عبداللہ بن عباس ؓ سے مروی اسی حدیث میں ہے عورتیں بالی اور انگوٹھی (صدقہ میں) دینے لگیں اور بلال ؓ انہیں اپنی چادر میں رکھتے جاتے تھے وہ کہتے ہیں، پھر نبی اکرم ﷺ نے اسے مسلمان فقراء کے درمیان تقسیم کردیا۔
The above mentioned tradition has also bee transmitted by Ibn Abbas through a different chain of narrators. This version adds: The women began to give their ear-rings and rings in alms. Bilal began to collect them in his garment. He (the Prophet) then distributed them among the poor Muslims.
عبدالرحمٰن بن عابس کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ابن عباس ؓ سے پوچھا: کیا آپ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز عید میں حاضر رہے ہیں؟ آپ نے کہا: ہاں اور اگر رسول اللہ ﷺ کے نزدیک میری قدر و منزلت نہ ہوتی تو میں کمسنی کی وجہ سے آپ کے ساتھ حاضر نہ ہو پاتا ١ ؎، رسول اللہ ﷺ اس نشان کے پاس تشریف لائے جو کثیر بن صلت کے گھر کے پاس تھا تو آپ نے نماز پڑھی، پھر خطبہ دیا اور اذان اور اقامت کا انہوں نے ذکر نہیں کیا، پھر آپ ﷺ نے ہمیں صدقے کا حکم دیا، تو عورتیں اپنے کانوں اور گلوں (یعنی بالیوں اور ہاروں) کی طرف اشارے کرنے لگیں، وہ کہتے ہیں: تو آپ ﷺ نے بلال ؓ کو حکم دیا چناچہ وہ ان کے پاس آئے پھر (صدقہ لے کر) نبی اکرم ﷺ کے پاس واپس لوٹ آئے۔
Abdur-Rahman bin Abis said: A man asked Ibb Abbas (RA) : Have you been present along with the Messenger of Allah ﷺ ? He replied: Yes. Had there been no dignity for me in his eyes, I would not have been present with him due to my minority. Then the Messenger of Allah ﷺ came to the point that was near the house of Kathir bin al-Salt. He prayed and afterwards preached. He (Ibn Abbas) did not mention the adhan (call to prayer) and the iqamah. He then commanded to give alms. The women began to point to their ears and throats (to give their jewelry in alms).
Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ مجھے رسول اللہ ﷺ سے قرابت کا شرف حاصل تھا اس لئے مجھے آپ ﷺ کے ساتھ کھڑے ہونے کا موقع ملا ورنہ میری کمسنی کی وجہ سے لوگ مجھے آپ ﷺ کے ساتھ کھڑا نہ ہونے دیتے۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عید کی نماز بغیر اذان اور اقامت کے پڑھی اور ابوبکر اور عمر یا عثمان ؓ عنہم نے بھی، یہ شک یحییٰ قطان کو ہوا ہے۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ offered the Eid prayer without the adhan and the iqamah. Abu Bakr and Umar or Uthman also did so. The narrator Yahya is doubtful about Uthman.
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں رسول اللہ ﷺ عید الفطر اور عید الاضحی کی پہلی رکعت میں سات تکبیریں اور دوسری رکعت میں پانچ تکبیریں کہتے تھے ١ ؎۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Messenger of Allah ﷺ would say the takbir (Allah is most great) seven times in the first rakah and five times in the second rakah on the day of the breaking of the fast and on the day of sacrifice (on the occasion of both the Eid prayers, the two festivals).
Notes · وضاحت
١ ؎: یہی سارے محدثین، امام مالک، امام احمد اور امام شافعی کا مذہب ہے، لیکن امام مالک اور امام احمد کے نزدیک پہلی رکعت میں سات تکبیریں تکبیر تحریمہ ملا کر ہیں، اور دوسری رکعت میں پانچ تکبیریں قیام کے علاوہ، اور امام شافعی کے نزدیک پہلی رکعت میں تکبیر تحریمہ کے علاوہ زائد سات تکبیریں اور دوسری رکعت میں قیام کی تکبیر کے علاوہ زائد پانچ تکبیرات (اور سبھی کے نزدیک یہ تکبیریں دونوں رکعتوں میں قرأت سے پہلے کہی جائیں گی)، امام ابوحنیفہ کے نزدیک پہلی رکعت میں قرأت سے پہلے تکبیر تحریمہ کے علاوہ تین تکبیریں ہیں اور دوسری رکعت میں قرأت کے بعد تکبیر رکوع کے علاوہ تین تکبیریں ہیں، لیکن اس کے لئے کوئی مرفوع صحیح حدیث نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/إقامة ١٥٦ (١٢٨٠)، (تحفة الأشراف: ١٦٤٢٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٦٥، ٧٠) (صحیح )
اس طریق سے بھی ابن شہاب سے اسی سند سے اسی مفہوم کی روایت مروی ہے ، اس میں ہے (یہ تکبیریں) رکوع کی دونوں تکبیروں کے علاوہ ہوتیں۔
The above mentioned tradition has also been narrated by Ibn Shihab through a different chain of transmitters to the same effect. This version adds: Except the two takers pronounced at the time of the bowing.
عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی کریم ﷺ نے فرمایا: عید الفطر کی پہلی رکعت میں سات تکبیریں اور دوسری رکعت میں پانچ تکبیریں ہیں، اور دونوں میں قرأت تکبیر (زوائد) کے بعد ہے ۔
Abd bin Amr bin al-As said: The Prophet of Allah ﷺ said: There are seven takers in the first rakah and five in the second rakah of the prayer offered on the day of the breaking of the fast.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٥٦ (١٢٧٨)، (تحفة الأشراف: ٨٧٢٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٨٠) (حسن )
عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ عید الفطر کی پہلی رکعت میں سات تکبیریں کہتے تھے پھر قرأت کرتے پھر الله أكبر کہتے پھر (دوسری رکعت کے لیے) کھڑے ہوتے تو چار تکبیریں کہتے پھر قرأت کرتے پھر رکوع کرتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے وکیع اور ابن مبارک نے بھی روایت کیا ہے، ان دونوں نے سات اور پانچ تکبیریں نقل کی ہیں۔
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: The Prophet ﷺ used to say on the day of the breaking of the fast seven takbirs in the first rakah and then recite the Quran, and utter the takbir (Allah is most great). Then he would stand, and utter the takbir four times. Thereafter he would recite the Quran and bow. Abu Dawud said: This has been narrated by Waki and Ibn al-Mubarak. Their version goes: Seven (in the first rakah) and five (in the second).
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١١٥١، (تحفة الأشراف: ٨٧٢٨) (حسن صحیح) (لیکن أربعاً کا لفظ صحیح نہیں ہے، صحیح لفظ خمساً ہے )
مکحول کہتے ہیں کہ ابوہریرہ ؓ کے ہم نشیں ابوعائشہ نے مجھے خبر دی ہے کہ سعید بن العاص نے ابوموسیٰ اشعری اور حذیفہ بن یمان ؓ سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ عید الاضحی اور عید الفطر میں کیسے تکبیریں کہتے تھے؟ تو ابوموسیٰ نے کہا: چار تکبیریں کہتے تھے جنازہ کی چاروں تکبیروں کی طرح، یہ سن کر حذیفہ نے کہا: انہوں نے سچ کہا، اس پر ابوموسیٰ نے کہا: میں اتنی ہی تکبیریں بصرہ میں کہا کرتا تھا، جہاں پر میں حاکم تھا، ابوعائشہ کہتے ہیں: اس (گفتگو کے وقت) میں سعید بن العاص کے پاس موجود تھا۔
Abu Aisha (RA) said: Saeed bin al-As asked Abu Musa al-Ashari and Hudhaifah bin al-Yaman: How would the Messenger of Allah ﷺ utter the takbir (Allah is most great) in the prayer of the day of sacrifice and of the breaking of the fast. Abu Musa said: He uttered takbir four times as he did at funerals. Hudhaifah said: He is correct. Then Abu Musa said: I used to utter the takbir in a similar way when I was the governor of Basrah. Abu Aisha (RA) said: I was present there when Saeed bin al-As asked.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٣٣٩٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٤١٦) (حسن) (ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: ١٠٤٦/م )
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب ؓ نے ابو واقد الیثی ؓ سے پوچھا: رسول اللہ ﷺ عید الاضحی اور عید الفطر میں کون سی سورت پڑھتے تھے؟ آپ نے کہا: آپ ﷺ ان میں ق والقرآن المجيد اور اقتربت الساعة وانشق القمر پڑھتے تھے۔
Ubaid Allah bin Abdullah bin Utbah bin Masud said: Umar bin al-Khattab asked Abu Waqid al-Laithi: What did the Messenger of Allah ﷺ recite during the prayer on the day of sacrifice and on the breaking of the fast ? He replied: He recited at both of them Surah al-Qaf, By the Glorious Quran [50] and the Surah The Hour is nigh (54).
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/العیدین ٣ (٨٩١)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٦٨ (الجمعة ٣٣)، (٥٣٤، ٥٣٥)، سنن النسائی/العیدین ١١ (١٥٦٨)، سنن ابن ماجہ/إقامة ١٥٧ (١٢٨٢)، (تحفة الأشراف: ١٥٥١٣)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ العیدین ٤ (٨)، مسند احمد (٥/٢١٧، ٢١٨، ٢١٩) (صحیح )
عبداللہ بن سائب ؓ کہتے ہیں میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عید میں حاضر ہوا تو جب آپ نماز پڑھ چکے تو فرمایا: ہم خطبہ دیں گے تو جو شخص خطبہ سننے کے لیے بیٹھنا چاہے بیٹھے اور جو جانا چاہے جائے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ مرسل ہے، عطا نے اسے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے۔
Narrated Abdullah ibn as-Saib: I attended the Eid prayer along with the Messenger of Allah ﷺ . When he finished the prayer, he said: We shall deliver the sermon; he who likes to sit for listening to it may sit and he who likes to go away may go away. Abu Dawud said: this is a mursal tradition (i. e. the successor Ata directly reporting from the Prophet ﷺ and omitting the link of the Companions).
ابو عمیر بن انس کے ایک چچا سے جو نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے ہیں، روایت ہے کہ کچھ سوار نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے وہ گواہی دے رہے تھے کہ کل انہوں نے چاند دیکھا ہے، تو آپ نے انہیں افطار کرنے اور دوسرے دن صبح ہوتے ہی اپنی عید گاہ جانے کا حکم دیا۔
Narrated Abu Umayr ibn Anas (RA) : Abu Umayr reported on the authority of some of his paternal uncles who were Companions of the Prophet ﷺ : Some men came riding to the Prophet ﷺ and testified that they had sighted the new moon the previous day. He (the Holy Prophet), therefore, commanded the people to break the fast and to go out to their place of prayer in the morning.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/العیدین ١ (١٥٥٨)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٦ (١٦٥٣)، (تحفة الأشراف: ١٥٦٠٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٥٧، ٥٨) (صحیح )
بکر بن مبشر انصاری ؓ کہتے ہیں کہ میں عید الفطر اور عید الاضحی کے دن رسول اللہ ﷺ کے اصحاب کے ساتھ عید گاہ جاتا تھا تو ہم وادی بطحان سے ہو کر جاتے یہاں تک کہ عید گاہ پہنچتے اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھتے پھر اسی وادی بطحان سے ہی اپنے گھر واپس آتے تھے ١ ؎۔
Narrated Bakr ibn Mubashshir al-Ansari (RA) : I used to go to the place of prayer on the day of the breaking of the fast, and on the day of sacrifice along with the Companions of the Messenger of Allah ﷺ . We would walk through a valley known as Batn Bathan till we came to the place of prayer. Then we would pray along with the Messenger of Allah ﷺ and return through Batn Bathan to our house.
Notes · وضاحت
١ ؎: ایک تو یہ حدیث ضعیف ہے دوسرے اس کا تعلق پچھلے باب سے ہے، سنن ابوداود کے بعض نسخوں میں پچھلے ہی باب میں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٢٠٢٦) (ضعیف) (اسحاق بن سالم مجہول راوی ہیں )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ عید الفطر کے دن نکلے تو آپ نے دو رکعت پڑھی، نہ اس سے پہلے کوئی نماز پڑھی اور نہ اس کے بعد، پھر عورتوں کے پاس تشریف لائے اور آپ کے ساتھ بلال ؓ بھی تھے، آپ نے انہیں صدقہ کا حکم دیا تو عورتیں اپنی بالیاں اور اپنے ہار (بلال ؓ کے کپڑے میں نکال نکال کر) ڈالنے لگیں۔
Ibn Abbas said: The Messenger of Allah ﷺ came out on the day of the breaking of the fast and prayed two rakahs, before and after which he did not pray. He then went to women, taking Bilal with him, and commanded them to given alms. So one began to put her ear-ring and another her necklace (in the garment of Bilal).
عبداللہ بن زید بن عاصم ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ لوگوں کے ساتھ نماز استسقا کے لیے نکلے، تو آپ نے انہیں دو رکعت پڑھائی، جن میں بلند آواز سے قرأت کی اور اپنی چادر پلٹی اور قبلہ رخ ہو کر بارش کے لیے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کی ١ ؎۔
Abbad bin Tamim (al-Muzini) reported on the authority of his uncle: The Messenger of Allah ﷺ took the people out (to the place of prayer) and prayed for rain. He led them in two rakahs of prayer in the course of which he recited from the Quran in a loud voice. He turned around his cloak and raised his hands, prayed for rain and faced the qiblah
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی چادر کو اس طرح پلٹا کہ اوپر کا حصہ نیچے ہوگیا اور نیچے کا اوپر، اور داہنا کنارہ بائیں طرف ہوگیا اور بایاں کنارہ داہنی طرف، اس کا طریقہ یہ ہے کہ داہنے ہاتھ سے چادر کا نیچے کا بایاں کونہ اور بائیں ہاتھ سے نیچے کا داہنا کونہ پکڑ کر پیٹھ کے پیچھے اپنے دونوں ہاتھوں کو پھرا دے اس طرح سے کہ جو کونہ داہنے ہاتھ سے پکڑا ہے وہ داہنے کندھے پر آجائے، اور جو بائیں ہاتھ سے پکڑا ہے وہ بائیں کندھے پر آجائے۔
ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ مجھے عباد بن تمیم مازنی نے خبر دی ہے کہ انہوں نے اپنے چچا (عبداللہ بن زید بن عاصم ؓ) سے (جو صحابی رسول تھے) سنا کہ ایک روز رسول اللہ ﷺ لوگوں کو ساتھ لے کر نماز استسقا کے لیے نکلے اور لوگوں کی طرف اپنی پیٹھ کر کے اللہ عزوجل سے دعا کرتے رہے۔ سلیمان بن داود کی روایت میں ہے کہ آپ نے قبلہ کا استقبال کیا اور اپنی چادر پلٹی پھر دو رکعتیں پڑھیں۔ اور ابن ابی ذئب کی روایت میں ہے کہ آپ نے ان دونوں میں قرآت کی۔ ابن سرح نے یہ اضافہ کیا ہے کہ قرآت سے ان کی مراد جہری قرآت ہے۔
Abbad bin Tamim al Mazini said on the authority of his uncle (Abdullah bin Zaid b Asim) who was a Companion of the Messenger of Allah ﷺ : One day the Messenger of Allah ﷺ went out to make supplication for rain. He turned his back towards the people praying to Allah, the Exalted. The narrator Sulaiman bin Dawud said: He faced the qiblah and turned around his cloak and then offered two rakahs of prayer. The narrator Ibn Abi Dhib said: He recited from the Quran in both of them. The version of Ibn al-Sarh adds: By it he means in a loud voice.
اس طریق سے بھی محمد بن مسلم (ابن شہاب زہری) سے سابقہ سند سے یہی حدیث مروی ہے اس میں راوی نے نماز کا ذکر نہیں کیا ہے اس میں ہے: آپ ﷺ نے اپنی چادر پلٹی تو چادر کا داہنا کنارہ اپنے بائیں کندھے پر اور بایاں کنارہ اپنے داہنے کندھے پر کرلیا، پھر اللہ عزوجل سے دعا کی۔
The above-mentioned tradition has also been transmitted by Muhammad bin Muslim through a different chain of narrators. But there is no mention of prayer in this version. The version adds: He turned around his cloak, putting its right side on his left shoulder and its left side on his right shoulder. Thereafter he made supplication to Allah.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (١١٦١)، (تحفة الأشراف: ٥٢٩٧) (صحیح )