Sunan Abu Dawood

All 5,295 hadiths in order · Page 81 of 265

1605Sunan Abu Dawood

درخت پر پھلوں کا اندازہ لگانا

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: جَاءَ سَهْلُ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ إِلَى مَجْلِسِنَا، قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا خَرَصْتُمْ فَجُذُّوا وَدَعُوا الثُّلُثَ، فَإِنْ لَمْ تَدَعُوا أَوْ تَجُذُّوا الثُّلُثَ فَدَعُوا الرُّبْعَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: الْخَارِصُ يَدَعُ الثُّلُثَ لِلْحِرْفَةِ.

عبدالرحمٰن بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ سہل بن ابی حثمہ ؓ ہماری مجلس میں تشریف لائے، انہوں نے کہا: ہمیں رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا ہے کہ جب تم پھلوں کا تخمینہ کرلو تب انہیں کاٹو اور ایک تہائی چھوڑ دیا کرو اگر تم ایک تہائی نہ چھوڑ سکو تو ایک چوتھائی ہی چھوڑ دیا کرو ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اندازہ لگانے والا ایک تہائی بیج بونے وغیرہ جیسے کاموں کے لیے چھوڑ دے گا، اس کی زکاۃ نہیں لے گا۔

Abdur Rahman ibn Masud said: Sahl ibn Abu Hathmah came to our gathering. He said: The Messenger of Allah ﷺ commanding us said: When you estimate take them leaving a third, and if you do not leave or find a third, leave a quarter.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جتنا اندازہ لگایا جائے اس میں سے ایک تہائی حصہ چھوڑ دیا جائے، اس کی زکاۃ نہ لی جائے کیوں کہ تخمینے میں کمی بیشی کا احتمال ہے، اسی طرح پھل تلف بھی ہوجاتے ہیں اور کچھ کو جانور کھا جاتے ہیں، ایک تہائی چھوڑ دینے سے مالک کے ان نقصانات کی تلافی اور بھر پائی ہوجاتی ہے، اس پر اکثر علماء کا عمل ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الزکاة ١٧ (٦٤٣)، سنن النسائی/الزکاة ٢٦ (٢٤٩٠)، ( تحفة الأشراف: ٤٦٤٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣) (ضعیف) (عبدالرحمن بن مسعود انصاری لین الحدیث ہیں )
1606Sunan Abu Dawood

کھجور کا اندازہ کب لگایا جائے؟

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أُخْبِرْتُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: وَهِيَ تَذْكُرُ شَأْنَ خَيْبَرَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْعَثُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ إِلَى يَهُودَ فَيَخْرُصُ النَّخْلَ حِينَ يَطِيبُ قَبْلَ أَنْ يُؤْكَلَ مِنْهُ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ خیبر کے معاملہ کا ذکر کرتے ہوئے بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ عبداللہ بن رواحہ ؓ کو یہودیوں کے پاس بھیجتے تو وہ کھجور کو اس وقت اندازہ لگاتے جب وہ پکنے کے قریب ہوجاتی قبل اس کے کہ وہ کھائی جاسکے ١ ؎۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : Describing the conquest of Khaybar Aisha (RA) said: The Prophet ﷺ used to send Abdullah ibn Rawahah to the Jews of Khaybar, and he would make an estimate of the palm trees when the fruit was in good condition before any of it was eaten.

Notes · وضاحت
١ ؎: خیبر فتح ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے یہودیوں سے اس طرح معاملہ کیا کہ تم اپنے کھیتوں میں کھیتی کرتے رہو، لیکن اس میں سے آدھا مسلمانوں کو دیا کرو، اس لئے عبداللہ بن رواحہ ؓ ہر فصل میں جا کر کھجوروں کا اندازہ لگا آتے، پھر فصل کٹنے کے بعد اسی حساب سے ان سے وصول لیا جاتا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ١٦٠٦، ١٦٥٣١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٦٣) (ضعیف) (ابن جریج اور زھری کے درمیان سند میں انقطاع ہے )
1607Sunan Abu Dawood

زکوة میں خراب کھجور (یا کوئی اور چیز) دینا جائز نہیں ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا عَبَّادٌ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْأَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجُعْرُورِ، وَلَوْنِ الْحُبَيْقِ أَنْ يُؤْخَذَا فِي الصَّدَقَةِ. قَالَ الزُّهْرِيُّ: لَوْنَيْنِ مِنْ تَمْرِ الْمَدِينَةِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَأَسْنَدَهُ أَيْضًا أَبُو الْوَلِيدِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ.

سہل ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جعرور اور لون الحبیق کو زکاۃ میں لینے سے منع ١ ؎ فرمایا، زہری کہتے ہیں: یہ دونوں مدینے کی کھجور کی قسمیں ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابوالولید نے بھی سلیمان بن کثیر سے انہوں نے زہری سے روایت کیا ہے۔

Abu Umamah bin Sahl reported on the authority of his father: The Messenger of Allah ﷺ prohibited to accept jarur and habiq dates as zakat. Az-Zuhri said: These are two kinds of the dates of Madina. Abu Dawud said: This has also been transmited by Abu al-Walid from Sulaiman bin Kathir from Az-Zuhri.

Notes · وضاحت
١ ؎: زکاۃ میں اوسط درجہ کا مال دیا جاتا ہے، نہ بہت عمدہ اور نہ بہت خراب، کھجور کی مذکورہ دونوں قسمیں ردی اور خراب ہیں، اس لئے انہیں زکاۃ میں دینے سے منع فرمایا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٤٦٥٨)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الزکاة ٢٧ (٢٤٩٤) (صحیح) (متابعت کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ سفیان بن حسین: ابن شہاب زھری سے روایت میں ضعیف ہیں )
1608Sunan Abu Dawood

زکوة میں خراب کھجور (یا کوئی اور چیز) دینا جائز نہیں ہے

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَاصِمٍ الْأَنْطَاكِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي الْقَطَّانَ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ أَبِي عَرِيبٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ وَبِيَدِهِ عَصَا، وَقَدْ عَلَّقَ رَجُلٌ قَنَا حَشَفًا، فَطَعَنَ بِالْعَصَا فِي ذَلِكَ الْقِنْوِ، وَقَالَ: لَوْ شَاءَ رَبُّ هَذِهِ الصَّدَقَةِ تَصَدَّقَ بِأَطْيَبَ مِنْهَاوَقَالَ: إِنَّ رَبَّ هَذِهِ الصَّدَقَةِ يَأْكُلُ الْحَشَفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

عوف بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک بار ہمارے پاس مسجد میں تشریف لائے، آپ کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی، ایک شخص نے خراب قسم کی کھجور کا خوشہ لٹکا رکھا تھا، آپ ﷺ نے اس خوشہ میں چھڑی چبھوئی اور فرمایا: اس کا صدقہ دینے والا شخص اگر چاہتا تو اس سے بہتر دے سکتا تھا ، پھر فرمایا: یہ صدقہ دینے والا قیامت کے روز حشف (خراب قسم کی کھجور) کھائے گا ۔

Narrated Awf ibn Malik: The Messenger of Allah ﷺ entered upon us in the mosque, and he had a stick in his hand. A man hung there a bunch of hashaf. He struck the bunch with the stick, and said: If the owner of this sadaqah (alms) wishes to give a better one than it, he would give. The owner of this sadaqah will eat hashaf on the Day of Judgment.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الزکاة ٢٧ (٢٤٩٥)، سنن ابن ماجہ/الزکاة ١٩ (١٨٢١)، ( تحفة الأشراف: ١٠٩١٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٣، ٢٨) (حسن )
1609Sunan Abu Dawood

صدقہ فطر کا بیان

حَدَّثَنَا محمُودُ بنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقَيُّ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّمْرَقَنْدِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْخَوْلَانِيُّ وَكَانَ شَيْخَ صِدْقٍ وَكَانَ ابْنُ وَهْبٍ يَرْوِي عَنْهُ، حَدَّثَنَا سَيَّارُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ مَحْمُودٌ الصَّدَفِيُّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَكَاةَ الْفِطْرِ طُهْرَةً لِلصَّائِمِ مِنَ اللَّغْوِ وَالرَّفَثِ وَطُعْمَةً لِلْمَسَاكِينِ، مَنْ أَدَّاهَا قَبْلَ الصَّلَاةِ فَهِيَ زَكَاةٌ مَقْبُولَةٌ، وَمَنْ أَدَّاهَا بَعْدَ الصَّلَاةِ فَهِيَ صَدَقَةٌ مِنَ الصَّدَقَاتِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے صدقہ فطر صائم کو لغو اور بیہودہ باتوں سے پاک کرنے کے لیے اور مسکینوں کے کھانے کے لیے فرض کیا ہے، لہٰذا جو اسے (عید کی) نماز سے پہلے ادا کرے گا تو یہ مقبول صدقہ ہوگا اور جو اسے نماز کے بعد ادا کرے گا تو وہ عام صدقات میں سے ایک صدقہ ہوگا۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ prescribed the sadaqah (alms) relating to the breaking of the fast as a purification of the fasting from empty and obscene talk and as food for the poor. If anyone pays it before the prayer (ofEidd), it will be accepted as zakat. If anyone pays it after the prayer, that will be a sadaqah like other sadaqahs (alms).

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الزکاة ٢١ (١٨٢٧)، ( تحفة الأشراف: ٦١٣٣) (حسن )
1610Sunan Abu Dawood

صدقہ فطر کب دیا جائے؟

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِزَكَاةِ الْفِطْرِ أَنْ تُؤَدَّى قَبْلَ خُرُوجِ النَّاسِ إِلَى الصَّلَاةِ، قَالَ: فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُؤَدِّيهَا قَبْلَ ذَلِكَ بِالْيَوْمِ وَالْيَوْمَيْنِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ صدقہ فطر لوگوں کے نماز کے لیے نکلنے سے پہلے ادا کیا جائے، راوی کہتے ہیں: چناچہ ابن عمر ؓ نماز عید کے ایک یا دو دن پہلے صدقہ فطر ادا کرتے تھے۔

Ibn Umar said: The Messenger of Allah ﷺ commanded us that the end of Ramadan when the fasting is closed sadaqah (alms) should be paid before the people went to prayer. Abdullah bin Umar (RA) used to pay it one or two days before.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ٧٦ (١٥٠٩)، صحیح مسلم/الزکاة ٥ (٩٨٦)، سنن الترمذی/الزکاة ٣٦ (٦٧٧)، سنن النسائی/الزکاة ٤٥ (٢٥٢٢)، (تحفة الأشراف: ٨٤٥٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٥١، ١٥٥) (صحیح) دون فعل ابن عمر
1611Sunan Abu Dawood

صدقہ فطر کی مقدار کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ وَقَرَأَهُ عَلَيَّ مَالِكٌ أَيْضًا، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَضَ زَكَاةَ الْفِطْرِ، قَالَ فِيهِ فِيمَا قَرَأَهُ عَلَيَّ مَالِكٌ: زَكَاةُ الْفِطْرِ مِنْ رَمَضَانَ صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعٌ مِنْ شَعِيرٍ عَلَى كُلِّ حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى مِنَ الْمُسْلِمِينَ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صدقہ فطر کھجور سے ایک صاع اور جو سے ایک صاع فرض کیا ہے، جو مسلمانوں میں سے ہر آزاد اور غلام پر، مرد اور عورت پر (فرض) ہے۔

Ibn Umar said: The Messenger of Allah ﷺ prescribed as zakat payable by slave and freeman, male and female, among the muslims on closing the fast of Ramadan one sa of dried dates or one sa’ of barley. (This tradition was read out byu Abdullah bin Maslamah to Malik)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ٧٣ (١٥٠٦)، صحیح مسلم/الزکاة ٤ (٩٨٤)، سنن الترمذی/الزکاة ٣٥، ٣٦ (٦٧٦)، سنن النسائی/الزکاة ٣٣ (٢٥٠٥)، سنن ابن ماجہ/الزکاة ٢١ (١٨٢٦)، ( تحفة الأشراف: ٨٣٢١)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الزکاة ٢٨ (٥٢)، مسند احمد (٢/٥، ٥٥، ٦٣، ٦٦، ١٠٢، ١١٤، ١٣٧)، سنن الدارمی/الزکاة ٢٧ (١٧٠٢) (صحیح )
1612Sunan Abu Dawood

صدقہ فطر کی مقدار کا بیان

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ السَّكَنِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَهْضَمٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَكَاةَ الْفِطْرِ صَاعًا، فَذَكَرَ بِمَعْنَى مَالِكٍ، زَادَ: وَالصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ، وَأَمَرَ بِهَا أَنْ تُؤَدَّى قَبْلَ خُرُوجِ النَّاسِ إِلَى الصَّلَاةِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ الْعُمَرِيُّ، عَنْ نَافِعٍ، بِإِسْنَادِهِ، قَالَ: عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ. وَرَوَاهُ سَعِيدٌ الْجُمَحِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ فِيهِ: مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَالْمَشْهُورُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ لَيْسَ فِيهِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے صدقہ فطر ایک صاع مقرر کیا، پھر راوی نے مالک کی روایت کے ہم معنی حدیث ذکر کی، اس میں والصغير والکبير وأمر بها أن تؤدى قبل خروج الناس إلى الصلاة ہر چھوٹے اور بڑے پر (صدقہ فطر واجب ہے) اور آپ نے لوگوں کے نماز کے لیے نکلنے سے پہلے اس کے ادا کردینے کا حکم دیا) کا اضافہ کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبداللہ عمری نے اسے نافع سے اسی سند سے روایت کیا ہے اس میں على كل مسلم کے الفاظ ہیں (یعنی ہر مسلمان پر لازم ہے) ١ ؎ اور اسے سعید جمحی نے عبیداللہ (عمری) سے انہوں نے نافع سے روایت کیا ہے اس میں من المسلمين کا لفظ ہے حالانکہ عبیداللہ سے جو مشہور ہے اس میں من المسلمين کا لفظ نہیں ہے ۔

Abdullah bin Umar (RA) said: The Messenger of Allah ﷺ prescribed the sadaqah at the end of Ramadan one sa’. The narrator then transmitted the tradition like the one narrated by Malik. This version adds: “Young and old. He gave command that this should be paid before the people went out to prayers. ” Abu Dawud said: Abdullah al-Umari narrated it from Nafi through his chain: “on every Muslim. ” The version of Saeed al-Jumahi has: “Among the Muslims. ” The well-known version transmitted by Ubaid Allah does not mention the words “among the Muslims”

Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ کافر غلام یا کافر لونڈی کی طرف سے صدقہ فطر نکالنا ضروری نہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ٧٠ (١٥٠٣)، سنن النسائی/الزکاة ٣٣ (٢٥٠٦)، ( تحفة الأشراف: ٨٢٤٤) (صحیح )
1613Sunan Abu Dawood

صدقہ فطر کی مقدار کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، وَبِشْرَ بْنَ الْمُفَضَّلِ حَدَّثَاهُمْ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ. ح وحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ، فَرَضَ صَدَقَةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَوْ تَمْرٍ عَلَى الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ وَالْحُرِّ وَالْمَمْلُوكِ، زَادَ مُوسَى: وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى. قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ فِيهِ: أَيُّوبُ وَ عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي الْعُمَرِيَّ فِي حَدِيثِهِمَا: عَنْ نَافِعٍ، ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى أَيْضًا.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے صدقہ فطر جو یا کھجور میں سے ہر چھوٹے بڑے اور آزاد اور غلام پر ایک صاع فرض کیا ہے۔ موسیٰ کی روایت میں والذکر والأنثى بھی ہے یعنی مرد اور عورت پر بھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس میں ایوب اور عبداللہ یعنی عمری نے اپنی اپنی روایتوں میں نافع سے ذكر أو أنثى کے الفاظ ( نکرہ کے ساتھ) ذکر کئے ہیں۔

Ibn Umar said: The Messenger of Allah ﷺ prescribed sadaqah at the end of Ramadan one sa’ of barley and dried dates, payable by young and old freeman and slave. The version of Musa adds: “ male and female”. Abu Dawud said: the words “male and female” narrated, by Ayyub and Abdullah al Umar were narrated in their version on the authority of Nafi.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ٧٨ (١٥١٢)، ( تحفة الأشراف: ٧٧٩٥، ٧٨١٥، ٨١٧١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٥٥) (صحیح )
1614Sunan Abu Dawood

صدقہ فطر کی مقدار کا بیان

حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَالِدٍ الْجُهَنِيُّ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ النَّاسُ يُخْرِجُونَ صَدَقَةَ الْفِطْرِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَوْ تَمْرٍ أَوْ سُلْتٍ أَوْ زَبِيبٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَثُرَتِ الْحِنْطَةُ، جَعَلَ عُمَرُ نِصْفَ صَاعٍ حِنْطَةً مَكَانَ صَاعٍ مِنْ تِلْكَ الْأَشْيَاءِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں لوگ صدقہ فطر میں ایک صاع جو یا کھجور یا بغیر چھلکے کا جو، یا انگور نکالتے تھے، جب عمر ؓ کا دور آیا اور گیہوں بہت زیادہ آنے لگا تو انہوں نے ان تمام چیزوں کے بدلے گیہوں کا آدھا صاع (صدقہ فطر) مقرر کیا۔

Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : The people during the lifetime of the Messenger of Allah ﷺ used to bring forth the sadaqah at the end of Ramadan when closing the fast one sa of barley whose straw is removed, or of raisins. Abdullah said: When Umar (Allah be pleased with him) succeeded, and the wheat became abundant, Umar prescribed half a sa of wheat instead of all these things.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/ الزکاة ٤١ (٢٥١٨)، ( تحفة الأشراف: ٧٧٦٠) (ضعیف) (عمر ؓ کا ذکر وہم ہے صحیح یہ ہے کہ ایسا معاویہ ؓ نے کیا، عبدالعزیز بن أبی رواد سے یہاں وھم ہوگیا ہے ان سے وہم ہو بھی جایا کرتا تھا )
1615Sunan Abu Dawood

صدقہ فطر کی مقدار کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَعَدَلَ النَّاسُ بَعْدُ نِصْفَ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ، قَالَ: وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُعْطِي التَّمْرَ فَأُعْوِزَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ التَّمْرَ عَامًا، فَأَعْطَى الشَّعِيرَ.

نافع کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر ؓ نے کہا: اس کے بعد لوگوں نے آدھے صاع گیہوں کو ایک صاع کے برابر کرلیا، عبداللہ (ایک صاع) کھجور ہی دیا کرتے تھے، ایک سال مدینے میں کھجور کا ملنا دشوار ہوگیا تو انہوں نے جو دیا۔

Abdullah (bin Umar) said “The people then began to pay half a sa’ of wheat later on. The narrator said: Abdullah (bin Umar) use to pay dried dates as sadaqah one year the people of Madina lacked dried dates, hence he paid barley.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ٧٨ (١٥١١)، صحیح مسلم/الزکاة ٤ (٩٨٤)، سنن الترمذی/الزکاة ٣٥ (٦٧٦)، سنن النسائی/الزکاة ٣٠ (٢٥٠٢)، (تحفة الأشراف: ٧٥١٠)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الزکاة ٢٨ (٥٢)، مسند احمد (٢/٥، ٥٥، ٦٣، ٦٦، ١٠٢، ١١٤، ١٣٧)، دی/الزکاة ٢٧ (١٧٠٢) (صحیح )
1616Sunan Abu Dawood

صدقہ فطر کی مقدار کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ قَيْسٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: كُنَّا نُخْرِجُ إِذْ كَانَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَكَاةَ الْفِطْرِ عَنْ كُلِّ صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ حُرٍّ أَوْ مَمْلُوكٍ، صَاعًا مِنْ طَعَامٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ، فَلَمْ نَزَلْ نُخْرِجُهُ حَتَّى قَدِمَ مُعَاوِيَةُ حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا، فَكَلَّمَ النَّاسَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَكَانَ فِيمَا كَلَّمَ بِهِ النَّاسَ، أَنْ قَالَ: إِنِّي أَرَى أَنَّ مُدَّيْنِ مِنْ سَمْرَاءِ الشَّامِ تَعْدِلُ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، فَأَخَذَ النَّاسُ بِذَلِكَ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَأَمَّا أَنَا فَلَا أَزَالُ أُخْرِجُهُ أَبَدًا مَا عِشْتُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ ابْنُ عُلَيَّةَ، وَ عَبْدَةُ وَغَيْرِهِمَا، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، عَنْ عِيَاضٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ بِمَعْنَاهُ، وَذَكَرَ رَجُلٌ وَاحِدٌ فِيهِ عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ: أَوْ صَاعًا مِنْ حِنْطَةٍ، وَلَيْسَ بِمَحْفُوظٍ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان باحیات تھے، ہم لوگ صدقہ فطر ہر چھوٹے اور بڑے، آزاد اور غلام کی طرف سے غلہ یا پنیر یا جو یا کھجور یا کشمش سے ایک صاع نکالتے تھے، پھر ہم اسی طرح نکالتے رہے یہاں تک کہ معاویہ ؓ حج یا عمرہ کرنے آئے تو انہوں نے منبر پر چڑھ کر لوگوں سے کچھ باتیں کیں، ان میں ان کی یہ بات بھی شامل تھی: میری رائے میں اس گیہوں کے جو شام سے آتا ہے دو مد ایک صاع کھجور کے برابر ہیں، پھر لوگوں نے یہی اختیار کرلیا، اور ابوسعید نے کہا: لیکن میں جب تک زندہ رہوں گا برابر ایک ہی صاع نکالتا رہوں گا۔ امام ابوداؤد (رح) کہتے ہیں: اسے ابن علیہ اور عبدہ وغیرہ نے ابن اسحاق سے، ابی اسحاق نے عبداللہ بن عبداللہ بن عثمان بن حکیم بن حزام سے، عبداللہ بن عبداللہ نے عیاض سے اور عیاض نے ابوسعید سے اسی مفہوم کے ساتھ نقل کیا ہے، ایک شخص نے ابن علیہ سے أو صاعًا من حنطة بھی نقل کیا ہے لیکن یہ غیر محفوظ ہے۔

Abu Saeed Al-khudri said: When the Messenger of Allah ﷺ lived among us, we use to bring forth zakat, on closing the fast of Ramadan one sa’ of grain or of cheese, or of barley, or of dried dates, or of raisens, payable by every young and old freeman and slave. We continued to pay this till mu-awayah came to perform Haj or Umra and he spoke to the people on the pulpit. What he said to the people was: I think that Mudds of the wheat of syrria is equivalent to one sa’ of dried dates. So the people adopted it. Abu Saeed said: But I continued to pay one sa’ of wheat as long as I lived on. Abu Dawud said: this tradition has also been transmitted by Abu Saeed through a different chain of narrators to the same effect. A man has narrated in this version from Ibn-Ulayyah one sa’ of wheat. But this version is not guarded.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ٧٢ (١٥٠٥)، ٧٣ (١٥٠٦)، ٧٥ (١٥٠٨)، ٧٦ (١٥١٠)، صحیح مسلم/الزکاة ٤ (٩٨٥)، سنن الترمذی/الزکاة ٣٥ (٦٧٣)، سنن النسائی/الزکاة ٣٧ (٢٥١٣)، سنن ابن ماجہ/الزکاة ٢١ (١٨٢٩)، ( تحفة الأشراف: ٤٢٦٩)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الزکاة ٢٨ (٥٣)، مسند احمد (٣/٢٣، ٧٣، ٩٨)، سنن الدارمی/الزکاة ٢٧ (١٧٠٤) (صحیح )
1617Sunan Abu Dawood

صدقہ فطر کی مقدار کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ، لَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ الْحِنْطَةِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَقَدْ ذَكَرَ مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، عَنْ الثَّوْرِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عِيَاضٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، نِصْفَ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ وَهُوَ وَهْمٌ مِنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ هِشَامٍ، أَوْ مِمَّنْ رَوَاهُ عَنْهُ.

اس سند سے اسماعیل (اسماعیل ابن علیہ) سے یہی حدیث (نمبر: ١٦١٦ کے اخیر میں مذکور سند سے) مروی ہے اس میں حنطہٰ کا ذکر نہیں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: معاویہ بن ہشام نے اس حدیث میں ثوری سے، ثوری نے زید بن اسلم سے، زیدی اسلم نے عیاض سے، عیاض نے ابوسعید سے نصف صاع من بُرٍّ نقل کیا ہے، لیکن یہ زیادتی معاویہ بن ہشام کا یا اس شخص کا وہم ہے جس نے ان سے روایت کی ہے۔

The aforesaid tradition has also been transmitted by Abu Saeed through a different chain of narrators. This version adds: “Half a sa’ of wheat “. But this is a misunderstanding on the part of muawayah bin Hisham and of those who narrated from him.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، ( تحفة الأشراف: ٤٢٦٩) (ضعیف )
1618Sunan Abu Dawood

صدقہ فطر کی مقدار کا بیان

حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، سَمِعَ عِيَاضًا، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ: لَا أُخْرِجُ أَبَدًا إِلَّا صَاعًا، إِنَّا كُنَّا نُخْرِجُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَاعَ تَمْرٍ أَوْ شَعِيرٍ أَوْ أَقِطٍ أَوْ زَبِيبٍ، هَذَا حَدِيثُ يَحْيَى، زَادَ سُفْيَانُ: أَوْ صَاعًا مِنْ دَقِيقٍ، قَالَ حَامِدٌ: فَأَنْكَرُوا عَلَيْهِ فَتَرَكَهُ سُفْيَانُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: فَهَذِهِ الزِّيَادَةُ وَهْمٌ مِنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ میں ہمیشہ ایک ہی صاع نکالوں گا، ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں کھجور، یا جو، یا پنیر، یا انگور کا ایک ہی صاع نکالتے تھے۔ یہ یحییٰ کی روایت ہے، سفیان کی روایت میں اتنا اضافہ ہے: یا ایک صاع آٹے کا، حامد کہتے ہیں: لوگوں نے اس زیادتی پر نکیر کی، تو سفیان نے اسے چھوڑ دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ زیادتی ابن عیینہ کا وہم ہے۔

Narrated Abu Saeed al-Khudri (RA) : I shall always pay one sa. We used to pay during the lifetime of the Messenger of Allah ﷺ one sa of dried dates or of barley, or of cheese, or of raisins. This is the version of Yahya. Sufyan added in his version: or one sa of flour. The narrator Hamid (ibn Yahya) said: The people objected to this (addition); Sufyan then left it. Abu Dawud said: This addition is a misunderstanding on the part of Ibn Uyainah.

Takhrij · تخریج
تفرد أبو داود بروایة سفیان بن عیینة، وروایة یحییٰ القطان صحیحة موافقة لرقم: ١٦١٦، ( تحفة الأشراف: ٤٢٦٩) (حسن) (یحییٰ القطان کی روایت حسن ہے، اور ابن عیینہ کی روایت میں وہم ہے، اس لئے ضعیف ہے )
1619Sunan Abu Dawood

صدقہ فطر میں نصف صاع گیہوں کی دلیل

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَمُسَدَّدٌ: عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي صُعَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَقَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ، أَوْ ثَعْلَبَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي صُعَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَاعٌ مِنْ بُرٍّ أَوْ قَمْحٍ عَلَى كُلِّ اثْنَيْنِ صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى، أَمَّا غَنِيُّكُمْ فَيُزَكِّيهِ اللَّهُ، وَأَمَّا فَقِيرُكُمْ فَيَرُدُّ اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ أَكْثَرَ مِمَّا أَعْطَى، زَادَ سُلَيْمَانُ فِي حَدِيثِهِ: غَنِيٍّ أَوْ فَقِيرٍ.

عبداللہ بن ابوصعیر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: گیہوں کا ایک صاع ہر دو آدمیوں پر لازم ہے (ہر ایک کی طرف سے آدھا صاع) چھوٹے ہوں یا بڑے، آزاد ہوں یا غلام، مرد ہوں یا عورت، رہا تم میں جو غنی ہے، اللہ اسے پاک کر دے گا، اور جو فقیر ہے اللہ اسے اس سے زیادہ لوٹا دے گا، جتنا اس نے دیا ہے ۔ سلیمان نے اپنی روایت میں غنيٍ أو فقيرٍ کے الفاظ کا اضافہ کیا ہے۔

Abdullah bin Thalabah or Thalabah bin Abdullah bin Abu Suair reported on his fathers authority that the Messenger of Allah ﷺ said: One sa of wheat is to be taken from every two, young or old, freeman or slave, male or female. Those of you who are rich will be purified by Allah, and those of you who are poor will have more than they gave returned by Him to them. Sulayman added in his version: rich or poor

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٢٠٧٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٤٣٢) (ضعیف) (نعمان بن راشد کے سبب یہ روایت ضعیف ہے )
1620Sunan Abu Dawood

صدقہ فطر میں نصف صاع گیہوں کی دلیل

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الدَّرَابِجِرْدِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا بَكْرٌ هُوَ ابْنُ وَائِلٍ، عَنْالزُّهْرِيِّ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَوْ قَالَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ،عَنْ بَكْرٍ الْكُوفِيِّ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى: هُوَ بَكْرُ بْنُ وَائِلِ بْنِ دَاوُدَ، أَنَّ الزُّهْرِيَّ حَدَّثَهُمْ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ صُعَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا، فَأَمَرَ بِصَدَقَةِ الْفِطْرِ صَاعِ تَمْرٍ أَوْ صَاعِ شَعِيرٍ عَنْ كُلِّ رَأْسٍ، زَادَ عَلِيٌّ فِي حَدِيثِهِ: أَوْ صَاعِ بُرٍّ أَوْ قَمْحٍ بَيْنَ اثْنَيْنِ، ثُمَّ اتَّفَقَا عَنِ الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ وَالْحُرِّ وَالْعَبْدِ.

ثعلبہ بن صعیر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے تو آپ ﷺ نے صدقہ فطر میں ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو ہر شخص کی جانب سے نکالنے کا حکم دیا۔ علی بن حسین نے اپنی روایت میں أو صاع بر أو قمح بين اثنين کا اضافہ کیا ہے (یعنی دو آدمیوں کی طرف سے گیہوں کا ایک صاع نکالنے کا) ، پھر دونوں کی روایتیں متفق ہیں: چھوٹے بڑے آزاد اور غلام ہر ایک کی طرف سے ۔

Abdullah bin Thalabah ibn Suayr reported on the authority of his father: The Messenger of Allah ﷺ stood and gave a sermon; he commanded to give sadaqah, at the end of Ramadan when the fasting is closed, one sa of dried dates or of barley payable by every person. The narrator Ali added in his version: or one sa of wheat to be taken from every two. Both the chains of narrators are then agreed upon the version: payable by young and old, freeman and slave.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٢٠٧٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٤٣٢) (صحیح )
1621Sunan Abu Dawood

صدقہ فطر میں نصف صاع گیہوں کی دلیل

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: وَقَالَ ابْنُ شِهَابٍ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ثَعْلَبَةَ: قَالَ ابْنُ صَالِحٍ: قَالَ الْعَدَوِيُّ قال أَبُو دَاوُدَ: قَالَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ: قَالَ الْعَدَوِيُّ: : خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ قَبْلَ الْفِطْرِ بِيَوْمَيْنِ، بِمَعْنَى حَدِيثِ الْمُقْرِئِ.

عبدالرزاق کہتے ہیں ابن جریج نے ہمیں خبر دی ہے، وہ کہتے ہیں کہ ابن شہاب نے اپنی روایت میں عبداللہ بن ثعلبہ (جزم کے ساتھ بغیر شک کے) کہا ١ ؎۔ احمد بن صالح کہتے ہیں کہ عبدالرزاق نے عبداللہ بن ثعلبہ کے تعلق سے کہا ہے کہ وہ عدوی ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ احمد بن صالح نے عبداللہ صالح کو عذری کہا ہے ٢ ؎، رسول اللہ ﷺ نے عید کے دو دن پہلے لوگوں کو خطبہ دیا، یہ خطبہ مقری (عبداللہ بن یزید) کی روایت کے مفہوم پر مشتمل تھا۔

Abdullah bin Thalabah said (the narrator Ahmad bin salih said: He, i. e “Abd al-Razzaq, said: He is ‘Adawl. Abu Dawud said: Ahmed bin Salih said: He is ‘Adhri): The Messenger of Allah ﷺ delivered a speech before the closing fast (‘Id) by two days. He then transmitted the tradition like that of al Muqri (Abdullah bin Yazid).

Notes · وضاحت
١ ؎: نعمان بن راشد اور بکر بن وائل کی جو روایت زہری سے اوپر گزری ہے اس میں شک کے ساتھ آیا ہے۔ ٢ ؎: عدوی تصحیف ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، ( تحفة الأشراف: ٢٠٧٣) (صحیح )
1622Sunan Abu Dawood

خالی ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ حُمَيْدٌ: أَخْبَرَنَا، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: خَطَبَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي آخِرِ رَمَضَانَ عَلَى مِنْبَرِ الْبَصْرَةِ، فَقَالَ: أَخْرِجُوا صَدَقَةَ صَوْمِكُمْ، فَكَأَنَّ النَّاسَ لَمْ يَعْلَمُوا، فَقَالَ: مَنْ هَاهُنَا، مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ قُومُوا إِلَى إِخْوَانِكُمْ فَعَلِّمُوهُمْ، فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ، فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الصَّدَقَةَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ شَعِيرٍ أَوْ نِصْفَ صَاعٍ مِنْ قَمْحٍ عَلَى كُلِّ حُرٍّ أَوْ مَمْلُوكٍ، ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى، صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَأَى رُخْصَ السِّعْرِ، قَالَ: قَدْ أَوْسَعَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ، فَلَوْ جَعَلْتُمُوهُ صَاعًا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ، قَالَ حُمَيْدٌ: وَكَانَ الْحَسَنُ يَرَى صَدَقَةَ رَمَضَانَ عَلَى مَنْ صَامَ.

حسن کہتے ہیں کہ ابن عباس ؓ نے رمضان کے اخیر میں بصرہ کے منبر پر خطبہ دیا اور کہا: اپنے روزے کا صدقہ نکالو ، لوگ نہیں سمجھ سکے تو انہوں نے کہا: اہل مدینہ میں سے کون کون لوگ یہاں موجود ہیں؟ اٹھو اور اپنے بھائیوں کو سمجھاؤ، اس لیے کہ وہ نہیں جانتے۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ صدقہ فرض کیا کھجور یا جَو سے ایک صاع، اور گیہوں سے آدھا صاع ہر آزاد اور غلام، مرد، عورت، چھوٹے اور بڑے پر ، پھر جب علی ؓ آئے تو انہوں نے ارزانی دیکھی اور کہنے لگے: اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے کشادگی کردی ہے، اب اسے ہر شے میں سے ایک صاع کرلو ١ ؎ تو بہتر ہے ۔ حمید کہتے ہیں: حسن کا خیال تھا کہ صدقہ فطر اس شخص پر ہے جس نے رمضان کے روزے رکھے ہوں۔

Al-Hasan said: Ibn Abbas preached towards the end of Ramadan on the pulpit (in the mosque) of al-Basrah. He said: Bring forth the sadaqah relating to your fast. The people, as it were, could not understand. Which of the people of Madina are present here? Stand for your brethren, and teach them, for they do not know. The Messenger of Allah ﷺ prescribed this sadaqah as one sa of dried dates or barley, or half a sa of wheat payable by every freeman or slave, male or female, young or old. When Ali came (to Basrah), he found that price had come down. He said: Allah has given prosperity to you, so give one sa of everything (as sadaqah). The narrator Humayd said: Al-Hasan maintained that the sadaqah at the end of Ramadan was due on a person who fasted.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی گیہوں بھی ایک صاع دو۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الزکاة ٣٦ (٢٥١٠)، ( تحفة الأشراف: ٥٣٩٤) (ضعیف) (حسن بصری کا سماع ابن عباس ؓ سے نہیں ہے )
1623Sunan Abu Dawood

وجوب زکوة سے قبل زکوٰةدینے کا بیان

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، عَنْ وَرْقَاءَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَمَنَعَ ابْنُ جَمِيلٍ وَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَ الْعَبَّاسُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا يَنْقِمُ ابْنُ جَمِيلٍ إِلَّا أَنْ كَانَ فَقِيرًا فَأَغْنَاهُ اللَّهُ، وَأَمَّا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَإِنَّكُمْ تَظْلِمُونَ خَالِدًا فَقَدِ احْتَبَسَ أَدْرَاعَهُ وَأَعْتُدَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَأَمَّا الْعَبَّاسُ عَمُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهِيَ عَلَيَّ وَمِثْلُهَا، ثُمَّ قَالَ: أَمَا شَعَرْتَ أَنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ الْأَبِ أَوْ صِنْوُ أَبِيهِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے عمر بن خطاب ؓ کو زکاۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا تو ابن جمیل، خالد بن ولید اور عباس ؓ نے (زکاۃ دینے سے) انکار کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ابن جمیل اس لیے نہیں دیتا ہے کہ وہ فقیر تھا اللہ نے اس کو غنی کردیا، رہے خالد بن ولید تو خالد پر تم لوگ ظلم کر رہے ہو، انہوں نے اپنی زرہیں اور سامان جنگ اللہ کی راہ میں دے رکھے ہیں ١ ؎، اور رہے رسول اللہ ﷺ کے چچا عباس تو ان کی زکاۃ میرے ذمہ ہے اور اسی قدر اور ہے ٢ ؎، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تمہیں نہیں معلوم کہ چچا والد کے برابر ہے ۔ راوی کو شک ہے صنو الأب کہا، یا صنو أبيه کہا۔

Abu Hurairah said: The Prophet ﷺ sent Umar bin al-Khattab to collect sadaqa (All the people paid the zakat but ibn-jamil, Khalid bin al-walid and al-abbas refused. So the Messenger of Allah ﷺ said: Ibn-jamil is not (so much) objecting, but he was poor and Allah enriched him. As for Khalid bin Walid, you are wronging him, for he has kept back his courts of mail and weapons to use them in Allah’s path. As for al-Abbas, the uncle of the Messenger of Allah ﷺ , I shall be responsible for it and an equal amount along with it. Then he said did you not know (Umar) that a man’s paternal uncle is of the same stock as the father or his father?

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی انہوں نے اپنی زرہیں اور اپنے سامان اللہ کی راہ میں جہاد کے لئے وقف کر رکھا ہے، پھر ان کی زکاۃ کیسی، اسے تو انہوں نے اللہ ہی کی راہ میں دے رکھا ہے، یا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے بن مانگے اپنی خوشی سے یہ چیزیں اللہ کی راہ میں دیدیں ہیں، تو وہ بھلا زکاۃ کیوں نہیں دیں گے، تمہیں لوگوں نے ان کے ساتھ کوئی زیادتی کی ہوگی۔ ٢ ؎: باب سے مطابقت اسی لفظ سے ہے یعنی: ” اس سال کی زکاۃ اور اسی کے مثل آئندہ کی زکاۃ بھی “۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الزکاة ٣ (٩٨٣)، ( تحفة الأشراف: ١٣٩٢٢)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الزکاة ٤٩ (١٤٦٨)، سنن النسائی/الزکاة ١٥ (٢٤٦٣)، مسند احمد (٢/٣٢٢) (صحیح )
1624Sunan Abu Dawood

وجوب زکوة سے قبل زکوٰةدینے کا بیان

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ حُجَيَّةَ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّ الْعَبَّاسَ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تَعْجِيلِ صَدَقَتِهِ قَبْلَ أَنْ تَحِلَّ، فَرَخَّصَ لَهُ فِي ذَلِكَ، قَالَ مَرَّةً: فَأَذِنَ لَهُ فِي ذَلِكَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ هُشَيْمٌ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَدِيثُ هُشَيْمٍ أَصَحُّ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ عباس ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے زکاۃ جلدی (یعنی سال گزرنے سے پہلے) دینے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے ان کو اس کی اجازت دی۔ راوی نے ایک بار فرخص له في ذلك کے بجائے فأذن له في ذلك روایت کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث ہشیم نے منصور بن زاذان سے، منصور نے حکم سے حکم نے حسن بن مسلم سے اور حسن بن مسلم نے نبی کریم ﷺ سے (مرسلاً ) روایت کی ہے اور ہشیم کی حدیث سب سے زیادہ صحیح ہے، (یعنی: اس روایت کا مرسل بلکہ معضل ہونا ہی زیادہ صحیح ہے) ۔

Narrated Ali ibn Abu Talib: Al-Abbas asked the Prophet ﷺ about paying the sadaqah (his zakat) in advance before it became due, and he gave permission to do that. Abu Dawud said: This tradition has also been transmitted by Hushaim through a different chain of narrators. The version of Hushaim is more sound.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الزکاة ٣٧ (٦٧٨)، سنن ابن ماجہ/الزکاة ٧ (١٧٩٥)، ( تحفة الأشراف: ١٠٠٦٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٠٤)، سنن الدارمی/الزکاة ١٢ (١٦٧٦) (حسن )