صدقہ فطر کب دیا جائے؟
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِزَكَاةِ الْفِطْرِ أَنْ تُؤَدَّى قَبْلَ خُرُوجِ النَّاسِ إِلَى الصَّلَاةِ، قَالَ: فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُؤَدِّيهَا قَبْلَ ذَلِكَ بِالْيَوْمِ وَالْيَوْمَيْنِ.
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ صدقہ فطر لوگوں کے نماز کے لیے نکلنے سے پہلے ادا کیا جائے، راوی کہتے ہیں: چناچہ ابن عمر ؓ نماز عید کے ایک یا دو دن پہلے صدقہ فطر ادا کرتے تھے۔
Ibn Umar said: The Messenger of Allah ﷺ commanded us that the end of Ramadan when the fasting is closed sadaqah (alms) should be paid before the people went to prayer. Abdullah bin Umar (RA) used to pay it one or two days before.