عطا کہتے ہیں زیاد یا کسی اور امیر نے عمران بن حصین ؓ کو زکاۃ کی وصولی کے لیے بھیجا، جب وہ لوٹ کر آئے تو اس نے عمران سے پوچھا: مال کہاں ہے؟ انہوں نے کہا: کیا آپ نے مجھے مال لانے بھیجا تھا؟ ہم نے اسے لیا جس طرح ہم رسول اللہ ﷺ کے عہد میں لیتے تھے، اور اس کو صرف کردیا جہاں ہم رسول اللہ ﷺ کے عہد میں صرف کرتے تھے ١ ؎۔
Ibrahim ibn Ata, the client of Imran ibn Husayn, reported on the authority of his father: Ziyad, or some other governor, sent Imran ibn Husayn to collect sadaqah (i. e. zakat). When he returned, he asked Imran: Where is the property? He replied: Did you send me to bring the property? We collected it from where we used to collect in the lifetime of the Messenger of Allah ﷺ , and we spent it where we used to spend during the time of the Messenger of Allah ﷺ .
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس شہر کے لوگوں سے زکاۃ وصولی جائے اسی شہر کے فقراء اور محتاجوں میں وہ تقسیم ہو، اگر وہاں کے لوگوں کو ضرورت نہ ہو تو دوسرے شہر کے ضرورتمندوں کی طرف اسے منتقل کیا جائے۔
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو سوال کرے اور اس کے پاس ایسی چیز ہو جو اسے اس سوال سے مستغنی اور بےنیاز کرتی ہو تو قیامت کے روز اس کے چہرے پر خموش یا خدوش یا کدوح یعنی زخم ہوں گے ، لوگوں نے سوال کیا: اللہ کے رسول! کتنے مال سے آدمی غنی ہوتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: پچاس درہم یا اس کی قیمت کے بقدر سونے ہوں ۔ یحییٰ کہتے ہیں: عبداللہ بن عثمان نے سفیان سے کہا: مجھے یاد ہے کہ شعبہ حکیم بن جبیر سے روایت نہیں کرتے ١ ؎ تو سفیان نے کہا: ہم سے اسے زبید نے محمد بن عبدالرحمٰن بن یزید سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا ہے۔
Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : The Prophet ﷺ said: He who begs (from people) when he is affluent will come on the Day of Resurrection with scrapes, scratchings, or lacerations on his face. He was asked: What constitutes affluence, Messenger of Allah? He replied: It is fifty dirhams or its value in gold. The narrator Yahya said: Abdullah ibn Sufyan said to Sufyan: I remember that Shubah does not narrate from Hakim ibn Jubayr. Sufyan said: Zubayr transmitted to us this tradition from Muhammad ibn Abdur Rahman ibn Yazid.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی حکیم بن جبیر ضعیف ہیں، لیکن ان کی متابعت زبید کر رہے ہیں جس سے یہ ضعف جاتا رہا۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الزکاة ٢٢ (٦٥٠)، سنن النسائی/الزکاة ٨٧ (٢٥٩٣)، سنن ابن ماجہ/الزکاة ٢٦ (١٨٤٠)، (تحفة الأشراف: ٩٣٨٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٨٨، ٤٤١)، سنن الدارمی/الزکاة ١٥ (١٦٨٠) (صحیح )
بنی اسد کے ایک صاحب کہتے ہیں کہ میں اور میری بیوی بقیع غرقد میں جا کر اترے، میری بیوی نے مجھ سے کہا: رسول اللہ ﷺ کے پاس جاؤ اور ہمارے لیے کچھ مانگ کر لاؤ جو ہم کھائیں، پھر وہ لوگ اپنی محتاجی کا ذکر کرنے لگے، چناچہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تو مجھے آپ کے پاس ایک شخص ملا، وہ آپ سے مانگ رہا تھا اور آپ اس سے کہہ رہے تھے: میرے پاس کچھ نہیں ہے جو میں تجھے دوں، آخر وہ ناراض ہو کر یہ کہتے ہوئے چلا گیا کہ میری عمر کی قسم، تم جسے چاہتے ہو دیتے ہو، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ میرے اوپر اس لیے غصہ ہو رہا ہے کیونکہ اسے دینے کے لیے میرے پاس کچھ نہیں ہے، تم میں سے جو سوال کرے اور اس کے پاس ایک اوقیہ (چالیس درہم) یا اس کے برابر مالیت ہو تو وہ الحاح کے ساتھ سوال کرنے کا مرتکب ہوتا ہے ١ ؎، اسدی کہتے ہیں: میں نے (اپنے جی میں) کہا: ہماری اونٹنی تو اوقیہ سے بہتر ہے، اوقیہ تو چالیس ہی درہم کا ہوتا ہے، وہ کہتے ہیں: چناچہ میں لوٹ آیا اور آپ سے کچھ بھی نہیں مانگا، اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کے پاس جو اور منقی آیا، آپ نے اس میں سے ہمیں بھی حصہ دیا، أو كما قال یہاں تک کہ اللہ نے ہمیں غنی کردیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ثوری نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے جیسے مالک نے کیا ہے۔
Ata bin Yasar said: A man from Banu Asad said: I and my family alighted at Baqi al-Gharqad. My wife said to me: Go the Messenger of Allah ﷺ and beg something from him for our eating, and made a mention of there need. So I went to the Messenger of Allah ﷺ . I found with a man who was begging from him and he was saying to him: I have nothing to give you. The man turned away from him in anger while he was saying: By my life, you give anyone you wish. The Messenger of Allah ﷺ said: He’s anger with me, for I have nothing to give him. If any of you begs when he has an Uqiyah or its equivalent, he has begged immoderately. The man of Banu Asad said: So I said: The she camel of ours is better than an uqiyah, while an uqiyah is equivalent to 40 Dirhams. I therefore returned and did not beg from him. Afterwards some barley and raisins where brought to the Messenger of Allah ﷺ . He gave us a share from them (or as he reported)till Allah, the Exalted, made us self-sufficient (i. e well off). Abu Dawud said: Al-Thawri narrated it as Malik narrated.
Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث میں الحاف ہے یعنی الحاح اور شدید اصرار، ایسا سوال کرنا قرآن کے مطابق ناپسندیدہ عمل ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الزکاة ٩٠ (٢٥٩٧)، ( تحفة الأشراف: ١٥٦٤٠)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصدقة ١(٣)، مسند احمد (٤/٣٦، ٥/٤٣٠) (صحیح )
ابوسعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو سوال کرے حالانکہ اس کے پاس ایک اوقیہ ہو تو اس نے الحاف کیا ، میں نے (اپنے جی میں) کہا: میری اونٹنی یاقوتہ ایک اوقیہ سے بہتر ہے۔ (ہشام کی روایت میں ہے: چالیس درہم سے بہتر ہے) ، چناچہ میں لوٹ آیا اور میں نے آپ سے کچھ نہیں مانگا ١ ؎۔ ہشام کی روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ اوقیہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں چالیس درہم کا ہوتا تھا۔
Narrated Abu Saeed al-Khudri (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone begs when he has something equivalent to an uqiyah in value, he has begged immoderately. So I said: My she-camel, Yaqutah, is better than an uqiyah. The version of Hisham goes: better than forty dirhams. So I returned and did not beg anything from him. Hisham added in his version: An uqiyah during the time of the Messenger of Allah ﷺ was equivalent to forty dirhams.
Notes · وضاحت
١ ؎: آپ کی والدہ محترمہ نے آپ کو اللہ کے رسول ﷺ سے کچھ مانگنے کے لئے بھیجا تھا جیسا کہ نسائی کی روایت میں صراحت ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الزکاة ٨٩ (٢٥٩٦)، ( تحفة الأشراف: ٤١٢١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٩) (حسن )
ابوکبشہ سلولی کہتے ہیں ہم سے سہل بن حنظلیہ نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس عیینہ بن حصن اور اقرع بن حابس آئے، انہوں نے آپ سے مانگا، آپ نے انہیں ان کی مانگی ہوئی چیز دینے کا حکم دیا اور معاویہ ؓ کو حکم دیا کہ وہ ان دونوں کے لیے خط لکھ دیں جو انہوں نے مانگا ہے، اقرع نے یہ خط لے کر اسے اپنے عمامے میں لپیٹ لیا اور چلے گئے لیکن عیینہ خط لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے: محمد! کیا آپ چاہتے ہیں کہ اپنی قوم کے پاس ایسا خط لے کر جاؤں جو متلمس ١ ؎ کے صحیفہ کی طرح ہو، جس کا مضمون مجھے معلوم نہ ہو؟ معاویہ نے ان کی یہ بات رسول اللہ ﷺ سے بیان کی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو سوال کرے اس حال میں کہ اس کے پاس ایسی چیز ہو جو اسے سوال سے بےنیاز کردیتی ہو تو وہ جہنم کی آگ زیادہ کرنا چاہ رہا ہے ۔ (ایک دوسرے مقام پر نفیلی نے جہنم کی آگ کے بجائے جہنم کا انگارہ کہا ہے) ۔ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کس قدر مال آدمی کو غنی کردیتا ہے؟ (نفیلی نے ایک دوسرے مقام پر کہا: غنی کیا ہے، جس کے ہوتے ہوئے سوال نہیں کرنا چاہیئے؟ ) آپ ﷺ نے فرمایا: اتنی مقدار جسے وہ صبح و شام کھا سکے ۔ ایک دوسری جگہ میں نفیلی نے کہا: اس کے پاس ایک دن اور ایک رات یا ایک رات اور ایک دن کا کھانا ہو، نفیلی نے اسے مختصراً ہم سے انہیں الفاظ کے ساتھ بیان کیا جنہیں میں نے ذکر کیا ہے۔
Narrated Sahl ibn Hanzaliyyah (RA) : Uyaynah ibn Hisn and Aqra ibn Habis came to the Messenger of Allah ﷺ . They begged from him. He commanded to give them what they begged. He ordered Muawiyah to write a document to give what they begged. Aqra took his document, wrapped it in his turban, and went away. As for Uyaynah, he took his document and came to the Prophet ﷺ at his home, and said to him: Muhammad, do you see me? I am taking a document to my people, but I do not know what it contains, just like the document of al-Mutalammis. Muawiyah informed the Messenger of Allah ﷺ of his statement. Thereupon the Messenger of Allah ﷺ said: He who begs (from people) when he has sufficient is simply asking for a large amount of Hell-fire. (An-Nufayl (a transmitter) said elsewhere: embers of Hell.) They asked: Messenger of Allah, what is a sufficiency? (Elsewhere an-Nufayl said: What is a sufficiency which makes begging unfitting?) He replied: It is that which would provide a morning and an evening meal. (Elsewhere an-Nufayl said: It is when one has enough for a day and night, or for a night and a day.) He (an-Nufayl) narrated to us this tradition briefly in the words that I have mentioned.
Notes · وضاحت
١ ؎: متلمس ایک شاعر گزرا ہے، اس نے بادشاہ عمرو بن ہند کی ہجو کی تھی، بادشاہ نے کمال ہوشیاری سے اپنے عامل کے نام خط لکھ کر اس کو دیا اور کہا کہ تم اس لفافے کو لے کر فلاں عامل کے پاس جاؤ، وہ تمہیں انعام سے نوازے گا، خط میں ہجو کے جرم میں اسے قتل کردینے کا حکم تھا، راستہ میں متلمس کو شبہہ ہوا، اس نے لفافہ پھاڑ کر خط پڑھا تو اس میں اس کے قتل کا حکم تھا، چناچہ اس نے خط پھاڑ کر پھینک دیا اور اپنی جان بچا لی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٤٦٥٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٨٠، ١٨١) (صحیح )
زیاد بن حارث صدائی ؓ کہتے ہیں میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور آپ سے بیعت کی، پھر ایک لمبی حدیث ذکر کی، اس میں انہوں نے کہا: آپ کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا: مجھے صدقے میں سے دیجئیے، رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: اللہ تعالیٰ صدقے کے سلسلے میں نہ پیغمبر کے اور نہ کسی اور کے حکم پر راضی ہوا بلکہ خود اس نے اس سلسلے میں حکم دیا اور اسے آٹھ حصوں میں بانٹ دیا اب اگر تم ان آٹھوں ١ ؎ میں سے ہو تو میں تمہیں تمہارا حق دوں گا ۔
Narrated Ziyad ibn al-Harith as-Sudai: I came to the Messenger of Allah ﷺ and swore allegiance to him, and after telling a long story he said: Then a man came to him and said: Give me some of the sadaqah (alms). The Messenger of Allah ﷺ said: Allah is not pleased with a Prophets or anyone elses decision about sadaqat till He has given a decision about them Himself. He has divided those entitled to them into eight categories, so if you come within those categories, I shall give you what you desire.
Notes · وضاحت
١ ؎: ان آٹھ قسموں کا ذکر اس آیت میں ہے: إنما الصدقات للفقراء والمساکين والعاملين عليها والمؤلفة قلوبهم وفي الرقاب والغارمين وفي سبيل الله وابن السبيل فريضة من الله والله عليم حكيم (سورة التوبة: ٦٠)، ” زکاۃ صرف فقراء، مساکین اور ان کے وصول کرنے والوں کے لئے ہے اور ان کے لئے جن کے دل پرچائے جاتے ہوں اور گردن چھڑانے میں اور قرض داروں کے لئے ہے اور اللہ کی راہ میں اور مسافروں کے لئے یہ فریضہ ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ علم و حکمت والا ہے “۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٣٦٥٤) (ضعیف) (اس کے راوی عبدالرحمن افریقی ضعیف ہیں )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسکین وہ نہیں ہے جسے ایک کھجور یا دو کھجور یا ایک دو لقمہ در بدر پھرائے، بلکہ مسکین وہ ہے جو لوگوں سے سوال نہ کرتا ہو، اور نہ ہی لوگ اسے سمجھ پاتے ہوں کہ وہ مدد کا مستحق ہے کہ اسے دیں ۔
Abu Hurairah reported Messenger of Allah ﷺ as saying: The poor man (miskin) is not one who is admitted (by the people) with one or two dates or with one or two morsels but is one, who does not beg anything from his people and is not taken notice of so that alms may be given to him.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ١٢٣٥٥)، وقد أخرجہ: خ /الزکاة ٥٣ (١٤٧٦)، و تفسیر البقرة ٤٨ (٤٥٣٩)، صحیح مسلم/الزکاة ٣٤ (١٠٣٩)، سنن النسائی/الزکاة ٧٦ (٢٥٧٢)، موطا امام مالک/ صفة النبی ٥ (٧)، مسند احمد (٢/٢٦٠، ٣١٦، ٣٩٣، ٤٤٥، ٤٥٧)، سنن الدارمی/الزکاة ٢ (١٦٥٦) (صحیح )
اس سند سے بھی ابوہریرہ ؓ سے اسی کے مثل مروی ہے اس میں ہے: لیکن مسکین سوال کرنے سے بچنے والا ہے، مسدد نے اپنی روایت میں اتنا بڑھایا ہے کہ (مسکین وہ ہے ) جس کے پاس اتنا نہ ہو جتنا اس کے پاس ہوتا ہے جو سوال نہیں کرتا ہے، اور نہ ہی اس کی محتاجی کا حال لوگوں کو معلوم ہوتا ہو کہ اس پر صدقہ کیا جائے، اسی کو محروم کہتے ہیں، اور مسدد نے المتعفف الذي لا يسأل کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث محمد بن ثور اور عبدالرزاق نے معمر سے روایت کی ہے اور ان دونوں نے فذاک المحروم کو زہری کا کلام بتایا ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said something similar as mentioned in the preceding tradition. This version adds: But the poor man (miskin) who abstains from begging from the people is one (according to the version of Musaddad who does not get enough so that he may not beg from the people, nor is his need known to the people, so that alms be given to him. This is the one who has been deprived. Musaddad did not mention the words one who avoids begging from the people. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by Muhammad bin Thawr and Abd al-Razzaq on the authority of Mamar. They mentioned that the word deprived is the statement of al-Zuhri, and this is more sound.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الزکاة ٧٦ (٢٥٧٤)، ( تحفة الأشراف: ١٥٢٧٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٦٠) (صحیح) دون قوله: ” فذاک المحروم “ فإنه مقطوع من کلام الزهري
عبیداللہ بن عدی بن خیار ؓ کہتے ہیں کہ دو آدمیوں نے مجھے خبر دی ہے کہ وہ حجۃ الوداع میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، آپ ﷺ صدقہ تقسیم فرما رہے تھے، انہوں نے بھی آپ سے مانگا، آپ ﷺ نے نظر اٹھا کر ہمیں دیکھا اور پھر نظر جھکا لی، آپ نے ہمیں موٹا تازہ دیکھ کر فرمایا: اگر تم دونوں چاہو تو میں تمہیں دے دوں لیکن اس میں مالدار کا کوئی حصہ نہیں اور نہ طاقتور کا جو مزدوری کر کے کما سکتا ہو ۔
Narrated Ubaydullah ibn Adl ibn al-Khiyar (RA) : Two men informed me that they went to the Prophet ﷺ when he was at the Farewell Pilgrimage while he was distributing the sadaqah and asked him for some of it. He looked us up and down, and seeing that we were robust, he said: If you wish, I shall give you something, but there is nothing spare in it for a rich man or for one who is strong and able to earn a living.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الزکاة ٩١ (٢٥٩٩)، ( تحفة الأشراف: ١٥٦٣٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٢٤، ٥/٣٦٢)، (صحیح )
عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: صدقہ مالدار کے لیے حلال نہیں اور نہ طاقتور اور مضبوط آدمی کے لیے (حلال ہے) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے سفیان نے سعد بن ابراہیم سے ایسے ہی روایت کیا ہے جیسے ابراہیم نے کہا ہے نیز اسے شعبہ نے سعد سے روایت کیا ہے، اس میں لذي مرة سوي کے بجائے لذي مرة قوي کے الفاظ ہیں، نبی اکرم ﷺ سے مروی بعض روایات میں لذي مرة قوي اور بعض میں لذي مرة سوي کے الفاظ ہیں۔ عطا بن زہیر کہتے ہیں: عبداللہ بن عمرو ؓ سے میری ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا: إن الصدقة لا تحل لقوي ولا لذي مرة سوي۔
Narrated Abdullah ibn Amr (RA) : The Prophet ﷺ said: Sadaqah may not be given to a rich man or to one who has strength and is sound in limbs. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by Sufyan from Saad bin Ibrahim like the tradition narrated by Ibrahim. The version of Shubah from Saad has: for a man who has strength and is robust. The other version of this tradition from the Prophet ﷺ have the words for a man who has strength and is robust. Others have for a man who has strength and is sound in limbs. Ata bin Zuhair said that he had met Abdullah bin Amr who said: Sadaqah is not lawful for a strong man nor for a man who has strength and is sound in limbs.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الزکاة ٢٣ (٦٥٢)، ( تحفة الأشراف: ٨٦٢٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٦٤، ١٩٢)، سنن الدارمی/الزکاة ١٥ (١٦٧٩) (صحیح )
عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی مالدار کے لیے صدقہ لینا حلال نہیں سوائے پانچ لوگوں کے: اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کے لیے، یا زکاۃ کی وصولی کا کام کرنے والے کے لیے، یا مقروض کے لیے، یا ایسے شخص کے لیے جس نے اسے اپنے مال سے خرید لیا ہو، یا ایسے شخص کے لیے جس کا کوئی مسکین پڑوسی ہو اور اس مسکین پر صدقہ کیا گیا ہو پھر مسکین نے مالدار کو ہدیہ کردیا ہو ۔
Narrated Ata ibn Yasar: The Prophet ﷺ said: Sadaqah may not be given to rich man, with the exception of five classes: One who fights in Allahs path, or who collects it, or a debtor, or a man who buys it with his money, or a man who has a poor neighbour who has been given sadaqah and gives a present to the rich man.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الزکاة ٢٧ (١٨٤١)، ( تحفة الأشراف: ٤١٧٧، ١٩٠٩٠)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الزکاة ١٧(٢٩)، مسند احمد (٣/٤، ٣١، ٤٠، ٥٦، ٩٧) (صحیح) (اگلی روایت سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ یہ روایت مرسل ہے )
اس سند سے بھی ابو سعید خدری ؓ سے اسی مفہوم کی حدیث مرفوعاً مروی ہے ابوداؤد کہتے ہیں: نیز اسے ابن عیینہ نے زید سے اسی طرح روایت کیا جیسے مالک نے کہا ہے اور ثوری نے اسے زید سے روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں: مجھ سے ایک ثقہ راوی نے نبی اکرم ﷺ سے مرفوعاً بیان کیا ہے۔
The aforesaid tradition has also been transmitted by abu-Said al-Khudri to the same effect to a different chain of narrators, attributing it to the Messenger of Allah ﷺ . Abu-Dawud said: Ibn ‘Uyainah reported from Zaid, from whom Malik narrated and Thwari narrated from Zaid that an authentic narrator reported from the Messenger of Allah ﷺ
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، ( تحفة الأشراف: ٤١٧٧، ١٩٠٩٠) (صحیح )
ابوسعید ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی مالدار کے لیے صدقہ حلال نہیں سوائے اس کے کہ وہ اللہ کی راہ میں ہو یا مسافر ہو یا اس کا کوئی فقیر پڑوسی ہو جسے صدقہ کیا گیا ہو پھر وہ تمہیں ہدیہ دیدے یا تمہاری دعوت کرے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نیز اسے فراس اور ابن ابی لیلیٰ نے عطیہ سے، عطیہ نے ابوسعید ؓ سے اور ابوسعید نے نبی اکرم ﷺ سے اسی کے مثل روایت کیا ہے۔
Abu-Said reported: Messenger of Allah ﷺ said: Sadaqah is not lawful for a rich person except what comes as a result of Jihad or what a poor neighbor gifts you out of the sadaqah given to him, or he entertains you in a feast. Abu-Dawud said: This has been transmitted by Abu- Said through a different chain of narrators in a similar way.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٤٢١٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣١، ٤٠، ٩٧) (ضعیف) (عطیہ عوفی کی وجہ سے یہ روایت سنداً ضعیف ہے، ورنہ سابق سند سے صحیح ہے )
بشیر بن یسار کہتے ہیں کہ انصار کے ایک آدمی نے انہیں خبر دی جس کا نام سہل بن ابی حثمہ تھا کہ نبی اکرم ﷺ نے صدقے کے اونٹوں میں سے سو اونٹ ان کو دیت کے دیئے یعنی اس انصاری کی دیت جو خیبر میں قتل کیا گیا تھا ١ ؎۔
Basheer bin Yasar said that a man from the Ansar called Sahi bin abu-Hatmah told him that Messenger of Allah ﷺ gave one Hundred camels to him a blood-wit from among the camels of sadaqah, i. e a blood-wit for the Ansari who was killed at Khaibar.
Notes · وضاحت
١ ؎: شاید یہ غارمین (قرضداروں) کا حصہ ہوگا کیوں کہ دیت میں زکاۃ صرف نہیں ہوسکتی، ویسے اس سے معلوم ہوا کہ ایک شخص کو اس کی ضرورت کے مطابق کم یا زیادہ دیا جاسکتا ہے۔
سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: سوال کرنا آدمی کا اپنے چہرے کو زخم لگانا ہے تو جس کا جی چاہے اپنے چہرے پر (نشان زخم) باقی رکھے اور جس کا جی چاہے اسے (مانگنا) ترک کر دے، سوائے اس کے کہ آدمی حاکم سے مانگے یا کسی ایسے مسئلہ میں مانگے جس میں کوئی اور چارہ کار نہ ہو ۔
Narrated Samurah ibn Jundub (RA) : The Prophet ﷺ said: Acts of begging are lacerations with which a man disfigures his face, so he who wishes may preserve his self-respect, and he who wishes may abandon it; but this does not apply to one who begs from a ruler, or in a situation which makes it necessary.
قبیصہ بن مخارق ہلالی ؓ کہتے ہیں کہ میں ایک قرضے کا ضامن ہوگیا، چناچہ (مانگنے کے لے) میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، آپ نے فرمایا: قبیصہ! رکے رہو یہاں تک کہ ہمارے پاس کہیں سے صدقے کا مال آجائے تو ہم تمہیں اس میں سے دیں ، پھر فرمایا: قبیصہ! سوائے تین آدمیوں کے کسی کے لیے مانگنا درست نہیں: ایک اس شخص کے لیے جس پر ضمانت کا بوجھ پڑگیا ہو، اس کے لیے مانگنا درست ہے اس وقت تک جب تک وہ اسے پا نہ لے، اس کے بعد اس سے باز رہے، دوسرے وہ شخص ہے جسے کوئی آفت پہنچی ہو، جس نے اس کا مال تباہ کردیا ہو، اس کے لیے بھی مانگتا درست ہے یہاں تک کہ وہ اتنا سرمایہ پا جائے کہ گزارہ کرسکے، تیسرے وہ شخص ہے جو فاقے سے ہو اور اس کی قوم کے تین عقلمند آدمی کہنے لگیں کہ فلاں کو فاقہ ہو رہا ہے، اس کے لیے بھی مانگنا درست ہے یہاں تک کہ وہ اتنا مال پا جائے جس سے وہ گزارہ کرسکے، اس کے بعد اس سے باز آجائے، اے قبیصہ! ان صورتوں کے علاوہ مانگنا حرام ہے، جو مانگ کر کھاتا ہے گویا وہ حرام کھا رہا ہے ۔
Qabisah bin Mukhiriq al-Hilali said: I became a guarantor for a payment, and I came to Messenger of Allah ﷺ . He said: Wait till I receive the sadaqah and I shall order it to be given to you. He then said: Begging, Qabisah, is allowable only to one of three classes: a man who has become a guarantor for a payment to whom begging is allowed till he gets it, after which he must stop (begging); a man who has been stricken by a calamity and it destroys his property to whom begging is allowed till he gets what will support life (or he said, what will provide a reasonable subsistence); and a man who has been smitten by poverty, about whom three intelligent members of his people confirm by saying: So and so has been smitten by poverty, to such a person begging is allowed till be gets what will support life (or he said, what will provide a reasonable subsistence), after which he must stop (begging). Any other reason for begging, Qabisah, is forbidden, and one who engages in such consumes it as a thing which is forbidden.
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ ایک انصاری نبی اکرم ﷺ کے پاس مانگنے کے لیے آیا، آپ نے پوچھا: کیا تمہارے گھر میں کچھ نہیں ہے؟ ، بولا: کیوں نہیں، ایک کمبل ہے جس میں سے ہم کچھ اوڑھتے ہیں اور کچھ بچھا لیتے ہیں اور ایک پیالا ہے جس میں ہم پانی پیتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: وہ دونوں میرے پاس لے آؤ ، چناچہ وہ انہیں آپ کے پاس لے آیا، رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں کو اپنے ہاتھ میں لیا اور فرمایا: یہ دونوں کون خریدے گا؟ ، ایک آدمی بولا: انہیں میں ایک درہم میں خرید لیتا ہوں، آپ ﷺ نے پوچھا: ایک درہم سے زیادہ کون دے رہا ہے؟ ، دو بار یا تین بار، تو ایک شخص بولا: میں انہیں دو درہم میں خریدتا ہوں، آپ ﷺ نے اسے وہ دونوں چیزیں دے دیں اور اس سے درہم لے کر انصاری کو دے دئیے اور فرمایا: ان میں سے ایک درہم کا غلہ خرید کر اپنے گھر میں ڈال دو اور ایک درہم کی کلہاڑی لے آؤ ، وہ کلہاڑی لے کر آیا تو آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اس میں ایک لکڑی ٹھونک دی اور فرمایا: جاؤ لکڑیاں کاٹ کر لاؤ اور بیچو اور پندرہ دن تک میں تمہیں یہاں نہ دیکھوں ، چناچہ وہ شخص گیا، لکڑیاں کاٹ کر لاتا اور بیچتا رہا، پھر آیا اور دس درہم کما چکا تھا، اس نے کچھ کا کپڑا خریدا اور کچھ کا غلہ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ تمہارے لیے بہتر ہے اس سے کہ قیامت کے دن مانگنے کی وجہ سے تمہارے چہرے میں کوئی داغ ہو، مانگنا صرف تین قسم کے لوگوں کے لیے درست ہے: ایک تو وہ جو نہایت محتاج ہو، خاک میں لوٹتا ہو، دوسرے وہ جس کے سر پر گھبرا دینے والے بھاری قرضے کا بوجھ ہو، تیسرے وہ جس پر خون کی دیت لازم ہو اور وہ دیت ادا نہ کرسکتا ہو اور اس کے لیے وہ سوال کرے ۔
Narrated Anas ibn Malik: A man of the Ansar came to the Prophet ﷺ and begged from him. He (the Prophet) asked: Have you nothing in your house? He replied: Yes, a piece of cloth, a part of which we wear and a part of which we spread (on the ground), and a wooden bowl from which we drink water. He said: Bring them to me. He then brought these articles to him and he (the Prophet) took them in his hands and asked: Who will buy these? A man said: I shall buy them for one dirham. He said twice or thrice: Who will offer more than one dirham? A man said: I shall buy them for two dirhams. He gave these to him and took the two dirhams and, giving them to the Ansari, he said: Buy food with one of them and hand it to your family, and buy an axe and bring it to me. He then brought it to him. The Messenger of Allah ﷺ fixed a handle on it with his own hands and said: Go, gather firewood and sell it, and do not let me see you for a fortnight. The man went away and gathered firewood and sold it. When he had earned ten dirhams, he came to him and bought a garment with some of them and food with the others. The Messenger of Allah ﷺ then said: This is better for you than that begging should come as a spot on your face on the Day of Judgment. Begging is right only for three people: one who is in grinding poverty, one who is seriously in debt, or one who is responsible for compensation and finds it difficult to pay.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البیوع ١٠ (١٢١٨)، سنن النسائی/البیوع ٢٠ (٤٥١٢)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٢٥ (٢١٩٨)، ( تحفة الأشراف: ٩٧٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٠٠، ١١٤، ١٢٦) (ضعیف) (اس کے راوی أبوبکر حنفی مجہول ہیں )
ابومسلم خولانی کہتے ہیں کہ مجھ سے میرے پیارے اور امانت دار دوست عوف بن مالک ؓ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہم سات، آٹھ یا نو آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے، آپ نے فرمایا: کیا تم لوگ اللہ کے رسول ﷺ سے بیعت نہیں کرو گے؟ ، جب کہ ہم ابھی بیعت کرچکے تھے، ہم نے کہا: ہم تو آپ سے بیعت کرچکے ہیں، آپ ﷺ نے یہی جملہ تین بار دہرایا چناچہ ہم نے اپنے ہاتھ بڑھا دئیے اور آپ سے بیعت کی، ایک شخص بولا: اللہ کے رسول! ہم ابھی بیعت کرچکے ہیں؟ اب کس بات کی آپ سے بیعت کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اس بات کی کہ تم اللہ کی عبادت کرو گے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرو گے، پانچوں نمازیں پڑھو گے اور (حکم) سنو گے اور اطاعت کرو گے ، ایک بات آپ نے آہستہ سے فرمائی، فرمایا: لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہ کرو گے ، چناچہ ان لوگوں میں سے بعض کا حال یہ تھا کہ اگر ان کا کوڑا زمین پر گر جاتا تو وہ کسی سے اتنا بھی سوال نہ کرتے کہ وہ انہیں ان کا کوڑا اٹھا کر دیدے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ہشام کی حدیث سعید کے علاوہ کسی اور نے بیان نہیں کی۔
Awf bin Malik said: We were with Messenger of Allah ﷺ , seven or eight or nine. He said: Do you take the oath of allegiance to the Messenger of Allah ﷺ , and we shortly took the oath of allegiance. We said: we have already taken the oath of allegiance to you. He repeated the same words three times. We then stretched our hands and took the oath of allegiance to him. A man (or us) said: We took the oath of allegiance to you; now on what should we take the oath of allegiance, Messenger of Allah ? He replied: That you should worship Allah, do not associate anything with Him, offer five times prayer, listen and obey. He uttered a word quietly: And do not beg from the people. When the whip fell on the ground, none of that group asked anyone to pick up the whip for him. Abu Dawud said: The version of Hisham was not narrated by anyone except Saeed.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الزکاة ٣٥ (١٠٤٣)، سنن النسائی/الصلاة ٥ (٤٦١)، سنن ابن ماجہ/الجہاد ٤١ (٢٨٦٨)، ( تحفة الأشراف: ١٠٩١٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٧) (صحیح )
ثوبان ؓ جو رسول اللہ ﷺ کے غلام تھے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کون ہے جو مجھے اس بات کی ضمانت دے کہ وہ لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہیں کرے گا اور میں اسے جنت کی ضمانت دوں؟ ، ثوبان نے کہا: میں (ضمانت دیتا ہوں) ، چناچہ وہ کسی سے کوئی چیز نہیں مانگتے تھے۔
Thawban, the client of the Messenger of Allah ﷺ , reported him as saying: If anyone guarantees me that he will not beg from people, I will guarantee him Paradise. Thawban said: I (will not beg). He never asked anyone for anything.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٢٠٨٣)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الزکاة ٨٦ (٢٥٩١)، سنن ابن ماجہ/الزکاة ٢٥ (١٨٣٧)، مسند احمد (٥/٢٧٥، ٢٧٦، ٢٧٩، ٢٨١) (صحیح )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ انصار کے کچھ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے مانگا تو آپ نے انہیں دیا، انہوں نے پھر مانگا، آپ ﷺ نے پھر دیا، یہاں تک کہ جو کچھ آپ کے پاس تھا، ختم ہوگیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: میرے پاس جو بھی مال ہوگا میں اسے تم سے بچا کے رکھ نہ چھوڑوں گا، لیکن جو سوال سے بچنا چاہتا ہے اللہ اسے بچا لیتا ہے، جو بےنیازی چاہتا ہے اللہ اسے بےنیاز کردیتا ہے، جو صبر کی توفیق طلب کرتا ہے اللہ اسے صبر عطا کرتا ہے، اور اللہ نے صبر سے زیادہ وسعت والی کوئی نعمت کسی کو نہیں دی ہے ۔
Abu Said al-Khudri said: Some of the Ansar begged from the Messenger of Allah ﷺ and he gave them something. They later begged from him again and he gave them something so that what he had was exhausted. He then said: What I have I shall never store away from you but Allah will strengthen the abstinence of him who abstains, will give a satisfaction to him who wants to be satisfied, and will strengthen the endurance of him who shows endurance. No one has been given a more ample gift than endurance.