طواف واجب کا بیان
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ مَكَّةَ وَهُوَ يَشْتَكِي فَطَافَ عَلَى رَاحِلَتِهِ، كُلَّمَا أَتَى عَلَى الرُّكْنِ اسْتَلَمَ الرُّكْنَ بِمِحْجَنٍ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ طَوَافِهِ أَنَاخَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ.
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مکہ آئے آپ کو کچھ تکلیف تھی چناچہ آپ نے اپنی سواری پر بیٹھ کر طواف کیا ١ ؎، جب آپ ﷺ حجر اسود کے پاس آتے تو چھڑی سے اس کا استلام کرتے، جب آپ طواف سے فارغ ہوگئے تو اونٹ کو بٹھا دیا اور (طواف کی) دو رکعتیں پڑھیں۔
Ibn Abbas said When the Messenger of Allah ﷺ came to Makkah he was ill. So, he performed the circumambulation on his Camel. He touched the corner (Black Stone) with a crooked stick as often as he came to it. When he finished the circumambulation, he made his Camel kneel down and offered two rak’ahs of prayer.