِلْ، قَالَ: وَكَانَ جَمَاعَةُ الْهَدْيِ الَّذِي قَدِمَ بِهِ عَلِيٌّ مِنْ الْيَمَنِ وَالَّذِي أَتَى بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمَدِينَةِ مِائَةً فَحَلَّ النَّاسُ كُلُّهُمْ وَقَصَّرُوا إِلَّا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ، قَالَ: فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ وَوَجَّهُوا إِلَى مِنًى أَهَلُّوا بِالْحَجِّ، فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِمِنًى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ وَالصُّبْحَ ثُمَّ مَكَثَ قَلِيلًا حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ وَأَمَرَ بِقُبَّةٍ لَهُ مِنْ شَعْرٍ فَضُرِبَتْ بِنَمِرَةٍ فَسَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا تَشُكُّ قُرَيْشٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفٌ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ بِالْمُزْدَلِفَةِ كَمَا كَانَتْ قُرَيْشٌ تَصْنَعُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَأَجَازَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَى عَرَفَةَ فَوَجَدَ الْقُبَّةَ قَدْ ضُرِبَتْ لَهُ بِنَمِرَةٍ فَنَزَلَ بِهَا حَتَّى إِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ أَمَرَ بِالْقَصْوَاءِ فَرُحِلَتْ لَهُ فَرَكِبَ حَتَّى أَتَى بَطْنَ الْوَادِي، فَخَطَبَ النَّاسَ، فَقَالَ: إِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، أَلَا إِنَّ كُلَّ شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ تَحْتَ قَدَمَيَّ مَوْضُوعٌ وَدِمَاءُ الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعَةٌ وَأَوَّلُ دَمٍ أَضَعُهُ دِمَاؤُنَا دَمُ، قَالَ عُثْمَانُ: دَمُ ابْنُ رَبِيعَةَ، وقَالَ سُلَيْمَانُ: دَمُ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وقَالَ بَعْضُ هَؤُلَاءِ: كَانَ مُسْتَرْضَعًا فِي بَنِي سَعْدٍ، فَقَتَلَتْهُ هُذَيْلٌ وَرِبَا الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعٌ وَأَوَّلُ رِبًا أَضَعُهُ رِبَانَا رِبَا عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَإِنَّهُ مَوْضُوعٌ كُلُّهُ، اتَّقُوا اللَّهَ فِي النِّسَاءِ فَإِنَّكُمْ أَخَذْتُمُوهُنَّ بِأَمَانَةِ اللَّهِ وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوجَهُنَّ بِكَلِمَةِ اللَّهِ وَإِنَّ لَكُمْ عَلَيْهِنَّ أَنْ لَا يُوطِئْنَ فُرُشَكُمْ أَحَدًا تَكْرَهُونَهُ فَإِنْ فَعَلْنَ فَاضْرِبُوهُنَّ ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ وَلَهُنَّ عَلَيْكُمْ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ، وَإِنِّي قَدْ تَرَكْتُ فِيكُمْ مَا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ إِنِ اعْتَصَمْتُمْ بِهِ: كِتَابَ اللَّهِ وَأَنْتُمْ مَسْئُولُونَ عَنِّي، فَمَا أَنْتُمْ قَائِلُونَ ؟، قَالُوا: نَشْهَدُ أَنَّكَ قَدْ بَلَّغْتَ وَأَدَّيْتَ وَنَصَحْتَ، ثُمَّ قَالَ بِأُصْبُعِهِ السَّبَّابَةِ يَرْفَعُهَا إِلَى السَّمَاءِ وَيَنْكُبُهَا إِلَى النَّاسِ: اللَّهُمَّ اشْهَدْ، اللَّهُمَّ اشْهَدْ، اللَّهُمَّ اشْهَدْ، ثُمَّ أَذَّنَ بِلَالٌ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا شَيْئًا ثُمَّ رَكِبَ الْقَصْوَاءَ حَتَّى أَتَى الْمَوْقِفَ فَجَعَلَ بَطْنَ نَاقَتِهِ الْقَصْوَاءِ إِلَى الصَّخَرَاتِ وَجَعَلَ حَبْلَ الْمُشَاةِ بَيْنَ يَدَيْهِ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، فَلَمْ يَزَلْ وَاقِفًا حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ وَذَهَبَتِ الصُّفْرَةُ قَلِيلًا حِينَ غَابَ الْقُرْصُ، وَأَرْدَفَ أُسَامَةَ خَلْفَهُ فَدَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ شَنَقَ لِلْقَصْوَاءِ الزِّمَامَ حَتَّى إِنَّ رَأْسَهَا لَيُصِيبُ مَوْرِكَ رَحْلِهِ وَهُوَ يَقُولُ بِيَدِهِ الْيُمْنَى: السَّكِينَةَ أَيُّهَا النَّاسُ، السَّكِينَةَ أَيُّهَا النَّاسُ، كُلَّمَا أَتَى حَبْلًا مِنَ الْحِبَالِ أَرْخَى لَهَا قَلِيلًا حَتَّى تَصْعَدَ حَتَّى أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ فَجَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِأَذَانٍ وَاحِدٍ وَإِقَامَتَيْنِ، قَالَ عُثْمَانُ: وَلَمْ يُسَبِّحْ بَيْنَهُمَا شَيْئًا، ثُمَّ اتَّفَقُوا، ثُمَّ اضْطَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى طَلَعَ الْفَجْرُ، فَصَلَّى الْفَجْرَ حِينَ تَبَيَّنَ لَهُ الصُّبْحُ، قَالَ سُلَيْمَانُ: بِنِدَاءٍ وَإِقَامَةٍ، ثُمَّ اتَّفَقُوا، ثُمَّ رَكِبَ الْقَصْوَاءَ حَتَّى أَتَى الْمَشْعَرَ الْحَرَامَ فَرَقِيَ عَلَيْهِ، قَالَ عُثْمَانُ وَ سُلَيْمَانُ: فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَكَبَّرَهُ وَهَلَّلَهُ، زَادَ عُثْمَانُ: وَوَحَّدَهُ، فَلَمْ يَزَلْ وَاقِفًا حَتَّى أَسْفَرَ جِدًّا ثُمَّ دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَأَرْدَفَ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ: وَكَانَ رَجُلًا حَسَنَ الشَّعْرِ أَبْيَضَ وَسِيمًا، فَلَمَّا دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ الظُّعُنُ يَجْرِينَ فَطَفِقَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهِنَّ، فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى وَجْهِ الْفَضْلِ وَصَرَفَ الْفَضْلُ وَجْهَهُ إِلَى الشِّقِّ الْآخَرِ وَحَوَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ إِلَى الشِّقِّ الْآخَرِ وَصَرَفَ الْفَضْلُ وَجْهَهُ إِلَى الشِّقِّ الْآخَرِ يَنْظُرُ حَتَّى أَتَى مُحَسِّرًا فَحَرَّكَ قَلِيلًا ثُمَّ سَلَكَ الطَّرِيقَ الْوُسْطَى الَّذِي يُخْرِجُكَ إِلَى الْجَمْرَةِ الْكُبْرَى حَتَّى أَتَى الْجَمْرَةَ الَّتِي عِنْدَ الشَّجَرَةِ فَرَمَاهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ مِنْهَا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ فَرَمَى مِنْ بَطْنِ الْوَادِي، ثُمَّ انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَنْحَرِ فَنَحَرَ بِيَدِهِ ثَلَاثًا وَسِتِّينَ، وَأَمَرَ عَلِيًّا فَنَحَرَ مَا غَبَرَ، يَقُولُ: مَا بَقِيَ وَأَشْرَكَهُ فِي هَدْيِهِ، ثُمَّ أَمَرَ مِنْ كُلِّ بَدَنَةٍ بِبَضْعَةٍ فَجُعِلَتْ فِي قِدْرٍ فَطُبِخَتْ فَأَكَلَا مِنْ لَحْمِهَا وَشَرِبَا مِنْ مَرَقِهَا، قَالَ سُلَيْمَانُ: ثُمَّ رَكِبَ، ثُمَّ أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْبَيْتِ فَصَلَّى بِمَكَّةَ الظُّهْرَ، ثُمَّ أَتَى بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَهُمْ يَسْقُونَ عَلَى زَمْزَمَ، فَقَالَ: انْزِعُوا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَلَوْلَا أَنْ يَغْلِبَكُمُ النَّاسُ عَلَى سِقَايَتِكُمْ لَنَزَعْتُ مَعَكُمْ فَنَاوَلُوهُ دَلْوًا فَشَرِبَ مِنْهُ.

جعفر بن محمد اپنے والد محمد (محمد باقر) سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ہم جابر بن عبداللہ ؓ کے پاس آئے جب ہم ان کے پاس پہنچے تو انہوں نے آنے والوں کے بارے میں (ہر ایک سے) پوچھا یہاں تک کہ جب مجھ تک پہنچے تو میں نے کہا: میں محمد بن علی بن حسین ہوں، تو انہوں نے اپنا ہاتھ میرے سر کی طرف بڑھایا، اور میرے کرتے کے اوپر کی گھنڈی کھولی، پھر نیچے کی کھولی، اور پھر اپنی ہتھیلی میرے دونوں چھاتیوں کے بیچ میں رکھی، میں ان دنوں جوان تھا، پھر کہا: خوش آمدید، اے میرے بھتیجے! جو چاہو پوچھو، میں نے ان سے سوالات کئے، وہ نابینا ہوچکے تھے اور نماز کا وقت آگیا، تو وہ ایک کپڑا اوڑھ کر کھڑے ہوگئے (یعنی ایک ایسا کپڑا جو دہرا کر کے سلا ہوا تھا) ، جب اسے اپنے کندھے پر ڈالتے تو چھوٹا ہونے کی وجہ سے وہ کندھے سے گر جاتا، چناچہ انہوں نے ہمیں نماز پڑھائی اور ان کی چادر ان کے بغل میں تپائی پر رکھی ہوئی تھی، میں نے عرض کیا: مجھے اللہ کے رسول کے حج کا حال بتائیے، پھر انہوں نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا اور نو کی گرہ بنائی پھر بولے: رسول اللہ ﷺ نو سال تک (مدینہ میں) حج کئے بغیر رہے، پھر دسویں سال لوگوں میں اعلان کیا گیا کہ رسول اللہ ﷺ حج کو جانے والے ہیں، چناچہ مدینہ میں لوگ کثرت سے آگئے ١ ؎، ہر ایک کی خواہش تھی کہ وہ آپ ﷺ کی اقتداء میں حج کرے، اور آپ ہی کی طرح سارے کام انجام دے، چناچہ رسول اللہ ﷺ نکلے اور آپ کے ساتھ ہم بھی نکلے، ہم لوگ ذی الحلیفہ پہنچے تو اسماء بنت عمیس ؓ کے یہاں محمد بن ابی بکر ؓ کی ولادت ہوئی، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھوایا: میں کیا کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تم غسل کرلو، اور کپڑے کا لنگوٹ باندھ لو، اور احرام پہن لو ، پھر رسول اللہ ﷺ نے (ذو الحلیفہ کی) مسجد میں نماز پڑھی، پھر قصواء (نامی اونٹنی) پر سوار ہوئے، یہاں تک کہ جب بیداء میں اونٹنی کو لے کر سیدھی ہوگئی (جابر ؓ کہتے ہیں) تو میں نے تاحد نگاہ دیکھا کہ آپ ﷺ کے سامنے سوار بھی ہیں پیدل بھی، اسی طرح معاملہ دائیں جانب تھا، اسی طرح بائیں جانب، اور اسی طرح آپ کے پیچھے، اور رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان میں تھے ١ ؎، آپ ﷺ پر قرآن نازل ہو رہا تھا، اور آپ ﷺ اس کا معنی سمجھتے تھے، چناچہ جیسے آپ ﷺ کرتے ویسے ہی ہم بھی کرتے۔ آپ ﷺ نے توحید پر مشتمل تلبیہ: لبيك اللهم لبيك لبيك لا شريك لک لبيك إن الحمد والنعمة لک والملک لا شريك لك پکارا، اور لوگ وہی تلبیہ پکارتے رہے جسے آپ ﷺ پکارا کرتے تھے ٢ ؎، تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں اس میں سے کسی بھی لفظ سے منع نہیں کیا، بلکہ آپ ﷺ اپنا تلبیہ ہی برابر کہتے رہے۔ ہماری نیت صرف حج کی تھی، ہمیں پتہ نہیں تھا کہ عمرہ بھی کرنا پڑے گا ٣ ؎، جب ہم آپ ﷺ کے ساتھ بیت اللہ پہنچے تو آپ ﷺ نے حجر اسود کا استلام کیا پھر تین پھیروں میں رمل کیا، اور چار پھیروں میں عام چال چلے، پھر مقام ابراہیم کے پاس آئے اور یہ آیت پڑھی: واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى ٤ ؎، اور مقام ابراہیم کو اپنے اور بیت اللہ کے بیچ میں رکھا۔ (محمد بن جعفر) کہتے ہیں: میرے والد کہتے تھے (ابن نفیل اور عثمان کی روایت میں ہے) کہ میں یہی جانتا ہوں کہ جابر ؓ نے اسے نبی اکرم ﷺ سے نقل کیا ہے (اور سلیمان کی روایت میں ہے) میں یہی جانتا ہوں کہ انہوں نے کہا: رسول ﷺ نے دونوں رکعتوں میں قل هو الله أحد اور قل يا أيها الکافرون پڑھا ٥ ؎، پھر بیت اللہ کی طرف لوٹے اور حجر اسود کا استلام کیا، اس کے بعد (مسجد کے) دروازے سے صفا کی طرف نکل گئے جب صفا سے قریب ہوئے تو إن الصفا والمروة من شعائر الله پڑھا اور فرمایا: ہم بھی وہیں سے شروع کریں گے جہاں سے اللہ تعالیٰ نے شروع کیا ہے ، چناچہ آپ ﷺ نے صفا سے ابتداء کی اور اس پر چڑھے یہاں تک کہ بیت اللہ کو دیکھا، تو اللہ کی بڑائی اور وحدانیت بیان کی اور فرمایا: لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملک وله الحمد يحيي ويميت وهو على كل شىء قدير لا إله إلا الله وحده أنجز وعده ونصر عبده وهزم الأحزاب وحده پھر اس کے درمیان میں دعا مانگی اور اس طرح تین بار کہا، پھر مروہ کی طرف اتر کر آئے، جب آپ ﷺ کے قدم ڈھلکنے لگے تو آپ ﷺ نے بطن وادی ٦ ؎ میں رمل کیا یہاں تک کہ جب چڑھنے لگے تو عام چال چلے، یہاں تک کہ مروہ آئے تو وہاں بھی وہی کیا جو صفا پہ کیا تھا، جب طواف کا آخری پھیرا مروہ پہ ختم ہوا تو فرمایا: اگر مجھے پہلے سے معلوم ہوتا جو کہ بعد میں معلوم ہوا تو میں ہدی نہ لاتا اور میں اسے عمرہ بنا دیتا، لہٰذا تم میں سے جس کے ساتھ ہدی نہ ہو تو وہ حلال ہوجائے، اور اسے عمرہ بنا لے ۔ سبھی لوگ حلال ہوگئے اور بال کتروا لیے سوائے نبی اکرم ﷺ اور ان لوگوں کے جن کے ساتھ ہدی تھی۔ پھر سراقہ بن جعشم ؓ کھڑے ہوئے اور انہوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا یہ (عمرہ) صرف اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ ہمیش کے لیے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے میں داخل کیں اور فرمایا: عمرہ حج میں اسی طرح داخل ہوگیا ، اسے دو مرتبہ فرمایا: (صرف اسی سال کے لیے) نہیں، بلکہ ہمیشہ ہمیش کے لیے (صرف اسی سال کے لیے) نہیں، بلکہ ہمیشہ ہمیش کے لیے ، اور علی ؓ یمن سے نبی اکرم ﷺ کے ہدی کے اونٹ لے کر آئے تو فاطمہ ؓ کو ان لوگوں میں سے پایا جنہوں نے احرام کھول ڈالا تھا، وہ رنگین کپڑے زیب تن کئے ہوئے تھیں، اور سرمہ لگا رکھا تھا، علی ؓ کو یہ ناگوار لگا، وہ کہنے لگے: تمہیں کس نے اس کا حکم دیا تھا؟ وہ بولیں: میرے والد نے۔ علی ؓ (اپنے ایام خلافت میں) عراق میں کہا کرتے تھے کہ میں ان کاموں سے جن کو فاطمہ نے کر رکھا تھا غصہ میں بھرا ہوا رسول اللہ ﷺ کے پاس پوچھنے کے لیے آیا جو فاطمہ نے آپ ﷺ کے متعلق بتائی تھی، اور جس پر میں نے ناگواری کا اظہار کیا تھا، تو انہوں نے کہا کہ مجھے میرے والد نے اس کا حکم دیا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس نے سچ کہا، اس نے سچ کہا، تم نے حج کی نیت کرتے وقت کیا کہا تھا؟ ، عرض کیا: میں نے یوں کہا تھا: اے اللہ! میں اسی کا احرام باندھتا ہوں جس کا تیرے رسول نے باندھا ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا: میرے ساتھ تو ہدی ہے اب تم بھی احرام نہ کھولنا ۔ جابر ؓ کہتے ہیں: ہدی کے جانوروں کی مجموعی تعداد جو علی ؓ یمن سے لے کر آئے تھے اور جو رسول اللہ ﷺ مدینہ سے لے کر آئے تھے کل سو (١٠٠) تھی، چناچہ تمام لوگوں نے احرام کھول دیا، اور بال کتروائے سوائے نبی اکرم ﷺ اور ان لوگوں کے جن کے ساتھ ہدی تھی۔ جابر ؓ کہتے ہیں: جب یوم الترویہ (ذو الحجہ کا آٹھواں دن) آیا تو سب لوگوں نے منیٰ کا رخ کیا اور حج کا احرام باندھا، رسول اللہ ﷺ بھی سوار ہوئے، اور منیٰ پہنچ کر آپ ﷺ نے وہاں ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر کی نمازیں ادا کیں۔ پھر کچھ دیر ٹھہرے یہاں تک کہ سورج نکل آیا، آپ ﷺ نے اپنے لیے بالوں سے بنا ہوا ایک خیمہ کا حکم دیا، تو وادی نمرہ میں خیمہ لگایا گیا، پھر رسول اللہ ﷺ چلے، قریش کو اس بات میں شک نہیں تھا کہ رسول اللہ ﷺ مزدلفہ میں مشعر حرام ٧ ؎ کے پاس ٹھہریں گے جیسے جاہلیت میں قریش کیا کرتے تھے، لیکن رسول اللہ ﷺ آگے بڑھ گئے یہاں تک کہ عرفات جا پہنچے ٨ ؎ تو دیکھا کہ خیمہ نمرہ میں لگا دیا گیا ہے، آپ ﷺ وہاں اترے یہاں تک کہ جب سورج ڈھل گیا تو قصواء کو لانے کا حکم فرمایا، اس پر کجاوہ باندھا گیا، آپ ﷺ اس پر سوار ہوئے یہاں تک کہ وادی کے اندر آئے، تو لوگوں کو خطاب کیا اور فرمایا: تمہاری جانیں اور تمہارے مال تم پر ایسے ہی حرام ہیں جیسے تمہارا یہ دن، تمہارے اس مہینے، اور تمہارے اس شہر میں۔ سنو! جاہلیت کے زمانے کی ہر بات میرے قدموں تلے پامال ہوگئی (یعنی لغو اور باطل ہوگئی اور اس کا اعتبار نہ رہا) جاہلیت کے سارے خون معاف ہیں اور سب سے پہلا خون جسے میں معاف کرتا ہوں وہ ابن ربیعہ یا ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب کا ہے۔ وہ بنی سعد میں دودھ پی رہا تھا۔ اسے ہذیل کے لوگوں نے قتل کردیا تھا (وہ نبی اکرم ﷺ کا چچا زاد بھائی تھا) اور جاہلیت کے تمام سود ختم ہیں سب سے پہلا سود جسے میں ختم کرتا ہوں وہ اپنا سود ہے یعنی عباس بن عبدالمطلب کا کیونکہ سود سبھی ختم ہیں خواہ وہ کسی کے بھی ہوں۔ اور عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو، اس لیے کہ تم نے انہیں اللہ کی امان کے ساتھ اپنے قبضہ میں لیا ہے، اور تم نے اللہ کے حکم سے ان کی شرمگاہوں کو حلال کیا ہے، ان پر تمہارا حق یہ ہے کہ وہ تمہارے بستر پر اس شخص کو نہ آنے دیں جسے تم ناپسند کرتے ہو، اب اگر وہ ایسا کریں تو انہیں بس اس قدر مارو کہ ہڈی نہ ٹوٹنے پائے، اور انہیں تم سے دستور کے مطابق کھانا لینے اور کپڑا لینے کا حق ہے۔ میں تمہارے درمیان ایسی چیز چھوڑے جاتا ہوں کہ اگر تم اسے مضبوطی سے پکڑے رہو گے تو اس کے بعد کبھی گمراہ نہ ہو گے، وہ اللہ کی کتاب ہے۔ (اچھا بتاؤ) تم سے قیامت کے روز میرے بارے میں سوال کیا جائے گا تو تمہارا جواب کیا ہوگا؟ لوگوں نے کہا: ہم گواہی دیں گے کہ آپ ﷺ نے اللہ کا حکم پہنچا دیا، حق ادا کردیا، اور نصیحت کی، پھر آپ ﷺ نے اپنی انگشت شہادت کو آسمان کی طرف اٹھایا، پھر لوگوں کی طرف جھکایا، اور فرمایا: اے اللہ! تو گواہ رہ، اے اللہ! تو گواہ رہ ۔ پھر بلال ؓ نے اذان دی اور اقامت کہی تو آپ ﷺ نے ظہر پڑھی اور انہوں نے پھر اقامت کہی تو آپ ﷺ نے عصر کی نماز پڑھی یہاں تک کہ میدان عرفات آئے تو اپنی اونٹنی قصواء کا پیٹ صخرات (بڑے پتھروں) کی جانب کیا، اور حبل المشاۃ کو اپنے سامنے کیا، اور قبلہ رخ ہوئے، اور شام تک ٹھہرے رہے یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا اور سورج کی ٹکیہ غائب ہونے کے بعد زردی کچھ کم ہوگئی۔ آپ ﷺ نے اسامہ ؓ کو اپنے پیچھے بٹھا لیا، پھر عرفات سے لوٹے، قصواء کی باگ آپ ﷺ نے کھینچ کر رکھی تھی یہاں تک کہ اس کا سر پالان کے سر سے چھو جایا کرتا تھا، آپ ﷺ اپنے داہنے ہاتھ کے اشارہ سے لوگوں سے کہہ رہے تھے کہ: لوگو! اطمینان سے چلو!، لوگو! اطمینان سے چلو!، جب آپ ﷺ کسی بلندی پر آتے تو باگ ڈھیلی چھوڑ دیتے تاکہ وہ چڑھ سکے یہاں تک کہ مزدلفہ پہنچے تو مغرب اور عشاء ایک اذان اور دو اق امتوں کے ساتھ ملا کر پڑھیں۔ عثمان کہتے ہیں: دونوں کے بیچ میں کوئی نفلی نماز نہیں پڑھی پھر سارے راوی متفق ہیں۔ پھر رسول اللہ ﷺ لیٹ گئے یہاں تک کہ فجر طلوع ہوگئی تو آپ ﷺ نے فجر پڑھی یہاں تک کہ صبح خوب اچھی طرح روشن ہوگئی، سلیمان کہتے ہیں (یہ نماز) آپ ﷺ نے ایک اذان اور ایک اقامت سے (پڑھی) ، پھر سارے راوی متفق ہیں)، پھر آپ ﷺ قصواء پر سوار ہوئے یہاں تک کہ مشعر حرام کے پاس آئے، اس پر چڑھے، (عثمان اور سلیمان کہتے ہیں) پھر قبلہ رخ ہوئے اور اللہ کی تحمید، تکبیر اور تہلیل کی، (عثمان نے یہ اضافہ کیا کہ) آپ ﷺ نے توحید بیان کی۔ پھر آپ ﷺ وہاں ٹھہرے رہے یہاں تک کہ خوب روشنی ہوگئی اس کے بعد سورج طلوع ہونے سے پہلے آپ ﷺ وہاں سے چل پڑے، اور فضل بن عباس ؓ کو اپنے پیچھے سوار کرلیا، وہ نہایت عمدہ بال والے گورے خوبصورت شخص تھے، جب رسول اللہ ﷺ چلے تو آپ کا گزر ایسی عورتوں پر ہوا جو ہودجوں میں بیٹھی ہوئی جا رہی تھیں، فضل ان کی طرف دیکھنے لگے، رسول اللہ ﷺ نے اپنا ہاتھ فضل کے چہرے پر رکھ دیا تو فضل نے اپنا چہرہ دوسری طرف پھیرلیا، آپ ﷺ نے بھی اپنا ہاتھ دوسری جانب موڑ دیا تو فضل نے اپنا رخ اور جانب موڑ لیا اور دیکھنے لگے، یہاں تک کہ جب وادی محسر میں آئے تو اپنی سواری کو ذرا حرکت دی (یعنی ذرا تیز چلایا) پھر درمیانی راستے ٩ ؎ سے چلے جو جمرہ عقبہ پہنچاتا ہے یہاں تک کہ جب اس جمرے کے پاس آئے جو درخت کے پاس ہے تو اسے سات کنکریاں ماریں، ہر کنکری پر تکبیر کہی، کنکری اتنی بڑی تھی کہ انگلی میں رکھ کر پھینک رہے تھے، آپ ﷺ نے وادی کے اندر سے کنکریاں ماریں پھر آپ ﷺ وہاں سے نحر کرنے کی جگہ کو آئے، اور اپنے ہاتھ سے (٦٣) اونٹنیاں نحر کیں، اور پھر علی ؓ کو حکم دیا تو باقی انہوں نے نحر کیں، آپ ﷺ نے انہیں بھی اپنے ہدی میں شریک کرلیا (یعنی اپنے ہدی کے اونٹوں میں سے کچھ اونٹ انہیں بھی نحر کرنے کے لیے دے دیئے) پھر ہر اونٹ میں سے گوشت کا ایک ایک ٹکڑا لینے کا حکم دیا، تو وہ سب ٹکڑے ایک دیگ میں رکھ کر پکائے گئے (آپ ﷺ اور علی ؓ) دونوں نے ان کا گوشت کھایا اور ان کا شوربہ پیا، (سلیمان کہتے ہیں) پھر آپ ﷺ سوار ہوئے اور بیت اللہ کی طرف چلے، آپ ﷺ نے مکہ میں ١٠ ؎ ظہر پڑھی۔ پھر بنی عبدالمطلب کے پاس آئے، وہ لوگ آب زمزم پلا رہے تھے فرمایا: اے بنی عبدالمطلب! پانی کھینچو، اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تمہارے سقایہ پر لوگ تم پر غالب آجائیں گے ١ ١ ؎ تو میں بھی تمہارے ساتھ پانی کھینچتا، ان لوگوں نے ایک ڈول آپ ﷺ کو بھی دیا، آپ ﷺ نے اس میں سے پیا۔

Jafar bin Muhammad reported on the authority of his father “We entered upon Jabir bin Abd Allaah. When we reached him, he asked about the people (who had come to visit him). When my turn came I said “I am Muhammad bin Ali bin Hussain. He patted my head with his hand and undid my upper then lower buttons. He then placed his hand between my nipples and in those days I was a young boy. ” He then said “welcome to you my nephew, ask what you like. I questioned him he was blind. The time of prayer came and he stood wrapped in a mantle. Whenever he placed it on his shoulders its ends fell due to its shortness. He led us in prayer while his mantle was placed on a rack by his side. I said “tell me about the Hajj of the Messenger of Allah ﷺ . ”He signed with his hand and folded his fingers indicating nine. He then said Messenger of Allah ﷺ remained nine years (at Madeenah) during which he did not perform Hajj, then made a public announcement in the tenth year to the effect that the Messenger of Allah ﷺ was about to (go to) perform Hajj. A large number of people came to Madeenah everyone desiring to follow him and act like him. The Messenger of Allah ﷺ went out and we too went out with him till we reached Dhu Al Hulaifah. Asma daughter of ‘Umais gave birth to Muhammad bin Abi Bakr. She sent message to Messenger of Allah ﷺ asking him What should I do?He replied “take a bath, bandage your private parts with a cloth and put on ihram. ” The Messenger of Allah ﷺ then prayed (in the masjid) and mounted Al Qaswa’ and his she Camel stood erect with him on its back. Jabir said “I saw (a large number of) people on mounts and on foot in front of him and a similar number on his right side and a similar number on his left side and a similar number behind him. The Messenger of Allah ﷺ was among us, the Quran was being revealed to him and he knew its interpretation. Whatever he did, we did it. The Messenger of Allah ﷺ then raised his voice declaring Allaah’s unity and saying “Labbaik ( I am at thy service), O Allaah, labbaik, labbaik, Thou hast no partner praise and grace are Thine and the Dominion. Thou hast no partner. The people too raised their voices in talbiyah which they used to utter. But the Messenger of Allah ﷺ did not forbid them anything. The Messenger of Allah ﷺ continued his talbiyah. Jabir said “We did not express our intention of performing anything but Hajj, being unaware of ‘Umrah (at that season), but when we came with him to the House (the Kaabah), he touched the corner (and made seven circuits) walking quickly with pride in three of them and walking ordinarily in four. Then going forward to the station of Abraham he recited “And take the station of Abraham as a place of prayer. ” (While praying two rak’ahs) he kept the station between him and the House. The narrator said My father said that Ibn Nufail and Uthman said I do not know that he (Jabir) narrated it from anyone except the Prophet ﷺ . The narrator Sulaiman said I do not know but he (Jabir) said “The Messenger of Allah ﷺ used to recite in the two rak’ahs “Say, He is Allaah, one” and “Say O infidels”. He then returned to the House (the Kaabah) and touched the corner after which he went out by the gate to Al Safa’. When he reached near Al Safa’ he recited “Al Safa’ and Al Marwah are among the indications of Allaah” and he added “We begin with what Allaah began with”. He then began with Al Safa’ and mounting it till he could see the House (the Kaabah) he declared the greatness of Allaah and proclaimed his Unity. He then said “there is no god but Allaah alone, Who alone has fulfilled His promise, helped His servant and routed the confederates. He then made supplication in the course of that saying such words three times. He then descended and walked towards Al Marwah and when his feet came down into the bottom of the valley, he ran, and when he began to ascend he walked till he reached Al Marwah. He did at al Marwah as he had done at Al Safa’ and when he came to Al Marwah for the last time, he said “If I had known before what I have come to know afterwards regarding this matter of mine, I would not have brought sacrificial animals but made it an ‘Umrah, so if any of you has no sacrificial animals, he may take off ihram and treat it as an ‘Umrah. All the people then took off ihram and clipped their hair except the Prophet ﷺ and those who had brought sacrificial animals. Suraqah (bin Malik) bin Ju’sham then got up and asked Messenger of Allah ﷺ does this apply to the present year or does it apply for ever? The Messenger of Allah ﷺ interwined his fingers and said “The Umarh has been incorporated in Hajj. Adding ‘No’, but forever and ever. Ali came from Yemen with the sacrificial animals of the Messenger of Allah ﷺ and found Fathima among one of those who had taken off their ihram. She said put on colored clothes and stained her eyes with collyrium. Ali disliked (this action of her) and asked Who commanded you for this? She said “My father”. Jabir said Ali said at Iraq I went to Messenger of Allah ﷺ to complain against Fathima for what she had done and to ask the opinion of Messenger of Allah ﷺ about which she mentioned to me. I informed him that I disliked her action and that thereupon she said to me “My father commanded me to do this. ” He said “She spoke the truth, she spoke the truth. ” What did you say when you put on ihram for Hajj? I said O Allaah, I put on ihram for the same purpose for which Messenger of Allah ﷺ has put it on. He said I have sacrificial animals with me, so do not take off ihram. He (Jabir) said “The total of those sacrificial animals brought by Ali from Yemen and of those brought by the Prophet ﷺ from Madeenah was one hundred. ” Then all the people except the Prophet ﷺ and those who had with them the sacrificial animals took off ihram and clipped their hair. When the 8th of Dhu Al Hijjah (Yaum Al Tarwiyah) came, they went towards Mina having pit on ihram for Hajj and the Messenger of Allah ﷺ rode and prayed at Mina the noon, afternoon, sunset, night and dawn prayers. After that he waited a little till the sun rose and gave orders for a tent of hair to be set up at Namrah. The Messenger of Allah ﷺ then sent out and the Quraish did not doubt that he would halt at Al Mash ‘ar Al Haram at Al Muzdalifah, as the Quraish used to do in the pre Islamic period but he passed on till he came to ‘Arafah and found that the tent had been setup at Namrah. There he dismounted and when the sun had passed the meridian he ordered Al Qaswa’ to be brought and when it was saddled for him, he went down to the bottom of the valley and addressed the people saying “Your lives and your property must be respected by one another like the sacredness of this day of yours in the month of yours in this town of yours. Lo! Everything pertaining to the pre Islamic period has been put under my feet and claims for blood vengeance belonging to the pre Islamic period have been abolished. The first of those murdered among us whose blood vengeance I permit is the blood vengeance of ours (according to the version of the narrator Uthman, the blood vengeance of the son of Rabiah and according to the version of the narrator Sulaiman the blood vengeance of the son of Rabiah bin Al Harith bin Abd Al Muttalib). Some (scholars) said “he was suckled among Banu Saad (i. e., he was brought up among Bani Saad) and then killed by Hudhail. The usury of the pre Islamic period is abolished and the first of usury I abolish is our usury, the usury of Abbas bin Abd Al Muttalib for it is all abolished. Fear Allaah regarding women for you have got them under Allah’s security and have the right to intercourse with them by Allaah’s word. It is a duty from you on them not to allow anyone whom you dislike to lie on your beds but if they do beat them, but not severely. You are responsible for providing them with food and clothing in a fitting manner. I have left among you something by which if you hold to it you will never again go astray, that is Allaah’s Book. You will be asked about me, so what will you say? They replied “We testify that you have conveyed and fulfilled the message and given counsel. Then raising his forefinger towards the sky and pointing it at the people, he said “O Allaah! Be witness, O Allaah! Be witness, O Allaah! Be witness! Bilal then uttered the call to prayer and the iqamah and he prayed the noon prayer, he then uttered the iqamah and he prayed the afternoon prayer, engaging in no prayer between the two. He then mounted (his she Camel) al Qaswa’ and came to the place of standing, making his she Camel Al Qaswa‘ turn its back to the rocks and having the path taken by those who went on foot in front of him and he faced the qiblah. He remained standing till sunset when the yellow light had somewhat gone and the disc of the sun had disappeared. He took Usamah up behind him and picked the reins of Al Qaswa’ severely so much so that its head was touching the front part of the saddle. Pointing with is right hand he was saying “Calmness, O People! Calmness, O people. Whenever he came over a mound (of sand) he let loose its reins a little so that it could ascend. He then came to Al Muzdalifah where he combined the sunset and night prayers, with one adhan and two iqamahs. The narrator ‘Uthamn said He did not offer supererogatory prayers between them. The narrators are then agreed upon the version He then lay down till dawn and prayed the dawn prayer when the morning light was clear. The narrator Sulaiman said with one adhan and one iqamah. The narrators are then agreed upon the version He then mounted Al Qaswa’ and came to Al Mash’ar Al Haram and ascended it. The narrators ‘Uthaman and Sulaiman said He faced the qiblah praised Allaah, declared His greatness, His uniqueness. ‘Uthamn added in his version and His Unity and kept standing till the day was very clear. The Messenger of Allah ﷺ then went quickly before the sun rose, taking Al Fadl bin Abbas behind him. He was a man having beautiful hair, white and handsome color. When the Messenger of Allah ﷺ went quickly, the women in the howdas also began to pass him quickly. Al Fadl began to look at them. The Messenger of Allah ﷺ placed his hand on the face of Al Fadl, but Al fadl turned his face towards the other side. The Messenger of Allah ﷺ also turned away his hand to the other side. Al Fadl also turned his face to the other side looking at them till he came to (the Valley of) Muhassir. He urged the Camel a little and following a middle road which comes out at the greatest jamrah, he came to the jamrah which is beside the tree and he threw seven small pebbles at this (jamrah) saying “Allah is most great” each time he threw a pebble like bean seeds. He threw them from the bottom of the valley. The Messenger of Allah ﷺ then went to the place of the sacrifice and sacrificed sixty three Camels with his own hand. He then commanded Ali who sacrificed the remainder and he shared him and his sacrificial animals. After that he ordered that a piece of flesh from each Camel should be put in a pot and when it was cooked the two of them ate some of it and drank some of its broth. The narrator Sulaiman said the he mounted afterwards the Messenger of Allah ﷺ went quickly to the House (the Kaabah) and prayed the noon prayer at Makkah. He came to Banu Abd Al Muttalib who were supplying water at Zamzam and said draw water Banu Abd Al Muttalib were it not that people would take from you the right to draw water, I would draw it along with you. So they handed him a bucket and he drank from it.

Notes · وضاحت
١ ؎: بعض لوگوں نے یہ تعداد (٩٠) ہزار لکھی ہے، اور بعض نے ایک لاکھ تیس ہزار کہا ہے۔ ٢ ؎: زمانہ جاہلیت میں تلبیہ میں لبيك اللهم لبيك لا شريك لك “ کے بعد ”إلا شريكًا هو لک تملکه بڑھا کر کہا جاتا تھا۔ ٣ ؎: یعنی عمرہ کا بالکل قصد نہیں تھا، یا عمرہ کو حج کے مہینوں میں جائز ہی نہیں سمجھتے تھے۔ ٤ ؎: اور مقام ابراہیم کو مصلیٰ بنالو (سورۃ البقرۃ: ١٢٥)۔ ٥ ؎: پہلی رکعت میں قل يا أيها الکافرون پڑھی اور دوسری میں قل هو الله أحد۔ ٦ ؎: حرم مکی کی تعمیر جدید میں دو سبز نشان سے اس وادی کی حد مقرر کردی گئی ہے، جن کو میلین اخضرین کہا جاتا ہے۔ ٧ ؎: ” مشعر حرام “: مزدلفہ میں ایک مشہور پہاڑی کا نام ہے اسے قزح بھی کہا جاتا ہے۔ ٨ ؎: زمانہ جاہلیت میں قریش مزدلفہ میں ٹھہر جاتے تھے، عرفات نہیں جاتے تھے، اور باقی لوگ عرفات جاتے تھے، ان کا خیال تھا کہ نبی اکرم ﷺ بھی قریش کی اتباع کریں گے، لیکن آپ ﷺ وہاں نہیں ٹھہرے اور عرفات چل دیئے۔ ٩ ؎: اس کو طریق مازمین (دو پہاڑوں کا نام ہے) کہتے ہیں، عرفات سے اسی راستہ سے واپس ہونا سنت ہے، یہ اس راستہ کے علاوہ ہے جس سے رسول اکرم ﷺ عرفات گئے تھے، راستہ کی یہ تبدیلی نیک فال کے طور پر بھی ہے۔ ١٠ ؎: یہی راجح قول ہے اس کے برخلاف ایک روایت آتی ہے جس میں ظہر منیٰ میں پڑھنے کا ذکر ہے، علماء نے دونوں میں تطبیق اس طرح دی ہے کہ آپ ﷺ نے زوال سے پہلے طواف افاضہ کیا پھر مکہ میں اول وقت پر ظہر پڑھی پھر منیٰ واپس آئے تو وہاں بھی صحابہ کرام ؓ کے ساتھ ظہر پڑھی، اور بعد والی نماز آپ ﷺ کی نفل ہوگئی۔ ١ ١ ؎: آپ ﷺ کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ اگر میں بھی پانی نکالنے میں لگ جاؤں تو لوگ اس کو بھی حج کی ایک ذمہ داری سمجھ لیں گے، اور اس کے لئے بھیڑ لگائیں گے، پھر تم ڈر کی وجہ سے اس خدمت سے علاحدہ ہوجاؤ گے کیونکہ تم لوگوں سے نہیں لڑ سکو گے، اور وہ تم پر غالب آجائیں گے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ١٩ (١٢١٨)، سنن النسائی/الحج ٤٦ (٢٧١٣)، ٥١ (٢٧٤١)، ٥٢ (٢٧٤٤)، ٧٣ (٢٨٠٠)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٨٤ (٣٠٧٤)، ( تحفة الأشراف: ٢٥٩٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٢٠، ٣٣١، ٣٣٣، ٣٤٠، ٣٧٣، ٣٨٨، ٣٩٤، ٣٩٧)، سنن الدارمی/المناسک ١١(١٨٤٦) (صحیح )