Sunan Abu Dawood

All 5,295 hadiths in order · Page 55 of 265

1084Sunan Abu Dawood

جمعہ کے وقت کا بیان

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنِي فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّيْمِيُّ، سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْجُمُعَةَ إِذَا مَالَتِ الشَّمْسُ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جمعہ سورج ڈھلنے کے بعد پڑھتے تھے۔

Anas bin Malik (RA) said: The Messenger of Allah ﷺ used to offer the Friday prayer when the sun declined.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجمعة ١٦(٩٠٤)، سنن الترمذی/الجمعة ٩ (٥٠٣)، (تحفة الأشراف: ١٠٨٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٢٨، ١٥٠، ٢٢٨) (صحیح )
1085Sunan Abu Dawood

جمعہ کے وقت کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ الْحَارِثِ، سَمِعْتُ إِيَاسَ بْنَ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُمُعَةَ، ثُمَّ نَنْصَرِفُ وَلَيْسَ لِلْحِيطَانِ فَيْءٌ.

سلمہ بن الاکوع ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جمعہ پڑھتے تھے پھر نماز سے فارغ ہو کر واپس آتے تھے اور دیواروں کا سایہ نہ ہوتا تھا۔

Salamah bin al-Akwa reported on the authority of his father: We used to offer the Friday prayer along with the Messenger of Allah ﷺ and return (to our homes) while no shade of the walls was seen (at that time).

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المغازي ٢٥ (٤١٦٨)، صحیح مسلم/الجمعة ٩ (٨٦٠)، سنن النسائی/الجمعة ١٤ (١٣٩٢)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٨٤ (١١٠٠)، (تحفة الأشراف: ٤٥١٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٤٦، ٥٠)، سنن الدارمی/الصلاة ١٩٤(١٥٨٧) (صحیح )
1086Sunan Abu Dawood

جمعہ کے وقت کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: كُنَّا نَقِيلُ وَنَتَغَدَّى بَعْدَ الْجُمُعَةِ.

سہل بن سعد ؓ کہتے ہیں کہ ہم جمعہ کے بعد قیلولہ کرتے تھے اور دوپہر کا کھانا کھاتے تھے۔

Sahl bin Saad said: We had a siesta or lunch after the Friday prayer.

Takhrij · تخریج
والاستئذان ٣٩ (٦٢٧٩)، (تحفة الأشراف: ٤٦٨٣)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الجمعة ٩ (٨٥٩)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٦١ (الجمعة ٢٦) (٥٢٥)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٨٤ (١٠٩٩) (صحیح )
1087Sunan Abu Dawood

جمعہ کی اذان کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّ الْأَذَانَ كَانَ أَوَّلُهُ حِينَ يَجْلِسُ الْإِمَامُ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَافَلَمَّا كَانَ خِلَافَةُ عُثْمَانَ وَكَثُرَ النَّاسُ أَمَرَ عُثْمَانُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ بِالْأَذَانِ الثَّالِثِ، فَأُذِّنَ بِهِ عَلَى الزَّوْرَاءِ، فَثَبَتَ الْأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ.

سائب بن یزید ؓ کا بیان ہے کہ نبی اکرم ﷺ اور ابوبکر و عمر ؓ کے زمانے میں جمعہ کے دن پہلی اذان اس وقت ہوتی تھی جب امام منبر پر بیٹھ جاتا تھا، پھر جب عثمان ؓ کی خلافت ہوئی، اور لوگوں کی تعداد بڑھ گئی تو جمعہ کے دن انہوں نے تیسری اذان کا حکم دیا، چناچہ زوراء ١ ؎ پر اذان دی گئی پھر معاملہ اسی پر قائم رہا ٢ ؎۔

Al-Saib bin Yazid said: During the time of the Prophet ﷺ and Abu Bakr and Umar the call to the Friday prayer was first made at the time when the imam was seated on the pulpit (for giving the sermon). When the time of Uthman came, and the people became abundant, Uthman ordered to make a third call to the Friday prayer. It was made on al-Zaura (a house in Madina). The rule of action continued to the same effect.

Notes · وضاحت
١ ؎: زوراء مدینہ کے بازار میں ایک جگہ کا نام۔ ٢ ؎: تکبیر کو شامل کرکے یہ تیسری اذان ہوئی، یہ ترتیب میں پہلی اذان ہے جو خلیفہ راشد عثمان ؓ کی سنت ہے، دوسری اذان اس وقت ہوگی جب امام خطبہ دینے کے لئے منبر پر بیٹھے گا، اور تیسری اذان تکبیر ہے اگر کوئی صرف اذان اور تکبیر پر اکتفا کرے تو اس نے نبی اکرم ﷺ اور ابوبکر و عمر ؓ کی سنت کی اتباع کی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجمعة ٢١ (٩١٢)، ٢٢ (٩١٣)، ٢٤ (٩١٥)، ٢٥ (٩١٦)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٥٥ (الجمعة ٢٠) (٥١٦)، سنن النسائی/الجمعة ١٥ (١٣٩٣)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٩٧ (١١٣٥)، (تحفة الأشراف: ٣٧٩٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٥٠٤٤٩) (صحیح )
1088Sunan Abu Dawood

جمعہ کی اذان کا بیان

حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ،عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: كَانَ يُؤَذَّنُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ،وَأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَثُمَّ سَاقَ نَحْوَ حَدِيثِ يُونُسَ.

سائب بن یزید ؓ کہتے ہیں جمعہ کے روز جب رسول اللہ ﷺ منبر پر بیٹھ جاتے تو آپ کے سامنے مسجد کے دروازے پر اذان دی جاتی تھی اسی طرح ابوبکر و عمر ؓ کے دور میں بھی مسجد کے دروازے پر اذان دی جاتی۔ پھر راوی نے یونس کی حدیث کی طرح روایت بیان کی۔

Saeed bin Yazid said: The call to the (Friday) prayer was made at the gate of the mosque in front of the Messenger of Allah ﷺ when he sat on the pulpit, and of Abu Bakr and Umar. The narrator then repeated the same tradition as reported by Yunus.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٣٧٩٩) (منکر) (زہری سے اس حدیث کو سات آدمیوں نے روایت کی ہے مگر کسی کے یہاں بین یدی کا لفظ نہیں ہے )
1089Sunan Abu Dawood

جمعہ کی اذان کا بیان

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ السَّائِبِ، قَالَ: لَمْ يَكُنْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مُؤَذِّنٌ وَاحِدٌ بِلَالٌثُمَّ ذَكَرَ مَعْنَاهُ.

سائب بن یزید ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ کے پاس سوائے ایک مؤذن بلال ؓ کے کوئی اور مؤذن نہیں تھا ١ ؎۔ پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔

Saib said: There was no other muadhdhin (pronouncer) of the Messenger of Allah ﷺ except Bilal. The narrator then reported the tradition to the same effect.

Notes · وضاحت
١ ؎: جہاں تک اس اعتراض کا تعلق ہے کہ جب نبی اکرم ﷺ کے پاس بلال، ابن ام مکتوم، ابومحذورہ اور سعد القرط رضی اللہ عنھم پر مشتمل مؤذنین کی ایک جماعت تھی، پھر یہ کہنا کیسے صحیح ہے کہ آپ ﷺ کے پاس بلال ؓ کے علاوہ کوئی اور مؤذن نہیں تھا؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ مسجد نبوی میں جمعہ کی نماز کے لئے آپ ﷺ کے پاس بلال ؓ کے علاوہ کوئی اور مؤذن نہیں تھا، کیونکہ ابن ام مکتوم ؓ کے سلسلے میں یہ منقول نہیں ہے کہ وہ جمعہ کی اذان دیتے تھے، اور ابومحذورہ ؓ مکہ مکرمہ کے مؤذن تھے اور سعد القرط ؓ قبا کے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٠٨٧، (تحفة الأشراف: ٣٧٩٩) (صحیح )
1090Sunan Abu Dawood

جمعہ کی اذان کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ،حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّالسَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ ابْنَ أُخْتِ نَمِرٍ أَخْبَرَهُ، قَالَ: وَلَمْ يَكُنْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ مُؤَذِّنٍ وَاحِدٍ، وَسَاقَ هَذَا الْحَدِيثَ وَلَيْسَ بِتَمَامِهِ.

سائب بن یزید ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک مؤذن کے علاوہ اور کوئی مؤذن نہیں تھا۔ اور راوی نے یہی حدیث بیان کی لیکن پوری نہیں۔

Saib said: There was no other muadhdhin of the Messenger of Allah ﷺ . He then narrated the tradition which is incomplete.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٠٨٧، (تحفة الأشراف: ٣٧٩٩) (صحیح )
1091Sunan Abu Dawood

امام خطبہ کے دوران گفتگو کرسکتا ہے

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ كَعْبٍ الْأَنْطَاكِيُّ، حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: لَمَّا اسْتَوَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، قَالَ: اجْلِسُوافَسَمِعَ ذَلِكَ ابْنُ مَسْعُودٍ فَجَلَسَ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ، فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: تَعَالَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ. قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا يُعْرَفُ مُرْسَلًا، إِنَّمَا رَوَاهُ النَّاسُ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَخْلَدٌ هُوَ شَيْخٌ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جمعہ کے دن جب منبر پر اچھی طرح سے بیٹھ گئے تو آپ نے لوگوں سے فرمایا: بیٹھ جاؤ ، تو عبداللہ بن مسعود ؓ نے (جو اس وقت مسجد کے دروازے پر تھے) اسے سنا تو وہ مسجد کے دروازے ہی پر بیٹھ گئے، تو انہیں رسول اللہ ﷺ نے دیکھا تو فرمایا: عبداللہ بن مسعود! تم آجاؤ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث مرسلاً معروف ہے کیونکہ اسے لوگوں نے عطاء سے، عطاء نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے، اور مخلد شیخ ہیں، (یعنی مراتب تعدیل کے پانچویں درجہ پر ہیں جن کی روایتیں حسن سے نیچے ہی ہوتی ہیں، الا یہ کہ ان کا کوئی متابع موافق ہو )

Jabir said: When the Messenger of Allah ﷺ seated himself on the pulpit on a Friday he said, Sit down. Ibn Masud heard that and sat down at the door of mosque, and when the Messenger of Allah ﷺ saw him, he said: Come here, Abdullah bin Masud. Abu Dawud said: This tradition is known as mursal (the successor reports directly from the Prophet, omitting then name of the Companion). The people narrated it from the Prophet ﷺ on the authority of Ata. Makhlad is his teacher.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٢٤٦٤) (صحیح )
1092Sunan Abu Dawood

امام کا منبر پر بیٹھنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ، عَنْ الْعُمَرِيِّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ خُطْبَتَيْنِ كَانَ يَجْلِسُ إِذَا صَعِدَ الْمِنْبَرَ حَتَّى يَفْرَغَ أُرَاهُ قَالَ الْمُؤَذِّنُ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ، ثُمَّ يَجْلِسُ فَلَا يَتَكَلَّمُ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ (جمعہ کے دن) دو خطبہ دیتے تھے وہ اس طرح کہ آپ منبر پر چڑھنے کے بعد بیٹھتے تھے یہاں تک کہ مؤذن فارغ ہوجاتا، پھر آپ ﷺ کھڑے ہوتے اور خطبہ دیتے، پھر (تھوڑی دیر) خاموش بیٹھتے پھر کھڑے ہو کر خطبہ دیتے۔

Ibn Umar said: The Prophet ﷺ used to deliver two sermons. He would sit down when he ascended the pulpit till he (I think he meant the muadhdhin) finished. He would then stand up and preach, then sit down and say nothing, then stand up and preach.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٧٧٢٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجمعة ٣٠ (٩٢٨)، صحیح مسلم/الجمعة ١٠ (٨٦١)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٤٦ (الجمعة ١١) (٥٠٦)، سنن النسائی/الجمعة ٣٣ (١٤١٧)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٨٥ (١١٠٣)، مسند احمد ٢/٩٨، سنن الدارمی/الصلاة ٢٠٠ (١٥٩٩) (صحیح )
1093Sunan Abu Dawood

کھڑے ہو کر خطبہ پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يَخْطُبُ قَائِمًا، ثُمَّ يَجْلِسُ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ قَائِمًا، فَمَنْ حَدَّثَكَ أَنَّهُ كَانَ يَخْطُبُ جَالِسًا فَقَدْ كَذَبَ، فَقَالَ: فَقَدْ وَاللَّهِ صَلَّيْتُ مَعَهُ أَكْثَرَ مِنْ أَلْفَيْ صَلَاةٍ.

جابر بن سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ (جمعہ کے دن) کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے، پھر (تھوڑی دیر) بیٹھ جاتے، پھر کھڑے ہو کر خطبہ دیتے، لہٰذا جو تم سے یہ بیان کرے کہ آپ بیٹھ کر خطبہ دیتے تھے تو وہ غلط گو ہے، پھر انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں آپ کے ساتھ دو ہزار سے زیادہ نمازیں پڑھ چکا ہوں ١ ؎۔

Jabir bin Samurah said: The Messenger of Allah ﷺ used to deliver the sermon standing, then he would sit down, then stand and preach standing. If anyone tells you he preached sitting, he is lying. I swear by Allah that I offered along with more than two thousand prayers.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ان میں (٥٠) جمعے بھی میں نے آپ ﷺ کے ساتھ پڑھے ہیں، یہ مراد نہیں کہ میں نے دو ہزار جمعے آپ ﷺ کے ساتھ پڑھے ہیں، کیونکہ دو ہزار جمعے آپ ﷺ کی نبوت کے وقت سے لے کر وفات تک بھی نہیں ہوتے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجمعة ١٠ (٨٦٢)، (تحفة الأشراف: ٢١٥٦)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الجمعة ٣٢ (١٤١٦)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٨٥ (١١٠٥)، مسند احمد (٥/٨٩، ٩٠، ٩١، ٩٢، ٩٣، ٩٤، ٩٥، ٩٧، ٩٨، ٩٩، ١٠٠، ١٠١، ١٠٢، ١٠٧)، سنن الدارمی/الصلاة ١٩٩(١٥٩٨) (حسن )
1094Sunan Abu Dawood

کھڑے ہو کر خطبہ پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ الْمَعْنَى، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُطْبَتَانِ كَانَ يَجْلِسُ بَيْنَهُمَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيُذَكِّرُ النَّاسَ.

جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں (جمعہ کے دن) رسول اللہ ﷺ کے دو خطبے ہوتے تھے، ان دونوں خطبوں کے درمیان آپ (تھوڑی دیر) بیٹھتے تھے، (خطبہ میں) آپ قرآن پڑھتے اور لوگوں کو نصیحت کرتے تھے۔

Jabir bin Samurah said: The Messenger of Allah ﷺ gave two sermons between which he sat, recited the Quran and gave the people an exhortation.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجمعة ١٠ (٨٦٢)، (تحفة الأشراف: ٢١٦٩) (حسن )
1095Sunan Abu Dawood

کھڑے ہو کر خطبہ پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ،عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَخْطُبُ قَائِمًا، ثُمَّ يَقْعُدُ قَعْدَةً لَا يَتَكَلَّمُوَسَاقَ الْحَدِيثَ.

جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں میں نے نبی اکرم ﷺ کو کھڑے ہو کر خطبہ دیتے دیکھا پھر آپ تھوڑی دیر خاموش بیٹھتے تھے، اور راوی نے پوری حدیث بیان کی۔

Jabir bin Samurah said: I saw the Prophet ﷺ would deliver the sermon standing, then sit down without saying anything. The narrator then reported the tradition in full.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی الکبری/ الصلاة العیدین ٢٣ (١٧٨٨)، (تحفة الأشراف: ٢١٩٧) (حسن )
1096Sunan Abu Dawood

کمان پر ٹیک لگا کر خطبہ پڑھنا

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا شِهَابُ بْنُ خِرَاشٍ، حَدَّثَنِي شُعَيْبُ بْنُ زُرَيْقٍ الطَّائِفِيُّ، قَالَ: جَلَسْتُ إِلَى رَجُلٍ لَهُ صُحْبَةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُقَالُ لَهُ: الْحَكَمُ بْنُ حَزْنٍ الْكُلَفِيُّ فَأَنْشَأَ، يُحَدِّثُنَا، قَالَ: وَفَدْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَابِعَ سَبْعَةٍ، أَوْ تَاسِعَ تِسْعَةٍ، فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، زُرْنَاكَ فَادْعُ اللَّهَ لَنَا بِخَيْرٍ، فَأَمَرَ بِنَا، أَوْ أَمَرَ لَنَا بِشَيْءٍ مِنَ التَّمْرِ وَالشَّأْنُ إِذْ ذَاكَ دُونٌ فَأَقَمْنَا بِهَا أَيَّامًا شَهِدْنَا فِيهَا الْجُمُعَةَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَفَقَامَ مُتَوَكِّئًا عَلَى عَصًا أَوْ قَوْسٍ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ كَلِمَاتٍ خَفِيفَاتٍ طَيِّبَاتٍ مُبَارَكَاتٍ، ثُمَّ قَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّكُمْ لَنْ تُطِيقُوا أَوْ لَنْ تَفْعَلُوا كُلَّ مَا أُمِرْتُمْ بِهِ وَلَكِنْ سَدِّدُوا وَأَبْشِرُوا. قَالَ أَبُو عَلِيٍّ: سَمِعْت أَبُو دَاوُد، قَالَ: ثَبَّتَنِي فِي شَيْءٍ مِنْهُ بَعْضُ أَصْحَابِنَا وَقَدْ كَانَ انْقَطَعَ مِنَ الْقِرْطَاسِ.

شہاب بن خراش کہتے ہیں کہ شعیب بن زریق طائفی نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ میں ایک شخص کے پاس (جسے رسول اللہ ﷺ سے شرف صحبت حاصل تھا، اور جسے حکم بن حزن کلفی کہا جاتا تھا) بیٹھا تو وہ ہم سے بیان کرنے لگا کہ میں ایک وفد میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، میں اس وفد کا ساتواں یا نواں آدمی تھا، ہم آپ ﷺ کے پاس آئے تو ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم نے آپ کی زیارت کی ہے تو آپ ہمارے لیے خیر و بہتری کی دعا فرما دیجئیے، تو آپ ﷺ نے کچھ کھجوریں ہم کو دینے کا حکم دیا اور حالت اس وقت ناگفتہ بہ تھی، پھر ہم وہاں کچھ روز ٹھہرے رہے، ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جمعہ میں بھی حاضر رہے، آپ ایک عصا یا کمان پر ٹیک لگا کر کھڑے ہوئے چند ہلکے، پاکیزہ اور مبارک کلمات کے ذریعہ اللہ کی حمد و ثنا بیان کی پھر فرمایا: لوگو! تم سارے احکام کو جن کا تمہیں حکم دیا جائے بجا لانے کی ہرگز طاقت نہیں رکھتے یا تم نہیں بجا لاسکتے، لیکن درستی پر قائم رہو اور خوش ہوجاؤ ۔ ابوعلی کہتے ہیں کہ میں نے ابوداؤد کو کہتے ہوئے سنا کہ ہمارے بعض ساتھیوں نے کچھ کلمات مجھے ایسے لکھوائے جو کاغذ سے کٹ گئے تھے۔

Shuayb ibn Zurayq at-Taifi said: I sat with a man who had been in the company of the Messenger of Allah ﷺ . He was called al-Hakam ibn Hazn al-Kulafi. He began to narrate a tradition to us saying: I came to the Messenger of Allah ﷺ in a delegation consisting of seven or nine persons. We entered upon him and said: Messenger of Allah, we have visited you, so pray Allah what is good for us. He ordered to give us some dates. The Muslims in those days were weak. We stayed there for several days and offered the Friday prayer along with the Messenger of Allah ﷺ . He stood leaning on a staff or a bow. He praised Allah and exalted Him in light, pure and blessed words. Then he said: O people, you have no power to obey or you cannot obey what you are ordered. But be straight and give good tidings. Abu Ali said: Did you hear Abu Dawud ? He said: Some of my companions reminded me of some words that were omitted from writing on the paper.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابوداود، (تحفة الأشراف: ٣٤١٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢١٢) (حسن )
1097Sunan Abu Dawood

کمان پر ٹیک لگا کر خطبہ پڑھنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ إِذَا تَشَهَّدَ قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ نَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا، مِنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، أَرْسَلَهُ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ، مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ رَشَدَ، وَمَنْ يَعْصِهِمَا فَإِنَّهُ لَا يَضُرُّ إِلَّا نَفْسَهُ وَلَا يَضُرُّ اللَّهَ شَيْئًا.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب خطبہ پڑھتے تو کہتے: الحمد لله نستعينه ونستغفره ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادي له، وأشهد أن لا إله إلا الله، وأشهد أن محمدا عبده ورسوله، أرسله بالحق بشيرا ونذيرا بين يدي الساعة، من يطع الله ورسوله فقد رشد، ومن يعصهما فإنه لا يضر إلا نفسه ولا يضر الله شيئا ہر قسم کی حمد و ثنا اللہ ہی کے لیے ہے، ہم اسی سے مدد ما نگتے ہیں اور اسی سے مغفرت چاہتے ہیں، ہم اپنے نفس کی برائیوں سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، اللہ تعالیٰ جسے ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا، اور جسے گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں برحق رسول بنا کر قیامت آنے سے پہلے خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے، جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا وہ سیدھی راہ پر ہے، اور جو ان دونوں کی نافرمانی کرے گا وہ خود اپنے آپ کو نقصان پہنچائے گا، اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا ۔

Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : When the Messenger of Allah ﷺ addressed, he would say: Praise be to Allah, from Whom we seek help and pardon, and we seek refuge in Allah from the evils of our souls. He whom Allah guide has no one who can lead him astray, and he whom He leads astray has no one to guide him. And I bear witness that there is no god but Allah, and I bear witness that Muhammad is His servant and Messenger. He sent him before the coming of the last hour with truth giving good tidings and warning. He who obeys Allah and His Messenger follows the right path; and he who disobeys them shall harm none except himself, and he will not harm Allah in the least.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابوداود، (تحفة الأشراف: ٩٦٣٦) ویأتی ہذا الحدیث فی النکاح (٢١١٩) (ضعیف) (اس کے راوی عبدربہ مجہول ہیں )
1098Sunan Abu Dawood

کمان پر ٹیک لگا کر خطبہ پڑھنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ، عَنْ تَشَهُّدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ، قَالَ: وَمَنْ يَعْصِهِمَا فَقَدْ غَوَى، وَنَسْأَلُ اللَّهَ رَبَّنَا أَنْ يَجْعَلَنَا مِمَّنْ يُطِيعُهُ وَيُطِيعُ رَسُولَهُ وَيَتَّبِعُ رِضْوَانَهُ وَيَجْتَنِبُ سَخَطَهُ، فَإِنَّمَا نَحْنُ بِهِ وَلَهُ.

یونس سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن شہاب (زہری) سے جمعہ کے دن رسول اللہ ﷺ کے خطبہ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی اور اس میں اتنا اضافہ کیا: ومن يعصهما فقد غوى . ونسأل الله ربنا أن يجعلنا ممن يطيعه ويطيع رسوله ويتبع رضوانه ويجتنب سخطه فإنما نحن به وله جس نے ان دونوں کی نافرمانی کی وہ گمراہ ہوگیا، ہم اللہ تعالیٰ سے جو ہمارا رب ہے یہ چاہتے ہیں کہ ہم کو اپنی اور اپنے رسول کی اطاعت کرنے والوں اور اس کی رضا مندی ڈھونڈھنے والوں اور اس کے غصے سے پرہیز کرنے والوں میں سے بنا لے کیونکہ ہم اسی کی وجہ سے ہیں اور اسی کے لیے ہیں ۔

Narrated Ibn Shihab: Yunus asked Ibn Shihab about the address of the Messenger of Allah ﷺ on Friday. He mentioned it in like manner. He added: Anyone who disobeys them (Allah and His Messenger) goes astray. We beseech Allah, our Lord, to make us from those who obey Him and obey His Messenger, and follow what He likes, and abstain from His anger; we are due to Him and we belong to Him.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٩٤٠٧، ١٩٣٥٤) (ضعیف) (یہ حدیث مرسل ہے )
1099Sunan Abu Dawood

کمان پر ٹیک لگا کر خطبہ پڑھنا

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ، عَنْ تَمِيمٍ الطَّائِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، أَنَّ خَطِيبًا خَطَبَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ رَشَدَ وَمَنْ يَعْصِهِمَا، فَقَالَقُمْ أَوِ اذْهَبْ بِئْسَ الْخَطِيبُ أَنْتَ.

عدی بن حاتم ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی موجودگی میں ایک خطیب نے خطبہ دیا اور یوں کہا: من يطع الله ورسوله ومن يعصهما تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم یہاں سے اٹھ جاؤ یا چلے جاؤ تم برے خطیب ہو ١ ؎۔

Adi bin Hatim said: A speaker delivered a speech in the presence of the Prophet ﷺ . He said: Anyone who obeys Allah and His Messenger, and one who disobeys them. He said: Go away, you are a bad speaker.

Notes · وضاحت
١ ؎: نبی اکرم ﷺ نے بئس الخطيب أنت اس لئے فرمایا کہ ومن يعصهما ( جو ان دونوں کی نافرمانی کرے) کے الفاظ آپ کو ناگوار لگے، کیوں کہ خطیب نے ایک ہی ضمیر میں اللہ اور رسول دونوں کو یکجا کردیا، جس سے دونوں کے درمیان برابری ظاہر ہو رہی تھی، خطیب کو چاہیے تھا کہ وہ اللہ اور رسول دونوں کو الگ الگ ذکر کرے بالخصوص خطبہ میں ایسا نہیں کرنا چاہیے، کیوں کہ خطبہ تفصیل اور وضاحت کا مقام ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجمعة ١٣ (٨٧٠)، سنن النسائی/النکاح ٤٠ (٣٢٨١)، (تحفة الأشراف: ٩٨٥٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٥٦، ٣٧٩) (صحیح )
1100Sunan Abu Dawood

کمان پر ٹیک لگا کر خطبہ پڑھنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خُبَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَعْنٍ، عَنْبِنْتِ الْحَارِثِ بْنِ النُّعْمَانِ، قَالَتْ: مَا حَفِظْتُ ق إِلَّا مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يَخْطُبُ بِهَا كُلَّ جُمُعَةٍ. قَالَتْ: وَكَانَ تَنُّورُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَنُّورُنَا وَاحِدًا. قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: بِنْتُ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ، وقَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: أُمُّ هِشَامٍ بِنْتُ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ.

( ام ہشام) بنت حارث (حارثہ بن نعمان) بن نعمان ؓ کہتی ہیں میں نے سورة ق رسول اللہ ﷺ کی زبان (مبارک) سے سنتے ہی سنتے یاد کی ہے، آپ اسے ہر جمعہ کو خطبہ میں پڑھا کرتے تھے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ کا اور ہمارا ایک ہی چولہا تھا۔

Bint al-Harith bin al-Numan said: I memorized Surah al-Qaf from the mouth of the Messenger of Allah ﷺ ; he would recite it in his speech on every friday. Our oven and his oven were same. Abu Dawud said: Rawh bin Ubadah reported on the authority of Shubah the name Bint Harithah bin al-Numan ; and Ibn Ishaq reported the name of Umm Hisham hint Harithah bin al-Numan.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجمعة ١٣ (٨٧٢)، سنن النسائی/الجمعة ٢٨ (١٤١٢)، (تحفة الأشراف: ١٨٣٦٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/ ٤٣٢، ٤٣٦، ٤٦٣) (صحیح )
1101Sunan Abu Dawood

کمان پر ٹیک لگا کر خطبہ پڑھنا

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي سِمَاكٌ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَصْدًا وَخُطْبَتُهُ قَصْدًا يَقْرَأُ آيَاتٍ مِنَ الْقُرْآنِ وَيُذَكِّرُ النَّاسَ.

جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ کی نماز درمیانی ہوتی تھی اور آپ کا خطبہ بھی درمیانی ہوتا تھا، آپ ﷺ قرآن کی چند آیتیں پڑھتے اور لوگوں کو نصیحت کرتے تھے۔

Jabir bin Samurah said: The prayer offered by the Messenger of Allah ﷺ was moderate, and the sermon given by him was (also) moderate. He would recite a few verses from the Quran and exhort the people.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الجمعة ٣٥ (١٤١٩)، صلاة العیدین ٢٥ (١٥٨٥)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٨٥ (١١٠٦)، (تحفة الأشراف: ٢١٦٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٨٦، ٨٨، ٩٣، ٩٨، ١٠٢، ١٠٦، ١٠٧) (حسن )
1102Sunan Abu Dawood

کمان پر ٹیک لگا کر خطبہ پڑھنا

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ أُخْتِهَا، قَالَتْ: مَا أَخَذْتُ ق إِلَّا مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يَقْرَؤُهَا فِي كُلِّ جُمُعَةٍ. قَالَ أَبُو دَاوُد: كَذَا رَوَاهُيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَابْنُ أَبِي الرِّجَالِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ أُمِّ هِشَامٍ بِنْتِ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ.

عبدالرحمٰن کی بہن عمرۃ بنت ام ہشام بنت حارثہ بن نعمان ؓ وہ کہتی ہیں کہ میں نے سورة ق کو رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک سے سن سن کر یاد کیا آپ ہر جمعہ میں اسے پڑھا کرتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح اسے یحییٰ بن ایوب، اور ابن ابی الرجال نے یحییٰ بن سعید سے، یحییٰ نے عمرہ سے، عمرہ نے ام ہشام بنت حارثہ بن نعمان عنہا سے روایت کیا ہے۔

Umrah reported on the authority of her sister: I memorized Surah al-Qaf from the mouth of the Messenger of Allah ﷺ ; he used to recite it on every friday. Abu Dawud said: This tradition has been narrated in a similar way by Yahya bin Ayyub, Ibn Abu Ar-Rijal, from Yahya bin Saeed, from Umrah from Umm Hisham hint Harithah bin al-Numan.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١١٠٠، (تحفة الأشراف: ١٨٣٦٣) (صحیح )
1103Sunan Abu Dawood

کمان پر ٹیک لگا کر خطبہ پڑھنا

حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي، يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ أُخْتٍ لِعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ كَانَتْ أَكْبَرَ مِنْهَا، بِمَعْنَاهُ.

عمرہ بنت عبدالرحمٰن اپنی بہن ام ہشام ؓ سے جو عمر میں ان سے بڑی تھیں، اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے۔

This tradition has also been transmitted to the same effect through a different chain of narrators by Umrah from her sister Umrah daughter of Abdur-Rahman who was older than her.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١١٠٠، (تحفة الأشراف: ١٨٣٦٣) (صحیح )