Sunan Abu Dawood 1588

کتاب الزکوٰة

1588Sunan Abu Dawood

مصدق کو راضی کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ أَبِي الْغُصْنِ، عَنْ صَخْرِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَيَأْتِيكُمْ رُكَيْبٌ مُبْغَضُونَ، فَإِنْ جَاءُوكُمْ فَرَحِّبُوا بِهِمْ وَخَلُّوا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَبْتَغُونَ، فَإِنْ عَدَلُوا فَلِأَنْفُسِهِمْ وَإِنْ ظَلَمُوا فَعَلَيْهَا، وَأَرْضُوهُمْ فَإِنَّ تَمَامَ زَكَاتِكُمْ رِضَاهُمْ وَلْيَدْعُوا لَكُمْ. قَالَ أَبُو دَاوُد: أَبُو الْغُصْنِ هُوَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ غُصْنٍ.

جابر بن عتیک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قریب ہے کہ تم سے زکاۃ لینے کچھ ایسے لوگ آئیں جنہیں تم ناپسند کرو گے، جب وہ آئیں تو انہیں مرحبا کہو اور وہ جسے چاہیں، اسے لینے دو، اگر انصاف کریں گے تو فائدہ انہیں کو ہوگا اور اگر ظلم کریں گے تو اس کا وبال بھی انہیں پر ہوگا، لہٰذا تم ان کو خوش رکھو، اس لیے کہ تمہاری زکاۃ اس وقت پوری ہوگی جب وہ خوش ہوں اور انہیں چاہیئے کہ تمہارے حق میں دعا کریں ۔

Narrated Jabir ibn Atik: The Prophet ﷺ said: Riders who are objects of dislike to you will come to you, but you must welcome them when they come to you, and give them a free hand regarding what they desire. If they are just, they will receive credit for it, but if they are unjust, they will be held responsible. Please them, for the perfection of your zakat consists in their good pleasure, and let them ask a blessing for you. Abu Dawud said: The name of the narrator Abu al-Ghusn is Thabit bin Qais bin Ghusn.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٣١٧٥) (ضعیف) (اس کے راوی صخر لین الحدیث ہیں )