Sunan Abu Dawood

All 5,295 hadiths in order · Page 80 of 265

1586Sunan Abu Dawood

مصدق کو راضی کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ حَفْصٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، الْمَعْنَى قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ رَجُلٍ يُقَالُ لَهُ: دَيْسَم، وَقَالَابْنُ عُبَيْدٍ، مِنْ بَنِي سَدُوسٍ، عَنْ بَشِيرِ ابْنِ الْخَصَاصِيَّةِ، قَالَ ابْنُ عُبَيْدٍ فِي حَدِيثِهِ: وَمَا كَانَ اسْمُهُ بَشِيرًا، وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمَّاهُ بَشِيرًا، قَالَ: قُلْنَا: إِنَّ أَهْلَ الصَّدَقَةِ يَعْتَدُونَ عَلَيْنَا، أَفَنَكْتُمُ مِنْ أَمْوَالِنَا بِقَدْرِ مَا يَعْتَدُونَ عَلَيْنَا، فَقَالَ: لَا.

بشیر بن خصاصیہ ؓ سے روایت ہے (ابن عبید اپنی حدیث میں کہتے ہیں: ان کا نام بشیر نہیں تھا بلکہ رسول اللہ ﷺ نے ان کا نام بشیر رکھ دیا تھا) وہ کہتے ہیں: ہم نے عرض کیا: زکاۃ لینے والے ہم پر زیادتی کرتے ہیں، کیا جس قدر وہ زیادتی کرتے ہیں اتنا مال ہم چھپالیا کریں؟ آپ نے فرمایا: نہیں ۔

Narrated Bashir ibn al-Khasasiyyah (RA) : (Ibn Ubayd said in the version of his tradition that his name was not Bashir, but (it was) the Messenger of Allah ﷺ (who had) named him Bashir) We said: (to the Messenger of Allah): The collectors of sadaqah collect more than is due; can we hide our property to that proportion? He replied: No.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٢٠٢٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٨٤) (ضعیف) (اس کے راوی دیسم لین الحدیث ہیں )
1587Sunan Abu Dawood

مصدق کو راضی کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَيَحْيَى بْنُ مُوسَى، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَصْحَابَ الصَّدَقَةِ يَعْتَدُونَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَفَعَهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ.

اس سند سے بھی ایوب سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے مگر اس میں ہے ہم نے کہا: اللہ کے رسول! زکاۃ لینے والے زیادتی کرتے ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبدالرزاق نے معمر سے اسے مرفوعاً نقل کیا ہے۔

The aforesaid tradition has also been narrated by Ayyub through a different chain of narrators to the same effect. This version adds We said Messenger of Allah ﷺ the collectors of sadaqah collect more than is due from us. Abu Dawud said Abd Al Razzaq narrated this tradition from Mamar attributing it to the Prophet ﷺ .

Notes · وضاحت
W
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، ( تحفة الأشراف: ٢٠٢٢) (ضعیف )
1588Sunan Abu Dawood

مصدق کو راضی کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ أَبِي الْغُصْنِ، عَنْ صَخْرِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَيَأْتِيكُمْ رُكَيْبٌ مُبْغَضُونَ، فَإِنْ جَاءُوكُمْ فَرَحِّبُوا بِهِمْ وَخَلُّوا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَبْتَغُونَ، فَإِنْ عَدَلُوا فَلِأَنْفُسِهِمْ وَإِنْ ظَلَمُوا فَعَلَيْهَا، وَأَرْضُوهُمْ فَإِنَّ تَمَامَ زَكَاتِكُمْ رِضَاهُمْ وَلْيَدْعُوا لَكُمْ. قَالَ أَبُو دَاوُد: أَبُو الْغُصْنِ هُوَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ غُصْنٍ.

جابر بن عتیک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قریب ہے کہ تم سے زکاۃ لینے کچھ ایسے لوگ آئیں جنہیں تم ناپسند کرو گے، جب وہ آئیں تو انہیں مرحبا کہو اور وہ جسے چاہیں، اسے لینے دو، اگر انصاف کریں گے تو فائدہ انہیں کو ہوگا اور اگر ظلم کریں گے تو اس کا وبال بھی انہیں پر ہوگا، لہٰذا تم ان کو خوش رکھو، اس لیے کہ تمہاری زکاۃ اس وقت پوری ہوگی جب وہ خوش ہوں اور انہیں چاہیئے کہ تمہارے حق میں دعا کریں ۔

Narrated Jabir ibn Atik: The Prophet ﷺ said: Riders who are objects of dislike to you will come to you, but you must welcome them when they come to you, and give them a free hand regarding what they desire. If they are just, they will receive credit for it, but if they are unjust, they will be held responsible. Please them, for the perfection of your zakat consists in their good pleasure, and let them ask a blessing for you. Abu Dawud said: The name of the narrator Abu al-Ghusn is Thabit bin Qais bin Ghusn.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٣١٧٥) (ضعیف) (اس کے راوی صخر لین الحدیث ہیں )
1589Sunan Abu Dawood

مصدق کو راضی کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ. ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَهَذَا حَدِيثُ أَبِي كَامِلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هِلَالٍ الْعَبْسِيُّ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: جَاءَ نَاسٌ، يَعْنِي مِنَ الْأَعْرَابِ، إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: إِنَّ نَاسًا مِنَ الْمُصَدِّقِينَ يَأْتُونَا فَيَظْلِمُونَا، قَالَ: فَقَالَ: أَرْضُوا مُصَدِّقِيكُمْقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَإِنْ ظَلَمُونَا ؟ قَالَ: أَرْضُوا مُصَدِّقِيكُمْ. زَادَ عُثْمَانُ: وَإِنْ ظُلِمْتُمْ. قَالَ أَبُو كَامِلٍ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ جَرِيرٌ: مَا صَدَرَ عَنِّي مُصَدِّقٌ بَعْدَ مَا سَمِعْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا وَهُوَ عَنِّي رَاضٍ.

جریر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ کچھ لوگ یعنی کچھ دیہاتی رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے: صدقہ و زکاۃ وصول کرنے والوں میں سے بعض لوگ ہمارے پاس آتے ہیں اور ہم پر زیادتی کرتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: تم اپنے مصدقین کو راضی کرو ، انہوں نے پوچھا: اگرچہ وہ ہم پر ظلم کریں، اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ نے فرمایا: تم اپنے مصدقین کو راضی کرو ، عثمان کی روایت میں اتنا زائد ہے اگرچہ وہ تم پر ظلم کریں ۔ ابوکامل اپنی حدیث میں کہتے ہیں: جریر ؓ کا بیان ہے: میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ بات سنی، اس کے بعد سے میرے پاس جو بھی مصدق آیا، مجھ سے خوش ہو کر ہی واپس گیا۔

Jabir bin Abdallah told of some people, meaning nomadic Arabs, who came to the Messenger of Allah ﷺ and said Collectors of zakat come to us and act unjustly. He said please those who collect the sadaqah from you. They asked Even if they wrong us, Messenger of Allah? He replied Please those who collect sadaqah from you. The version of Uthman adds “Even if you are wronged”. Abu Kamil said in this version “Jarir said No collector of zakat returned from me since I heard this from the Messenger of Allah ﷺ , but he was pleased with me. ”

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الزکاة ٥٥ (٩٨٩)، سنن النسائی/الزکاة ١٤ (٢٤٦٢)، ( تحفة الأشراف: ٣٢١٨)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الزکاة ٢٠ (٦٤٧)، سنن ابن ماجہ/الزکاة ١١ (١٨٠٢)، مسند احمد (٤/٣٦٢)، سنن الدارمی/الزکاة ٣٢ (١٧١٢) (صحیح )
1590Sunan Abu Dawood

زکوة وصول کرنے والا زکوة دینے والے کے حق میں دعائے خیر کرے

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، وَأَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ: كَانَ أَبِي مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَاهُ قَوْمٌ بِصَدَقَتِهِمْ، قَالَ: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ فُلَانٍقَالَ: فَأَتَاهُ أَبِي بِصَدَقَتِهِ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى.

عبداللہ بن ابی اوفی ؓ کہتے ہیں کہ میرے والد (ابواوفی) اصحاب شجرہ ١ ؎ میں سے تھے، جب نبی اکرم ﷺ کے پاس کوئی قوم اپنے مال کی زکاۃ لے کر آتی تو آپ فرماتے: اے اللہ! آل فلاں پر رحمت نازل فرما، میرے والد اپنی زکاۃ لے کر آپ کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ! ابواوفی کی اولاد پر رحمت نازل فرما ٢ ؎۔

Narrated Abdallah bin Abi Awfa (RA) : My father was one of those Companions who took the oath of allegiance at the hand of the Prophet ﷺ beneath the tree. The Prophet ﷺ said when the people brought him their sadaqah: O Allah, bless the family of so and so. When my father brought him his sadaqah he said O Allah bless the family of Abu Awfa.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ان لوگوں میں سے تھے جو صلح حدیبیہ کے موقع پر بیعت رضوان میں شریک تھے۔ ٢ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ جو خود سے اپنی زکاۃ ادا کرنے آئے عامل کو اس کو دعا دینی چاہیے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ٦٤ (١٤٩٧)، المغازي ٣٥ (٤١٦٦)، الدعوات ١٩ (٦٣٣٢)، ٣٣ (٦٣٥٩)، صحیح مسلم/الزکاة ٥٤(١٠٧٨)، سنن النسائی/الزکاة ١٣ (٢٤٦١)، سنن ابن ماجہ/الزکاة ٨ (١٧٩٦)، (تحفة الأشراف: ٥١٧٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٥٣، ٣٥٤، ٣٥٥، ٣٨١، ٣٨٣) (صحیح )
1590Sunan Abu Dawood

اونٹوں کی عمروں کا بیان

قَالَ أَبُو دَاوُد: سَمِعْتُهُ مِنْ الرِّيَاشِيِّ، وَأَبِي حَاتِمٍ، وَغَيْرِهِمَا، وَمِنْ كِتَابِ النَّضْرِ بْنِ شُمَيْلٍ، وَمِنْ كِتَابِ أَبِي عُبَيْدٍ، وَرُبَّمَا ذَكَرَ أَحَدُهُمُ الْكَلِمَةَ، قَالُوا: يُسَمَّى الْحُوَارُ، ثُمَّ الْفَصِيلُ إِذَا فَصَلَ، ثُمَّ تَكُونُ بِنْتُ مَخَاضٍ لِسَنَةٍ إِلَى تَمَامِ سَنَتَيْنِ، فَإِذَا دَخَلَتْ فِي الثَّالِثَةِ فَهِيَ ابْنَةُ لَبُونٍ، فَإِذَا تَمَّتْ لَهُ ثَلَاثُ سِنِينَ فَهُوَ حِقٌّ، وَحِقَّةٌ إِلَى تَمَامِ أَرْبَعِ سِنِينَ لِأَنَّهَا اسْتَحَقَّتْ أَنْ تُرْكَبَ وَيُحْمَلَ عَلَيْهَا الْفَحْلُ وَهِيَ تَلْقَحُ، وَلَا يُلْقَحُ الذَّكَرُ حَتَّى يُثَنِّيَ، وَيُقَالُ لِلْحِقَّةِ: طَرُوقَةُ الْفَحْلِ لِأَنَّ الْفَحْلَ يَطْرُقُهَا إِلَى تَمَامِ أَرْبَعِ سِنِينَ، فَإِذَا طَعَنَتْ فِي الْخَامِسَةِ فَهِيَ جَذَعَةٌ حَتَّى يَتِمَّ لَهَا خَمْسُ سِنِينَ، فَإِذَا دَخَلَتْ فِي السَّادِسَةِ وَأَلْقَى ثَنِيَّتَهُ فَهُوَ حِينَئِذٍ ثَنِيٌّ حَتَّى يَسْتَكْمِلَ سِتًّا، فَإِذَا طَعَنَ فِي السَّابِعَةِ سُمِّيَ الذَّكَرُ رَبَاعِيًا وَالْأُنْثَى رَبَاعِيَةً إِلَى تَمَامِ السَّابِعَةِ، فَإِذَا دَخَلَ فِي الثَّامِنَةِ وَأَلْقَى السِّنَّ السَّدِيسَ الَّذِي بَعْدَ الرَّبَاعِيَةِ فَهُوَ سَدِيسٌ وَسَدَسٌ إِلَى تَمَامِ الثَّامِنَةِ، فَإِذَا دَخَلَ فِي التِّسْعِ وَطَلَعَ نَابُهُ فَهُوَ بَازِلٌ أَيْ بَزَلَ نَابُهُ، يَعْنِي طَلَعَ، حَتَّى يَدْخُلَ فِي الْعَاشِرَةِ فَهُوَ حِينَئِذٍ مُخْلِفٌ، ثُمَّ لَيْسَ لَهُ اسْمٌ، وَلَكِنْ يُقَالُ: بَازِلُ عَامٍ، وَبَازِلُ عَامَيْنِ، وَمُخْلِفُ عَامٍ، وَمُخْلِفُ عَامَيْنِ، وَمُخْلِفُ ثَلَاثَةِ أَعْوَامٍ إِلَى خَمْسِ سِنِينَ، وَالْخَلِفَةُ الْحَامِلُ. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: وَالْجَذُوعَةُ وَقْتٌ مِنَ الزَّمَنِ لَيْسَ بِسِنٍّ، وَفُصُولُ الْأَسْنَانِ عِنْدَ طُلُوعِ سُهَيْلٍ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَأَنْشَدَنَا الرِّيَاشِيُّ: إِذَا سُهَيْلٌ أَوَّلَ اللَّيْلِ طَلَعْ فَابْنُ اللَّبُونِ الْحِقُّ وَالْحِقُّ جَذَعْ لَمْ يَبْقَ مِنْ أَسْنَانِهَا غَيْرُ الْهُبَعْ وَالْهُبَعُ الَّذِي يُولَدُ فِي غَيْرِ حِينِهِ

ابوداؤد کہتے ہیں میں نے اونٹوں کی عمروں کی یہ تفصیل ریاشی اور ابوحاتم وغیرہ وغیرہ سے سنا ہے، اور نضر بن مشمیل اور ابوعبید کی کتاب سے حاصل کی ہے، اور بعض باتیں ان میں سے کسی ایک ہی نے ذکر کی ہیں، ان لوگوں کا کہنا ہے: اونٹ کا بچہ (جب پیدا ہو) حواء ر کہلاتا ہے۔ جب دودھ چھوڑے تو اسے فصیل کہتے ہیں۔ جب ایک سال پورا کر کے دوسرے سال میں لگ جائے تو دوسرے سال کے پورا ہونے تک اسے بنت مخاض کہتے ہیں۔ جب تیسرے میں داخل ہوجائے تو اسے بنت لبون کہتے ہیں۔ جب تین سال پورے کرے تو چار برس پورے ہونے تک اسے حِق یا حقہ کہتے ہیں کیونکہ وہ سواری اور جفتی کے لائق ہوجاتی ہے، اور اونٹنی (مادہ) اس عمر میں حاملہ ہوجاتی ہے، لیکن نر جوان نہیں ہوتا، جب تک دگنی عمر (چھ برس) کا نہ ہوجائے، حقہ کو طروق ۃ الفحل بھی کہتے ہیں، اس لیے کہ نر اس پر سوار ہوتا ہے۔ جب پانچواں برس لگے تو پانچ برس پورے ہونے تک جذعہ کہلاتا ہے۔ جب چھٹا برس لگے اور وہ سامنے کے دانت گراوے تو چھ برس پورے ہونے تک وہ ثنی ہے۔ جب ساتواں برس لگے تو سات برس پورے ہونے تک نر کو رباعی اور مادہ کو رباعیہ کہتے ہیں۔ جب آٹھواں برس لگے اور چھٹا دانت گرا دے تو آٹھ برس پورے ہونے تک اسے سدیس یا سدس کہتے ہیں۔ جب وہ نویں برس میں لگ جائے تو اسے دسواں برس شروع ہونے تک بازل کہتے ہیں، اس لیے کہ اس کی کچلیاں نکل آتی ہیں، کہا جاتا ہے بزل نابه یعنی اس کے دانت نکل آئے۔ اور دسواں برس لگ جائے تو وہ مخلف ہے، اس کے بعد اس کا کوئی نام نہیں، البتہ یوں کہتے ہیں: ایک سال کا بازل ، دو سال کا بازل ، ایک سال کا مخلف ، دو سال کا مخلف اور تین سال کا مخلف ، یہ سلسلہ پانچ سال تک چلتا ہے۔ خلفہ حاملہ اونٹنی کو کہتے ہیں۔ ابوحاتم نے کہا: جذوعہ ایک مدت کا نام ہے کسی خاص دانت کا نام نہیں، دانتوں کی فصل سہیل تارے کے نکلنے پر بدلتی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ہم کو ریاشی نے شعر سنائے (جن کے معنی ہیں) : جب رات کے اخیر میں سہیل (ستارہ) نکلا تو ابن لبون حِق ہوگیا اور حِق جذع ہوگیا کوئی دانت نہ رہا سوائے ہبع کے۔ ہبع : وہ بچہ ہے جو سہیل کے طلوع کے وقت میں پیدا نہ ہو، بلکہ کسی اور وقت میں پیدا ہو، اس کی عمر کا حساب سہیل سے نہیں ہوتا۔

Takhrij · تخریج
.
1591Sunan Abu Dawood

اموال کی زکوة کہاں پر لی جائے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا جَلَبَ، وَلَا جَنَبَ، وَلَا تُؤْخَذُ صَدَقَاتُهُمْ إِلَّا فِي دُورِهِمْ.

عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: نہ جلب صحیح ہے نہ جنب لوگوں سے زکاۃ ان کے ٹھکانوں میں ہی لی جائے گی ١ ؎۔

Amr bin Shuaib, on his fathers authority, said that his grandfather reported the Prophet ﷺ as saying: There is to be no collecting of sadaqah (zakat) from a distance, nor must people who own property remove it far away, and their sadaqahs are to be received in their dwelling.

Notes · وضاحت
١ ؎: جلب زکاۃ دینے والا اپنے جانور کھینچ کر عامل کے پاس لے آئے، اور جنب زکاۃ دینے والا اپنے جانور دور لے کر چلا جائے تاکہ عامل کو زکاۃ لینے کے لئے وہاں جانا پڑے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٨٧٨٥، ١٩٢٨٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٨٠، ٢١٦) (حسن صحیح )
1592Sunan Abu Dawood

اموال کی زکوة کہاں پر لی جائے

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، يَقُولُ: عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، فِي قَوْلِهِ: لَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ، قَالَ: أَنْ تُصَدَّقَ الْمَاشِيَةُ فِي مَوَاضِعِهَا وَلَا تُجْلَبَ إِلَى الْمُصَدِّقِ وَالْجَنَبُ عَنْ غَيْرِ هَذِهِ الْفَرِيضَةِ أَيْضًا لَا يُجْنَبُ أَصْحَابُهَا، يَقُولُ: وَلَا يَكُونُ الرَّجُلُ بِأَقْصَى مَوَاضِعِ أَصْحَابِ الصَّدَقَةِ فَتُجْنَبُ إِلَيْهِ، وَلَكِنْ تُؤْخَذُ فِي مَوْضِعِهِ.

محمد بن اسحاق سے آپ ﷺ کے فرمان: لا جلب ولا جنب کی تفسیر میں مروی ہے کہ لا جلب کا مطلب یہ ہے کہ جانوروں کی زکاۃ ان کی جگہوں میں جا کرلی جائے وہ مصدق تک کھینچ کر نہ لائے جائیں، اور جنب فریضہ زکاۃ کے علاوہ میں بھی استعمال کیا جاتا ہے: وہ کہتے ہیں: جنب یہ ہے کہ محصل زکاۃ دینے والوں کی جگہوں سے دور نہ رہے کہ جانور اس کے پاس لائے جائیں بلکہ اسی جگہ میں زکاۃ لی جائے گی ١ ؎۔

Explaining the meaning of Jalab and janab Muhammad bin Ishaq said The meaning of jalab said is that the zakat of animals should be collected at their places (dwellings), and they (animals) should not be pulled to the collector of zakat. The meaning of janab is that the animals are removed at a distance (from the collector). The owners of the animals should do so. The collector of zakat should not stay at a distance from the places of the people who bring their animals to him. The zakat should be collected in its place.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس تفسیر کی رو سے جلب اور جنب کے معنی ایک ہوجا رہے ہیں، اور جنب کی تفسیر میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جنب یہ ہے کہ جانوروں کا مالک جانوروں کو ان کی جگہوں سے ہٹا کر دور کرلے تاکہ محصل کو انہیں ڈھونڈنے اور ان کے پاس پہنچنے میں زحمت و پریشانی کا سامنا کرنا پڑے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٨٧٨٥، ١٩٢٨٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٨٠، ٢١٦) (صحیح )
1593Sunan Abu Dawood

زکوة دینے کے بعد پھر اس کو نہیں خریدنا چاہیے

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، حَمَلَ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَوَجَدَهُ يُبَاعُ، فَأَرَادَ أَنْ يَبْتَاعَهُ، فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: لَا تَبْتَعْهُ وَلَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب ؓ نے اللہ کی راہ میں ایک گھوڑا دیا، پھر اسے بکتا ہوا پایا تو خریدنا چاہا تو اور اس کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے پوچھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اسے مت خریدو، اپنے صدقے کو مت لوٹاؤ ۔

Narrated Abdallah bin Umar (RA) : Umar bin Al Khattab gave a horse as alms in the way of Allah. He then found it being sold, and intended to buy it. So he asked the Messenger of Allah ﷺ about this. He said Do not buy it, and do not take back your sadaqah.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ٥٩(١٤٨٩)، والھبة ٣٠ (٢٦٢٣)، ٣٧ (٢٦٣٦)، والوصایا ٣١ (٢٧٧٥)، والجہاد ١١٩ (٢٩٧١)، ١٣٧ (٣٠٠٢)، صحیح مسلم/الھبات ١ (١٦٢١)، ( تحفة الأشراف: ٨٣٥١)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الزکاة ٣٢ (٦٦٨)، سنن النسائی/الزکاة ١٠٠ (٢٦١٦)، سنن ابن ماجہ/الصدقات ١ (٢٣٩٠)، ٢ (٢٣٩٢)، موطا امام مالک/الزکاة ٢٦(٤٩)، مسند احمد (١/٤٠، ٥٤) (صحیح )
1594Sunan Abu Dawood

غلام اور باندیوں کی زکوٰة

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَيَّاضٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْمَكْحُولٍ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَيْسَ فِي الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ زَكَاةٌ إِلَّا زَكَاةُ الْفِطْرِ فِي الرَّقِيقِ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: گھوڑے اور غلام یا لونڈی میں زکاۃ نہیں، البتہ غلام یا لونڈی میں صدقہ فطر ہے ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: No sadaqah is due on a horse or a slave except that given at the breaking of the fast (at the end of Ramadan).

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ٤٥ (١٤٦٣)، ٤٦ (١٤٦٤)، صحیح مسلم/الزکاة ٢ (٩٨٢)، سنن الترمذی/الزکاة ٨ (٦٢٨)، سنن النسائی/الزکاة ١٦ (٢٤٦٩)، سنن ابن ماجہ/الزکاة ١٥ (١٨١٢)، موطا امام مالک/الزکاة ٢٣ (٣٧)، (تحفة الأشراف: ١٤١٥٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٤٢، ٢٤٩، ٢٥٤، ٢٧٩، ٤١٠، ٤٢٠، ٤٣٢، ٤٥٤، ٤٦٩، ٤٧٠، ٤٧٧)، سنن الدارمی/الزکاة ١٠ (١٦٧٢) (صحیح )
1595Sunan Abu Dawood

غلام اور باندیوں کی زکوٰة

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ فِي عَبْدِهِ وَلَا فِي فَرَسِهِ صَدَقَةٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمان پر اس کے غلام، لونڈی اور گھوڑے میں زکاۃ نہیں ہے ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying No sadaqah is due from a Muslim on his slave or his horse.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، ( تحفة الأشراف: ١٤١٥٣) (صحیح )
1596Sunan Abu Dawood

زراعت کی زکوة کا بیان

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْهَيْثَمِ الْأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْسَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ،عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ وَالْأَنْهَارُ وَالْعُيُونُ أَوْ كَانَ بَعْلًا الْعُشْرُ، وَفِيمَا سُقِيَ بِالسَّوَانِي أَوِ النَّضْحِ نِصْفُ الْعُشْرِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کھیت کو آسمان یا دریا یا چشمے کا پانی سینچے یا زمین کی تری پہنچے، اس میں سے پیداوار کا دسواں حصہ لیا جائے گا اور جس کھیتی کی سینچائی رہٹ اور جانوروں کے ذریعہ کی گئی ہو اس کی پیداوار کا بیسواں حصہ لیا جائے گا ۔

Narrated Abdallah bin Umar (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying A tenth is payable on what is watered by rain or rivers or brooks or from underground moisture and a twentieth on what is watered by draught camels.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ٥٥ (١٤٨٣)، سنن الترمذی/الزکاة ١٤ (٦٤٠)، سنن النسائی/الزکاة ٢٥ (٢٤٩٠)، سنن ابن ماجہ/الزکاة ١٧ (١٨١٧)، ( تحفة الأشراف: ٦٩٧٧) (صحیح )
1597Sunan Abu Dawood

زراعت کی زکوة کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فِيمَا سَقَتِ الْأَنْهَارُ وَالْعُيُونُ الْعُشْرُ، وَمَا سُقِيَ بِالسَّوَانِي فَفِيهِ نِصْفُ الْعُشْرِ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جسے دریا یا چشمے کے پانی نے سینچا ہو، اس میں دسواں حصہ ہے اور جسے رہٹ کے پانی سے سینچا گیا ہو اس میں بیسواں حصہ ہے ۔

Narrated Jabir bin Abdallah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying A tenth is payable on what is watered by rivers and brooks or from underground moisture and a twentieth on what is watered by draught camels.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الزکاة ١ (٩٨١)، سنن النسائی/الزکاة ٢٥ (٢٤٩١)، ( تحفة الأشراف: ٢٨٩٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٤١، ٣٥٣) (صحیح )
1598Sunan Abu Dawood

زراعت کی زکوة کا بیان

حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَالِدٍ الْجُهَنِيُّ، وَحُسَيْنُ بْنُ الْأَسْوَدِ الْعَجَلِيُّ، قَالَا: قَالَ وَكِيعٌ: الْبَعْلُ الْكَبُوسُ الَّذِي يَنْبُتُ مِنْ مَاءِ السَّمَاءِ، قَالَ ابْنُ الْأَسْوَدِ: وَقَالَ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ آدَمَ: سَأَلْتُ أَبَا إِيَاسٍ الْأَسَدِيّ، عَنِ الْبَعْلِ، فَقَالَ: الَّذِي يُسْقَى بِمَاءِ السَّمَاءِ، وقَالَ النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ: الْبَعْلُ مَاءُ الْمَطَرِ.

وکیع کہتے ہیں بعل سے مراد وہ کھیتی ہے جو آسمان کے پانی سے (بارش) اگتی ہو، ابن اسود کہتے ہیں: یحییٰ (یعنی ابن آدم) کہتے ہیں: میں نے ابو ایاس اسدی سے بعل کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: بعل وہ زمین ہے جو آسمان کے پانی سے سیراب کی جاتی ہو، نضر بن شمیل کہتے ہیں: بعل بارش کے پانی کو کہتے ہیں۔

Waki said Ba’l means the agricultural crop which grows by the rain water. Ibn Al Aswad said and Yahya, that is, Ibn Adam said I asked Abu Iyas al Asadi (about this word ba’l). He replied What is watered by rain.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود (صحیح )
1599Sunan Abu Dawood

زراعت کی زکوة کا بیان

حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ، يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ،عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ، فَقَالَ: خُذْ الْحَبَّ مِنَ الْحَبِّ وَالشَّاةَ، مِنَ الْغَنَمِ وَالْبَعِيرَ، مِنَ الْإِبِلِ وَالْبَقَرَةَ، مِنَ الْبَقَرِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: شَبَرْتُ قِثَّاءَةً بِمِصْرَ ثَلَاثَةَ عَشَرَ شِبْرًا، وَرَأَيْتُ أُتْرُجَّةً عَلَى بَعِيرٍ بِقِطْعَتَيْنِ قُطِّعَتْ، وَصُيِّرَتْ عَلَى مِثْلِ عِدْلَيْنِ.

معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں یمن بھیجا تو فرمایا: غلہ میں سے غلہ لو، بکریوں میں سے بکری، اونٹوں میں سے اونٹ اور گایوں میں سے گائے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے مصر میں ایک ککڑی کو بالشت سے ناپا تو وہ تیرہ بالشت کی تھی اور ایک سنترہ دیکھا جو ایک اونٹ پر لدا ہوا تھا، اس کے دو ٹکڑے کاٹ کر دو بوجھ کے مثل کردیئے گئے تھے ١ ؎۔

Narrated Muadh ibn Jabal (RA) : When the Messenger of Allah ﷺ sent him to the Yemen, he said (to him): Collect corn from the corn, sheep from the sheep, camel from the camels, and cow from the cows. Abu Dawud said: In Egypt I saw a cucumber thirteen spans in length and a citron cut into two pieces loaded on a camel like two loads.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ مال کی زکاۃ اسی کے جنس سے ہوگی بصورت مجبوری اس کی قیمت بھی زکاۃ میں دی جاسکتی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الزکاة ١٢ (١٨١٤)، ( تحفة الأشراف: ١١٣٤٨) (ضعیف) (اس کے راوی شریک کے اندر کلام ہے )
1600Sunan Abu Dawood

شھد کی زکوة کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ الْمِصْرِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: جَاءَ هِلَالٌ أَحَدُ بَنِي مُتْعَانَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُشُورِ نَحْلٍ لَهُ، وَكَانَ سَأَلَهُ أَنْ يَحْمِيَ لَهُ وَادِيًا يُقَالُ لَهُ: سَلَبَةُ، فَحَمَى لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ الْوَادِي، فَلَمَّا وُلِّيَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، كَتَبَ سُفْيَانُ بْنُ وَهْبٍ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ يَسْأَلُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَكَتَبَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِنْ أَدَّى إِلَيْكَ مَا كَانَ يُؤَدِّي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عُشُورِ نَحْلِهِ فَاحْمِ لَهُ سَلَبَةَ، وَإِلَّا فَإِنَّمَا هُوَ ذُبَابُ غَيْثٍ يَأْكُلُهُ مَنْ يَشَاءُ.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ بنی متعان کے ایک فرد متعان اپنے شہد کا عشر (دسواں حصہ) لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور آپ سے اس کے ایک سلبہ نامی جنگل کا ٹھیکا طلب کیا، رسول اللہ ﷺ نے انہیں جنگل کو ٹھیکے پردے دیا، جب عمر بن خطاب ؓ خلیفہ ہوئے تو سفیان بن وہب نے عمر بن خطاب ؓ کو خط لکھا، وہ ان سے اس کے متعلق پوچھ رہے تھے، عمر ؓ نے انہیں (جواب میں) لکھا اگر ہلال تم کو اسی قدر دیتے ہیں، جو وہ رسول اللہ ﷺ کو دیتے تھے یعنی اپنے شہد کا دسواں حصہ، تو سلبہ کا ان کا ٹھیکا قائم رکھو اور اگر وہ ایسا نہ کریں تو مکھیاں بھی جنگل کی دوسری مکھیوں کی طرح ہیں، جو چاہے ان کا شہد کھا سکتا ہے۔

Amr bin Shuaib, on his fathers authority, said that his grandfather reported: Hilal, a man from the tribe of Banu Matan brought a tenth of honey which he possessed in beehives to the Messenger of Allah ﷺ . He asked him (the Messenger of Allah) to give the wood known as Salabah as a protected (or restricted) land. The Messenger of Allah ﷺ gave him that wood as a protected land. When Umar ibn al-Khattab succeeded, Sufyan ibn Wahb wrote to Umar asking him about this wood. Umar ibn al-Khattab wrote to him: If he (Hilal) pays you the tithe on honey what he used to pay to the Messenger of Allah ﷺ , leave the protected land of Salabah in his possession; otherwise those bees are like those of any wood; anyone can take the honey as he likes.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الزکاة ٢٩ (٢٤٩٨)، ( تحفة الأشراف: ٧٨٦٧)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الزکاة ٢٠ (١٨٢٣) (حسن )
1601Sunan Abu Dawood

شھد کی زکوة کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ، وَنَسَبَهُ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْعَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ شَبَابَةَ بَطْنٌ مِنْ فَهْمٍ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ، قَالَ: مِنْ كُلِّ عَشْرِ قِرَبٍ قِرْبَةٌ، وَقَالَ سُفْيَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيُّ، قَالَ: وَكَانَ يَحْمِي لَهُمْ وَادِيَيْنِ، زَادَ: فَأَدَّوْا إِلَيْهِ مَا كَانُوا يُؤَدُّونَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَمَى لَهُمْ وَادِيَيْهِمْ.

عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ قبیلہ شبابہ جو قبیلہ فہم کی ایک شاخ ہے، پھر راوی نے اسی طرح ذکر کیا اور کہا: ہر دس مشک میں سے ایک مشک زکاۃ ہے۔ سفیان بن عبداللہ ثقفی کہتے ہیں: وہ ان کے لیے دو وادیوں کو ٹھیکہ پر دیئے ہوئے تھے، اور مزید کہتے ہیں: تو وہ لوگ انہیں اسی قدر شہد دیتے تھے جتنا وہ رسول اللہ ﷺ کو دیتے تھے اور آپ نے ان کے لیے دو وادیوں کو ٹھیکہ پر دیا تھا۔

Amr bin Shuaib, on his fathers authority, said that his grandfather reported: That was Banu Shababah, a sub-clan of the tribe Fahm. The narrator then transmitted the tradition something similar. He added: (They used to pay) one bag (of honey) out of ten bags. Sufyan ibn Abdullah ath-Thaqafi gave them two woods as protected lands. They used to give as much honey (as zakat) as they gave to the Messenger of Allah ﷺ . He (Sufyan) used to protect their woods.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (١٦٠٠)، ( تحفة الأشراف: ٨٧٣٧) (حسن )
1602Sunan Abu Dawood

شھد کی زکوة کا بیان

حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُؤَذِّنُ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْجَدِّهِ، أَنَّ بَطْنًا مِنْ فَهْمٍ بِمَعْنَى الْمُغِيرَةِ، قَالَ: مِنْ عَشْرِ قِرَبٍ قِرْبَةٌ، وَقَالَ: وَادِيَيْنِ لَهُمْ.

اس سند سے بھی عبداللہ بن عمرو ؓ سے مغیرہ ؓ کی روایت کے ہم معنی روایت ہے اس میں إن شبابة بطن من فهم کے بجائے إن بطنا من فهم ہے اور من کل عشر قرب قربة کے بجائے من عشر قرب قربة اور لهم وادييهم کے بجائے واديين لهم ہے۔

Amr bin Shuaib said on the authority of his father that his grandfather reported a sub clan of Fahm. He then narrated the tradition like that of the narrator Al Mughirah. This version has “ (They used to give) sadaqah out of ten bags (of honey). ” He also added “Two woods of theirs”.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الزکاة ٢٠ (١٨٢٣)، ( تحفة الأشراف: ٨٦٥٧) (حسن )
1603Sunan Abu Dawood

درخت پر انگوروں کا اندازہ کرلینے کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ السَّرِيِّ النَّاقِطُ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ،عَنْ عَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ، قَالَ: أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُخْرَصَ الْعِنَبُ كَمَا يُخْرَصُ النَّخْلُ، وَتُؤْخَذُ زَكَاتُهُ زَبِيبًا كَمَا تُؤْخَذُ زَكَاةُ النَّخْلِ تَمْرًا.

عتاب بن اسید ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے انگور کا تخمینہ لگانے کا حکم دیا جیسے درخت پر کھجور کا تخمینہ لگایا جاتا ہے اور ان کی زکاۃ اس وقت لی جائے جب وہ خشک ہوجائیں جیسے کھجور کی زکاۃ سوکھنے پر لی جاتی ہے۔

Narrated Attab ibn Usayd: The Messenger of Allah ﷺ commanded to estimate vines (for collecting zakat) as palm-trees are estimated. The zakat is to be paid in raisins as the zakat on palm trees is paid in dried dates.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الزکاة ١٧ (٦٤٤)، سنن النسائی/الزکاة ١٠٠ (٢٦١٩)، سنن ابن ماجہ/الزکاة ١٨ (١٨١٩)، ( تحفة الأشراف: ٩٧٤٨) (ضعیف) (سعید بن مسیب اور عتاب ؓ کے درمیان سند میں انقطاع ہے )
1604Sunan Abu Dawood

درخت پر انگوروں کا اندازہ کرلینے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيَّبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَالِحٍ التَّمَّارِ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: سَعِيدٌ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَتَّابٍ شَيْئًا.

ابن شہاب سے اس سند سے بھی اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے ابوداؤد کہتے ہیں: سعید نے عتاب سے کچھ نہیں سنا ہے ١ ؎۔

The Above-mentioned tradition has also been narrated by Ibn Shihab through a different chain of narrators to the same effects.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس لئے کہ عتاب ؓ کی وفات (١٣ ھ) میں اور سعید کی پیدائش (١٥ ھ) میں ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، ( تحفة الأشراف: ٩٧٤٨) (ضعیف )