عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے منادی نے مدینہ کے اندر بارش کی رات یا سردی کی صبح میں ایسی ہی ندا کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو یحییٰ بن سعید انصاری نے قاسم سے، قاسم نے ابن عمر ؓ سے، ابن عمر نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے اور اس میں في السفر کے الفاظ بھی ہیں۔
Ibn Umar said: The announcer of the Messenger of Allah ﷺ announced for that (to pray at homes) at Madina on a rainy night or a cold morning. Abu Dawud said: This tradition has also been narrated by Yahya bin Saeed al-Ansari from al-Qasim from Ibn Umar from the Prophet ﷺ . This version adds the words “During the journey. ”
جابر ؓ کہتے ہیں ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ بارش ہونے لگی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے جو چاہے وہ اپنے ڈیرے میں نماز پڑھ لے ۔
Jabir said: We were in the company of the Messenger of Allah ﷺ during a journey. The rain fell upon us. The Messenger of Allah ﷺ said: Anyone who wants to pray in his dwelling may pray.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ٣ (٦٩٨)، سنن الترمذی/الصلاة ١٨٩ (٤٠٩)، (تحفة الأشراف: ٢٧١٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣١٢، ٣٢٧، ٣٩٧) (صحیح )
محمد بن سیرین کے چچا زاد بھائی عبداللہ بن حارث کہتے ہیں کہ ابن عباس ؓ نے بارش کے دن اپنے مؤذن سے کہا: جب تم أشهد أن محمدا رسول الله کہنا تو اس کے بعد حي على الصلاة نہ کہنا بلکہ اس کی جگہ صلوا في بيوتكم لوگو! اپنے اپنے گھروں میں نماز پڑھ لو کہنا، لوگوں نے اسے برا جانا تو انہوں نے کہا: ایسا اس ذات نے کیا ہے جو مجھ سے بہتر تھی (یعنی رسول اللہ ﷺ نے) ، بیشک جمعہ واجب ہے، لیکن مجھے یہ بات گوارہ نہ ہوئی کہ میں تم کو کیچڑ اور پانی میں (جمعہ کے لیے) آنے کی زحمت دوں۔
Ibn Sirin said: Ibn Abbas said to his Muadhdhin on a rainy day: “when you utter the words ‘ I testify that Muhammad is the Messenger of Allah, ” do not say, ” Come to prayer” but say “Pray at your homes, ” By this (announcement) the people were surprised. He said: One who was better than me has done it. The Friday prayer is an obligatory duty. But I disliked to put you to hardship so that you might walk in mud and rain.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٠ (٦١٦)، ٤١(٦٦٨)، والجمعة ١٤ (٩٠١)، صحیح مسلم/المسافرین ٣ (٦٩٩)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٣٥ (٩٣٩)، (تحفة الأشراف: ٥٧٨٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٧٧) (صحیح )
طارق بن شہاب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جمعہ کی نماز جماعت سے ادا کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے سوائے چار لوگوں: غلام، عورت، نابالغ بچہ، اور بیمار کے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: طارق بن شہاب نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا ہے مگر انہوں نے آپ سے کچھ سنا نہیں ہے۔
Narrated Tariq ibn Shihab (RA) : The Prophet ﷺ said: The Friday prayer in congregation is a necessary duty for every Muslim, with four exceptions; a slave, a woman, a boy, and a sick person. Abu Dawud said: Tariq bin Shihab had seen the Prophet ﷺ but not heard anything from him.
عبداللہ بن عباس ؓ سے کہتے ہیں اسلام میں مسجد نبوی میں جمعہ قائم کئے جانے کے بعد پہلا جمعہ قریہ جو اثاء میں قائم کیا گیا، جو علاقہ بحرین ١ ؎ کا ایک گاؤں ہے، عثمان کہتے ہیں: وہ قبیلہ عبدالقیس کا ایک گاؤں ہے ٢ ؎۔
bn Abbas said: The Friday prayer first offered in Islam after the Friday prayer offered in the mosque of the Messenger of Allah ﷺ is Friday prayer offered at Juwatha, a village from the villages of al-Bahrain. The narrator Uthman said: it is a village from the village of the tribe of Abd al-Qais.
Notes · وضاحت
١ ؎: یہاں بحرین سے مراد سعودی عرب کا مشرقی علاقہ ہے، ” جواثی “ منطقہ احساء کے ہفوف نامی شہر کے ایک گاؤں میں واقع ہے۔ ٢ ؎: اس حدیث سے اور اس کے بعد والی حدیث سے معلوم ہوا کہ جمعہ گاؤں میں پڑھنا درست ہے، اس لئے کہ جواثی اور ہزم النبیت دونوں گاؤں ہیں، بعض لوگ کہتے ہیں کہ قریہ کا اطلاق عربی میں گاؤں اور شہر دونوں پر ہوتا ہے، اس لئے یہ استدلال تام نہیں، جب کہ بعض لوگوں نے کہا ہے کہ جواثی بحرین کا ایک شہر ہے اور ہزم النبیت مدینہ ہی کا ایک حصہ ہے۔ اس سلسلے میں بہتر طریق استدلال یہ ہے کہ جمعہ کی فرضیت آیت اور حدیث سے مطلق ثابت ہے اس میں شہر کی قید نہیں، لہذا اس قید کا اضافہ کرنا کتاب اللہ پر زیادتی ہے، جو حنفیہ کے نزدیک حدیث مشہور ہی سے جائز ہے، اس سلسلہ میں علی ؓ کی جو روایت: لا جمعة ولا تشريق إلا في مصر جامع پیش کی جاتی ہے وہ دراصل موقوف روایت ہے، امام احمد نے اس کے مرفوع ہونے کی تضعیف کی ہے اس لئے اس سے خود حنفیہ کے اصول کے مطابق کتاب اللہ پر زیادتی جائز نہیں کیوں کہ وہ استدلال کے قابل نہیں۔ ابن ابی شیبہ نے عمر ؓ سے روایت کی ہے کہ آپ نے بحرین والوں کو لکھا کہ تم لوگ جمعہ پڑھو جہاں بھی رہو ان کا یہ حکم شہر اور گاؤں دونوں کو عام ہے، اسی طرح بیہقی نے بھی عمر ؓ سے مرفوعاً روایت کی ہے کہ جمعہ واجب ہے ہر گاؤں پر اگرچہ اس میں صرف چار ہی آدمی ہوں، اور ابن مسعود ؓ سے اور دیگر صحابہ سے شہر اور صحراء دونوں جگہ میں جمعہ پڑھنا ثابت ہے۔
عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک اپنے والد کعب بن مالک ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کی بصارت چلی جانے کے بعد وہ ان کے راہبر تھے، وہ کہتے ہیں کہ کعب بن مالک ؓ جب جمعہ کے دن اذان سنتے تو اسعد بن زرارہ ؓ کے لیے رحمت کی دعا کرتے، عبدالرحمٰن بن کعب کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ جب آپ اذان سنتے ہیں تو اسعد بن زرارہ ؓ کے لیے رحمت کی دعا کرتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: میں ان کے لیے رحمت کی دعا اس لیے کرتا ہوں کہ یہی وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے ہمیں قبیلہ بنو بیاضہ کے حرہ نقیع الخضمات میں واقع (بستی، گاؤں) ھزم النبیت ١ ؎ میں جمعہ کی نماز پڑھائی، میں نے پوچھا: اس دن آپ لوگ کتنے تھے؟ کہا: ہم چالیس تھے۔
Narrated Kab ibn Malik: Abdur Rahman ibn Kab ibn Malik said: When Kab ibn Malik heard the call to prayer on Friday, he prayed for Asad ibn Zurarah. I asked him: What is the matter that when you hear the call to prayer, you pray for Asad ibn Zurarah? He replied: This is because he held the Friday prayer for the first time for us at Hazm an-Nabit of Harrah belonging to Banu Bayadah in Naqi, called Naqi al-Khadumat. I asked him: How many were you at that time ? He said: Forty.
Notes · وضاحت
١ ؎: مدینہ سے ایک میل کے فاصلہ پر ایک بستی تھی جس کا نام ہزم النبیت تھا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٧٨ (١٠٨٢)، (تحفة الأشراف: ١١١٤٩) (حسن )
ایاس بن ابی رملۃ شامی کہتے ہیں کہ میں معاویہ بن ابوسفیان ؓ کے پاس موجود تھا اور وہ زید بن ارقم ؓ سے پوچھ رہے تھے کہ کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ دو عیدوں میں جو ایک ہی دن آ پڑی ہوں حاضر رہے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، معاویہ نے پوچھا: پھر آپ نے کس طرح کیا؟ انہوں نے کہا: آپ ﷺ نے عید کی نماز پڑھی، پھر جمعہ کی رخصت دی اور فرمایا: جو جمعہ کی نماز پڑھنی چاہے پڑھے ١ ؎۔
Narrated Zayd ibn Arqam (RA) : Ilyas ibn Abu Ramlah ash-Shami said: I witnessed Muawiyah ibn Abu Sufyan asking Zayd ibn Arqam (RA) : Did you offer along with the Messenger of Allah ﷺ the Friday and Eid prayers synchronised on the same day? He said: Yes. He asked: How did he do? He replied: He offered the Eid prayer, then granted concession to offer the Friday prayer, and said: If anyone wants to offer it, he may offer.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سلسلے میں وارد تمام احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ ذاتی طور پر مسلمان کو اختیار ہے کہ عید کی نماز کے بعد چاہے تو جمعہ نہ پڑھ کر صرف ظہر پڑھ لے اسی طرح جس مسجد میں جمعہ نہیں قائم ہوتا اس میں لوگ ظہر پڑہ لیں، لیکن جس مسجد میں جمعہ قائم ہوتا ہو وہاں جمعہ قائم ہوگا، کیوں کہ نبی اکرم ﷺ نیز عثمان ؓ نے عام لوگوں کو جمعہ کی چھوٹ دے کر فرمایا: ” ہم تو جمعہ پڑھیں گے “۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/العیدین ٣١ (١٥٩٢)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٦٦ (١٣١٠)، (تحفة الأشراف: ٣٦٥٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٧٢)، سنن الدارمی/الصلاة ٢٢٥ (١٦٥٣) (صحیح )
عطاء بن ابورباح کہتے ہیں عبداللہ بن زبیر ؓ نے ہمیں جمعہ کے دن صبح سویرے عید کی نماز پڑھائی، پھر جب ہم نماز جمعہ کے لیے چلے تو وہ ہماری طرف نکلے ہی نہیں، بالآخر ہم نے تنہا تنہا نماز پڑھی ١ ؎ ابن عباس ؓ اس وقت طائف میں تھے، جب وہ آئے تو ہم نے ان سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے کہا: انہوں (ابن زبیر ؓ) نے سنت پر عمل کیا ہے۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : Ata ibn Abu Rabah said: Ibn az-Zubayr led us in the Eid prayer on Friday early in the morning. When we went to offer the Friday, he did not come out to us. So we prayed ourselves alone. At that time Ibn Abbas was present in at-Taif. When he came to us, we mentioned this (incident) to him. He said: He followed the sunnah.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ظہر پڑھی کیونکہ جمعہ کے لئے جماعت ضروری ہے اس کے بغیر جمعہ صحیح نہیں۔
عطاء کہتے ہیں عبداللہ بن زبیر ؓ کے زمانے میں جمعہ اور عید دونوں ایک ہی دن اکٹھا ہوگئے تو آپ نے کہا: ایک ہی دن میں دونوں عیدیں اکٹھا ہوگئی ہیں، پھر آپ نے دونوں کو ملا کر صبح کے وقت صرف دو رکعت پڑھ لی، اس سے زیادہ نہیں پڑھی یہاں تک کہ عصر پڑھی ١ ؎۔
Ata said: The Friday and the ‘id prayers synchronized during the time of Ibn al-Zubair. He said: Two festivals (‘id and Friday) synchronized on the same day. He combined them and offered two rak’ahs in the morning and did not add anything to them until he offered the afternoon prayer.
Notes · وضاحت
١ ؎: دراصل عبداللہ بن زبیر ؓ گھر سے نکلے ہی نہیں (جیسا کہ اگلی حدیث میں ہے) اس سے لوگوں نے یہ سمجھا کہ انہوں نے ظہر بھی نہیں پڑھی، حالانکہ ایسی بات نہیں، آپ نے گھر میں ظہر پڑھ لی تھی، کیونکہ عید کے دن جمعہ معاف ہے ظہر نہیں۔ یہ اسلام کا عام قاعدہ ہے کہ جس سے جمعہ کی فرضیت ساقط ہے اس کے لئے ظہر پڑھنی ضروری ہے۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہارے آج کے اس دن میں دو عیدیں اکٹھا ہوگئی ہیں، لہٰذا رخصت ہے، جو چاہے عید اسے جمعہ سے کافی ہوگی اور ہم تو جمعہ پڑھیں گے ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: Two festivals (Id and Friday) have synchronised on this day. If anyone does not want to offer the Friday prayer, the Eid prayer is sufficient for him. But we shall offer the Friday prayer. This tradition has been narrated by Umar from Shubah.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٦٦ (١٣١١)، (تحفة الأشراف: ١٢٨٢٧) (صحیح )
اس طریق سے بھی مخول سے اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں انہوں نے اتنا اضافہ کیا ہے کہ آپ ﷺ جمعہ میں سورة الجمعہ اور إذا جاءک المنافقون پڑھتے تھے۔
This tradition has also been transmitted through a different chain of narrators. This version adds: In the Friday prayer he would recite Surah al-Jumu’ah (lxxi) and Surah al-Munafiqunn.
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب ؓ نے مسجد کے دروازے کے پاس ایک ریشمی جوڑا بکتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے آپ ﷺ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! کاش! آپ اس کو خرید لیں اور جمعہ کے دن اور جس دن آپ کے پاس باہر کے وفود آئیں، اسے پہنا کریں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے تو صرف وہی پہنے گا جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے ، پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس اسی قسم کے کچھ جوڑے آئے تو آپ نے ان میں سے ایک جوڑا عمر ؓ کو دیا تو عمر نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے یہ کپڑا مجھے پہننے کو دیا ہے؟ حالانکہ عطارد کے جوڑے کے سلسلہ میں آپ ایسا ایسا کہہ چکے ہیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: میں نے تمہیں یہ جوڑا اس لیے نہیں دیا ہے کہ اسے تم پہنو ، چناچہ عمر نے اسے اپنے ایک مشرک بھائی کو جو مکہ میں رہتا تھا پہننے کے لیے دے دیا۔
Abdullah bin Umar (RA) said: Umar bin al-Khattab saw a silken suit sold at the gate of the mosque. He said: Messenger of Allah, would that you purchase this suit and wear it on Friday and on the occasion when a delegation (from the outside) comes to you. The Messenger of Allah ﷺ said: One who has no share in the afterlife will put on this (suit). Afterwards suits of similar nature were brought to the Messenger of Allah ﷺ . He gave Umar bin al-Khattab one of these suits. Umar said: Messenger of Allah, you are giving it to me for use while you had told me such-and-such about the suit of ‘Utarid (I. e. sold by ‘Utarid). The Messenger of Allah ﷺ said: I did not give it to you that you should wear it. Hence Umar gave it to his brother who was a disbeliever at Makkah for wearing.
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں عمر بن خطاب ؓ نے بازار میں ایک موٹے ریشم کا جوڑا بکتا ہوا پایا تو اسے لے کر وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: آپ اسے خرید لیجئیے اور عید میں یا وفود سے ملتے وقت آپ اسے پہنا کیجئے۔ پھر راوی نے پوری حدیث اخیر تک بیان کی اور پہلی حدیث زیادہ کامل ہے۔
Abdullah bin Umar (RA) said: Umar bin al-Khattab saw a suit of silken cloth being sold in the market. He took it to the Messenger of Allah ﷺ , and said: Purchase it ad decorate with it on Eid on the occasion of the arrival of delegations. The narrator then narrated the tradition. The former version is complete.
محمد بن یحییٰ بن حبان نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر میسر ہو سکے تو تمہارے لیے کوئی حرج کی بات نہیں کہ تم میں سے ہر ایک اپنے کام کاج کے کپڑوں کے علاوہ دو کپڑے جمعہ کے لیے بنا رکھے ١ ؎۔ عمرو کہتے ہیں: مجھے ابن ابوحبیب نے خبر دی ہے، انہوں نے موسیٰ بن سعد سے، موسیٰ بن سعد نے ابن حبان سے، ابن حبان نے ابن سلام سے روایت کی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو اسے منبر پر فرماتے سنا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے وہب بن جریر نے اپنے والد سے، انہوں نے یحییٰ بن ایوب سے، یحییٰ نے یزید بن ابوحبیب سے، انہوں نے موسیٰ بن سعد سے، موسیٰ بن سعد نے یوسف بن عبداللہ بن سلام ؓ سے اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے۔
Narrated Muhammad ibn Yahya ibn Habban (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said: What is the harm if any of you has two garments, if he can provide them, for Friday (prayer) in addition to the two garments for his daily work? Amr reported from Ibn Habib from Musa ibn Saad from Ibn Habban from Ibn Salam who heard this (tradition) from the Messenger of Allah ﷺ on the pulpit. Abu Dawud said: This tradition has been reported by Yusuf bin Abdullah bin Salam from the Prophet ﷺ through a different chain of narrators.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جمعہ کے لئے کام کاج کے کپڑوں کے علاوہ الگ کپڑے رکھنا بہتر ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/ إقامة الصلاة ٨٣ (١٠٩٥)، (تحفة الأشراف: ٥٣٣٤، ١١٨٥٥)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجمعة ٨ (١٧) (صحیح )
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مسجد میں خریدو فروخت کرنے، کوئی گمشدہ چیز تلاش کرنے، شعر پڑھنے اور جمعہ کے دن نماز سے پہلے حلقہ بنا کر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے ١ ؎۔
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: The Messenger of Allah ﷺ prohibited buying and selling in the mosque, announcing aloud about a lost thing, the recitation of a poem in it, and prohibited sitting in a circle (in the mosque) on Friday before the prayer.
Notes · وضاحت
١ ؎ : کیوں کہ جمعہ کے دن خطبہ سننا اور خاموش رہنا ضروری ہے، اور جب لوگ حلقہ باندھ کر بیٹھیں گے تو خواہ مخواہ باتیں کریں گے اس لئے حلقہ باندھ کر بیٹھنے سے منع کیا گیا ہے، یہ مطلب نہیں ہے کہ جمعہ سے پہلے کسی وقت بھی حلقہ باندھ کر نہیں بیٹھ سکتے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ١٢٤ (٣٢٢)، سنن النسائی/المساجد ٢٣ (٧١٦)، (تحفة الأشراف: ٨٧٩٦)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/المساجد ٥ (٧٤٩)، مسند احمد (٢/١٧٩) (حسن )
ابوحازم بن دینار بیان کرتے ہیں کہ کچھ لوگ سہل بن سعد ساعدی ؓ کے پاس آئے، وہ لوگ منبر کے سلسلے میں جھگڑ رہے تھے کہ کس لکڑی کا تھا؟ تو انہوں نے سہل بن سعد سے اس کے متعلق پوچھا تو آپ نے کہا: قسم اللہ کی! میں جانتا ہوں کہ وہ کس لکڑی کا تھا اور میں نے اسے پہلے ہی دن دیکھا جب وہ رکھا گیا اور جب اس پر رسول اللہ ﷺ بیٹھے، آپ ﷺ نے ایک عورت کے پاس۔ جس کا سہل نے نام لیا۔ یہ پیغام بھیجا کہ تم اپنے نوجوان بڑھئی کو حکم دو کہ وہ میرے لیے چند لکڑیاں ایسی بنا دے جن پر بیٹھ کر میں لوگوں کو خطبہ دیا کروں، تو اس عورت نے اسے منبر کے بنانے کا حکم دیا، اس بڑھئی نے غابہ کے جھاؤ سے منبر بنایا پھر اسے لے کر وہ عورت کے پاس آیا تو اس عورت نے اسے آپ ﷺ کے پاس بھیج دیا، آپ ﷺ نے اسے (ایک جگہ) رکھنے کا حکم دیا، چناچہ وہ منبر اسی جگہ رکھا گیا، پھر میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ نے اس پر نماز پڑھی اور تکبیر کہی پھر اسی پر رکوع بھی کیا، پھر آپ الٹے پاؤں اترے اور منبر کی جڑ میں سجدہ کیا، پھر منبر پر واپس چلے گئے، پھر جب نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی جانب متوجہ ہو کر فرمایا: لوگو! میں نے یہ اس لیے کیا ہے تاکہ تم میری پیروی کرو اور میری نماز کو جان سکو۔
Abu Hazim bin Dinar said: People came to Sahl bin Saad al-Saeedi, when they were doubtful about the kind of wood of the pulpit (in the mosque of the Prophet). They asked him about it. He said: By Allah, I know (the wood) of which it was made; I saw it the first day when it was placed there, and the first day when the Messenger of Allah ﷺ sat on it. The Messenger of Allah ﷺ sent for a woman whom Sahl named and asked her: Order your boy, the carpenter, to construct for me a wooden pulpit so that I sit on it when I deliver a speech to the people. So she ordered him and he made a pulpit of a wood called tarfa taken from al-Ghabah (a place at a distance of nine miles from Madina). He brought it to her. She sent it to the Messenger of Allah ﷺ . He ordered and that was placed here. I saw the Messenger of Allah ﷺ praying on it: he said: Allah is most great; he then bowed while he was on it; then he returned and prostrated in the root of the pulpit; he then returned (to the pulpit). When he finished (the prayer), he addressed himself to the people and said: O people, I did this so that you may follow me and know my prayer.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ١٨ (٣٧٧)، والجمعة ٢٦ (٩١٧)، صحیح مسلم/المساجد ١٠ (٥٤٤)، سنن النسائی/المساجد ٤٥ (٧٤٠)، (تحفة الأشراف: ٤٧٧٥)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٩٩ (١٤١٦)، مسند احمد (٥/٣٣٩)، سنن الدارمی/الصلاة ٤٥ (١٢٩٣) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کا جسم (بڑھاپے کی وجہ سے) جب بھاری ہوگیا تو تمیم داری ؓ نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا میں آپ کے لیے ایک منبر نہ تیار کر دوں جو آپ کی ہڈیوں کو مجتمع رکھے یا اٹھائے رکھے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، کیوں نہیں!، چناچہ انہوں نے آپ ﷺ کے لیے دو زینوں والا ایک منبر بنادیا۔
Ibn Umar said: When the Prophet ﷺ became fat, Tamim al-Dari said to him: Should I make for you pulpit, Messenger of Allah, that will bear the burden of your body ? He said: Yes. So he made a pulpit consisting of two steps.
ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ٹھیک دوپہر کے وقت نماز پڑھنے کو ناپسند کیا ہے سوائے جمعہ کے دن کے اور آپ نے فرمایا: جہنم سوائے جمعہ کے دن کے ہر روز بھڑکائی جاتی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث مرسل (منقطع) ہے، مجاہد عمر میں ابوالخلیل سے بڑے ہیں اور ابوالخلیل کا ابوقتادہ ؓ سے سماع نہیں ہے۔
Narrated Abu Qatadah (RA) : The Prophet ﷺ disapproved of the offering of prayer at the meridian except on Friday. The Hell-fire is kindled except on Friday. Abu Dawud said: This is a mursal tradition (i. e. the successor is narrating it directly from the Prophet). Mujahid is older than Abu al-Khalil, and Abu al-Khalil did not hear (any tradition from) Abu Qatadah.