حصین بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں عمارہ بن رویبہ نے بشر بن مروان کو جمعہ کے دن (منبر پر دونوں ہاتھ اٹھا کر) دعا مانگتے ہوئے دیکھا تو عمارہ نے کہا: اللہ ان دونوں ہاتھوں کو برباد کرے۔ زائدہ کہتے ہیں کہ حصین نے کہا: مجھ سے عمارہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو منبر پر دیکھا ہے، آپ اس سے (یعنی شہادت کی انگلی کے ذریعہ اشارہ کرنے سے (جو انگوٹھے کے قریب ہوتی ہے) زیادہ کچھ نہ کرتے تھے۔
Umarah bin Ruwaibah said that he saw Bishr bin Marwan (on the pulpit) praying on Friday (by raising his hands). Umarah said: May Allah reject these hands! I have seen the Messenger of Allah ﷺ on the pulpit gesturing no more than this pointing with his forefinger.
سہل بن سعد ؓ کہتے ہیں کہ میں نے کبھی بھی رسول اللہ ﷺ کو دونوں ہاتھ اٹھا کر اپنے منبر پر دعا مانگتے ہوئے نہیں دیکھا اور نہ غیر منبر پر، بلکہ میں نے آپ کو اس طرح کرتے دیکھا اور انہوں نے شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا اور بیچ کی انگلی کا انگوٹھے سے حلقہ بنایا۔
Narrated Sahl ibn Saad: I never saw the Messenger of Allah ﷺ raising his hands and praying on the pulpit or otherwise. But I saw him saying (doing) this way, and he would point with his forefinger making a circle by joining the middle finger with his thumb.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابوداود، (تحفة الأشراف: ٤٨٠٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٣٧) (ضعیف) (اس کے راوی عبد الرحمن بن اسحاق اور عبد الرحمن بن معاویہ پر کلام ہے )
سمرہ بن جندب ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: خطبہ میں حاضر رہا کرو اور امام سے قریب رہو کیونکہ آدمی برابر دور ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ جنت میں بھی پیچھے کردیا جاتا ہے گرچہ وہ اس میں داخل ہوتا ہے ۔
Narrated Samurah ibn Jundub (RA) : The Prophet ﷺ said: Attend the sermon (on Friday) and sit near the imam, for a man keeps himself away until he will be left behind at the time of entering Paradise though he enters it.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٤٦٣٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٠، ١١) (حسن )
بریدہ ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ ہمیں خطبہ دے رہے تھے، اتنے میں حسن اور حسین ؓ دونوں لال قمیص پہنے ہوئے گرتے پڑتے آئے آپ ﷺ منبر پر سے اتر پڑے، انہیں اٹھا لیا اور لے کر منبر پر چڑھ گئے پھر فرمایا: اللہ نے سچ فرمایا ہے: إنما أموالکم وأولادکم فتنة (التغابن: ١٥) تمہارے مال اور اولاد آزمائش ہیں میں نے ان دونوں کو دیکھا تو میں صبر نہ کرسکا ، پھر آپ نے دوبارہ خطبہ دینا شروع کردیا۔
Narrated Buraydah ibn al-Hasib: The Messenger of Allah ﷺ delivered a speech to us; meanwhile al-Hasan and al-Husayn came upon there stumbling, wearing red shirts. He came down from the pulpit, took them and ascended it with them. He then said: Allah truly said: Your property and your children are only trial (Ixiv. 15). I saw both of them, and I could not wait. Afterwards he resumed the speech.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/المناقب ٣١ (٣٧٧٤)، سنن النسائی/الجمعة ٣٠ (١٤١٤)، والعیدین ٢٧ (١٥٨٦)، سنن ابن ماجہ/اللباس ٢٠ (٣٦٠٠)، (تحفة الأشراف: ١٩٥٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٥٤) (صحیح )
معاذ بن انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جمعہ کے دن امام کے خطبہ دینے کی حالت میں حبوہ ١ ؎ (گوٹ مار کر بیٹھنے سے) منع فرمایا ہے ٢ ؎۔
Narrated Anas ibn Malik: The Messenger of Allah ﷺ prohibited to sit on hips by erecting feet, sticking them to the stomach and holding them with hands on Friday while the imam is delivering the sermon.
Notes · وضاحت
١ ؎: حبوۃ (گوٹ مار کر بیٹھنے) کی صورت یہ ہے کہ دونوں پاؤں کھڑا رکھے، اور انہیں پیٹ سے ملائے رکھے، اور دونوں سرین پر بیٹھے، اور کپڑے سے دونوں پاؤں اور پیٹ باندھ لے یا ہاتھوں سے حلقہ بنا لے۔ ٢ ؎: اس سے اس لئے منع کیا گیا ہے کہ اس طرح بیٹھنے سے نیند زیادہ آتی ہے، اور ہوا خارج ہونے کا امکان زیادہ بڑھ جاتا ہے، بسا اوقات وضو ٹوٹ جاتا ہے، اور آدمی کو اس کی خبر نہیں ہو پاتی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٢٥٣ (الجمعة ١٨) (٥١٤)، (تحفة الأشراف: ١١٢٩٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٣٩) (حسن )
یعلیٰ بن شداد بن اوس کہتے ہیں میں معاویہ ؓ کے ساتھ بیت المقدس میں حاضر ہوا تو انہوں نے ہمیں جمعہ کی نماز پڑھائی تو میں نے دیکھا کہ مسجد میں زیادہ تر لوگ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب ہیں اور میں نے انہیں امام کے خطبہ دینے کی حالت میں گوٹ مار کر بیٹھے دیکھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبداللہ بن عمر ؓ بھی امام کے خطبہ دینے کی حالت میں گوٹ مار کر بیٹھتے تھے اور انس بن مالک ؓ، شریح، صعصہ بن صوحان، سعید بن مسیب، ابراہیم نخعی، مکحول، اسماعیل بن محمد بن سعد اور نعیم بن سلامہ نے کہا ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میری معلومات کی حد تک عبادہ بن نسی کے علاوہ کسی اور نے اس کو مکروہ نہیں کہا ہے۔
Yala bin Shaddad bin Aws said: I came to Muawiyah in Jerusalem. He led us in the Friday prayer. I saw that most of the people in the mosque were the Companions of the Prophet ﷺ . I saw them sitting in ihtiba condition, i. e. sitting on hips erecting the feet and sticking them to the stomach and holding them with hands or tying them with a cloth to the back, while the imam was giving sermon. Abu Dawud said: Ibn Umar used to sit in ihtiba position while the imam gave the Friday sermon. Anas bin Malik (RA), Shuraih, Sasaah bin Sawhan, Saeed bin al-Musayyib, Ibrahim al-Nakhai, Makhul, Ismail, Ismail bin Muhammad bin Saad, and Nuaim bin Sulamah said: There is no harm in sitting in ihtiba position. Abu Dawud said: I do not know whether anyone considered it disapproved except Ubadah bin Nasayy.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود (ضعیف) (اس کے راوی سلیمان ضعیف ہیں )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم نے امام کے خطبہ دینے کی حالت میں (کسی سے) کہا: چپ رہو، تو تم نے لغو کیا ۔
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: When you tell (your brother on Friday) to be silent while the imam is giving the sermon you are guilty of idle talk.
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جمعہ میں تین طرح کے لوگ حاضر ہوتے ہیں: ایک آدمی وہ جو جمعہ میں حاضر ہو کر لغو و بیہودہ گفتگو کرے، اس میں سے اس کا حصہ یہی ہے ١ ؎، دوسرا آدمی وہ ہے جو اس میں حاضر ہو کر اللہ سے دعا کرے تو وہ ایک ایسا آدمی ہے جس نے اللہ سے دعا کی ہے اگر وہ چاہے تو اسے دے اور چاہے تو نہ دے، تیسرا وہ آدمی ہے جو حاضر ہو کر خاموشی سے خطبہ سنے، نہ کسی مسلمان کی گردن پھاندے، نہ کسی کو تکلیف دے، تو یہ اس کے لیے اس جمعہ سے لے کر دوسرے جمعہ تک کے اور مزید تین دن تک کے گناہوں کا کفارہ ہوگا کیونکہ اللہ فرماتا ہے: جو نیکی کرے گا تو اسے اس کا دس گنا ثواب ملے گا ۔
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: The Prophet ﷺ said: Three types of people attend Friday prayer; One is present in a frivolous way and that is all he gets from it; another comes with a supplication, Allah may grant or refuse his request as He wishes; another is present silently and quietly with-out stepping over a Muslim or annoying anyone, and that is an atonement for his sins till the next Friday and three days more, the reason being that Allah, the Exalted, says: He who does a good deed will have ten times as much (vi. 160).
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اسے کوئی ثواب نہیں ملے گا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٨٦٦٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٨١، ٢١٤) (حسن )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب حالت نماز میں تم میں سے کسی شخص کو حدث ہوجائے تو وہ اپنی ناک پکڑ کر چلا جائے ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے حماد بن سلمہ اور ابواسامہ نے ہشام سے ہشام نے اپنے والد عروہ سے اور عروہ نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے، ان دونوں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ کا ذکر نہیں کیا ہے۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Prophet ﷺ said: When one of you becomes defiled during prayer, he should hold his nose and then turn away. Abu Dawud said: This tradition has been narrated by Hammad bin Salamah and Abu Usamah from Hisham on the authority of his father from the Prophet ﷺ . They did not mention the name of Aisha (RA) .
Notes · وضاحت
١ ؎: ناک پکڑنے کا حکم اس لئے دیا گیا ہے کہ اس سے لوگ سمجھیں گے کہ اس کی نکسیر پھوٹ گئی ہے کیوں کہ شرم کی بات (ہوا خارج ہوجانے کی بات) کو چھپانا ہی بہتر ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٧٠٤٣)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٣٨ (١٢٢٢) (صحیح )
جابر ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص جمعہ کے دن (مسجد میں) آیا اور نبی اکرم ﷺ خطبہ دے رہے تھے، تو آپ نے فرمایا: اے فلاں! کیا تم نے نماز پڑھ لی ہے؟ ، اس نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: تو اٹھ کر نماز پڑھو ١ ؎۔
Jabir said: I came (to the mouse) while the Prophet ﷺ was giving the (Friday) sermon. He asked: Did you pray, so-and-so? He replied: No. He said: Stand and pray.
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ سلیک غطفانی تھے جیسا کہ اگلی روایت میں اس کی تصریح آئی ہے، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی امام کے خطبہ دینے کی حالت میں مسجد میں آئے تو وہ دو رکعت تحیۃ المسجد پڑھ کر بیٹھے۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں سلیک غطفانی ؓ (مسجد میں) آئے اور رسول اللہ ﷺ خطبہ دے رہے تھے، تو آپ نے ان سے فرمایا: کیا تم نے کچھ پڑھا؟ ، انہوں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ہلکی ہلکی دو رکعتیں پڑھ لو ۔
Jabir and Abu Salih reported on the authority of Abu Hurairah (RA) : Sulaik al-Ghatafani came (to the mosque) while the Messenger of Allah ﷺ was giving the (Friday) sermon. He asked him: Did you pray something ? He said: No. He said: Offer two rakahs and make them short.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجمعة ١٤ (٨٧٥)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٨٧ (١١١٤)، (تحفة الأشراف: ٢٢٩٤، ١٢٣٦٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣١٦) (صحیح )
جابر بن عبداللہ ؓ کا بیان ہے کہ سلیک ؓ آئے، پھر راوی نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی اور اتنا اضافہ کیا کہ پھر آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص آئے اور امام خطبہ دے رہا ہو تو دو ہلکی رکعتیں پڑھ لے ١ ؎۔
This tradition has also been transmitted through a different chain of narrators by Jabir bin Abdullah. This version adds: He (the Prophet) turned to the people and said: When one of you comes (on Friday) while the imam is preaching, he should pray two rakahs and make them short.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس ٹکڑے سے ان لوگوں کے قول کی تردید ہوتی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ یہ حکم سلیک غطفانی ؓ کے ساتھ خاص تھا نبی اکرم ﷺ نے انہیں یہ حکم اس لئے دیا تھا کہ لوگ ان کی خستہ حالت دیکھ کر ان کا تعاون کریں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٢٣٣٩)، مسند احمد (٣/٢٩٧) (صحیح )
ابوزاہریہ کہتے ہیں ہم نبی اکرم ﷺ کے صحابی عبداللہ بن بسر ؓ کے ساتھ جمعہ کے دن (مسجد میں) تھے، اتنے میں ایک شخص لوگوں کی گردنیں پھاندتا ہوا آیا تو عبداللہ بن بسر نے کہا: ایک شخص (اسی طرح) جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھاندتا ہوا آیا اور نبی اکرم ﷺ خطبہ دے رہے تھے تو آپ نے اس شخص سے فرمایا: بیٹھ جاؤ، تم نے لوگوں کو تکلیف پہنچائی ہے ۔
Abu al-Zahiriyyah said: We were in the company of Abdullah bin Busr, the Companion of the Prophet ﷺ , on a Friday. A man came and stepped over the people. Abdullah bin Busr said: A man came and stepped over the people while the Prophet ﷺ was giving the sermon on Friday. The Prophet ﷺ said: Sit down, you have annoyed (the people).
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الجمعة ٢٠ (١٤٠٠)، (تحفة الأشراف: ٥١٨٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٨٨، ١٩٠) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جب تم میں سے کسی کو مسجد میں بیٹھے بیٹھے اونگھ آنے لگے تو وہ اپنی جگہ سے ہٹ کر دوسری جگہ بیٹھ جائے ۔
Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : The Prophet ﷺ said: When any of you dozes in the mosque (on Friday), he should change his place.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٢٦٢ (الجمعة ٢٧) (٥٢٦)، (تحفة الأشراف: ٨٤٠٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٢، ٣٢، ١٣٥) (صحیح )
انس ؓ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ (خطبہ دے کر) منبر سے اترتے تو آدمی کوئی ضرورت آپ کے سامنے رکھتا تو آپ اس کے ساتھ کھڑے باتیں کرتے یہاں تک کہ وہ اپنی حاجت پوری کرلیتا، یعنی اپنی گفتگو مکمل کرلیتا، پھر آپ کھڑے ہوتے اور نماز پڑھاتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث ثابت سے معروف نہیں ہے، یہ جریر بن حازم کے تفردات میں سے ہے۔
Narrated Anas ibn Malik: I saw the Messenger ﷺ would descend from the pulpit and a man stop him for his need. He would remain standing with him until his need was fulfilled. Then he would stand and pray. Abu Dawud said: This tradition is not well known from the narrator Thabit. Jarir bin Hazim is the only narrator of this tradition.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٢٥٦ (الجمعة ٢١) (٥١٧)، سنن النسائی/الجمعة ٣٦ (١٤٢٠)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٨٩ (١١١٧)، (تحفة الأشراف: ٢٦٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١١٩، ١٢٧) (ضعیف) (والصحیح ہو الحدیث رقم: ٢٠١) (جریر بن حازم سے وہم ہوا ہے، اصل واقعہ عشاء کا ہے نہ کہ جمعہ کا، جیسا کہ حدیث نمبر: ٢٠١ میں ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے نماز کی ایک رکعت پا لی تو اس نے وہ نماز پا لی ١ ؎۔
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: If anyone obtains a rakah in the prayer (along with the imam), he has obtained the whole prayer.
Notes · وضاحت
١ ؎: سنن ابن ماجہ میں باب ماجاء فیمن أدرک من الجمع ۃ رکع ۃ کے تحت تین حدیثیں ہیں، پہلی بسند ابن ابی ذئب عن الزہری عن ابی سلمہ و سعید بن المسیب عن ابی ہریرہ ۃ عن النبی ﷺ کا لفظ یہ ہے: من أدرک من الجمعة ركعة فليصل إليها أخرى اور دوسری حدیث بطریق ابن عیینہ عن الزہری عن ابی سلم ۃ عن ابی ہریرہ ۃ عن النبی ﷺ مثل سیاق ابی داود مروی ہے، اور تیسری روایت بسند یونس بن یزید الأیلی عن الزہری عن سالم عن ابن عمرعن النبی ﷺ ہے اور اس کا سیاق یہ ہے: من أدرک ركعة من صلاة الجمعة أو غيرها فقد أدرک الصلاة اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر ایک رکعت سے کم پائے گا تو اس کی جمعہ کی نماز فوت ہوجائے گی، یعنی وہ جمعہ کے بدلے ظہر کی چار رکعتیں پڑھے گا، یہی جمہور کا مذہب ہے، اور ابوداود اور ابن ماجہ کی تبویب سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر پوری ایک رکعت نہ پائے، مثلاً: دوسری رکعت کے سجدے میں شریک ہو، یا قعدہ (تشہد) میں تو جمعہ نہیں ملا، اب وہ ظہر کی چار رکعتیں پڑھے، بعض اہل علم کا یہی مذہب ہے، اور بعض کے نزدیک جمعہ میں شامل ہونے والا اگر ایک رکعت سے کم پائے یعنی جیسے رکوع کے بعد سے سلام پھیرنے کے وقت کی مدت تو وہ جمعہ دو رکعت ادا کرے اس لیے کہ حدیث میں آیا ہے:ما أدرکتم فصلوا وما فاتکم فأتموا ( کہ امام کے ساتھ جو ملے وہ پڑھو اور جو نہ ملے اس کو پوری کرلو) تو جمعہ میں شریک ہونے والا نماز جمعہ ہی پڑھے گا، اور یہ دو رکعت ہی ہے، امام ابوحنیفہ کا یہی مذہب ہے، اور اس کی تائید مولانا عبدالرحمن مبارکپوری نے کی ہے۔ ( ملاحظہ ہو: تحفۃ الأحوذی علی سنن الترمذی حدیث رقم: ٥٢٤ )
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المواقیت ٢٩ (٥٨٠)، صحیح مسلم/المساجد ٣٠ (٦٠٧)، سنن النسائی/المواقیت ٣٠ (٥٥٤)، (تحفة الأشراف: ١٥٢٤٣)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/وقوت الصلاة ٣ (١٥)، دی/الصلاة ٢٢(١٢٥٦، ١٢٥٧) (صحیح )
نعمان بن بشیر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عیدین میں اور جمعہ کے روز سبح اسم ربک الأعلى اور هل أتاک حديث الغاشية پڑھتے تھے اور بسا اوقات عید اور جمعہ دونوں ایک ہی دن پڑجاتا تو (بھی) انہیں دونوں کو پڑھتے تھے۔
Al-Numan bin Bashir said: The Messenger of Allah ﷺ used to recite at the twoEidds (festivals) and on Friday, Glorify the name of your most high Lord. (87) and Has the story of the overwhelming reached you? (88) He said: When a festival (Id) and a Friday coincided, he recited them both (at the two prayers).
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجمعة ١٦ (٨٧٨)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٦٨ (الجمعة ٣٣) (٥٣٣)، سنن النسائی/الجمعة ٣٩ (١٤٢٥)، والعیدین ٣١ (١٥٩١)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٩٠ (١١٢٠)، ١٥٧ (١٢٨١)، (تحفة الأشراف: ١١٦١٢)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجمعة ٩ (١٩)، مسند احمد (٤/٢٧٠، ٢٧١، ٢٧٣، ٢٧٦، ٢٧٧)، سنن الدارمی/الصلاة ٢٠٣ (١٤٢٥) (صحیح )
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ ضحاک بن قیس نے نعمان بن بشیر ؓ سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ جمعہ کے دن سورة الجمعہ پڑھنے کے بعد کون سی سورت پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: هل أتاک حديث الغاشية پڑھتے تھے۔
Al-Dahhak bin Qais asked al-Numan bin Bashir: What did the Messenger of Allah ﷺ recited on Friday after reciting the Surah al-Jumuah (62). He replied: He used to recite, Had the story of overwhelming event reached you ? (88).
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجمعة ١٦ (٨٧٨)، سنن النسائی/الجمعة ٣٩ (١٤٢٤) سنن ابن ماجہ/الإقامة ٩٠ (١١١٩)، (تحفة الأشراف: ١١٦٣٤)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجمعة ٩ (١٩)، مسند احمد (٤/٢٧٠، ٢٧٧)، دی/الصلاة ٢٠٣ (١٦٠٧، ١٦٠٨) (صحیح )