ابن ابی رافع کہتے ہیں ابوہریرہ ؓ نے نماز جمعہ پڑھائی تو (پہلی رکعت میں) سورة الجمعہ اور دوسری میں إذا جاءک المنافقون پڑھی، ابن ابی رافع کہتے ہیں کہ ابوہریرہ نماز سے فارغ ہوئے تو میں ان سے ملا اور کہا کہ آپ نے (نماز جمعہ میں) ایسی دو سورتیں پڑھی ہیں جنہیں علی ؓ کوفہ میں پڑھا کرتے تھے۔ اس پر ابوہریرہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو جمعہ کے دن انہی دونوں سورتوں کو پڑھتے ہوئے سنا ہے۔
Ibn Abi Rafi said: Abu Hurairah led us in the Friday prayer and recited Surah al-Jumuah and When the hypocrites come to you (63) in the last rakah. He said: I met Abu Hurairah when he finished the prayer and said to him: You recited the two surah that Ali used to recite at Kufah. Abu Hurairah said: I heard the Messenger of Allah ﷺ reciting them on Friday.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجمعة ١٦ (٨٧٧)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٥٧ (الجمعة ٢٢) (٥١٩)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٩٠ (١١١٨)، (تحفة الأشراف: ١٤١٠٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٢٩) (صحیح )
سمرہ بن جندب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز جمعہ میں سبح اسم ربک الأعلى اور هل أتاک حديث الغاشية پڑھتے تھے۔
Narrated Samurah ibn Jundub (RA) : The Messenger of Allah ﷺ used to recite in the Friday prayer: Glorify the name of your most high Lord (Surah 87) and Has the story of the overwhelming event reached you? (Surah 88).
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الجمعة ٣٩ (١٤٢٣)، (تحفة الأشراف: ٤٦١٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٧، ١٣، ١٤، ١٩) (صحیح )
نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر ؓ نے جمعہ کے دن ایک شخص کو اپنی اسی جگہ پر دو رکعت نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا، (جہاں اس نے جمعہ کی نماز ادا کی تھی) تو انہوں نے اس شخص کو اس کی جگہ سے ہٹا دیا اور کہا: کیا تم جمعہ چار رکعت پڑھتے ہو؟ اور عبداللہ بن عمر جمعہ کے دن دو رکعتیں اپنے گھر میں پڑھا کرتے تھے اور کہتے تھے: رسول اللہ ﷺ نے ایسے ہی کیا ہے۔
Nafi said: Ibn Umar saw a man praying two rakahs after the Friday prayer on the same place (where he offered the Friday prayer). He pushed him and said: Do you offer four rakahs of Friday prayer ? Abdullah (bin Umar) used to pray two rakahs in his house after the Friday prayer, and he used to say: This is how the Messenger of Allah ﷺ did.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الجمعة ٤٣ (١٤٣٠)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٩٠ (١١١٨)، (تحفة الأشراف: ٧٥٤٨)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجمعة ٣٩ (٩٣٧)، صحیح مسلم/المسافرین ١٥ (٧٢٨)، والجمعة ١٨ (٨٨٢)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٥٩ (الجمعة ٢٤) (٥٢٢)، موطا امام مالک/قصر الصلاة ٢٣(٦٩)، مسند احمد (٢/٤٤٩، ٤٩٩)، سنن الدارمی/الصلاة ١٤٤(١٤٧٧) (صحیح )
نافع کہتے ہیں ابن عمر ؓ جمعہ سے پہلے نماز لمبی کرتے اور جمعہ کے بعد دو رکعتیں اپنے گھر میں پڑھتے تھے اور بیان کرتے کہ رسول اللہ ﷺ اسے پڑھتے تھے۔
Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : Nafi said: Ibn Umar used to lengthen his prayer before the Friday prayer and would offer two rakahs after it in his house. He used to say that the Messenger of Allah ﷺ would do that.
ابن جریج کہتے ہیں کہ مجھے عمر بن عطاء بن ابی الخوار نے خبر دی ہے کہ نافع بن جبیر نے انہیں ایک چیز کے متعلق، جسے معاویہ بن ابی سفیان ؓ نے نماز میں انہیں کرتے ہوئے دیکھا تھا، سائب بن یزید کے پاس مسئلہ پوچھنے کے لیے بھیجا، تو انہوں نے بتایا کہ میں نے معاویہ کے ساتھ مسجد کے کمرہ میں نماز جمعہ ادا کی، جب میں نے سلام پھیرا تو اپنی اسی جگہ پر اٹھ کر پھر نماز پڑھی تو جب وہ گھر تشریف لائے تو مجھے بلوایا اور کہا: جو تم نے کیا ہے، اسے پھر دوبارہ نہ کرنا، جب تم جمعہ پڑھ چکو تو اس کے ساتھ دوسری نماز نہ ملاؤ، جب تک کہ بات نہ کرلو یا نکل نہ جاؤ، کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے اسی کا حکم دیا ہے کہ کوئی نماز کسی نماز سے ملائی نہ جائے جب تک کہ بات نہ کرلی جائے یا باہر نکل نہ لیا جائے ١ ؎۔
Umar bin Ata bin Abu al-Khuwar said that Nafi bin Jubair sent him to al-Saib bin Yazid bin Ukht Namir to ask him about something Muawiyyah had seen him do in prayer. He said: I offered the Friday prayer along with him in enclosure. When I uttered the salutation I stood up in my place and prayed. When he went in, he sent me a message saying: Never again do what you have done. When you pray the Friday prayer, you must not join another prayer to it till you have engaged in conversation or gone out, for the Prophet of Allah ﷺ gave the precise command not to join on prayer till you have engaged in conversation or gone out.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ جمعہ کے بعد سنت گھر آ کر پڑھی جائے، اگر مسجد میں پڑھی جائے تو دوسری جگہ ہٹ کر پڑھے، یا درمیان میں کسی سے کچھ باتیں کرلے، یا کوئی بھی ایسی صورت اختیار کرے جس سے لوگوں کو یہ معلوم ہوجائے کہ فرض اور سنت میں فرق و امتیاز ہوگیا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجمعة ١٨ (٨٨٣)، (تحفة الأشراف: ١١٤١٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٩٥، ٩٩) (صحیح )
عطاء سے روایت ہے کہ ابن عمر ؓ جب مکہ میں ہوتے تو جمعہ پڑھنے کے بعد آگے بڑھ کر دو رکعتیں پڑھتے پھر آگے بڑھتے اور چار رکعتیں پڑھتے اور جب مدینے میں ہوتے تو جمعہ پڑھ کر اپنے گھر واپس آتے اور (گھر میں) دو رکعتیں ادا کرتے، مسجد میں نہ پڑھتے، ان سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ ایسا کرتے تھے۔
Ata said: When Ibn Umar offered the Friday prayer in Makkah he would go forward and pray two rakahs, he would then go forward and pray four rakahs; but when he was in Madina, he offered the Friday prayer, then returned to his house and prayed two rakahs, not praying them in the mosque. Someone mentioned this to him and he replied that the Messenger of Allah ﷺ used to do it.
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (محمد بن صباح کی روایت میں ہے) جو شخص جمعہ کے بعد پڑھنا چاہے تو وہ چار رکعتیں پڑھے، اور راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ اور احمد بن یونس کی روایت میں یہ ہے کہ جب تم نماز جمعہ پڑھ چکو تو اس کے بعد چار رکعتیں پڑھو۔ سہیل کہتے ہیں: میرے والد ابوصالح نے مجھ سے کہا: میرے بیٹے! اگر تم نے مسجد میں دو رکعت پڑھ لی ہے پھر گھر آئے ہو تو (گھر پر) دو رکعت اور پڑھو۔
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying (this is the version of the narrator Ibn al-Sabbah): If anyone of you prays after the Friday prayer, he should say for rakahs. According to the version of the narrator Ibn Yunus, the tradition goes: When you have offered the Friday prayer, pray after it four rakahs. He said: My father said to me: My son, if you have said two rakahs in the mosque, then you comes to your house, pray two rakahs more.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٢٥٩٠، ١٢٦٥٤)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الجمعة ١٨ (٨٨١)، سنن الترمذی/الجمعة ٢٤ (٥٢٣)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٩٥ (١١٣٠)، مسند احمد (٢/٢٤٩، ٤٤٢، ٤٩٩)، سنن الدارمی/الصلاة ٢٠٧ (١٦١٥) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ جمعہ کے بعد دو رکعتیں اپنے گھر میں پڑھتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور عبداللہ بن دینار نے بھی اسے ابن عمر سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : The Messenger of Allah ﷺ used to pray two rakahs in his house after the Friday prayer. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted in a similar way by Abdullah bin Dinar from Ibn Umar.
ابن جریج عطاء سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ابن عمر ؓ کو دیکھا کہ وہ جمعہ کے بعد نفل پڑھتے تو اپنی اس جگہ سے جہاں انہوں نے جمعہ پڑھا تھا، تھوڑا سا ہٹ جاتے زیادہ نہیں، پھر دو رکعتیں پڑھتے پھر پہلے سے کچھ اور دور چل کر چار رکعتیں پڑھتے۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عطاء سے کہا: آپ نے ابن عمر کو کتنی بار ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے؟ تو انہوں نے کہا: بارہا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے عبدالملک بن ابی سلیمان نے نامکمل طریقہ پر روایت کیا ہے۔
Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : Ibn Jurayj said: Ata told me that he saw Ibn Umar pray after the Friday prayer. He moved a little from the place where he offered the Friday prayer. Then he would pray two rakahs. He then walked far away from that place and would offer four rakahs. I asked Ata: How many times did you see Ibn Umar do that? He replied: Many times. Abu Dawud said: This has been narrated by AbdulMalik ibn Abu Sulayman, but did not narrate it completely.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/ الجمعة ٤٢ (١٤٢٩)، (تحفة الأشراف: ٧٣٢٩) (صحیح )
انس ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے (تو دیکھا کہ) ان کے لیے (سال میں) دو دن ہیں جن میں وہ کھیلتے کودتے ہیں تو آپ نے پوچھا: یہ دو دن کیسے ہیں؟ ، تو ان لوگوں نے کہا: جاہلیت میں ہم ان دونوں دنوں میں کھیلتے کودتے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ نے تمہیں ان دونوں کے عوض ان سے بہتر دو دن عطا فرما دیئے ہیں: ایک عید الاضحی کا دن اور دوسرا عید الفطر کا دن ۔
Narrated Anas ibn Malik: When the Messenger of Allah ﷺ came to Madina, the people had two days on which they engaged in games. He asked: What are these two days (what is the significance)? They said: We used to engage ourselves on them in the pre-Islamic period. The Messenger of Allah ﷺ said: Allah has substituted for them something better than them, the day of sacrifice and the day of the breaking of the fast.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٦١٩)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/العیدین (١٥٥٧)، مسند احمد (٣/١٠٣، ١٧٨، ٢٣٥، ٢٥٠) (صحیح )
یزید بن خمیر رحبی سے روایت ہے کہ صحابی رسول عبداللہ بن بسر ؓ لوگوں کے ساتھ عید الفطر یا عید الاضحی کے دن نکلے، تو انہوں نے امام کے دیر کرنے کو ناپسند کیا اور کہا: ہم تو اس وقت عید کی نماز سے فارغ ہوجاتے تھے اور یہ اشراق پڑھنے کا وقت تھا۔
Narrated Abdullah ibn Busr (RA) : Yazid ibn Khumayr ar-Rahbi said: Abdullah ibn Busr, the Companion of the Messenger of Allah ﷺ came out along with the people on the day of the breaking of the fast or on the day of sacrifice (to offer the prayer). He disliked the delay of the imam, and said: We would finish (our Eid prayer) at this moment, that is, at the time of forenoon.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٧٠ (١٣١٧)، (تحفة الأشراف: ٥٢٠٦) (صحیح )
ام عطیہ ؓ کہتی ہیں: ہم کو رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ ہم پردہ نشین عورتوں کو عید کے دن (عید گاہ) لے جائیں، آپ سے پوچھا گیا: حائضہ عورتوں کا کیا حکم ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: خیر میں اور مسلمانوں کی دعا میں چاہیئے کہ وہ بھی حاضر رہیں ، ایک خاتون نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر ان میں سے کسی کے پاس کپڑا نہ ہو تو وہ کیا کرے؟ آپ نے فرمایا: اس کی سہیلی اپنے کپڑے کا کچھ حصہ اسے اڑھا لے ۔
Umm Atiyyah said: The Messenger of Allah ﷺ commanded us to bring out the secluded women on the day of Eid (festival). He was asked: What about the menstruous women ? He said: They should be present at the place of virtue and the supplications of the Muslims. A woman said: Messenger of Allah, what should we do it one of us does not possess an outer garment ? He replied: Let her friend lend a part of her garment.
اس سند سے بھی ام عطیہ ؓ سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: حائضہ عورتیں مسلمانوں کی نماز کی جگہ سے علیحدہ رہیں، محمد بن عبید نے اپنی روایت میں کپڑے کا ذکر نہیں کیا ہے، وہ کہتے ہیں: حماد نے ایوب سے ایوب نے حفصہ سے، حفصہ نے ایک عورت سے اور اس عورت نے ایک دوسری عورت سے روایت کی ہے کہ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول!، پھر محمد بن عبید نے کپڑے کے سلسلے میں موسیٰ بن اسماعیل کے ہم معنیٰ حدیث ذکر کی۔
This tradition has also been narrated by Umm Atiyyah in a similar manner through a different chain. She added: The menstruating women should keep themselves away from the place of prayer of the Muslims. She did not mention the garment. She narrated this tradition from Hafsah mentioning a woman who asked about another woman saying: O Messenger of Allah. . . . She then reported the tradition like that narrated by Musa mentioning the garment.
اس طریق سے بھی ام عطیہ ؓ سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ انہوں نے کہا: ہمیں حکم دیا جاتا تھا، پھر یہی حدیث بیان کی، پھر آگے اس میں ہے کہ: انہوں نے بتایا: حائضہ عورتیں لوگوں کے پیچھے ہوتی تھیں اور لوگوں کے ساتھ تکبیریں کہتی تھیں ١ ؎۔
This tradition has also been narrated by Umm Atiyyah though a different chain of transmitters. She said: We were commanded to go out (for offering the Eid prayer). She further said: The menstruating women stood behind the people and they uttered the takbir (Allah is most great) along with the people.
Notes · وضاحت
١ ؎: ان احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ عیدین میں عورتوں کو لے جانا سنت ہے۔
ام عطیہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب مدینہ تشریف لائے تو آپ نے انصار کی عورتوں کو ایک گھر میں جمع کیا اور عمر بن خطاب ؓ کو ہمارے پاس بھیجا تو وہ (آ کر) دروازے پر کھڑے ہوئے اور ہم عورتوں کو سلام کیا، ہم نے ان کے سلام کا جواب دیا، پھر انہوں نے کہا: میں تمہارے پاس رسول اللہ ﷺ کا بھیجا ہوا قاصد ہوں اور آپ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم عیدین میں حائضہ عورتوں اور کنواری لڑکیوں کو لے جائیں اور یہ کہ ہم عورتوں پر جمعہ نہیں ہے، نیز آپ نے ہمیں جنازے کے ساتھ جانے سے منع فرمایا۔
Umm Atiyyah said: When the Messenger of Allah ﷺ came to Madina, he gathered the women of Ansar in a house, and sent to us (to them) Umar bin al-Khattab. He stood at the door and gave the salutation to us and we returned it (the salutation) to him. Thereupon, he said: I am the messenger of the Messenger of Allah ﷺ to you. He commanded us to bring out the menstruating women and the virgins for both the Eid prayers, and that the Friday prayer is not obligatory on us. He prohibited us to accompany the funeral procession.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٠٦٨٠)، وقد أخرجہ: (٥/٨٥، ٦/٤٠٨) (ضعیف )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ مروان عید کے روز منبر لے کر گئے اور نماز سے پہلے خطبہ شروع کردیا تو ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے کہا: مروان! آپ نے خلاف سنت کام کیا ہے، ایک تو آپ عید کے روز منبر لے کر گئے حالانکہ اس دن منبر نہیں لے جایا جاتا تھا، دوسرے آپ نے نماز سے پہلے خطبہ شروع کردیا، تو ابو سعید خدری ؓ نے پوچھا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا: فلاں بن فلاں ہے اس پر انہوں نے کہا: اس شخص نے اپنا حق ادا کردیا، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو تم میں سے کوئی منکر دیکھے اور اسے اپنے ہاتھ سے مٹا سکے تو اپنے ہاتھ سے مٹائے اور اگر ہاتھ سے نہ ہو سکے تو اپنی زبان سے مٹائے اور اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو دل سے اسے برا جانے اور یہ ایمان کا ادنی درجہ ہے۔
Abu Saeed al-Khudri said: Marwan brought out the pulpit onEidd. He began preaching before the prayer. A man stood and said: You opposed the sunnah, O Marwan. You brought out the pulpit on theEidd, it was not brought out before: and you began preaching before the prayer. Abu Saeed al-Khudri said: Wh is this (man) ? They (people) said: So-and so son of so-and-so. He has performed his duty. I heard the Messenger of Allah ﷺ say: He who observes and evil deed should change it with his hand if he can do so; if he cannot do, (he should change it) then with his tongue; if he cannot do then (he should change it) with his heart, and that is the weakest degree of the faith.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإیمان ٢٠ (٤٩)، سنن الترمذی/الفتن ١١ (٢١٧٢)، سنن النسائی/الإیمان ١٧ (٥٠١١، ٥٠١٢)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٥٥ (١٢٧٥)، (تحفة الأشراف: ٤٠٨٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٠، ٢٠، ٤٩، ٥٢، ٥٣، ٥٤، ٩٢)، وأعادہ المصنف فی الملاحم (٤٣٤٠) (صحیح )
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ عید الفطر کے دن کھڑے ہوئے تو خطبہ سے پہلے نماز ادا کی، پھر لوگوں کو خطبہ دیا تو جب اللہ کے نبی اکرم ﷺ فارغ ہو کر اترے تو عورتوں کے پاس تشریف لے گئے اور انہیں وعظ و نصیحت کی اور آپ بلال ؓ کے ہاتھ پر ٹیک لگائے ہوئے تھے اور بلال ؓ اپنا کپڑا پھیلائے ہوئے تھے، جس میں عورتیں صدقہ ڈالتی جاتی تھیں، کوئی اپنا چھلا ڈالتی تھی اور کوئی کچھ ڈالتی اور کوئی کچھ۔
Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Prophet ﷺ stood on the day of the breaking of the fast (Id) and offered prayer. He began the prayer before the sermon. He then addressed the people. When the Prophet ﷺ finished the sermon, he descended (from the pulpit) and went to women. He gave them an exhortation while he was leaning on the hand of Bilal. Bilal was spreading his garment in which women were putting alms; some women put their rings and others other things.
عطاء کہتے ہیں: میں ابن عباس ؓ کے بارے میں گواہی دیتا ہوں اور ابن عباس نے رسول اللہ ﷺ کے متعلق گواہی دی ہے کہ آپ عید الفطر کے دن نکلے، پھر نماز پڑھائی، پھر خطبہ دیا، پھر آپ عورتوں کے پاس آئے اور بلال ؓ بھی آپ کے ساتھ تھے۔ ابن کثیر کہتے ہیں: شعبہ کا غالب گمان یہ ہے کہ (اس میں یہ بھی ہے کہ) آپ نے انہیں صدقہ کا حکم دیا تو وہ (اپنے زیورات وغیرہ بلال کے کپڑے میں) ڈالنے لگیں۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ came out on Eid (the festival day). He first offered the prayer and then delivered the sermon. He then went to women, taking Bilal with him. The narrator Ibn Kathir said: The probable opinion of Shubah is that he commanded them to give alms. So they began to put (their jewellery).
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٦١ (٨٦٣)، والعیدین ١٦ (٩٧٥)، ١٨ (٩٧٧)، والزکاة ٣٣ (١٤٤٩)، والنکاح ١٢٥ (٥٢٤٩)، واللباس ٥٦ (٥٨٨٠)، والاعتصام ١٦ (٧٣٢٥)، صحیح مسلم/العیدین (٨٨٤)، سنن النسائی/العیدین ١٣ (١٥٧٠)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٥٥ (١٢٧٣)، (تحفة الأشراف: ٥٨٨٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٢٠، ٢٢٦، ٢٤٣، ٣٤٥، ٣٤٦، ٣٥٧، ٣٦٨)، سنن الدارمی/الصلاة ٢١٨ (١٦٤٤)، و انظر ما یأتي برقم (١١٥٩) (صحیح )
اس سند سے بھی ابن عباس ؓ سے اسی مفہوم کی روایت مروی ہے اس میں یہ ہے: آپ ﷺ کو خیال ہوا کہ آپ عورتوں کو نہیں سنا سکے ہیں تو آپ ﷺ ان کی طرف چلے اور بلال ؓ بھی آپ کے ساتھ تھے، آپ نے انہیں وعظ و نصیحت کی اور صدقہ کا حکم دیا، تو عورتیں بالی اور انگوٹھی بلال کے کپڑے میں ڈال رہی تھیں۔
The above mentioned tradition has also been narrated by Ibn Abbas to the same effect through a different chain of transmitters. This version adds: He (the Prophet) thought that women could not hear (his sermon). So he went to them and Bilal was in his company. He gave them exhortation and commanded them to give alms. Some women put their ear-rings and other their rings in the garment of Bilal.