Sunan Abu Dawood

All 5,295 hadiths in order · Page 83 of 265

1645Sunan Abu Dawood

سوال سے بچنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ. ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ حَبِيبٍ أَبُو مَرْوَانَ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ وَهَذَا حَدِيثُهُ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ سَلْمَانَ، عَنْ سَيَّارٍ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ طَارِقٍ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ فَأَنْزَلَهَا بِالنَّاسِ لَمْ تُسَدَّ فَاقَتُهُ وَمَنْ أَنْزَلَهَا بِاللَّهِ أَوْشَكَ اللَّهُ لَهُ بِالْغِنَى إِمَّا بِمَوْتٍ عَاجِلٍ أَوْ غِنًى عَاجِلٍ.

ابن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جسے فاقہ پہنچے اور وہ لوگوں سے اسے ظاہر کر دے تو اس کا فاقہ ختم نہیں ہوگا، اور جو اس کو اللہ سے ظاہر کرے (یعنی اللہ سے اس کے دور ہونے کی دعا مانگے) تو قریب ہے کہ اسے اللہ بےپروا کر دے یا تو جلد موت دے کر یا جلد مالدار کر کے ۔

Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : The Prophet ﷺ said: If one who is afflicted with poverty refers it to me, his poverty will not be brought to an end; but if one refers it to Allah, He will soon give him sufficiency, either by a speedy death or by a sufficiency which comes later.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الزہد ١٨ (٢٣٢٦) ( تحفة الأشراف: ٩٣١٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٨٩، ٤٠٧، ٤٤٢) (صحیح )
1646Sunan Abu Dawood

سوال سے بچنے کا بیان

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ مَخْشِيٍّ، عَنْ ابْنِ الْفِرَاسِيِّ، أَنَّ الْفِرَاسِيّ، قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَسْأَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا، وَإِنْ كُنْتَ سَائِلًا لَا بُدَّ فَاسْأَلِ الصَّالِحِينَ.

ابن الفراسی سے روایت ہے کہ فراسی نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا! اللہ کے رسول! کیا میں سوال کروں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں اور اگر سوال کرنا ضروری ہی ہو تو نیک لوگوں سے سوال کرو ۔

Narrated Ibn al-Firasi: Al-Firasi asked the Messenger of Allah ﷺ : May I beg, Messenger of Allah? The Prophet ﷺ said: No, but if there is no escape from it, beg from the upright.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الزکاة ٨٤ (٢٥٨٨)، ( تحفة الأشراف: ١٥٥٢٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٣٤) (ضعیف) (اس کے راوی مسلم لین الحدیث اور ابن الفراسی مجہول ہیں )
1647Sunan Abu Dawood

سوال سے بچنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ ابْنِ السَّاعِدِيِّ، قَالَ: اسْتَعْمَلَنِي عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْهَا وَأَدَّيْتُهَا إِلَيْهِ أَمَرَ لِي بِعُمَالَةٍ، فَقُلْتُ: إِنَّمَا عَمِلْتُ لِلَّهِ وَأَجْرِي عَلَى اللَّهِ، قَالَ: خُذْ مَا أُعْطِيتَ فَإِنِّي قَدْ عَمِلْتُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَفَعَمَّلَنِي، فَقُلْتُ مِثْلَ قَوْلِكَ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أُعْطِيتَ شَيْئًا مِنْ غَيْرِ أَنْ تَسْأَلَهُ فَكُلْ وَتَصَدَّقْ.

ابن ساعدی کہتے ہیں کہ عمر ؓ نے مجھے صدقے پر عامل مقرر کیا تو جب میں اس کام سے فارغ ہوا اور اسے ان کے حوالے کردیا تو انہوں نے میرے لیے محنتانے (اجرت) کا حکم دیا، میں نے عرض کیا: میں نے یہ کام اللہ کے لیے کیا اور میرا بدلہ اللہ کے ذمہ ہے، عمر ؓ نے کہا: جو تمہیں دیا جا رہا ہے اسے لے لو، میں نے بھی یہ کام رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں کیا تھا، آپ ﷺ نے مجھے دینا چاہا تو میں نے بھی وہی بات کہی جو تم نے کہی، اس پر رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا : جب تمہیں کوئی چیز بغیر مانگے ملے تو اس میں سے کھاؤ اور صدقہ کرو ۔

Ibn al-Saidi said: Umar employed me to collect the sadaqah. When I finished doing so and gave it to him, he ordered payment to be given to me. I said: I did only for Allah’s sake, and my reward will come from Allah. He said: Take what you are given, for I acted (as a collector) during the time of the Messenger of Allah ﷺ and he assigned me a payment. Thereupon, I said the same kind of thing as you have said, to which Messenger of Allah ﷺ said: When you are given something without asking for it, you should use it for your own purpose and as sadaqah.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ٥١ (١٤٧٣)، صحیح مسلم/الزکاة ٣٧ (١٠٤٥)، سنن النسائی/الزکاہ ٩٤ (٢٦٠٥)، ( تحفة الأشراف: ١٠٤٨٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٧، ٤٠، ٥٢) (صحیح )
1648Sunan Abu Dawood

سوال سے بچنے کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَذْكُرُ الصَّدَقَةَ وَالتَّعَفُّفَ مِنْهَا وَالْمَسْأَلَةَ: الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى، وَالْيَدُ الْعُلْيَا الْمُنْفِقَةُ وَالسُّفْلَى السَّائِلَةُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: اخْتُلِفَ عَلَى أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ عَبْدُ الْوَارِثِ: الْيَدُ الْعُلْيَا الْمُتَعَفِّفَةُ، وقَالَ أَكْثَرُهُمْ: عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، الْيَدُ الْعُلْيَا الْمُنْفِقَةُ، وقَالَ وَاحِدٌ: عَنْ حَمَّادٍ، الْمُتَعَفِّفَةُ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اور آپ منبر پر تھے صدقہ کرنے کا، سوال سے بچنے اور مانگنے کا ذکر کر رہے تھے کہ: اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے، اور اوپر والا ہاتھ (اللہ کی راہ میں) خرچ کرنے والا ہاتھ ہے، اور نیچے والا ہاتھ سوال کرنے والا ہاتھ ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث میں ایوب کی نافع سے روایت پر اختلاف کیا گیا ہے ١ ؎، عبدالوارث نے کہا: اليد العليا المتعففة (اوپر والا ہاتھ وہ ہے جو مانگنے سے بچے) ، اور اکثر رواۃ نے حماد بن زیدی سے روایت میں:اليد العليا المنفقة نقل کیا ہے (یعنی اوپر والا ہاتھ دینے والا ہاتھ ہے) اور ایک راوی نے حماد سے المتعففة روایت کی ٢ ؎۔

Abdullah bin Umar (RA) reported that the Messenger of Allah ﷺ said when he was on the pulpit speaking of sadaqah and abstention from it and begging: the upper hand is better than the lower one, the upper being the one which bestows and the lower which begs. Abu Dawud said: The version of this tradition narrated by Ayyub from Nafi is disputed. The narrator Abd al-Warith said in his version: `The upper hand is the one which abstains from begging;” but most of the narrators have narrated from Hammad bin Zaid from Ayyub the words “ The upper hand is the one which bestows. ” A narrator from Hammad said in his version “the one which abstains from begging. ”

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ایوب کے تلامذہ نے ایوب سے اس حدیث میں اختلاف کیا ہے بعض رواۃ (جیسے حماد بن زید وغیرہ) نے ایوب سے اليد العليا المنفقة کے الفاظ کے ساتھ روایت کی ہے جیسا کہ مالک نے روایت کی ہے، اس کے برخلاف عبدالوارث نے ایوب سے اليد العليا المتعففة کے الفاظ کے ساتھ روایت کی ہے۔ ٢ ؎: یعنی حماد کے تلامذہ نے بھی حماد سے روایت میں اختلاف کیا ہے ان کے اکثر تلامذہ نے ان سے المنفقة کا لفظ روایت کیا ہے، اور ایک راوی نے جو مسدد بن مسرہد ہیں ان سے المتعففة کا لفظ روایت کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ١٨ (١٤٢٩)، صحیح مسلم/الزکاة ٣٢ (١٠٣٣)، سنن النسائی/الزکاة ٥٢ (٢٥٣٤)، (تحفة الأشراف: ٨٣٣٧)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصدقة ٢ (٨)، مسند احمد (٢/٩٧)، سنن الدارمی/الزکاة ٢٢ (١٦٩٢) (صحیح )
1649Sunan Abu Dawood

سوال سے بچنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ التَّيْمِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو الزَّعْرَاءِ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِيهِ مَالِكِ بْنِ نَضْلَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْأَيْدِي ثَلَاثَةٌ: فَيَدُ اللَّهِ الْعُلْيَا، وَيَدُ الْمُعْطِي الَّتِي تَلِيهَا، وَيَدُ السَّائِلِ السُّفْلَى، فَأَعْطِ الْفَضْلَ وَلَا تَعْجِزْ عَنْ نَفْسِكَ.

مالک بن نضلہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہاتھ تین طرح کے ہیں: اللہ کا ہاتھ جو سب سے اوپر ہے، دینے والے کا ہاتھ جو اس کے بعد ہے اور لینے والے کا ہاتھ جو سب سے نیچے ہے، لہٰذا جو ضرورت سے زائد ہو اسے دے دو اور اپنے نفس کی بات مت مانو ۔

Narrated Malik ibn Nadlah: The Prophet ﷺ said: Hands are of three types: Allahs hand is the upper one; the bestowers hand is the one near it; the beggars hand is the lower one. So bestow what is surplus, and do not submit yourself to the demand of your soul.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ١١٢٠٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٧٣) (صحیح )
1650Sunan Abu Dawood

بنی ہاشم کے لئے صدقہ لینا جائز نہیں ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ ابْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلًا عَلَى الصَّدَقَةِ مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ، فَقَالَ لِأَبِي رَافِعٍ: اصْحَبْنِي فَإِنَّكَ تُصِيبُ مِنْهَا، قَالَ: حَتَّى آتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْأَلَهُ، فَأَتَاهُ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: مَوْلَى الْقَوْمِ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَإِنَّا لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ.

ابورافع ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے بنی مخزوم کے ایک شخص کو صدقہ وصول کرنے کے لیے بھیجا، اس نے ابورافع سے کہا: میرے ساتھ چلو اس میں سے کچھ تمہیں بھی مل جائے گا، انہوں نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس جا کر پوچھ لوں، چناچہ وہ آپ کے پاس آئے اور دریافت کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: قوم کا غلام انہیں ١ ؎ میں سے ہوتا ہے اور ہمارے لیے صدقہ لینا حلال نہیں ۔

Narrated Abu Rafi: The Prophet ﷺ sent a man of the Banu Makhzum to collect sadaqah. He said to Abu Rafi: Accompany me so that you may get some of it. He said: (I cannot take it) until I go to the Prophet ﷺ and ask him. Then he went to him and asked him. He said: The sadaqah is not lawful for us, and the client of a people is treated as one of them.

Notes · وضاحت
١ ؎: ابو رافع رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام تھے لہٰذا وہ بھی بنی ہاشم میں سے ہوئے، اس لئے ان کے لئے بھی صدقہ لینا جائز نہیں ہوا۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الزکاة ٢٥ (٦٥٧)، سنن النسائی/الزکاة ٩٧ (٢٦١٣)، ( تحفة الأشراف: ١٦٥٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٠، ٣٩٠، ١٢٠١٨) (صحیح )
1651Sunan Abu Dawood

بنی ہاشم کے لئے صدقہ لینا جائز نہیں ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ ابْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلًا عَلَى الصَّدَقَةِ مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ، فَقَالَ لِأَبِي رَافِعٍ: اصْحَبْنِي فَإِنَّكَ تُصِيبُ مِنْهَا ، قَالَ: حَتَّى آتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْأَلَهُ، فَأَتَاهُ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: مَوْلَى الْقَوْمِ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَإِنَّا لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ .

انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کا گزر کسی پڑی ہوئی کھجور پر ہوتا تو آپ کو اس کے لے لینے سے سوائے اس اندیشے کے کوئی چیز مانع نہ ہوتی کہ کہیں وہ صدقے کی نہ ہو۔

Anas said: The Messenger of Allah ﷺ came upon a date on the road; he would not take it for fear of being a part of the sadaqah.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ١١٦٠)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع ٤ (٢٠٥٥)، واللقطة ٦ (٢٤٣١)، صحیح مسلم/الزکاة ٥٠ (١٠٧١)، مسند احمد (٣/١٨٤، ١٩٢، ٢٥٨) (صحیح )
1652Sunan Abu Dawood

بنی ہاشم کے لئے صدقہ لینا جائز نہیں ہے

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا أَبِي، عَنْ خَالِدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ تَمْرَةً، فَقَالَ: لَوْلَا أَنِّي أَخَافُ أَنْ تَكُونَ صَدَقَةً لَأَكَلْتُهَا. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، هَكَذَا.

انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک کھجور (پڑی) پائی تو فرمایا: اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہو تاکہ یہ صدقے کی ہوگی تو میں اسے کھا لیتا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ہشام نے بھی اسے قتادہ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔

Anas said: Messenger of Allah ﷺ found a date and said: Were it not that I fear it may be part of the sadaqah, I would eat it.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ١١٦٥)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الزکاة ٥٠ (١٠٧١)، مسند احمد (٣/٢٩١) (صحیح )
1653Sunan Abu Dawood

بنی ہاشم کے لئے صدقہ لینا جائز نہیں ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ كُرَيْبٍمَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بَعَثَنِي أَبِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِبِلٍ أَعْطَاهَا إِيَّاهُ مِنَ الصَّدَقَةِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے نبی اکرم ﷺ کے پاس اس اونٹ کے سلسلہ میں بھیجا جو آپ ﷺ نے انہیں صدقے میں سے دیا تھا ١ ؎۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : My father sent me to the Prophet ﷺ to take the camels which he had given him from among those of sadaqah.

Notes · وضاحت
١ ؎: عباس ؓ بنی ہاشم میں سے ہیں اور بنی ہاشم کے لئے صدقہ جائز نہیں، اسی وجہ سے خطابی نے یہ تاویل کی ہے کہ ہوسکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عباس ؓ سے یہ اونٹ بطور قرض لیا ہو، پھر جب آپ ﷺ کے پاس صدقہ کے اونٹ آگئے ہوں تو آپ ﷺ نے اسی قرض کو صدقہ کے اونٹ سے واپس کیا ہو، اور بیہقی نے ایک تاویل یہ بھی کی ہے کہ ہوسکتا ہے کہ یہ بنی ہاشم پر صدقہ حرام ہونے سے پہلے کی بات ہو۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٦٣٤٤)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الکبری/ قیام اللیل ٢٧ (١٣٣٩)، مسند احمد (١/٣٦٤) (صحیح )
1654Sunan Abu Dawood

بنی ہاشم کے لئے صدقہ لینا جائز نہیں ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، نَحْوَهُ، زَادَأَبِي يُبَدِّلُهَا لَهُ.

اس سند سے بھی ابن عباس ؓ سے اسی طرح کی روایت مروی ہے البتہ اس میں (ابوعبیدہ نے) یہ اضافہ کیا ہے کہ میرے والد اسے آپ ﷺ سے بدل رہے تھے ١ ؎۔

The aforesaid tradition has also been transmitted by Ibn Abbas through a different chain of narrators in a similar manner. This version adds: “My father exchanged them for him”.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میرے والد عباس ؓ نے مجھے رسول اللہ ﷺ کے پاس اس لئے بھیجا کہ آپ اس اونٹ کو جو آپ نے انہیں دیا تھا صدقہ کے اونٹ سے بدل دیں اس مفہوم کے لحاظ سے من الصدقة “ ” يبدلها سے متعلق ہوگا، ناکہ أعطاها سے، کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے انہیں یہ اونٹ صدقہ کے علاوہ مال سے دیا تھا، پھر جب صدقہ کے اونٹ آئے تو انہوں نے اسے بدلنا چاہا اس صورت میں خطابی اور بیہقی کی اس تاویل کی ضرورت نہیں جو انہوں نے اوپر والی حدیث کے سلسلہ میں کی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٦٣٥٠) (صحیح )
1655Sunan Abu Dawood

فقیر صدقہ کے مال سے غنی کو تحفہ دے سکتا ہے

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلَحْمٍ، قَالَ: مَا هَذَا ؟قَالُوا: شَيْءٌ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ، فَقَالَ: هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس گوشت لایا گیا، آپ نے پوچھا: یہ گوشت کیسا ہے؟ ، لوگوں نے عرض کیا: یہ وہ چیز ہے جسے بریرہ ؓ پر صدقہ کیا گیا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: یہ اس (بریرہ) کے لیے صدقہ اور ہمارے لیے (بریرہ کی طرف سے) ہدیہ ہے ۔

Anas said when some meat was brought to the Prophet ﷺ , he asked What is this? He was told this is a thing (meat), which was given as sadaqah to Barirah. Thereupon, he said it is sadaqah for her and a gift to us.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ٦٢ (١٤٩٥)، والھبة ٧ (٢٥٧٧٧)، صحیح مسلم/الزکاة ٥٢ (١٠٧٤)، سنن النسائی/العمری ١ (٣٧٩١)، (تحفة الأشراف: ١٢٤٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١١٧، ١٣٠، ١٨٠، ٢٧٦) (صحیح )
1656Sunan Abu Dawood

کوئی شخص صدقہ کرنے کے بعد پھر اسی چیز کو وراثت میں پائے تو اسکے لئے درست ہے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِبُرَيْدَةَ، أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: كُنْتُ تَصَدَّقْتُ عَلَى أُمِّي بِوَلِيدَةٍ وَإِنَّهَا مَاتَتْ وَتَرَكَتْ تِلْكَ الْوَلِيدَةَ، قَالَ: قَدْ وَجَبَ أَجْرُكِ وَرَجَعَتْ إِلَيْكِ فِي الْمِيرَاثِ.

بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور کہا: میں نے ایک لونڈی اپنی ماں کو صدقہ میں دی تھی، اب وہ مرگئی ہیں اور وہی لونڈی چھوڑ کرگئی ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: تمہارا اجر پورا ہوگیا، اور وہ لونڈی تیرے پاس ترکے میں لوٹ آئی ۔

Buraidah said A woman came to the Messenger of Allah ﷺ and said I gave a slave girl as sadaqah to my mother who has now died and has left that slave girl. He said your reward is sure and the inheritance has given her back to you.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصیام ٢٧ (١١٤٩)، سنن الترمذی/الزکاة ٣١ (٦٦٧)، سنن ابن ماجہ/الصدقات ٣ (٢٣٩٤)، ( تحفة الأشراف: ١٩٨٠)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الکبری/ الفرائض (٦٣١٥، ٦٣١٦)، مسند احمد (٥/٣٥١، ٣٦١)، ویأتی ہذا الحدیث برقم (٢٨٧٧، ٣٣٠٩) (صحیح )
1657Sunan Abu Dawood

مال کا حق

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كُنَّا نَعُدُّ الْمَاعُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَارِيَةَ الدَّلْوِ وَالْقِدْرِ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ہم ڈول اور دیگچی عاریۃً دینے کو ماعون ١ ؎ میں شمار کرتے تھے۔

Notes · وضاحت
١ ؎: عام استعمال کی ایسی چیزیں جنہیں عام طور پر لوگ ایک دوسرے سے عاریۃ لیتے رہتے ہیں۔ Narrated Abdullah ibn Masud: During the time of the Messenger of Allah ﷺ we used to consider maun (this of daily use) lending a bucket and cooking-pot.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٩٢٧٣)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الکبری/التفسیر (١١٧٠١)، مسند احمد ٣٨٧) (حسن )
1658Sunan Abu Dawood

مال کا حق

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَا مِنْ صَاحِبِ كَنْزٍ لَا يُؤَدِّي حَقَّهُ إِلَّا جَعَلَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُحْمَى عَلَيْهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوَى بِهَا جَبْهَتُهُ وَجَنْبُهُ وَظَهْرُهُ حَتَّى يَقْضِيَ اللَّهُ تَعَالَى بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ ثُمَّ يَرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَى النَّارِ، وَمَا مِنْ صَاحِبِ غَنَمٍ لَا يُؤَدِّي حَقَّهَا إِلَّا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَوْفَرَ مَا كَانَتْ فَيُبْطَحُ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ فَتَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا وَتَطَؤُهُ بِأَظْلَافِهَا لَيْسَ فِيهَا عَقْصَاءُ وَلَا جَلْحَاءُ كُلَّمَا مَضَتْ أُخْرَاهَا رُدَّتْ عَلَيْهِ أُولَاهَا حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ ثُمَّ يَرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَى النَّارِ، وَمَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ لَا يُؤَدِّي حَقَّهَا إِلَّا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَوْفَرَ مَا كَانَتْ فَيُبْطَحُ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ فَتَطَؤُهُ بِأَخْفَافِهَا كُلَّمَا مَضَتْ عَلَيْهِ أُخْرَاهَا رُدَّتْ عَلَيْهِ أُولَاهَا حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ تَعَالَى بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ ثُمَّ يَرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَى النَّارِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کے پاس مال ہو وہ اس کا حق ادا نہ کرتا ہو تو قیامت کے روز اللہ اسے اس طرح کر دے گا کہ اس کا مال جہنم کی آگ میں گرم کیا جائے گا پھر اس سے اس کی پیشانی، پسلی اور پیٹھ کو داغا جائے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کا ایک ایسے دن میں فیصلہ فرما دے گا جس کی مقدار تمہارے (دنیاوی) حساب سے پچاس ہزار برس کی ہوگی، اس کے بعد وہ اپنی راہ دیکھے گا وہ راہ یا تو جنت کی طرف جا رہی ہوگی یا جہنم کی طرف۔ (اسی طرح) جو بکریوں والا ہو اور ان کا حق (زکاۃ) ادا نہ کرتا ہو تو قیامت کے روز وہ بکریاں اس سے زیادہ موٹی ہو کر آئیں گی، جتنی وہ تھیں، پھر اسے ایک مسطح چٹیل میدان میں ڈال دیا جائے گا، وہ اسے اپنی سینگوں سے ماریں گی اور کھروں سے کچلیں گی، ان میں کوئی بکری ٹیڑھے سینگ کی نہ ہوگی اور نہ ایسی ہوگی جسے سینگ ہی نہ ہو، جب ان کی آخری بکری مار کر گزر چکے گی تو پھر پہلی بکری (مارنے کے لیے) لوٹائی جائے گی (یعنی باربار یہ عمل ہوتا رہے گا) ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرما دے اس دن میں جس کی مقدار تمہارے (دنیاوی) حساب سے پچاس ہزار برس کی ہوگی، اس کے بعد وہ اپنی راہ دیکھ لے گا یا تو جنت کی طرف یا جہنم کی طرف۔ ( اسی طرح) جو بھی اونٹ والا ہے اگر وہ ان کا حق (زکاۃ) ادا نہیں کرتا تو یہ اونٹ قیامت کے دن پہلے سے زیادہ طاقتور اور موٹے ہو کر آئیں گے اور اس شخص کو ایک مسطح چٹیل میدان میں ڈال دیا جائے گا، پھر وہ اسے اپنے کھروں سے روندیں گے، جب آخری اونٹ بھی روند چکے گا تو پہلے اونٹ کو (روندنے کے لیے) پھر لوٹایا جائے گا، (یہ عمل چلتا رہے گا) یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرما دے گا اس دن میں جس کی مقدار تمہارے (دنیاوی) حساب سے پچاس ہزار برس کی ہوگی، پھر وہ اپنی راہ دیکھ لے گا یا تو جنت کی طرف یا جہنم کی طرف ۔

Abu Hurairah reported that Messenger of Allah ﷺ as saying If any owner of treasure (gold and silver) does not pay what is due on it, Allah will make it heated in the Hell fire on the Day of Judgment, and his side, forehead and back will be cauterized with it until Allah gives His Judgment among mankind during a day whose extent will be fifty thousand years of your count and he sees whether his path is to take him to Paradise or to Hell. If any owner does not pay zakat on them, the sheep wilkl appear on the Day or Judgment most strong and in great number, a soft sandy plain will be spread out for them ; they will gore him with their horns and trample him with their hoofs; there will be none of them with twisted horns or without horns. As often as the last of them passes him, the first of them will be brought back to him, until Allah pronounces His Judgment among mankind during a day whose extent will be fifty thousand years that you count, and he sees whether his path is to take him to Paradise or to Hell. If any owner of camels does not pay what is due on them, they will appear in on the Day or Judgment most strong and in great number, a soft sandy plain will be spread out for them ; they will gore him with their horns and trample him with their hoofs; there will be none of them with twisted horns or without horns. As often as the last of them passes him, the first of them will be brought back to him, until Allah pronounces His Judgment among mankind during a day whose extent will be fifty thousand years that you count, and he sees whether his path is to take him to Paradise or to Hell.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ١٢٦٢٤)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الزکاة ٣ (١٤٠٢)، والجہاد ١٨٩ (٢٣٧٨)، وتفسر براء ة ٦ (٣٠٧٣)، والحیل ٣ (٩٦٥٨)، صحیح مسلم/الزکاة ٦ (٩٨٧)، سنن النسائی/الزکاة ٦ (٢٤٥٠)، سنن ابن ماجہ/الزکاة ٢ (١٧٨٦)، موطا امام مالک/الزکاة ١٠(٢٢)، مسند احمد (٢/٤٩٠، ١٠١، ٢٦٢، ٣٨٣) (صحیح )
1659Sunan Abu Dawood

مال کا حق

حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ، قَالَ فِي قِصَّةِ الْإِبِلِ بَعْدَ قَوْلِهِلَا يُؤَدِّي حَقَّهَا، قَالَ: وَمِنْ حَقِّهَا حَلَبُهَا يَوْمَ وِرْدِهَا.

اس سند سے بھی ابوہریرہ ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کی ہے البتہ اس میں اونٹ کے قصے میں آپ ﷺ کے قول: لا يؤدي حقها . قال ومن حقها حلبها يوم وردها کا جملہ بھی ہے (یعنی ان کے حق میں سے یہ ہے کہ جب وہ پانی پینے (گھاٹ پر) آئیں تو ان کو دوہے) ، (اور دوہ کر مسافروں نیز دیگر محتاجوں کو پلائے) ۔

The above mentioned tradition has also been transmitted by Abu Hurairah through a different chain of narrators in a similar manner from the Prophet ﷺ . This version adds after the words “does not pay what is due on them” in the description of the camels the words “ One thing which is due being to milk them when they come down to drink water. ”

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ١٢٣٢١) (صحیح )
1660Sunan Abu Dawood

مال کا حق

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي عُمَرَ الْغُدَانِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذِهِ الْقِصَّةِ، فَقَالَ لَهُ يَعْنِي لِأَبِي هُرَيْرَةَ: فَمَا حَقُّ الْإِبِلِ ؟ قَالَ: تُعْطِي الْكَرِيمَةَ وَتَمْنَحُ الْغَزِيرَةَ وَتُفْقِرُ الظَّهْرَ وَتُطْرِقُ الْفَحْلَ وَتَسْقِي اللَّبَنَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس طرح کا قصہ سنا تو راوی نے ان سے یعنی ابوہریرہ ؓ سے پوچھا: اونٹوں کا حق کیا ہے؟ انہوں نے کہا: تم اچھا اونٹ اللہ کی راہ میں دو، زیادہ دودھ دینے والی اونٹنی عطیہ دو، سواری کے لیے جانور دو، جفتی کے لیے نر کو مفت دو اور لوگوں کو دودھ پلاؤ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : I heard the Messenger of Allah ﷺ as saying something similar to this tradition. He (the narrator) said to Abu Hurairah (RA) : What is due on camels? He replied: That you should give the best of your camels (in the path of Allah), that you lend a milch she-camel, you lend your mount for riding, that you lend the stallion for covering, and that you give the milk (to the people) for drinking.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الزکاة ٢ (٢٤٤٤)، ( تحفة الأشراف: ١٥٤٥٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٨٣، ٤٨٩، ٤٩٠) (حسن) (اس کے راوی ابوعمر الغدانی لین الحدیث ہیں، لیکن حدیث ماقبل ومابعد سے تقویت پا کر یہ حدیث حسن لغیرہ ہے )
1661Sunan Abu Dawood

مال کا حق

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا حَقُّ الْإِبِلِ ؟ فَذَكَرَ نَحْوَهُ، زَادَ: وَإِعَارَةُ دَلْوِهَا.

عبید بن عمر کہتے ہیں کہ ایک شخص نے پوچھا: اللہ کے رسول! اونٹوں کا حق کیا ہے؟ پھر اس نے اوپر جیسی روایت ذکر کی، البتہ اس میں اتنا اضافہ کیا ہے وإعارة دلوها (اس کے تھن دودھ دوہنے کے لیے عاریۃً دینا) ۔

The aforesaid tradition has also been transmitted by Ubaid bin Umair through a different chain of narrators. This version goes: A man asked: Messenger of Allah ﷺ , what is due on camels? He replied in a similar way. This version adds and to lend its udders. ”

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ١٨٩٩٧)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الزکاة ٦ (٩٨٨) (صحیح )
1662Sunan Abu Dawood

مال کا حق

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَمَرَ مِنْ كُلِّ جَادِّ عَشْرَةِ أَوْسُقٍ مِنَ التَّمْرِ بِقِنْوٍ يُعَلَّقُ فِي الْمَسْجِدِ لِلْمَسَاكِينِ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے حکم دیا کہ جو دس وسق کھجور توڑے تو ایک خوشہ مسکینوں کے واسطے مسجد میں لٹکا دے۔

Jabir bin Abdallah said The bProphet ﷺ commanded that he who plucks ten wasqs of dates from date palms should hang a bunch of dates in the mosque for the poor

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٣١٢٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٥٩، ٣٦٠) (صحیح )
1663Sunan Abu Dawood

مال کا حق

حَدَّثَنَا مُحمَّدُ بنُ عُبْدِ اللهِ الْخُزَاعِيُّ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ فَجَعَلَ يُصَرِّفُهَا يَمِينًا وَشِمَالًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ كَانَ عِنْدَهُ فَضْلُ ظَهْرٍ فَلْيَعُدْ بِهِ عَلَى مَنْ لَا ظَهْرَ لَهُ، وَمَنْ كَانَ عِنْدَهُ فَضْلُ زَادٍ فَلْيَعُدْ بِهِ عَلَى مَنْ لَا زَادَ لَهُ، حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ لَا حَقَّ لِأَحَدٍ مِنَّا فِي الْفَضْلِ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے، اتنے میں ایک شخص اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر آیا اور دائیں بائیں اسے پھیرنے لگا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کے پاس کوئی فاضل (ضرورت سے زائد) سواری ہو تو چاہیئے کہ اسے وہ ایسے شخص کو دیدے جس کے پاس سواری نہ ہو، جس کے پاس فاضل توشہ ہو تو چاہیئے کہ اسے وہ ایسے شخص کو دیدے جس کے پاس توشہ نہ ہو، یہاں تک کہ ہمیں گمان ہوا کہ ہم میں سے فاضل چیز کا کسی کو کوئی حق نہیں ۔

Abu Saeed Al-Khudri said While we were traveling along with the Messenger of Allah ﷺ a man came to him on his she camel, and began to drive her right and left. The Messenger of Allah ﷺ said he who has a spare riding beast should give it to him who has no riding beast; and he who has surplus equipment should give it to who has no equipment. We thought that none of us had a right in surplus property.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/ اللقطة ٤ (١٧٢٨)، ( تحفة الأشراف: ٤٣١٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٤) (صحیح )
1664Sunan Abu Dawood

مال کا حق

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى الْمُحَارِبِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا غَيْلَانُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، عَنْمُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ سورة التوبة آية 34، قَالَ: كَبُرَ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَا أُفَرِّجُ عَنْكُمْ، فَانْطَلَقَ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّهُ كَبُرَ عَلَى أَصْحَابِكَ هَذِهِ الْآيَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَفْرِضْ الزَّكَاةَ إِلَّا لِيُطَيِّبَ مَا بَقِيَ مِنْ أَمْوَالِكُمْ وَإِنَّمَا فَرَضَ الْمَوَارِيثَ لِتَكُونَ لِمَنْ بَعْدَكُمْ، فَكَبَّرَ عُمَرُ، ثُمَّ قَالَ لَهُ: أَلَا أُخْبِرُكَ بِخَيْرِ مَا يَكْنِزُ الْمَرْءُ: الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ إِذَا نَظَرَ إِلَيْهَا سَرَّتْهُ وَإِذَا أَمَرَهَا أَطَاعَتْهُ وَإِذَا غَابَ عَنْهَا حَفِظَتْهُ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ جب آیت کریمہ والذين يکنزون الذهب والفضة نازل ہوئی تو مسلمانوں پر بہت گراں گزری تو عمر ؓ نے کہا: تمہاری اس مشکل کو میں رفع کرتا ہوں، چناچہ وہ (نبی اکرم ﷺ کے پاس) گئے اور عرض کیا: اللہ کے نبی! آپ کے صحابہ پر یہ آیت بہت گراں گزری ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ نے زکاۃ صرف اس لیے فرض کی ہے کہ تمہارے باقی مال پاک ہوجائیں (جس مال کی زکاۃ نکل جائے وہ کنز نہیں ہے) اور اللہ نے میراث کو اسی لیے مقرر کیا تاکہ بعد والوں کو ملے ، اس پر عمر ؓ نے تکبیر کہی، پھر آپ ﷺ نے عمر ؓ سے فرمایا: کیا میں تم کو اس کی خبر نہ دوں جو مسلمان کا سب سے بہتر خزانہ ہے؟ وہ نیک عورت ہے کہ جب مرد اس کی طرف دیکھے تو وہ اسے خوش کر دے اور جب وہ حکم دے تو اسے مانے اور جب وہ اس سے غائب ہو تو اس کی حفاظت کرے ۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : When this verse was revealed: And those who hoard gold and silver, the Muslims were grieved about it. Umar said: I shall dispel your care. He, therefore, went and said: Prophet of Allah, your Companions were grieved by this verse. The Messenger of Allah ﷺ said: Allah has made zakat obligatory simply to purify your remaining property, and He made inheritances obligatory that they might come to those who survive you. Umar then said: Allah is most great. He then said to him: Let me inform you about the best a man hoards; it is a virtuous woman who pleases him when he looks at her, obeys him when he gives her a command, and guards his interests when he is away from her.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٦٣٨٣) (ضعیف) (اس کے راوی جعفر، مجاہد سے روایت میں ضعیف ہیں )