Sunan Abu Dawood

All 5,295 hadiths in order · Page 94 of 265

1866Sunan Abu Dawood

مکہ میں داخلہ کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْبَرْمَكِيُّ، حَدَّثَنَا مَعِنٌ، عَنْ مَالِكٍ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَابْنُ حَنْبَلٍ، عَنْ يَحْيَى. ح وحَدَّثَنَاعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ جَمِيعًا، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يَدْخُلُ مَكَّةَ مِنْ الثَّنِيَّةِ الْعُلْيَا، قَالَا: عَنْ يَحْيَى، إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يَدْخُلُ مَكَّةَ مِنْ كَدَاءَ مِنْ ثَنِيَّةِ الْبَطْحَاءِ وَيَخْرُجُ مِنْ الثَّنِيَّةِ السُّفْلَى، زَادَ الْبَرْمَكِيُّ: يَعْنِي ثَنِيَّتَيْ مَكَّةَ، وَحَدِيثُ مُسَدَّدٍ أَتَمُّ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ مکہ میں ثنیہ علیا (بلند گھاٹی) سے داخل ہوتے، (یحییٰ کی روایت میں اس طرح ہے کہ نبی اکرم ﷺ مکہ میں ثنیہ بطحاء کی جانب سے مقام کداء سے داخل ہوتے) اور ثنیہ سفلی (نشیبی گھاٹی) سے نکلتے۔ برمکی کی روایت میں اتنا زائد ہے یہ مکہ کی دو گھاٹیاں ہیں اور مسدد کی حدیث زیادہ کامل ہے۔

Ibn Umar said The Prophet ﷺ used to enter Makkah from the upper hillock. The version of Yahya goes: The Prophet ﷺ used to enter Makkah from Kuda’ from the hillock of Batha’. He would come out from the lower hillock. Al Barmaki added “that is the two hillocks of Makkah”. The version of Musaddad is more complete.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ٤٠ (١٥٧٦)، ٤١ (١٥٧٧)، صحیح مسلم/الحج ٣٧ (١٢٥٧)، سنن النسائی/الحج ١٠٥ (٢٨٦٦)، ( تحفة الأشراف: ٧٨٦٩، ٨١٤٠، ٨٣٨٠)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج ٣٠ (٨٥٣)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٢٦ (٢٩٤٠)، مسند احمد (٢/١٤، ١٩)، سنن الدارمی/المناسک ٨١ (١٩٦٩) (صحیح )
1867Sunan Abu Dawood

مکہ میں داخلہ کا بیان

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يَخْرُجُ مِنْ طَرِيقِ الشَّجَرَةِ وَيَدْخُلُ مِنْ طَرِيقِ الْمُعَرَّسِ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ شجرہ (جو ذی الحلیفہ میں تھا) کے راستے سے (مدینہ سے) نکلتے تھے اور معرس (مدینہ سے چھ میل پر ایک موضع ہے) کے راستہ سے (مدینہ میں) داخل ہوتے تھے ١ ؎۔

Ibn Umar said The Messenger of Allah ﷺ used to come out from (Madina) by the way of Al Shajarah and enter (Makkah) by the way of Al Mu’arras.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث کی باب سے مناسبت یہ ہے کہ جب مکہ میں داخل ہونے اور اس سے نکلنے کی بات آئی تو مدینہ سے نکلنے اور داخل ہونے کی بابت بھی ایک حدیث باب میں ذکر کردیا، اور اس سے یہ بھی مستنبط کرنا ہے کہ مدینہ ہی نہیں کسی بھی بستی میں داخل ہونے یا اس سے نکلنے کے راستے میں فرق کرنا چاہیے، جیسا کہ اس حدیث پر امام نووی نے صحیح مسلم میں باب باندھا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٧٨٧٠)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحج ٣٧ (١٢٥٧)، مسند احمد (٢/٢٩-٣٠) (صحیح )
1868Sunan Abu Dawood

مکہ میں داخلہ کا بیان

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ مِنْ كَدَاءَ مِنْ أَعْلَى مَكَّةَ وَدَخَلَ فِي الْعُمْرَةِ مِنْ كُدًى، قَالَ: وَكَانَ عُرْوَةُ يَدْخُلُ مِنْهُمَا جَمِيعًا، وَكَانَ أَكْثَرُ مَا كَانَ يَدْخُلُ مِنْ كُدًى، وَكَانَ أَقْرَبَهُمَا إِلَى مَنْزِلِهِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فتح مکہ کے سال مکہ کے بلند مقام کداء ١ ؎ کی جانب سے داخل ہوئے اور عمرہ کے وقت کدی ٢ ؎ کی جانب سے داخل ہوئے اور عروہ دونوں ہی جانب سے داخل ہوتے تھے، البتہ اکثر کدی کی جانب سے داخل ہوتے اس لیے کہ یہ ان کے گھر سے قریب تھا ۔

Aishah said The Messenger of Allah ﷺ entered Makkah from the side of Kuda’ the upper end of Makkah in the year of conquest (of Makkah) and he entered from the side of Kida’ when he performed ‘Umrah. Urwah used to enter (Makkah) from both sides, but he often entered from the side of Kuda’ as it was nearer to his house.

Notes · وضاحت
١ ؎: ” کداء “: مکہ مکرمہ کا وہ جانب جو مقبرۃ المعلی کی طرف ہے اور بلند ہے۔ ٢ ؎: ” كدى“: وہ جانب ہے جو باب العمرہ کی طرف نشیب میں ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ٤١ (١٥٧٨)، والمغازي ٤٩ (٤٢٩٠)، صحیح مسلم/الحج ٣٧ (١٢٥٧)، ( تحفة الأشراف: ١٦٧٩٧)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج ٣٠ (٨٥٣)، مسند احمد (٦/٥٨، ٢٠١) (صحیح )
1869Sunan Abu Dawood

مکہ میں داخلہ کا بیان

حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ إِذَا دَخَلَ مَكَّةَ دَخَلَ مِنْ أَعْلَاهَا وَخَرَجَ مِنْ أَسْفَلِهَا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب مکہ میں داخل ہوتے تو اس کی بلندی کی طرف سے داخل ہوتے اور اس کے نشیب سے نکلتے۔

Aishah said When the Prophet ﷺ entered Makkah he entered from the side of the upper end and he came out from the side of the lower end.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ٤١ (١٥٧٧)، صحیح مسلم/الحج ٣٧ (١٢٥٨)، ن الکبری/ الحج ٢٩ (٤٢٤١)، سنن الترمذی/الحج ٣٠ (٨٥٣)، (تحفة الأشراف: ١٦٩٢٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٠) (صحیح )
1870Sunan Abu Dawood

خانہ کعبہ کو دیکھ کر دعاء کے لئے ہاتھ اٹھانا

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُعِينٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرٍ حَدَّثَهُمْ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا قَزْعَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ الْمُهَاجِرِ الْمَكِّيِّ، قَالَ: سُئِلَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ الرَّجُلِ يَرَى الْبَيْتَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ، فَقَالَ: مَا كُنْتُ أَرَى أَحَدًا يَفْعَلُ هَذَا إِلَّا الْيَهُودَ، وَقَدْ حَجَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَكُنْ يَفْعَلُهُ.

مہاجر مکی کہتے ہیں کہ جابر بن عبداللہ ؓ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا کہ جو بیت اللہ کو دیکھ کر ہاتھ اٹھاتا ہو تو انہوں نے کہا: میں سوائے یہود کے کسی کو ایسا کرتے نہیں دیکھتا تھا، اور ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کیا، لیکن آپ ایسا نہیں کرتے تھے ١ ؎۔

Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : was asked about a man who looks at the House (the Kabah) and raises his hands (for prayer). He replied: I did not find anyone doing this except the Jews. We performed hajj along with the Messenger of Allah ﷺ , but he did not do so.

Notes · وضاحت
١ ؎: صحیح احادیث اور آثار سے بیت اللہ پر نظر پڑتے وقت ہاتھ اٹھانا ثابت ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحج ٣٢ (٨٥٥)، سنن النسائی/الحج ١٢٢ (٢٨٩٨)، سنن الدارمی/المناسک ٧٥ (١٩٦١)، ( تحفة الأشراف: ٣١١٦) (ضعیف) (اس کے راوی مہاجر بن عکرمہ لین الحدیث ہیں )
1871Sunan Abu Dawood

خانہ کعبہ کو دیکھ کر دعاء کے لئے ہاتھ اٹھانا

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ مِسْكِينٍ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَلَمَّا دَخَلَ مَكَّةَ طَافَ بِالْبَيْتِ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَلْفَ الْمَقَامِ، يَعْنِي يَوْمَ الْفَتْحِ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب مکہ میں داخل ہوئے تو بیت اللہ کا طواف کیا اور مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعتیں پڑھیں (یعنی فتح مکہ کے روز) ۔

Abu Hurairah said When the Prophet ﷺ entered Makkah he circumambulated the House (the Kaabah) and offered two rak’ahs of prayer behind the station. That is, he did so on the day of the Conquest (of Makkah).

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ١٣٥٦٢)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الجہاد ٣١ (١٧٨٠)، مسند احمد (٢/٥٣٨) (صحیح )
1872Sunan Abu Dawood

خانہ کعبہ کو دیکھ کر دعاء کے لئے ہاتھ اٹھانا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، وَهَاشِمٌ يَعْنِيَ ابْنَ الْقَاسِمِ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ مَكَّةَ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْحَجَرِ فَاسْتَلَمَهُ، ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ، ثُمَّ أَتَى الصَّفَا فَعَلَاهُ حَيْثُ يَنْظُرُ إِلَى الْبَيْتِ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ فَجَعَلَ يَذْكُرُ اللَّهَ مَا شَاءَ أَنْ يَذْكُرَهُ وَيَدْعُوهُ، قَالَ: وَ الْأَنْصَارُ تَحْتَهُ، قَالَ هَاشِمٌ: فَدَعَا وَحَمِدَ اللَّهَ وَدَعَا بِمَا شَاءَ أَنْ يَدْعُوَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ آئے اور مکہ میں داخل ہوئے تو پہلے رسول اللہ ﷺ حجر اسود کے پاس آئے اور اس کا بوسہ لیا، پھر بیت اللہ کا طواف کیا، پھر صفا کی طرف آئے اور اس پر چڑھے جہاں سے بیت اللہ کو دیکھ رہے تھے، پھر اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے لگے اور اس کا ذکر کرتے رہے اور اس سے دعا کرتے رہے جتنی دیر تک اللہ نے چاہا، راوی کہتے ہیں: اور انصار آپ کے نیچے تھے، ہاشم کہتے ہیں: پھر آپ ﷺ نے دعا کی اور اللہ کی حمد بیان کی اور جو دعا کرنا چاہتے تھے کی۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ came an entered Makkah, and after the Messenger of Allah ﷺ had gone forward to the Stone, and touched it, he went round the House (the Kabah). He then went to as-Safa and mounted it so that he could look at the House. Then he raised his hands began to make mention of Allah as much as he wished and make supplication. The narrator said: The Ansar were beneath him. The narrator Hashim said: He prayed and praised Allah and asked Him for what he wished to ask.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم (١٨٧١)، ( تحفة الأشراف: ١٣٥٦٢) (صحیح) (حدیث میں واقع جملہ والأنصار تحته پر کلام ہے )
1873Sunan Abu Dawood

حجر اسود کو بوسہ دینے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عُمَرَ، أَنَّهُ جَاءَ إِلَى الْحَجَرِ فَقَبَّلَهُ، فَقَالَ: إِنِّي أَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ لَا تَنْفَعُ وَلَا تَضُرُّ، وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ مَا قَبَّلْتُكَ.

عمر ؓ سے روایت ہے کہ وہ حجر اسود کے پاس آئے اور اسے چوما، اور کہا: میں جانتا ہوں تو ایک پتھر ہے نہ نفع پہنچا سکتا ہے نہ نقصان اور اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو تجھے چومتے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے نہ چومتا ١ ؎۔

Abis bin Rabiah said on the authority of Umar He (Umar) came to the (Black) Stone and said “ I know for sure that you are a stone which can neither benefit nor injure and had I not seen the Messenger of Allah ﷺ kissing you, I would not have kissed you. ”

Notes · وضاحت
١ ؎: حجر اسود کے سلسلے میں طواف کرنے والے شخص کو اختیار ہے کہ تین باتوں چومنا، چھونا ہاتھ یا چھڑی سے، ( اشارہ کرنا) میں سے جو ممکن ہو کرلے ہر ایک کافی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ٥٠ (١٥٩٧)، ٥٧ (١٦٠٥)، ٦٠ (١٦١٠)، صحیح مسلم/الحج ٤١ (١٢٧٠)، سنن الترمذی/الحج ٣٧ (٨٦٠)، سنن النسائی/الحج ١٤٧ (٢٩٤٠)، ( تحفة الأشراف: ١٠٤٧٣)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/المناسک ٢٧ (٢٩٤٣)، موطا امام مالک/الحج ٣٦ (١١٥)، مسند احمد (١/٢١، ٢٦، ٣٤، ٣٥، ٣٩، ٤٦، ٥١، ٥٣، ٥٤)، سنن الدارمی/المناسک ٤٢ ( ١٩٠٦) (صحیح )
1874Sunan Abu Dawood

ارکان کو مس کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ مِنْ الْبَيْتِ إِلَّا الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَّيْنِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو بیت اللہ کے کسی رکن کو چھوتے نہیں دیکھا سوائے حجر اسود اور رکن یمانی کے ١ ؎۔

Ibn Umar said I have not seen the Messenger of Allah ﷺ touching anything in the House (the Kaabah) but the two Yamani corners.

Notes · وضاحت
١ ؎: رسول اللہ ﷺ کے عمل سے رکن یمانی کے سلسلے میں یہ ثابت ہے کہ آپ ﷺ اسے اپنے ہاتھ سے چھوتے تھے، اس کا چومنا یا اس کی طرف چھڑی یا ہاتھ سے اشارہ کرنا ثابت نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ٥٧ (١٦٠٦)، ٥٩ (١٦١١)، صحیح مسلم/الحج ٤٠ (١٢٦٨)، سنن النسائی/الحج ١٥٧ (٢٩٥٢)، (تحفة الأشراف: ٦٩٠٦، ٦٩٨٨)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/المناسک ٢٧ (٢٩٤٦)، مسند احمد (٢/٨٦، ٨٩، ١١٤، ١١٥، ١٢٠) (صحیح )
1875Sunan Abu Dawood

ارکان کو مس کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ أُخْبِرَ بِقَوْلِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، إِنَّ الْحِجْرَ بَعْضُهُ مِنْ الْبَيْتِ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأَظُنُّ عَائِشَةَ إِنْ كَانَتْ سَمِعَتْ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنِّي لَأَظُنُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَتْرُكِ اسْتِلَامَهُمَا إِلَّا أَنَّهُمَا لَيْسَا عَلَى قَوَاعِدِ الْبَيْتِ، وَلَا طَافَ النَّاسُ وَرَاءَ الْحِجْرِ إِلَّا لِذَلِكَ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ انہیں ام المؤمنین عائشہ ؓ کا یہ قول معلوم ہوا کہ حطیم کا ایک حصہ بیت اللہ میں شامل ہے، تو ابن عمر ؓ نے کہا: اللہ کی قسم! میرا گمان ہے کہ ام المؤمنین عائشہ ؓ نے اسے ضرور رسول اللہ ﷺ سے سنا ہوگا، میں سمجھتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان (رکن عراقی اور رکن شامی) کا استلام بھی اسی لیے چھوڑا ہوگا کہ یہ بیت اللہ کی اصلی بنیادوں پر نہ تھے اور اسی وجہ سے لوگ حطیم ١ ؎ کے پیچھے سے طواف کرتے تھے۔

Ibn Umar was informed about the statement of Aisha (RA) that a part of al-Hijr is included in the magnitude of the Kabah. Ibn Umar said: By Allah, I think that she must have heard it from the Messenger of Allah ﷺ . I think that the Messenger of Allah ﷺ had not given up touching both of them but for the reason that they were not on the foundation of the House (the Kabah), nor did the people circumambulate (the House) beyond al-Hijr for this reason.

Notes · وضاحت
١ ؎: چونکہ حطیم (کعبے کا ایک طرف چھوٹا ہوا حصہ ہے جو گول دائرے میں دیوار سے گھیر دیا گیا ہے) بھی بیت اللہ کا ایک حصہ ہے، اس لئے طواف اس کے باہر سے کرنا چاہیے، اگر کوئی طواف میں حطیم کو چھوڑ دے تو طواف درست نہ ہوگا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٦٩٥٨)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج ٥٩ (١٦٠٨)، صحیح مسلم/الحج ٤٠ (١٣٣٥)، سنن النسائی/الحج ١٥٦ (٢٩٥١)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٢٧ (٢٩٤٦)، مسند احمد (٢/٨٦، ١١٤، ١١٥)، سنن الدارمی/المناسک ٢٥ (١٨٨٠) (صحیح )
1876Sunan Abu Dawood

ارکان کو مس کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَدَعُ أَنْ يَسْتَلِمَ الرُّكْنَ الْيَمَانِيَ وَالْحَجَرَ فِي كُلِّ طَوْفَةٍ، قَالَ: وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَفْعَلُهُ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رکن یمانی اور حجر اسود کا استلام کسی بھی چکر میں ترک نہیں کرتے تھے، راوی کہتے ہیں اور عبداللہ بن عمر بھی ایسا ہی کرتے تھے۔

Ibn Umar said The Messenger of Allah ﷺ did not give up touching the Yamani corner and the (Black) Stone in each of his circumambulations. Ibn Umar used to do so.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/ الحج ١٥٦ (٢٩٥٠)، ( تحفة الأشراف: ٧٧٦١) (حسن )
1877Sunan Abu Dawood

طواف واجب کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَطَافَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ عَلَى بَعِيرٍ يَسْتَلِمُ الرُّكْنَ بِمِحْجَنٍ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر اونٹ پر سوار ہو کر طواف کیا، آپ چھڑی سے حجر اسود کا استلام کر رہے تھے۔

Ibn Abbas said The Messenger of Allah ﷺ performed the circumambulation at the Farewell Pilgrimage on a Camel and touched the corner (Black Stone) with a crooked stick.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ٥٨ (١٦٠٧)، ٦١ (١٦١٢)، ٦٢ (١٦١٣)، ٧٤ (١٦٣٢)، الطلاق ٢٤ (٥٢٩٣)، صحیح مسلم/الحج ٤٢ (١٢٧٢)، سنن النسائی/المساجد ٢١ (٧١٤)، الحج ١٥٩ (٢٩٥٧)، ١٦٠ (٢٩٥٨)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٢٨ (٢٩٤٨)، (تحفة الأشراف: ٥٨٣٧)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج ٤٠ (٨٦٥)، مسند احمد (/٢١٤، ٢٣٧، ٢٤٨، ٣٠٤)، سنن الدارمی/المناسک ٣٠ (١٨٨٧) (صحیح )
1878Sunan Abu Dawood

طواف واجب کا بیان

حَدَّثَنَا مُصَرِّفُ بْنُ عَمْرٍو الْيَامِيُّ، حَدَّثَنَا يُونُسُ يَعْنِي ابْنَ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، قَالَتْ: لَمَّا اطْمَأَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ طَافَ عَلَى بَعِيرٍ يَسْتَلِمُ الرُّكْنَ بِمِحْجَنٍ فِي يَدِهِ، قَالَتْ: وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَيْهِ.

صفیہ بنت شیبہ ؓ کہتی ہیں کہ فتح مکہ کے سال رسول اللہ ﷺ کو جب مکہ میں اطمینان ہوا تو آپ نے اونٹ پر سوار ہو کر طواف کیا، آپ ﷺ اپنے ہاتھ کی چھڑی سے حجر اسود کا استلام کر رہے تھے، اور میں آپ کو دیکھ رہی تھی۔

Narrated Safiyyah, daughter of Shaybah (RA) : When the Messenger of Allah ﷺ had some rest at Makkah in the year of its Conquest, he performed circumambulation on a camel and touched the corner (black Stone) with a crooked stick in his hand. She said: I was looking at him.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المناسک ٢٨ (٢٩٤٧)، ( تحفة الأشراف: ١٥٩٠٩) (حسن) سند میں محمد بن اسحاق مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن شواہد کی وجہ سے حسن ہے ملاحظہ ہو صحیح أبی داود (١٦٤١ )
1879Sunan Abu Dawood

طواف واجب کا بیان

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ مَعْرُوفٍ يَعْنِي ابْنَ خَرَّبُوذَ الْمَكِّيَّ، حَدَّثَنَا أَبُو الطُّفَيْلِ، قَال: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عَلَى رَاحِلَتِهِ يَسْتَلِمُ الرُّكْنَ بِمِحْجَنِهِ ثُمَّ يُقَبِّلُهُ، زَادَ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ: ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّفَا وَ الْمَرْوَةِ فَطَافَ سَبْعًا عَلَى رَاحِلَتِهِ.

ابوطفیل ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو اپنی سواری پر بیٹھ کر بیت اللہ کا طواف کرتے دیکھا، آپ حجر اسود کا استلام اپنی چھڑی سے کرتے پھر اسے چوم لیتے، (محمد بن رافع کی روایت میں اتنا زیادہ ہے) پھر آپ ﷺ صفا ومروہ کی طرف نکلے اور اپنی سواری پر بیٹھ کر سعی کے سات چکر لگائے۔

Abu Al Tufail reported on the authority of Ibn Abbas who said I saw the Prophet ﷺ circumambulating the Kaabah on his Camel, touching the corner (Black Stone) with a crooked stick and kissing it (the crooked stick). The narrator Muhammad bin Rafi added “he then went o Al Safa and Al Marwah and ran seven times on his Camel.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٣٩ (١٢٧٥)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٢٨(٢٩٤٩)، ( تحفة الأشراف: ٥٠٥١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٤٥٤) (صحیح )
1880Sunan Abu Dawood

طواف واجب کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: طَافَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ عَلَى رَاحِلَتِهِ بِالْبَيْتِ وَ بِالصَّفَا وَ الْمَرْوَةِ لِيَرَاهُ النَّاسُ وَلِيُشْرِفَ وَلِيَسْأَلُوهُ فَإِنَّ النَّاسَ غَشُوهُ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے حجۃ الوداع میں اپنی سواری پر بیٹھ ہو کر بیت اللہ کا طواف کیا، اور صفا ومروہ کی سعی کی، تاکہ آپ ﷺ بلندی پر ہوں، اور لوگ آپ کو دیکھ سکیں، اور آپ سے پوچھ سکیں، کیونکہ لوگوں نے آپ کو گھیر رکھا تھا۔

Jabir bin Abdullah said The Prophet ﷺ performed the circumambulation of the House (the Kaabah) on his Camel at the Farewell Pilgrimage and ran between Al Safa’ and Al Marwah, so that the people could see him, remain well informed about him and ask him questions (about Hajj) for the people surrounded him.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٤٢ (١٢٧٣)، سنن النسائی/الحج ١٧٣ (٢٩٧٨)، ( تحفة الأشراف: ٢٨٠٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣١٧، ٣٣٤) (صحیح )
1881Sunan Abu Dawood

طواف واجب کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ مَكَّةَ وَهُوَ يَشْتَكِي فَطَافَ عَلَى رَاحِلَتِهِ، كُلَّمَا أَتَى عَلَى الرُّكْنِ اسْتَلَمَ الرُّكْنَ بِمِحْجَنٍ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ طَوَافِهِ أَنَاخَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مکہ آئے آپ کو کچھ تکلیف تھی چناچہ آپ نے اپنی سواری پر بیٹھ کر طواف کیا ١ ؎، جب آپ ﷺ حجر اسود کے پاس آتے تو چھڑی سے اس کا استلام کرتے، جب آپ طواف سے فارغ ہوگئے تو اونٹ کو بٹھا دیا اور (طواف کی) دو رکعتیں پڑھیں۔

Ibn Abbas said When the Messenger of Allah ﷺ came to Makkah he was ill. So, he performed the circumambulation on his Camel. He touched the corner (Black Stone) with a crooked stick as often as he came to it. When he finished the circumambulation, he made his Camel kneel down and offered two rak’ahs of prayer.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث کی بخاری نے (حج ٧٤ میں) خالدالحذاء کے طریق سے روایت کی ہے مگر اس میں وهو يشتكي (تکلیف تھی) کا لفظ نہیں ہے، خالد ثقہ ہیں جب کہ یزید ضعیف ہیں، اسی لئے امام بخاری نے ان کی روایت نہیں لی ہے، مگر تبویب سے اشارہ اسی طرف کیا ہے، بہرحال سواری پر طواف کے متعدد اسباب ہوسکتے ہیں بلاسبب افضل نہیں ہے، خصوصا مسجد اور مطاف بن جانے کے بعد اب یہ ممکن نہیں رہا، نیز دیکھئے حاشیہ حدیث نمبر (١٨٨٢)۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٦٢٤٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢١٤، ٣٠٤) (ضعیف) (اس کے راوی یزید بن أبی زیاد ضعیف ہیں )
1882Sunan Abu Dawood

طواف واجب کا بیان

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَشْتَكِي، فَقَالَ: طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ، قَالَتْ: فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَئِذٍ يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ وَهُوَ يَقْرَأُ بِ: الطُّورِ وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ.

ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے شکایت کی کہ میں بیمار ہوں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم سوار ہو کر لوگوں کے پیچھے طواف کرلو ١ ؎، تو میں نے طواف کیا اور آپ خانہ کعبہ کے پہلو میں اس وقت نماز پڑھ رہے تھے، اور الطور * وکتاب مسطور کی تلاوت فرما رہے تھے۔

Umm Salamah said I complained to the Messenger of Allah ﷺ that I was ill. He said “Perform the circumambulation riding behind the people”. She said “I performed circumambulation and the Messenger of Allah ﷺ was praying towards the side of the House (the Kaabah) and reciting “by al Tur and a Book inscribed”. ”

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بیماری اور کمزوری کی حالت میں سوار ہو کر طواف کرنا درست ہے، اور آج کل سواری پر طواف چوں کہ ناممکن ہے اس لئے اس کی جگہ پر مخصوص لوگ حجاج کو چارپائی پر بٹھا کر طواف کراتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٧٨ (٤٦٤)، الحج ٦٤ (١٦١٩)، ٧١ (١٦٢٦)، ٧٤ (١٦٣٣)، تفسیر سورة الطور ١ (٤٨٥٣)، صحیح مسلم/الحج ٤٢ (١٢٧٦)، سنن النسائی/الحج ١٣٨ (٢٩٢٨)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٣٤ (٢٩٦١)، (تحفة الأشراف: ١٨٢٦٢)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج ٤٠ (١٢٣)، مسند احمد (٦/٢٩٠، ٣١٩) (صحیح )
1883Sunan Abu Dawood

طواف میں اضطباع کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ ابْنِ يَعْلَى، عَنْ يَعْلَى، قَالَ: طَافَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُضْطَبِعًا بِبُرْدٍ أَخْضَرَ.

یعلیٰ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ہری چادر میں اضطباع کر کے طواف کیا ١ ؎۔

Narrated Yala (RA) : The Messenger of Allah ﷺ went round the House (the Kabah) wearing a green Yamani mantle under his right armpit with the end over his left shoulder.

Notes · وضاحت
١ ؎: اضطباع کی شکل یہ ہے کہ محرم چادر کو دائیں بغل کے نیچے سے گزار کر بائیں کندھے پر ڈال دے اور دایاں کندھا ننگا رکھے، اور یہ صرف پہلے طواف میں ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحج ٣٦ (٨٥٩)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٣٠ (٢٩٥٤)، ( تحفة الأشراف: ١١٨٣٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٢٢، ٢٢٣، ٢٢٤)، سنن الدارمی/المناسک ٢٨ (١٨٨٥) (حسن )
1884Sunan Abu Dawood

رمل کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ مُوسَى، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ اعْتَمَرُوا مِنْ الْجِعْرَانَةِ فَرَمَلُوا بِالْبَيْتِ وَجَعَلُوا أَرْدِيَتَهُمْ تَحْتَ آبَاطِهِمْ قَدْ قَذَفُوهَا عَلَى عَوَاتِقِهِمُ الْيُسْرَى.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ نے جعرانہ سے عمرہ کا احرام باندھا تو بیت اللہ کے طواف میں رمل ١ ؎ کیا اور اپنی چادروں کو اپنی بغلوں کے نیچے سے نکال کر اپنے بائیں کندھوں پر ڈالا۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ and his Companions performed Umrah from al-Jiranah. They went quickly round the House (the Kabah) moving their shoulders) proudly. They put their upper garments under their armpits and threw the ends over their left shoulders.

Notes · وضاحت
١ ؎: اکڑ کر مونڈھے ہلاتے ہوئے چلنا جیسے سپاہی جنگ کے لئے چلتا ہے، اور یہ صرف پہلے تین چکروں میں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٥٥٣٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٩٥، ٣٠٦، ٣٧١) (صحیح )
1885Sunan Abu Dawood

رمل کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الْغَنَوِيُّ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: يَزْعُمُ قَوْمُكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَمَلَ بِالْبَيْتِ وَأَنَّ ذَلِكَ سُنَّةٌ، قَالَ: صَدَقُوا وَكَذَبُوا، قُلْتُ: وَمَا صَدَقُوا وَمَا كَذَبُوا ؟ قَالَ: صَدَقُوا، قَدْ رَمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَذَبُوا: لَيْسَ بِسُنَّةٍ، إِنَّ قُرَيْشًا قَالَتْ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ: دَعُوا مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ حَتَّى يَمُوتُوا مَوْتَ النَّغَفِ، فَلَمَّا صَالَحُوهُ عَلَى أَنْ يَجِيئُوا مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فَيُقِيمُوا بِمَكَّةَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُشْرِكُونَ مِنْ قِبَلِ قُعَيْقِعَانَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ: ارْمُلُوا بِالْبَيْتِ ثَلَاثًا وَلَيْسَ بِسُنَّةٍ، قُلْتُ: يَزْعُمُ قَوْمُكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةِ عَلَى بَعِيرِهِ وَأَنَّ ذَلِكَ سُنَّةٌ، فَقَالَ: صَدَقُوا وَكَذَبُوا، قُلْتُ: مَا صَدَقُوا وَمَا كَذَبُوا ؟ قَالَ: صَدَقُوا، قَدْ طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةِ عَلَى بَعِيرِهِ، وَكَذَبُوا: لَيْسَ بِسُنَّةٍ كَانَ النَّاسُ لَا يُدْفَعُونَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا يُصْرَفُونَ عَنْهُ، فَطَافَ عَلَى بَعِيرٍ لِيَسْمَعُوا كَلَامَهُ وَلِيَرَوْا مَكَانَهُ وَلَا تَنَالُهُ أَيْدِيهِمْ.

ابوطفیل کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس ؓ سے کہا: آپ کی قوم سمجھتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بیت اللہ کے طواف میں رمل کیا اور یہ سنت ہے، انہوں نے کہا: لوگوں نے سچ کہا اور جھوٹ اور غلط بھی، میں نے دریافت کیا: لوگوں نے کیا سچ کہا اور کیا جھوٹ اور غلط؟ فرمایا: انہوں نے یہ سچ کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے رمل کیا لیکن یہ جھوٹ اور غلط کہا کہ رمل سنت ہے (واقعہ یہ ہے) کہ قریش نے حدیبیہ کے موقع پر کہا کہ محمد اور اس کے ساتھیوں کو چھوڑ دو وہ اونٹ کی موت خود ہی مرجائیں گے، پھر جب ان لوگوں نے آپ ﷺ سے اس شرط پر مصالحت کرلی کہ آپ آئندہ سال آ کر حج کریں اور مکہ میں تین دن قیام کریں تو رسول اللہ ﷺ آئے اور مشرکین بھی قعیقعان کی طرف سے آئے، آپ ﷺ نے اپنے اصحاب سے فرمایا: تین پھیروں میں رمل کرو ، اور یہ سنت نہیں ہے ١ ؎، میں نے کہا: آپ کی قوم سمجھتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صفا ومروہ کے درمیان اونٹ پر سوار ہو کر سعی کی اور یہ سنت ہے، وہ بولے: انہوں نے سچ کہا اور جھوٹ اور غلط بھی، میں نے دریافت کیا: کیا سچ کہا اور کیا جھوٹ؟ وہ بولے: یہ سچ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صفا ومروہ کے درمیان اپنے اونٹ پر سوار ہو کر سعی کی لیکن یہ جھوٹ اور غلط ہے کہ یہ سنت ہے، دراصل لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس سے نہ جا رہے تھے اور نہ سرک رہے تھے، تو آپ ﷺ نے اونٹ پر سوار ہو کر سعی کی تاکہ لوگ آپ کی بات سنیں اور لوگ آپ کو دیکھیں اور ان کے ہاتھ آپ تک نہ پہنچ سکیں۔

Abu Al Tufail said I said to Ibn Abbas Your people think that the Messenger of Allah ﷺ walked proudly with swift strides while going round the Kaabah and that it is sunnah (practice of the Prophet). He said “They spoke the truth (in part) and told a lie (in part). ” I asked “What truth did they speak and what lie did they tell?” He said “They spoke the truth that the Messenger of Allah ﷺ walked proudly while going round the Kaabah but they told a lie, this is no sunnah. The Quraish asserted during the days of Al Hudaibiyyah “Forsake Muhammad and his Companions till they die the death of a Camel which dies of bacteria in its nose. When they concluded a treaty with him agreeing upon the fact that they (the Prophet and his Companions) would come (to Makkah) next year and stay at Makkah three days, the Messenger of Allah ﷺ said to the Companions “Walk proudly (moving shoulders) while going round the Kaabah in first three circuits. (Ibn Abbas said) But this is not sunnah. I said “Your people think that the Messenger of Allah ﷺ ran between Al Safa and Al Marwah on a Camel and that is sunnah. ” He said “They spoke the truth (in part) and told a lie (in part). I asked “What truth did they speak and what lie did they tell? He said “they spoke the truth that the Messenger of Allah ﷺ ran between Al Safa and Al Marwah on a Camel. They told a lie that it is a sunnah. As the people did not move from around the Messenger of Allah ﷺ and did not separate themselves from him he did the sa’i on a Camel so that they may listen to him and see his position and their hands might not reach him.

Notes · وضاحت
١ ؎: مراد ایسی سنت نہیں ہے جسے آپ ﷺ نے تقرب کے لئے بطور عبادت کی ہو، بلکہ مسلمانوں کو یہ حکم آپ ﷺ نے اس لئے دیا تھا تاکہ وہ کافروں کے سامنے اپنے طاقتور اور توانا ہونے کا مظاہرہ کرسکیں، کیونکہ وہ اس غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ مدینہ کے بخار نے انہیں کمزور کر رکھا ہے، لیکن بہرحال اب یہ طواف کی سنتوں میں سے ہے جس کے ترک پر دم نہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٣٩ (١٢٦٤)، ( تحفة الأشراف: ٥٧٧٦)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/المناسک ٢٩ (٢٩٥٣)، مسند احمد (١/ ٢٢٩، ٢٣٣، ٢٩٧، ٢٩٨، ٣٦٩، ٣٧٢، ٣٧٣) (صحیح )