ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب عورت اپنے شوہر کے گھر سے کسی فساد کی نیت کے بغیر خرچ کرے تو اسے اس کا ثواب ملے گا اور مال کمانے کا ثواب اس کے شوہر کو اور خازن کو بھی اسی کے مثل ثواب ملے گا اور ان میں سے کوئی کسی کے ثواب کو کم نہیں کرے گا ۔
Aishah reported The Messenger of Allah ﷺ as saying When a woman gives (some of the property) from her husband’s house, not wasting it, she will have her reward for what she has spent, and her husband will have his for what he earned. The said applies to a trustee. In no respect does the one diminish the reward of the other.
سعد ؓ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے عورتوں سے بیعت کی تو ایک موٹی عورت جو قبیلہ مضر کی لگتی تھی کھڑی ہوئی اور بولی: اللہ کے نبی! ہم (عورتیں) تو اپنے باپ اور بیٹوں پر بوجھ ہوتی ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میرے خیال میں أزواجنا کا لفظ کہا (یعنی اپنے شوہروں پر بوجھ ہوتی ہیں) ، ہمارے لیے ان کے مالوں میں سے کیا کچھ حلال ہے (کہ ہم خرچ کریں) ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: رطب ہے تم اسے کھاؤ اور ہدیہ بھی کرو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: رطب روٹی، ترکاری اور تر کھجوریں ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور ثوری نے بھی یونس سے اسے اسی طرح روایت کیا ہے۔
Saad said When the Messenger of Allah ﷺ took the oath of allegiance from woman, a woman of high rank, who seemed to be one of the women of Mudar, rose and said Prophet of Allah ﷺ , we are dependant on our parents, our sons. (Abu Dawud said I think (this version) has the word “ and our husbands”.) So what part of their property can be spent lawfully? He said Fresh food which you eat and give as a present. Abu Dawud said The Arabic word ratb means bread, vegetables and fresh dates. Abu Dawud said Al-Thawri transmitted from Yunus in a similar manner.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٣٨٥٣) (ضعیف) (اس کے رواة عبدالسلام اور زیاد کے اندر کچھ کلام ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب عورت اپنے شوہر کی کمائی میں سے اس کی اجازت کے بغیر خرچ کرے تو اسے اس (شوہر) کا آدھا ثواب ملے گا ١ ؎۔
Abu Hurairah reported The Messenger of Allah ﷺ as saying When a woman gives something her husband has earned without being commanded by him to do so, she has half his reward.
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ اس مقدار پر محمول ہوگا جس کی عرفاً وعادۃً شوہر کی طرف سے بیوی کو خرچ کرنے کی اجازت ہوتی ہے، اگرچہ اس کی طرف سے صریح اجازت اسے حاصل نہ ہو، رہا اس سے زیادہ مقدار کا معاملہ تو شوہر کی صریح اجازت کے بغیر وہ اسے خرچ نہیں کرسکتی۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ان سے کسی نے پوچھا، عورت بھی اپنے شوہر کے گھر سے صدقہ دے سکتی ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں، البتہ اپنے خرچ میں سے دے سکتی ہے اور ثواب دونوں (میاں بیوی) کو ملے گا اور اس کے لیے یہ درست نہیں کہ شوہر کے مال میں سے اس کی اجازت کے بغیر صدقہ دے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث ہمام کی (پچھلی) حدیث کی تضعیف کرتی ہے ١ ؎۔
Ata said Abu Hurairah was asked Whether a woman could give sadaqah from the house (property) of her husband. He replied `No’. She can give it from her maintenance. The reward will be divided between them. It is not lawful for her to give sadaqah from her husband’s property without his permission. Abu Dawud said This version weakens the version narrated by Hammam (bin Munabbih).
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ عبارت سنن ابوداود کے اکثر نسخوں میں نہیں ہے، ہمام بن منبہ کی روایت صحیح ہے، اس کی تخریج بخاری و مسلم نے کی ہے، اس میں کوئی علت بھی نہیں ہے، لہٰذا ابوداود کا یہ کہنا کیسے صحیح ہوسکتا ہے جب کہ عطا سے مروی ابوہریرہ ؓ کی یہ روایت موقوف ہے، اور دونوں روایتوں کے درمیان تطبیق بھی ممکن ہے جیسا کہ نووی نے شرح مسلم میں ذکر کیا ہے۔
انس ؓ کہتے ہیں جب لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون کی آیت نازل ہوئی تو ابوطلحہ ؓ نے کہا: اللہ کے رسول! میرا خیال ہے کہ ہمارا رب ہم سے ہمارے مال مانگ رہا ہے، میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اریحاء نامی اپنی زمین اسے دے دی، اس پر رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: اسے اپنے قرابت داروں میں تقسیم کر دو ، تو انہوں نے اسے حسان بن ثابت اور ابی بن کعب ؓ کے درمیان تقسیم کردیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھے محمد بن عبداللہ انصاری سے یہ بات معلوم ہوئی کہ ابوطلحہ کا نام: زید بن سہل بن اسود بن حرام بن عمرو ابن زید مناۃ بن عدی بن عمرو بن مالک بن النجار ہے، اور حسان: ثابت بن منذر بن حرام کے بیٹے ہیں، اس طرح ابوطلحہ ؓ اور حسان ؓ کا سلسلہ نسب حرام پر مل جاتا ہے وہی دونوں کے تیسرے باپ (پردادا) ہیں، اور ابی ؓ کا سلسلہ نسب اس طرح ہے: ابی بن کعب بن قیس بن عتیک بن زید بن معاویہ بن عمرو بن مالک بن نجار، اس طرح عمرو: حسان، ابوطلحہ اور ابی تینوں کو سمیٹ لیتے ہیں یعنی تینوں کے جد اعلیٰ ہیں، انصاری (محمد بن عبداللہ) کہتے ہیں: ابی ؓ اور ابوطلحہ ؓ کے نسب میں چھ آباء کا فاصلہ ہے۔
Anas said When the verse “You will never attain righteousness until you give freely of what you love came down, Abu Talhah said Messenger of Allah ﷺ , I think our Lord asks us for our property. I call you as witness that I dedicate my land at Ariha ‘to Him’. The Messenger of Allah ﷺ said to him Divide it among your nearest relatives. So he divided it among Hassan bin Thabit and Ubayy bin Kaab. Abu Dawud said I have been gold by an Ansari Muhammad bin Abdallah that the name of Abu Talhah is Zaid bin Sahal bin al-Aswad bin Haram bin ‘Amar bin Zaid bin Manat bin Adi bin Amr bin Malik bin al-Najjar; and Hassan bin Tabit is son of al-Mundhir in al-Haram. Thus both of them (Abu Talhah and Hassan) have their common link in Haram who is the third great grandfather. Ubbay bin Kaab is son of Qais bin ‘Atik bin Zaid bin Muawiyah bin Amr bin Malik bin al-Najjar. Thus the common tie between Hassan, Abu Talhah and Ubbay is Amr (bin Malik). The Ansari said between Ubbay and Abi Talhah there are six great grandfathers.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/تفسیر القرآن (آل عمران) ٦ (٢٩٢٧)، ( تحفة الأشراف: ٣١٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوکالة ١٥ (٢٣١٨)، والوصایا ١٠ (٢٧٥٢)، و تفسیر القرآن ٥ (٤٥٥٤)، والأشربة ١٣ (٥٦١١)، صحیح مسلم/الزکاة ١٣ (٩٩٨)، موطا امام مالک/الجامع ٨٣، مسند احمد (٣/١١٥، ٢٨٥)، سنن الدارمی/الزکاة ٢٣ (١٦٩٥) (صحیح )
ام المؤمنین میمونہ ؓ کہتی ہیں کہ میری ایک لونڈی تھی، میں نے اسے آزاد کردیا، میرے پاس نبی اکرم ﷺ تشریف لائے تو میں نے آپ کو اس کی خبر دی، اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہیں اجر عطا کرے، لیکن اگر تو اس لونڈی کو اپنے ننھیال کے لوگوں کو دے دیتی تو یہ تیرے لیے بڑے اجر کی چیز ہوتی ۔
Maimunah, wife of the Probhet ﷺ said: I had a slave girl and I set her free. When the Prophet ﷺ entered upon me, I informed him (of this). He said: May Allah give reward for it; if you had given her to your maternal uncles, it would have increased your reward
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے صدقہ کا حکم دیا تو ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! میرے پاس ایک دینار ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: اسے اپنے کام میں لے آؤ ، تو اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: اسے اپنے بیٹے کو دے دو ، اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: اسے اپنی بیوی کو دے دو ، اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: اسے اپنے خادم کو دے دو ، اس نے کہا میرے پاس ایک اور ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: اب تم زیادہ بہتر جانتے ہو (کہ کسے دیا جائے) ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ commanded to give sadaqah. A man said: Messenger of Allah, I have a dinar. He said: Spend it on yourself. He again said: I have another. He said: Spend it on your children. He again said: I have another. He said: Spend it on your wife. He again said: I have another. He said: Spend it on your servant. He finally said: I have another. He replied: You know best (what to do with it).
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الزکاة ٥٤ (٢٥٣٦)، ( تحفة الأشراف: ١٣٠٤١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٥١، ٤٧١) (حسن )
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آدمی کے گنہگار ہونے کے لیے یہ کافی ہے کہ وہ ان لوگوں کو جن کے اخراجات کی ذمہ داری اس کے اوپر ہے ضائع کر دے ١ ؎۔
Abdullah bin Amr reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: It is sufficient sin for a man that he neglects him whom he maintains.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جن کی کفالت اس کے ذمہ ہو ان سے قطع تعلق کر کے نیکی کے دوسرے کاموں میں اپنا مال خرچ کرے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٨٩٤٣)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الزکاة ١٢ (٩٩٦)، سنن النسائی/الکبری/عشرة النساء (٩١٧٦)، مسند احمد (٢/١٦٠، ١٩٤، ١٩٥) (صحیح )
انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کے لیے یہ بات باعث مسرت ہو کہ اس کے رزق میں اور عمر میں درازی ہوجائے تو اسے چاہیئے کہ وہ صلہ رحمی کرے (یعنی قرابت داروں کا خیال رکھے) ۔
Anas reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: Anyone who is pleased that his sustenance is expanded and his age extended should do kindness to his near relatives.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ١٥١٦، ١٥٥٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع ١٣ (٢٠٦٧)، والأدب ١٢ (٥٩٨٦)، صحیح مسلم/البر والصلة ٦ (٢٥٥٩)، مسند احمد (٢٣٩٣، ٢٤٧) (صحیح )
عبدالرحمٰن بن عوف ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: میں رحمن ہوں اور رَحِم (ناتا) ہی ہے جس کا نام میں نے اپنے نام سے مشتق کیا ہے، لہٰذا جو اسے جوڑے گا میں اسے جوڑوں گا اور جو اسے کاٹے گا، میں اسے کاٹ دوں گا ۔
Narrated Abdur Rahman ibn Awf: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Allah the Exalted has said: I am Compassionate, and this has been derived from mercy. I have derived its name from My name. If anyone joins it, I shall join him, and if anyone cuts it off, I shall cut him off.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البر والصلة ٩ (١٩٠٧)، ( تحفة الأشراف: ٩٧٢٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٩١، ١٩٤) (صحیح )
اس سند سے بھی عبدالرحمٰن بن عوف ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اسی مفہوم کی حدیث سنی ہے۔
The above mentioned tradition has also been narrated by Abdur-Rahman bin Awf from the Messenger of Allah ﷺ through a different chain of narrators to the same effect.
جبیر بن مطعم ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: رشتہ ناتا توڑنے والا جنت میں نہیں جائے گا ۔
Jubair bin Mutim reported on the authority of his father: The Prophet ﷺ said: Anyone who cuts off relationship from his nearest relatives will not enter Paradise.
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رشتہ ناتا جوڑنے والا وہ نہیں جو بدلے میں ناتا جوڑے بلکہ ناتا جوڑنے والا وہ ہے کہ جب ناتا توڑا جائے تو وہ اسے جوڑے ۔
Abdullah bin Amr said: (Sufyan said: The version of the narrator Sulaiman does not go back to The Prophet ﷺ . Fitr and al-Hasan reported from him ): The Messenger of Allah ﷺ said: One who compensates is not a man who unites relationship: but the man who unites relationship is the one who joins it when the relationship is cut off.
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ دیا اور فرمایا: بخل و حرص سے بچو اس لیے کہ تم سے پہلے لوگ بخل و حرص کی وجہ سے ہلاک ہوئے، حرص نے لوگوں کو بخل کا حکم دیا تو وہ بخیل ہوگئے، بخیل نے انہیں ناتا توڑنے کو کہا تو لوگوں نے ناتا توڑ لیا اور اس نے انہیں فسق و فجور کا حکم دیا تو وہ فسق و فجور میں لگ گئے ۔
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: The Messenger of Allah ﷺ preached and said: Abstain from avarice, for those who had been before you were annihilated due to avarice. It (avarice) commanded them to show niggardliness; it commanded them to cut off their relationship with their nearest relatives, so they cut off. It commanded them to show profligacy, so they showed it.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٨٦٢٨)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الکبری (١١٥٨٣)، مسند احمد (٢/١٥٩، ١٦٠، ١٩١، ١٩٥) (صحیح )
اسماء بنت ابی بکر ؓ کہتی ہیں میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے پاس سوائے اس کے کچھ نہیں جو زبیر میرے لیے گھر میں لا دیں، کیا میں اس میں سے دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: دو اور اسے بند کر کے نہ رکھو کہ تمہارا رزق بھی بند کر کے رکھ دیا جائے ۔
Asma, daughter of Abu Bakr, said: I said: Messenger of Allah ﷺ , I have nothing of my own except what al-Zubair (her husband) brings to me in his house: should I spend out of it? He said: Give and do not hoard so your sustenance will be hoarded.
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کئی مسکینوں کا ذکر کیا (ابوداؤد کہتے ہیں: دوسروں کی روایت میں عدة من صدقة (کئی صدقوں کا ذکر ہے) تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: دو اور گنو مت کہ تمہیں بھی گن گن کر رزق دیا جائے ۔
Abu Mulaykah reported: Aisha (RA) counted a number of indigents. Abu Dawud said: The other version has: She counted a number of sadaqahs. The Messenger of Allah ﷺ said: Give and do not calculate, so calculation will be made against you.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ١٦٢٣٤)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الزکاة ٦٢ (٢٥٥٢)، مسند احمد (٦/١٠٨، ١٣٩، ١٦٠) (صحیح )
سوید بن غفلہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے زید بن صوحان اور سلیمان بن ربیعہ کے ساتھ جہاد کیا، مجھے ایک کوڑا پڑا ملا، ان دونوں نے کہا: اسے پھینک دو، میں نے کہا: نہیں، بلکہ اگر اس کا مالک مل گیا تو میں اسے دے دوں گا اور اگر نہ ملا تو خود میں اپنے کام میں لاؤں گا، پھر میں نے حج کیا، میرا گزر مدینے سے ہوا، میں نے ابی بن کعب ؓ سے پوچھا، تو انہوں نے بتایا کہ مجھے ایک تھیلی ملی تھی، اس میں سو (١٠٠) دینار تھے، میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا آپ نے فرمایا: ایک سال تک اس کی پہچان کراؤ ، چناچہ میں ایک سال تک اس کی پہچان کراتا رہا، پھر آپ کے پاس آیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ایک سال اور پہچان کراؤ ، میں نے ایک سال اور پہچان کرائی، اس کے بعد پھر آپ کے پاس آیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ایک سال پھر پہچان کراؤ ، چناچہ میں ایک سال پھر پہچان کراتا رہا، پھر آپ کے پاس آیا اور آپ ﷺ سے عرض کیا: مجھے کوئی نہ ملا جو اسے جانتا ہو، آپ ﷺ نے فرمایا: اس کی تعداد یاد رکھو اور اس کا بندھن اور اس کی تھیلی بھی، اگر اس کا مالک آجائے (تو بہتر) ورنہ تم اسے اپنے کام میں لے لینا ۔ شعبہ کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ سلمہ نے عرفها تین بار کہا تھا یا ایک بار۔
Suwayd ibn Ghaflah said: I fought along with Zayd ibn Suhan and Sulayman ibn Rabiah. I found a whip. They said to me: Throw it away. I said: No; if I find its owner (I shall give it to him); if not, I shall use it. Then I performed hajj; and when I reached Madina, I asked Ubayy ibn Kab. He said: I found a purse which contained one hundred dinars; so I came to the Prophet ﷺ . He said to me: Make the matter known for a year. I made it known for a year and then came to him. He then said to me: Make the matter known for a year. So I made it known for a year. I then (again) came to him. He said to me: Make the matter known for a year. Then I came to him and said: I did not find anyone who realises it. He said: Remember, its number, its container and its tie. If its owner comes, (give it to him), otherwise use it yourself. He (the narrator Shubah) said: I do not know whether he said the word make the matter known three times or once.
اس سند سے بھی شعبہ سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے وہ کہتے ہیں: عرفها حولا تین بار کہا، البتہ مجھے یہ نہیں معلوم کہ آپ نے اسے ایک سال میں کرنے کے لیے کہا یا تین سال میں۔
The aforesaid tradition has also been transmitted by Shubah through a different chain of narrators to the same effect. The version goes: He said: Make it known for a year. He said this three times. He said: I do not know whether he said “for a year” or “for three years”.
حماد کہتے ہیں سلمہ بن کہیل نے ہم سے اسی سند سے اور اسی مفہوم کی حدیث بیان کی اس میں ہے: آپ ﷺ نے (لقطہٰ کی) پہچان کرانے کے سلسلے میں فرمایا: دو یا تین سال تک (اس کی پہچان کراؤ) ، اور فرمایا: اس کی تعداد جان لو اور اس کی تھیلی اور اس کے سر بندھن کی پہچان کرلو ، اس میں اتنا مزید ہے: اگر اس کا مالک آجائے اور اس کی تعداد اور سر بندھن بتادے تو اسے اس کے حوالے کر دو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: فعرف عددها کا کلمہ اس حدیث میں سوائے حماد کے کسی اور نے نہیں ذکر کیا ہے۔
The above mentioned tradition has also been transmitted by Salamah. Bin Kuhail through a different chain to the same effect. The version has ; about making the matter known he said ; “ two years or three. ” He said: Remember its number, its container and its string. The version adds: If its owner comes, and tells its number and its string, then give it to him. Abu Dawud said: None of the narrators said this word in this tradition except Hammad ; That is, “ If he tells its number. ”
زید بن خالد جہنی ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے لقطہٰ (پڑی ہوئی چیز ) کے بارے میں پوچھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ایک سال تک اس کی پہچان کراؤ، پھر اس کی تھیلی اور سر بندھن کو پہچان لو، پھر اسے خرچ کر ڈالو، اب اگر اس کا مالک آجائے تو اسے دے دو ، اس نے کہا: اللہ کے رسول! گمشدہ بکری کو ہم کیا کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اس کو پکڑ لو، اس لیے کہ وہ یا تو تمہارے لیے ہے، یا تمہارے بھائی کے لیے، یا بھیڑیئے کے لیے ، اس نے پوچھا: اللہ کے رسول! گمشدہ اونٹ کو ہم کیا کریں؟ تو رسول اللہ ﷺ غصہ ہوگئے یہاں تک کہ آپ کے رخسار سرخ ہوگئے یا آپ کا چہرہ سرخ ہوگیا اور فرمایا: تمہیں اس سے کیا سروکار؟ اس کا جوتا ١ ؎ اور اس کا مشکیزہ اس کے ساتھ ہوتا ہے یہاں تک کہ اس کا مالک آجائے ۔
Zaid bin Khalid al-Juhani said: A man asked the Messenger of Allah ﷺ about a find. He said: Make the matter known for a year, then note its string and its container and then use it for your purpose. Then if its owner comes, give it to him. He asked: Messenger of Allah, what about a stray sheep? He replied: Take it; that is for you, or for your brother, or for the wolf. He again asked: Messenger of Allah, What about stray camels? The Messenger of Allah ﷺ became angry so much so that his cheeks became red or ( the narrator is doubtful) his face became red. He replied: What have you to do with them? They have with them their feet and their stomachs (for drink) till their master comes to him.
Notes · وضاحت
١ ؎: جوتے سے مراد اونٹ کا پاؤں ہے، اور مشکیزہ سے اس کا پیٹ جس میں وہ کئی دن کی ضرورت کا پانی ایک ساتھ بھر لیتا ہے اور بار بار پانی پینے کی ضرورت نہیں محسوس کرتا، اسے بکری کی طرح بھیڑیے وغیرہ کا بھی خوف نہیں کہ وہ خود اپنا دفاع کرلیتا ہے، اس لئے اسے پکڑنے کی کوئی ضرورت نہیں۔