Sunan Abu Dawood

All 5,295 hadiths in order · Page 84 of 265

1665Sunan Abu Dawood

سائل کا حق کیا ہے؟

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، حَدَّثَنِي يَعْلَى بْنُ أَبِي يَحْيَى، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ حُسَيْنٍ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِلسَّائِلِ حَقٌّ وَإِنْ جَاءَ عَلَى فَرَسٍ.

حسین بن علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سائل کا حق ہے اگرچہ وہ گھوڑے پر آئے ۔

Narrated Ali ibn Abu Talib: The Prophet ﷺ said: A beggar has the right though he may be riding (a horse).

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٣٤١٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٠١) (ضعیف) (اس کے راوی یعلی مجہول ہیں )
1666Sunan Abu Dawood

سائل کا حق کیا ہے؟

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ شَيْخٍ، قَالَ: رَأَيْتُ سُفْيَانَ عِنْدَهُ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِيهَا، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.

اس سند سے علی ؓ سے بھی اسی کے مثل مرفوعاً مروی ہے۔

The above mentioned tradition has also been transmitted by Ali through a different chain of narrators in a similar manner from the Prophet ﷺ .

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، ( تحفة الأشراف: ١٠٠٧١) (ضعیف) (اس کی سند میں شیخ ایک مبہم راوی ہے )
1667Sunan Abu Dawood

سائل کا حق کیا ہے؟

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بُجَيْدٍ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ بُجَيْدٍوَكَانَتْ مِمَّنْ بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكَ، إِنَّ الْمِسْكِينَ لَيَقُومُ عَلَى بَابِي فَمَا أَجِدُ لَهُ شَيْئًا أُعْطِيهِ إِيَّاهُ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنْ لَمْ تَجِدِي لَهُ شَيْئًا تُعْطِينَهُ إِيَّاهُ إِلَّا ظِلْفًا مُحْرَقًا فَادْفَعِيهِ إِلَيْهِ فِي يَدِهِ.

ام بجید ؓ یہ ان لوگوں میں سے تھیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی تھی، وہ کہتی ہیں میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے دروازے پر مسکین کھڑا ہوتا ہے لیکن میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں ہوتی جو میں اسے دوں، رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: اگر تمہیں کوئی ایسی چیز نہ ملے جو تم اسے دے سکو سوائے ایک جلے ہوئے کھر کے تو وہی اس کے ہاتھ میں دے دو ۔

Narrated Umm Bujayd: She took the oath of allegiance to the Messenger of Allah ﷺ and said to him: Messenger of Allah, a poor man stands at my door, but I find nothing to give him. The Messenger of Allah ﷺ said to her: If you do not find anything to give him, put something in his hand, even though it should be a burnt hoof.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الزکاة ٢٩ (٦٦٥)، سنن النسائی/الزکاة ٧٠ (٢٥٦٦) ( تحفة الأشراف: ١٨٣٠٥)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/صفة النبی ٥ (٨)، مسند احمد (٤/٧٠) (صحیح )
1668Sunan Abu Dawood

کافر کو صدقہ دینے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ، قَالَتْ: قَدِمَتْ عَلَيَّ أُمِّي رَاغِبَةً فِي عَهْدِ قُرَيْشٍ وَهِيَ رَاغِمَةٌ مُشْرِكَةٌ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أُمِّي قَدِمَتْ عَلَيَّ وَهِيَ رَاغِمَةٌ مُشْرِكَةٌ أَفَأَصِلُهَا، قَالَ: نَعَمْ فَصِلِي أُمَّكِ.

اسماء ؓ کہتی ہیں کہ میرے پاس میری ماں آئیں جو قریش کے دین کی طرف مائل اور اسلام سے بیزار اور مشرکہ تھیں، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری ماں میرے پاس آئی ہیں اور وہ اسلام سے بیزار اور مشرکہ ہیں، کیا میں ان سے صلہ رحمی کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، اپنی ماں سے صلہ رحمی کرو ۔

Asma said My mother came to me seeking some act of kindness from me during the treaty of the Quraish (at Hudaibiyyah). While she hated Islam and she was a polytheist. I said Messenger of Allah ﷺ , my mother has come to me while she hates Islam and she is a disbeliever. May I do an act of kindness to her? He replied Yes, do an act of kindness to her.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الھبة ٢٩ (٢٦٢٠)، والجزیة ١٨ (٣١٨٣)، والأدب ٨ (٥٩٧٨)، صحیح مسلم/الزکاة ١٤ (١٠٠٣)، ( تحفة الأشراف: ١٥٧٢٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٤٤، ٣٤٧، ٣٥٥) (صحیح )
1669Sunan Abu Dawood

جس چیز کا روکنا درست نہیں

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ، عَنْ سَيَّارِ بْنِ مَنْظُورٍ رَجُلٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ امْرَأَةٍ يُقَالُ لَهَا: بُهَيْسَةُ،عَنْ أَبِيهَا، قَالَتْ: اسْتَأْذَنَ أَبِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَمِيصِهِ فَجَعَلَ يُقَبِّلُ وَيَلْتَزِمُ، ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ ؟ قَالَ: الْمَاءُ، قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ ؟ قَالَ: الْمِلْحُ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ ؟ قَالَ: أَنْ تَفْعَلَ الْخَيْرَ خَيْرٌ لَكَ.

بہیسہ اپنے والد (عمیر) کہتی ہیں کہ میرے والد نے نبی اکرم ﷺ سے (آپ کے پاس آنے کی) اجازت طلب کی، (اجازت دے دی تو وہ آئے) اور وہ آپ ﷺ کے اور آپ کی قمیص کے درمیان داخل ہوگئے (یعنی آپ کی قمیص اٹھا لی) اور آپ ﷺ کے بدن مبارک کو چومنے اور آپ سے لپٹنے لگے، پھر انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ کون سی چیز ہے جس کا نہ دینا جائز نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: پانی ، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! وہ کون سی چیز ہے جس کا نہ دینا جائز نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نمک ، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! وہ کون سی چیز ہے جس کا نہ دینا جائز نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تم جتنی نیکی کرو اتنی ہی وہ تمہارے لیے بہتر ہے (یعنی پانی نمک تو مت روکو اس کے علاوہ اگر ممکن ہو تو دوسری چیزیں بھی نہ روکو) ۔

Buhaysah reported on the authority of his father: My father sought permission from the Prophet ﷺ . (When permission was granted and he came near him) he lifted his shirt, and began to kiss him and embrace him (out of love for him). He asked: Messenger of Allah, what is the thing which it is unlawful to refuse? He replied: Water. He again asked: Prophet of Allah, what is the thing which it is unlawful to refuse? He replied: Salt. He again asked: Prophet of Allah, what is the thing which it is unlawful to refuse? He said: To do good is better for you.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ویأتي برقم: (٣٤٧٦)، ( تحفة الأشراف: ١٥٦٩٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/ ٨٠، ٨١)، سنن الدارمی/البیوع ٧٠ (٢٦٥٥) (ضعیف) (اس کے رواة سیار اور ان کے والد لین الحدیث ہیں اور بہیسہ مجہول ہیں )
1670Sunan Abu Dawood

مسجد کے اندر سوال کرنا

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ، حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ مِنْكُمْ أَحَدٌ أَطْعَمَ الْيَوْمَ مِسْكِينًا ؟فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا أَنَا بِسَائِلٍ يَسْأَلُ فَوَجَدْتُ كِسْرَةَ خُبْزٍ فِي يَدِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَأَخَذْتُهَا مِنْهُ فَدَفَعْتُهَا إِلَيْهِ.

عبدالرحمٰن بن ابی بکر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تم میں سے ایسا کوئی ہے جس نے آج کسی مسکین کو کھانا کھلایا ہو؟ ، ابوبکر ؓ کہتے ہیں کہ میں مسجد میں داخل ہوا تو دیکھا کہ ایک بھکاری مانگ رہا ہے، میں نے عبدالرحمٰن کے ہاتھ میں روٹی کا ایک ٹکڑا پایا تو ان سے اسے لے کر میں نے بھکاری کو دے دیا۔

Abdur-Rahman bin Abu Bakr (may Allah be pleased with him) said The Messenger of Allah ﷺ asked Is there anyone of you who provided food to a poor man today? Abu Bakr said I entered the mosque where a beggar was begging ; I found a piece of bread in the hand of Abdal-Rahman which I took and gave it to him

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٩٦٩٠) (صحیح) تراجع الألباني (141) (قصہ کے تذکرے کے بغیر ابوہریرہ کی روایت سے یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس سند میں مبارک مدلس راوی ہیں اور بذریعہ عن روایت کئے ہوئے ہیں )
1671Sunan Abu Dawood

اللہ کے نام پر مانگنا مکروہ ہے

حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الْقِلَّوْرِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِيُّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُعَاذٍ التَّمِيمِيِّ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يُسْأَلُ بِوَجْهِ اللَّهِ إِلَّا الْجَنَّةُ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے نام پر سوائے جنت کے کوئی چیز نہ مانگی جائے ۔

Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Prophet ﷺ said: Nothing but Paradise must be begged for Allahs sake.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٣٠٤٠) (ضعیف) (اس کے راوی سلیمان ضعیف ہیں )
1672Sunan Abu Dawood

جو شخص اللہ کے نام پر مانگے اسکے ساتھ کیا معاملہ کرنا چاہیے؟

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ اسْتَعَاذَ بِاللَّهِ فَأَعِيذُوهُ، وَمَنْ سَأَلَ بِاللَّهِ فَأَعْطُوهُ، وَمَنْ دَعَاكُمْ فَأَجِيبُوهُ، وَمَنْ صَنَعَ إِلَيْكُمْ مَعْرُوفًا فَكَافِئُوهُ، فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا مَا تُكَافِئُونَهُ فَادْعُوا لَهُ حَتَّى تَرَوْا أَنَّكُمْ قَدْ كَافَأْتُمُوهُ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو اللہ کے نام پر پناہ مانگے اسے پناہ دو، جو اللہ کے نام پر سوال کرے اسے دو، جو تمہیں دعوت دے اسے قبول کرو، اور جو تمہارے ساتھ بھلائی کرے تم اس کا بدلہ دو، اگر تم بدلہ دینے کے لیے کچھ نہ پاؤ تو اس کے حق میں اس وقت تک دعا کرتے رہو جب تک کہ تم یہ نہ سمجھ لو کہ تم اسے بدلہ دے چکے ۔

Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone seeks protection in Allahs name, grant him protection; if anyone begs in Allahs name, give him something; if anyone gives you an invitation, accept it; and if anyone does you a kindness, recompense him; but if you have not the means to do so, pray for him until you feel that you have compensated him.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الزکاة ٧٢ (٢٥٦٨)، ( تحفة الأشراف: ٧٣٩١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٦٨، ٩٥، ٩٩، ١٧٢) (صحیح )
1673Sunan Abu Dawood

تمام مال صدقہ کرنی کی ممانعت کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ بِمِثْلِ بَيْضَةٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَصَبْتُ هَذِهِ مِنْ مَعْدِنٍ فَخُذْهَا فَهِيَ صَدَقَةٌ مَا أَمْلِكُ غَيْرَهَا، فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَتَاهُ مِنْ قِبَلِ رُكْنِهِ الْأَيْمَنِ، فَقَالَ: مِثْلَ ذَلِكَ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ أَتَاهُ مِنْ قِبَلِ رُكْنِهِ الْأَيْسَرِ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَتَاهُ مِنْ خَلْفِهِ، فَأَخَذَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَذَفَهُ بِهَا فَلَوْ أَصَابَتْهُ لَأَوْجَعَتْهُ أَوْ لَعَقَرَتْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَأْتِي أَحَدُكُمْ بِمَا يَمْلِكُ فَيَقُولُ هَذِهِ صَدَقَةٌ، ثُمَّ يَقْعُدُ يَسْتَكِفُّ النَّاسَ، خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى.

جابر بن عبداللہ انصاری ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے کہ ایک شخص انڈہ کے برابر سونا لے کر آیا اور بولا: اللہ کے رسول! مجھے یہ ایک کان میں سے ملا ہے، آپ اسے لے لیجئے، یہ صدقہ ہے اور اس کے علاوہ میں کسی اور چیز کا مالک نہیں، رسول اللہ ﷺ نے اس سے منہ پھیرلیا، وہ پھر آپ ﷺ کے پاس آپ کی دائیں جانب سے آیا اور ایسا ہی کہا، رسول اللہ ﷺ نے اس سے منہ پھیرلیا، پھر وہ آپ ﷺ کے پاس آپ کی بائیں جانب سے آیا، رسول اللہ ﷺ نے پھر اس سے منہ پھیرلیا، پھر وہ آپ ﷺ کے پیچھے سے آیا آپ نے اسے لے کر پھینک دیا، اگر وہ اسے لگ جاتا تو اس کو چوٹ پہنچاتا یا زخمی کردیتا، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں ایک اپنا سارا مال لے کر چلا آتا ہے اور کہتا ہے: یہ صدقہ ہے، پھر بیٹھ کر لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتا ہے، بہترین صدقہ وہ ہے جس کا مالک صدقہ دے کر مالدار رہے ۔

Narrated Jabir ibn Abdullah Al-Ansari (RA) : While we were sitting with the Messenger of Allah ﷺ a man brought him some gold equal in weight to an egg, and said: Messenger of Allah, I have got this from a mine; take it; it is sadaqah. I have no more than this. The Messenger of Allah ﷺ turned his attention from him. Then he came to him from his right side and repeated the same words. But he (the Prophet) turned his attention from him. He then came to him from his left side and repeated the same words. But he (again) turned his attention from him. He then came to him from behind. The Messenger of Allah ﷺ took it and threw it away. Had it hit him, it would have hurt him or wounded him. The Messenger of Allah ﷺ said: One of you brings all that he possesses and says: This is sadaqah. Then he sits down and spreads his hand before the people. The best sadaqah is that which leaves a competence.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٣٠٩٧)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الزکاة ٢٥ (١٧٠٠) (ضعیف) (اس کے راوی ابن اسحاق مدلس ہیں، اور بذریعہ عن روایت کئے ہوئے ہیں )
1674Sunan Abu Dawood

تمام مال صدقہ کرنی کی ممانعت کا بیان

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ، بِإِسْنَادِهِ، وَمَعْنَاهُ، زَادَ: خُذْ عَنَّا مَالَكَ لَا حَاجَةَ لَنَا بِهِ.

اس سند سے بھی ابن اسحاق سے اسی مفہوم کی حدیث اسی طریق سے مروی ہے البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے: خذ عنا مالک لا حاجة لنا به اپنا مال ہم سے لے لو ہمیں اس کی ضرورت نہیں ۔

The above mentioned tradition has also been transmitted by Ibn Ishaq through a different chain of narrators to the same effect. This version adds have your property with you from us. We have no need of it.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، ( تحفة الأشراف: ٣٠٩٧) (ضعیف )
1675Sunan Abu Dawood

تمام مال صدقہ کرنی کی ممانعت کا بیان

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ، سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ: دَخَلَ رَجُلٌ الْمَسْجِدَ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَطْرَحُوا ثِيَابًا فَطَرَحُوا، فَأَمَرَ لَهُ مِنْهَا بِثَوْبَيْنِ، ثُمَّ حَثَّ عَلَى الصَّدَقَةِ فَجَاءَ فَطَرَحَ أَحَدَ الثَّوْبَيْنِ فَصَاحَ بِهِ، وَقَالَ: خُذْ ثَوْبَكَ.

ابوسعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا تو نبی اکرم ﷺ نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ کپڑے (بطور صدقہ) ڈال دیں، انہوں نے ڈال دیا، پھر آپ ﷺ نے اس شخص کے لیے ان میں سے دو کپڑوں (کے دیئے جانے) کا حکم دیا، پھر آپ ﷺ نے لوگوں کو صدقہ پر ابھارا تو وہ شخص دو میں سے ایک کپڑا ڈالنے لگا، آپ نے اسے ڈانٹا اور فرمایا: اپنے کپڑے لے لو ١ ؎۔

Narrated Abu Saeed al-Khudri (RA) : A man entered the mosque. The Prophet ﷺ commanded the people to throw their clothes as sadaqah. Thereupon they threw their clothes (as sadaqah). He then asked him to take two clothes from them. He reprimanded him and said: Take your clothe.

Notes · وضاحت
١ ؎: رسول اللہ ﷺ نے اس آدمی کا صدقہ قبول نہیں کیا کیونکہ اس کو صرف دو کپڑے ملے تھے اور وہ اس کی ضرورت سے زائد نہیں تھے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الجمعة ٢٦ (٤٠٩)، والزکاة ٥٥ (٢٥٣٧)، (تحفة الأشراف: ٤٢٧٤)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة ٢٥٠ (الجمعة ١٥) (٥١١)، حم (٣/٢٥) (حسن )
1676Sunan Abu Dawood

تمام مال صدقہ کرنی کی ممانعت کا بیان

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ خَيْرَ الصَّدَقَةِ مَا تَرَكَ غِنًى، أَوْ تُصُدِّقَ بِهِ عَنْ ظَهْرِ غِنًى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بہترین صدقہ وہ ہے جو آدمی کو مالدار باقی رکھے یا (یوں فرمایا) وہ صدقہ ہے جسے دینے کے بعد مالک مالدار رہے اور صدقہ پہلے اسے دو جس کی تم کفالت کرتے ہو ۔

Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying The best sadaqah is that which leaves a competence ; and begin with those for whom you are responsible.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ١٢٣٥٦)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الزکاة ١٨ (١٤٢٦)، والنفقات ٢ (٥٣٥٥)، صحیح مسلم/الزکاة ٣٥ (١٠٤٢)، سنن الترمذی/الزکاة ٣٨ (٦٨٠)، سنن النسائی/الزکاة ٥٣ (٢٥٣٥)، مسند احمد (٢/٢٣٠، ٢٤٣، ٢٧٨، ٢٨٨، ٣١٩، ٣٦٢، ٣٩٤، ٤٣٤) (صحیح )
1677Sunan Abu Dawood

تمام مال صدقہ کرنے کی اجازت

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَيَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ: جُهْدُ الْمُقِلِّ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: کم مال والے کا تکلیف اٹھا کردینا اور پہلے ان لوگوں کو دو جن کا تم خرچ اٹھاتے ہو ۔

Abu Hurairah reported I asked Messenger of Allah ﷺ , What kind of sadaqah is most excellent? He replied What a man with little property can afford to give; and begin with those for whom you are responsible.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ١٤٨١٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٥٨) (صحیح )
1678Sunan Abu Dawood

تمام مال صدقہ کرنے کی اجازت

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَهَذَا حَدِيثُهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا أَنْ نَتَصَدَّقَ، فَوَافَقَ ذَلِكَ مَالًا عِنْدِي، فَقُلْتُ: الْيَوْمَ أَسْبِقُ أَبَا بَكْرٍ إِنْ سَبَقْتُهُ يَوْمًا فَجِئْتُ بِنِصْفِ مَالِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا أَبْقَيْتَ لِأَهْلِكَ ؟قُلْتُ: مِثْلَهُ، قَالَ: وَأَتَى أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِكُلِّ مَا عِنْدَهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا أَبْقَيْتَ لِأَهْلِكَ ؟قَالَ: أَبْقَيْتُ لَهُمُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، قُلْتُ: لَا أُسَابِقُكَ إِلَى شَيْءٍ أَبَدًا.

اسلم کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب ؓ کو کہتے سنا کہ ایک دن ہمیں رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ ہم صدقہ کریں، اتفاق سے اس وقت میرے پاس دولت تھی، میں نے کہا: اگر میں کسی دن ابوبکر ؓ پر سبقت لے جا سکوں گا تو آج کا دن ہوگا، چناچہ میں اپنا آدھا مال لے کر آیا، رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: اپنے گھر والوں کے لیے تم نے کیا چھوڑا ہے؟ ، میں نے کہا: اسی قدر یعنی آدھا مال، اور ابوبکر ؓ اپنا سارا مال لے کر حاضر ہوئے، رسول اللہ ﷺ نے ان سے پوچھا: اپنے گھر والوں کے لیے تم نے کیا چھوڑا ہے؟ ، انہوں نے کہا میں ان کے لیے اللہ اور اس کے رسول کو چھوڑ کر آیا ہوں ١ ؎، تب میں نے (دل میں) کہا: میں آپ سے کبھی بھی کسی معاملے میں نہیں بڑھ سکوں گا۔

Narrated Umar ibn al-Khattab (RA) : The Messenger of Allah ﷺ commanded us one day to give sadaqah. At that time I had some property. I said: Today I shall surpass Abu Bakr if I surpass him any day. I, therefore, brought half my property. The Messenger of Allah ﷺ asked: What did you leave for your family? I replied: The same amount. Abu Bakr brought all that he had with him. The Messenger of Allah ﷺ asked him: What did you leave for your family? He replied: I left Allah and His Messenger for them. I said: I shall never compete you in anything.

Notes · وضاحت
١ ؎: گذشتہ باب کی حدیثوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سارا مال اللہ کی راہ میں دینے سے اللہ کے رسول نے روکا ہے، جب کہ باب کی اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ ابوبکر ؓ نے اپنی پوری دولت اللہ کی راہ میں دے دی، اور یہ بات آپ کی فضیلت و بزرگی کا باعث بھی بنی، اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ ممانعت کا حکم ایسے لوگوں کے لئے ہے جن کے اعتماد اور توکل میں کمزوری ہو، اور وہ مال دینے کے بعد مفلسی سے گھبرائیں اور ندامت و شرمندگی محسوس کریں، لیکن اس کے برخلاف اگر کسی شخص کے اندر ابوبکر ؓ جیسا جذبہ، اللہ کی ذات پر اعتماد و توکل ہو تو اس کے لئے اس کام میں کوئی حرج نہیں بلکہ باعث خیر و برکت ہوگا، ان شاء اللہ۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/المناقب ١٦ (٣٦٧٥)، ( تحفة الأشراف: ١٠٣٩٠)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الزکاة ٢٦ (١٧٠١) (حسن )
1679Sunan Abu Dawood

پانی پلانے کی فضیلت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدٍ، أَنَّ سَعْدًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَيُّ الصَّدَقَةِ أَعْجَبُ إِلَيْكَ ؟ قَالَ: الْمَاءُ.

سعد بن عبادہ انصاری خزرجی ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر عرض کیا: کون سا صدقہ آپ کو زیادہ پسند ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: پانی (کا صدقہ) ١ ؎۔

Saeed reported Saad came to the Prophet ﷺ and asked him Which sadaqah do you like most? He replied Water.

Notes · وضاحت
١ ؎: پانی کا صدقہ: مثلاً کنواں کھدوانا، نل لگوانا، مسافروں، مصلیوں اور دیگر ضرورت مندوں کے لئے پانی کی سبیل لگانا۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الوصایا ٩ (٣٦٩٤)، سنن ابن ماجہ/الأدب ٨ (٣٦٨٤)، ( تحفة الأشراف: ٣٨٣٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٨٥، ٦/٧) (حسن )
1680Sunan Abu Dawood

پانی پلانے کی فضیلت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَالْحَسَنِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ.

اس سند سے بھی سعد بن عبادہ ؓ نبی اکرم ﷺ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔

The above mentioned tradition has also been narrated by Saad bin Ubadah from the Prophet ﷺ in the same manner.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، ( تحفة الأشراف: ٣٨٣٤) (حسن )
1681Sunan Abu Dawood

پانی پلانے کی فضیلت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أُمَّ سَعْدٍ مَاتَتْ، فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ: الْمَاءُ، قَالَ: فَحَفَرَ بِئْرًا، وَقَالَ: هَذِهِ لِأُمِّ سَعْدٍ.

سعد بن عبادہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ام سعد (میری ماں) انتقال کر گئیں ہیں تو کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: پانی ۔ راوی کہتے ہیں: چناچہ سعد نے ایک کنواں کھدوایا اور کہا: یہ ام سعد ١ ؎ کا ہے۔

Narrated Saad ibn Ubadah (RA) : Saad asked: Messenger of Allah, Umm Saad has died; what form of sadaqah is best? He replied: Water (is best). He dug a well and said: It is for Umm Saad.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس کا ثواب ام سعد ؓ کے لئے ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٦٧٨، ( تحفة الأشراف: ٣٨٣٤) (حسن) (یہ روایت حدیث نمبر ١٦٧٩ سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ خود اس کی سند میں رجل ایک مبہم راوی ہے )
1682Sunan Abu Dawood

پانی پلانے کی فضیلت

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِشْكَابَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الَّذِي كَانَ يَنْزِلُ فِي بَنِي دَالَانَ، عَنْنُبَيْحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَيُّمَا مُسْلِمٍ كَسَا مُسْلِمًا ثَوْبًا عَلَى عُرْيٍ كَسَاهُ اللَّهُ مِنْ خُضْرِ الْجَنَّةِ، وَأَيُّمَا مُسْلِمٍ أَطْعَمَ مُسْلِمًا عَلَى جُوعٍ أَطْعَمَهُ اللَّهُ مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّةِ، وَأَيُّمَا مُسْلِمٍ سَقَى مُسْلِمًا عَلَى ظَمَإٍ سَقَاهُ اللَّهُ مِنَ الرَّحِيقِ الْمَخْتُومِ.

ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس مسلمان نے کسی مسلمان کو کپڑا پہنایا جب کہ وہ ننگا تھا تو اللہ اسے جنت کے سبز کپڑے پہنائے گا، اور جس مسلمان نے کسی مسلمان کو کھلایا جب کہ وہ بھوکا تھا تو اللہ اسے جنت کے پھل کھلائے گا اور جس مسلمان نے کسی مسلمان کو پانی پلایا جب کہ وہ پیاسا تھا تو اللہ اسے (جنت کی) مہربند شراب پلائے گا ۔

Narrated Abu Saeed (al-Khudri): The Prophet ﷺ said: If any Muslim clothes a Muslim when he is naked, Allah will clothe him with some green garments of Paradise; if any Muslim feeds a Muslim when he is hungry, Allah will feed him with some of the fruits of Paradise; and if any Muslim gives a Muslim drink when he is thirsty, Allah will give him some of the pure wine which is sealed to drink.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٤٣٨٧)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/صفة القیامة ١٨ (٢٤٤٩)، مسند احمد (٣/١٣) (ضعیف) (اس کے راوی نبی ح لین الحدیث ہیں )
1683Sunan Abu Dawood

کسی کو کوئی چیز عاریةً دینا باعث اجر ہے

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى وَهَذَا حَدِيثُ مُسَدَّدٍ وَهُوَ أَتَمُّ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي كَبْشَةَ السَّلُولِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرْبَعُونَ خَصْلَةً: أَعْلَاهُنَّ مَنِيحَةُ الْعَنْزِ مَا يَعْمَلُ رَجُلٌ بِخَصْلَةٍ مِنْهَا رَجَاءَ ثَوَابِهَا وَتَصْدِيقَ مَوْعُودِهَا إِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ بِهَا الْجَنَّةَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: فِي حَدِيثِ مُسَدَّدٍ، قَالَ حَسَّانُ: فَعَدَدْنَا مَا دُونَ مَنِيحَةِ الْعَنْزِ مِنْ رَدِّ السَّلَامِ، وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ، وَإِمَاطَةِ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ، وَنَحْوَهُ فَمَا اسْتَطَعْنَا أَنْ نَبْلُغَ خَمْسَةَ عَشَرَ خَصْلَةً.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: چالیس خصلتیں ہیں ان میں سب سے بہتر خصلت بکری کا عطیہ دینا ہے، جو کوئی بھی ان میں سے کسی (خصلت نیک کام) کو ثواب کی امید سے اور (اللہ کی طرف سے) اپنے سے کئے ہوئے وعدے کو سچ سمجھ کر کرے گا اللہ اسے اس کی وجہ سے جنت میں داخل کرے گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مسدد کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ حسان کہتے ہیں: ہم نے بکری عطیہ دینے کے علاوہ بقیہ خصلتوں اعمال صالحہ کو گنا جیسے سلام کا جواب دینا، چھینک کا جواب دینا اور راستے سے کوئی بھی تکلیف دہ چیز ہٹا دینا وغیرہ تو ہم پندرہ خصلتوں تک بھی نہیں پہنچ سکے۔

Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: The Prophet ﷺ said: There are forty characteristics; the highest of them is to give a goat on loan (for benefiting from its milk). If any man carries out any of those characteristics with the hope of getting a reward and testifying to the promise for it, Allah will admit him to Paradise for it. Abu Dawud said: In the version of Musaddad, Hassan said: So we counted other characteristics than lending the goat: to return the greeting, to respond to sneezing, and remove things which cause annoyance to the people from their path, and similar other things. We could not reach fifteen characteristics.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الھبة ٣٥ (٢٦٣١)، ( تحفة الأشراف: ٨٩٦٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٦٠، ١٩٤، ١٩٦) (صحیح )
1684Sunan Abu Dawood

خزانچی کے ثواب کا بیان

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْمَعْنَى وَاحِدٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْخَازِنَ الْأَمِينَ الَّذِي يُعْطِي مَا أُمِرَ بِهِ كَامِلًا مُوَفَّرًا طَيِّبَةً بِهِ نَفْسُهُ حَتَّى يَدْفَعَهُ إِلَى الَّذِي أُمِرَ لَهُ بِهِ أَحَدُ الْمُتَصَدِّقَيْنِ.

ابوموسیٰ ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: امانت دار خازن جو حکم کے مطابق پورا پورا خوشی خوشی اس شخص کو دیتا ہے جس کے لیے حکم دیا گیا ہے تو وہ بھی صدقہ کرنے والوں میں سے ایک ہے ۔

Abu Musa reported The Messenger of Allah ﷺ as saying The faithful trustee who gives what he is commanded completely and in full with a good will, and delivers it to the one whom he was told to give it, is one of the two who gives sadaqah.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ٢٥ (١٤٣٨)، والإجارة ١ (٢٢٦٠)، والوکالة ١٦ (٢٣١٩)، صحیح مسلم/الزکاة ٢٥ (١٠٢٣)، سنن النسائی/الزکاة ٦٧ (٢٥٦١)، ( تحفة الأشراف: ٩٠٣٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/ ٣٩٤، ٤٠٤، ٤٠٩) (صحیح )