Sunan Abu Dawood 1615

کتاب الزکوٰة

1615Sunan Abu Dawood

صدقہ فطر کی مقدار کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَعَدَلَ النَّاسُ بَعْدُ نِصْفَ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ، قَالَ: وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُعْطِي التَّمْرَ فَأُعْوِزَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ التَّمْرَ عَامًا، فَأَعْطَى الشَّعِيرَ.

نافع کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر ؓ نے کہا: اس کے بعد لوگوں نے آدھے صاع گیہوں کو ایک صاع کے برابر کرلیا، عبداللہ (ایک صاع) کھجور ہی دیا کرتے تھے، ایک سال مدینے میں کھجور کا ملنا دشوار ہوگیا تو انہوں نے جو دیا۔

Abdullah (bin Umar) said “The people then began to pay half a sa’ of wheat later on. The narrator said: Abdullah (bin Umar) use to pay dried dates as sadaqah one year the people of Madina lacked dried dates, hence he paid barley.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ٧٨ (١٥١١)، صحیح مسلم/الزکاة ٤ (٩٨٤)، سنن الترمذی/الزکاة ٣٥ (٦٧٦)، سنن النسائی/الزکاة ٣٠ (٢٥٠٢)، (تحفة الأشراف: ٧٥١٠)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الزکاة ٢٨ (٥٢)، مسند احمد (٢/٥، ٥٥، ٦٣، ٦٦، ١٠٢، ١١٤، ١٣٧)، دی/الزکاة ٢٧ (١٧٠٢) (صحیح )