ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہوجائے (کہ کتنی رکعتیں پڑھی ہیں) تو شک دور کرے اور یقین کو بنیاد بنائے، پھر جب اسے نماز پوری ہوجانے کا یقین ہوجائے تو دو سجدے کرے، اگر اس کی نماز (درحقیقت) پوری ہوچکی تھی تو یہ رکعت اور دونوں سجدے نفل ہوجائیں گے، اور اگر پوری نہیں ہوئی تھی تو اس رکعت سے پوری ہوجائے گی اور یہ دونوں سجدے شیطان کو ذلیل و خوار کرنے والے ہوں گے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ہشام بن سعد اور محمد بن مطرف نے زید سے، زید نے عطاء بن یسار سے، عطاء نے ابو سعید خدری ؓ سے، اور ابوسعید نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے، اور ابوخالد کی حدیث زیادہ مکمل ہے۔
Ata bin Yasar said that Abu Saeed Al-Khudri reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: when one of you is in doubt about his prayer (i. e, how much he has prayed), he should throw away his doubt and base his prayer on what he is sure of. When he is sure about the completion of his prayer, he should make two prostrations (at the end of the prayer). If the prayer is complete, the additional rak’ah and the two prostrations will be supererogatory prayer. If the prayer is incomplete, the additional rak’ahs will compensate it, and the two prostrations will be a disgrace for the devil.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ١٩ (٥٧١)، سنن النسائی/السھو ٢٤ (١٢٣٩)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٣٢ (١٢١٠)، (تحفة الأشراف: ٤١٦٣، ١٩٠٩١)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة ١٦(٦٢ مرسلاً )، مسند احمد (٣/٣٧، ٥١، ٥٣)، سنن الدارمی/الصلاة ١٧٤ (١٥٣٦) (حسن صحیح )
عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہوجائے، پھر اسے یاد نہ رہے کہ میں نے تین پڑھی ہے یا چار تو ایک رکعت اور پڑھ لے اور سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرے، اب اگر جو رکعت اس نے پڑھی ہے وہ پانچویں تھی تو ان دونوں (سجدوں) کے ذریعہ اسے جفت کرے گا یعنی وہ چھ رکعتیں ہوجائیں گی اور اگر چوتھی تھی تو یہ دونوں سجدے شیطان کے لیے ذلت و خواری کا ذریعہ ہوں گے ۔
Narrated Ata ibn Yasar (RA) : The Prophet ﷺ said: When one of you is in doubt about his prayer, and does not know how much he has prayed, three or four rakahs, he should pray one (additional) rakah and make two prostrations while sitting before giving the salutation. If the (additional) rakah which he prayed is the fifth one, he will make it an even number by these two prostrations. If it is the fourth one, the two prostrations will be a disgrace for the devil.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ( ١٠٢٤ )، (تحفة الأشراف: ٤١٦٣ ، ١٩٠٩١ ) (صحیح) (یہ حدیث بھی حدیث نمبر: (١٠٢٤) کی طرح مرفوع اور متصل ہے، اس میں امام مالک نے ابو سعید خدری ؓ کو جان بوجھ کر حذف کردیا ہے جیسا کہ ان کا طریقہ ہے)
اس طریق سے بھی زید بن اسلم سے مالک ہی کی سند سے مروی ہے، زید کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کسی کو نماز میں شک ہوجائے تو اگر اسے یقین ہو کہ میں نے تین ہی رکعت پڑھی ہے تو کھڑا ہو اور ایک رکعت اس کے سجدوں کے ساتھ پڑھ کر اسے پوری کرے پھر بیٹھے اور تشہد پڑھے، پھر جب ان سب کاموں سے فارغ ہوجائے اور صرف سلام پھیرنا باقی رہے تو سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرے پھر سلام پھیرے ۔ پھر راوی نے مالک کی روایت کے ہم معنی حدیث ذکر کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح اسے ابن وہب نے مالک، حفص بن میسرہ، داود بن قیس اور ہشام بن سعد سے روایت کیا ہے، مگر ہشام نے اسے ابو سعید خدری تک پہنچایا ہے۔
Zaid bin Aslam reported on the authority of the chain of Malik: The Prophet ﷺ said: If one of you is in doubt about his prayer, and if he is sure that he prayed three rakah, he should stand and complete one rakah along with its prostrations. Then he should sit and recite the tashahhud. When he finishes the prayer, and there remains nothing except salutation, he should make two prostrations while he is sitting and afterwards should give the salutation. The narrator then narrated the tradition similar to that of Malik. Abu Dawud said: Similarly, this tradition has been narrated by Ibn Wahb from Malik, Hafs bin Maisarah, Dawud bin Qais and Hisham bin Saad. But Hisham projected it to Abu Saeed al-Khudri.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (١٠٢٤، ١٠٢٦)، (تحفة الأشراف: ٤١٦٣) (صحیح )
عبداللہ بن مسعود ؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جب تم نماز میں رہو اور تمہیں تین یا چار میں شک ہوجائے اور تمہارا غالب گمان یہ ہو کہ چار رکعت ہی پڑھی ہے تو تشہد پڑھو، پھر سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کرو، پھر تشہد پڑھو اور پھر سلام پھیر دو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے عبدالواحد نے خصیف سے روایت کیا ہے اور مرفوع نہیں کیا ہے۔ نیز سفیان، شریک اور اسرائیل نے عبدالواحد کی موافقت کی ہے اور ان لوگوں نے متن حدیث میں اختلاف کیا ہے اور اسے مسند نہیں کیا ہے ١ ؎۔
Abu Ubaydah reported, on the authority of his father Abdullah (ibn Masud), the Messenger of Allah ﷺ as saying: When you offer the prayer, and you are in doubt about the number of rakahs whether offered three or four, and you have prayed four rakahs in all probability in your opinion, you should recite tashahhud and make two prostrations while you are sitting before giving the salutation. afterwards you should recite the tashahhud and give the salutation again. Abu Dawud said: This tradition has been narrated by Abd al-Wahid from Khusaif, but he did not report it as a statement of the Prophet ﷺ . The version of Abd al-Wahid has been corroborated by Sufyan, Sharik, and Israil. They differed amongst themselves about the text of the tradition and they did not narrate it with the continuous chain up to the Prophet ﷺ .
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ ابوعبیدہ نے ابن مسعود ؓ سے نہیں سنا ہے۔
Takhrij · تخریج
ن الکبری / السہو ١٢٦ (٦٠٥)، وانظر رقم: (١٠١٩)، (تحفة الأشراف: ٩٦٠٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٤٢٨، ٤٢٩ موقوفاً ) (ضعیف) (ابوعبیدہ کا اپنے والد ابن مسعود ؓ سے سماع نہیں ہے )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے اور یہ نہ جان سکے کہ زیادہ پڑھی ہے یا کم تو بیٹھ کر دو سجدے کرلے ١ ؎ پھر اگر اس کے پاس شیطان آئے اور اس سے کہے (یعنی دل میں وسوسہ ڈالے) کہ تو نے حدث کرلیا ہے تو اس سے کہے: تو جھوٹا ہے مگر یہ کہ وہ اپنی ناک سے بو سونگھ لے یا اپنے کان سے آواز سن لے ٢ ؎۔
Narrated Abu Saeed al-Khudri (RA) : The Prophet ﷺ said: When one of you prays, and he does not know whether he prayed more or less rakahs (than those prescribed by the Shariah), he should perform two prostrations while he is sitting. If the devil comes to him, and tells him (suggests him): You have been defiled, he should say: You have told a lie, except that he feels smell with his nose, or sound with his ears (then his ablution will break). These are the wording; of the tradition reported by Aban. Abu Dawud said: Mamar and Abi bin al-Mubarak mentioned the name Iyad bin Hilal and al-Awzai mentioned the name of Iyad bin Abi Zuhair.
Notes · وضاحت
١ ؎: ابو سعید خدری ؓ کی یہ حدیث اور ابوہریرہ ؓ کی اگلی حدیث دونوں مجمل ہیں، انہیں کی دیگر روایات سے یہ ثابت ہے کہ تلاش و تحری کر کے یقینی پہلو پر بنا کرے، یا ہر حال میں کم پر ہی بنا کرے باقی رکعت پوری کر کے سجدہ سہو کرے، خالی سجدہ سہو کافی نہیں ہے، بعض سلف نے کہا ہے: یہ اس کے لئے ہے جس کو ہمیشہ شک ہوجاتا ہے۔ ٢ ؎: یعنی اسے یقین ہوجائے کہ حدث ہوگیا ہے تو وضو ٹوٹ جائے گا۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ١٧٩ (٣٩٦)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٢٩ (١٢٠٤)، (تحفة الأشراف: ٤٣٩٦)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد ١٩ (٥٧١)، سنن النسائی/السہو ٢٤ (١٢٤٠)، موطا امام مالک/الصلاة ١٦ (٦٢)، مسند احمد (٣/١٢، ٣٧، ٥٠، ٥١، ٥٣، ٥٤)، دی/الصلاة ١٧٤ (١٥٣٦) (ضعیف) (ہلال بن عیاض مجہول راوی ہیں، مگر ابوہریرہ کی حدیث (١٠٣٠) نیز دیگر صحیح احادیث سے اسے تقویت ہو رہی ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو شیطان اس کے پاس آتا ہے اور اسے شبہ میں ڈال دیتا ہے، یہاں تک کہ اسے یاد نہیں رہ جاتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں؟ لہٰذا جب تم میں سے کسی کو ایسا محسوس ہو تو وہ بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرلے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح اسے ابن عیینہ، معمر اور لیث نے روایت کیا ہے۔
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying; When one of you stands up to pray, the devil comes to him and confuses him so that he does not know how much he has prayed. If any of you has such an experience, he should perform two prostrations while he is sitting. Abu Dawud said; This tradition has been narrated in a similar manner by Ibn ‘Uyainab, Mamar and al-Laith.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٤ (٦٠٨)، والعمل فی الصلاة ١٨ (١٢٢٢)، والسھو ٦ (١٢٣١)، ٧ (١٢٣٢)، وبدء الخلق ١١ (٣٢٨٥)، صحیح مسلم/الصلاة ٨ (٣٨٩)، والمساجد ١٩ (٥٧٠)، سنن النسائی/الأذان ٣٠ (٦٧١)، (تحفة الأشراف: ١٥٢٤٤)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة ١٧٩ (٣٩٧)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٣٥ (١٢١٦)، موطا امام مالک/السہو ١(١)، مسند احمد (٢/٣١٣، ٣٩٨، ٤١١، ٤٦٠، ٥٠٣، ٥٢٢، ٥٣١) وتقدم برقم (٥١٦) (صحیح )
اس طریق سے بھی محمد بن مسلم سے اسی سند سے یہی حدیث مروی ہے اس میں یہ اضافہ ہے کہ وہ سلام سے پہلے بیٹھے (دو سجدے کرے) ۔
This tradition has also been transmitted by Muhammad bin Muslim through a different chain of narrators. This version adds; “While he is sitting before he gives the salutation. ”
اس طریق سے بھی محمد بن مسلم زہری سے اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ پھر وہ سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کرے پھر سلام پھیرے۔
This traditions has also been narrated by Muhammad bin Muslim al-Zuhr through a different chain of transmitters and to the same effect. This version adds; He should perform two prostrations before giving the salutation.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٣٥ (١٢١٦)، (تحفة الأشراف: ١٥٢٥٢) (حسن صحیح )
عبداللہ بن جعفر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص کو اپنی نماز میں شک ہوجائے تو وہ سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کرے ۔
Narrated Abdullah ibn Jafar (RA) : The Prophet ﷺ said: Anyone who is in doubt in his prayer should make two prostrations after giving the salutation.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/السہو ٢٥ (١٢٤٩، ١٤٥٠)، (تحفة الأشراف: ٥٢٢٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٠٤، ٢٠٥، ٢٠٦) (حسن لغیرہ) (اس کے راوی مصعب “ اور عتبہ ضعیف ہیں، لیکن دوسری حدیث کی تقویت سے حسن ہے ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود ٤/١٩٠ )
عبداللہ بن بحینہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم لوگوں کو دو رکعت پڑھائی، پھر کھڑے ہوگئے اور قعدہ (تشھد) نہیں کیا تو لوگ بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہوگئے، پھر جب آپ نے اپنی نماز پوری کرلی اور ہم سلام پھیرنے کے انتظار میں رہے تو آپ ﷺ نے سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے الله أكبر کہہ کر دو سجدے کئے پھر سلام پھیرا۔
Narrated Abdullah ibn Buhaynah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ led us in prayer praying two rakahs. When he stood up and did not sit (at the end of two rakahs) the people stood up along with him. When he finished the prayer and we expect him to give the salutation, he said: Allah is most great. While sitting and made two prostrations before giving the salutation. Then he gave it.
اس طریق سے بھی زہری سے اسی سند سے اسی کے ہم معنی حدیث مروی ہے اس میں اتنا اضافہ ہے کہ ہم میں سے بعض نے کھڑے کھڑے تشہد پڑھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح ابن زبیر ؓ نے بھی جب وہ دو رکعتیں پڑھ کر کھڑے ہوگئے تھے، سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کئے اور یہی زہری کا بھی قول ہے۔
This tradition (mentioned above) has also been transmitted by al-Zuhri through a different chain of narrators to the same effect. This version adds: Some of us recited the Tashahhud while they were standing. Abu Dawud said: Ibn-Zubair made two prostrations before giving the salutation in a similar way when he stood up at the end of two rak’ahs. This is the opinion of al-Zuhrl.
مغیرہ بن شعبہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب امام دو رکعت پڑھ کر کھڑا ہوجائے پھر اگر اس کو سیدھا کھڑا ہونے سے پہلے یاد آجائے تو بیٹھ جائے، اگر سیدھا کھڑا ہوجائے تو نہ بیٹھے اور سہو کے دو سجدے کرے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میری کتاب میں جابر جعفی سے صرف یہی ایک حدیث مروی ہے۔
Narrated Al-Mughirah ibn Shubah (RA) : The Prophet ﷺ said: When an imam stands up at the end of two rakahs, if he remembers before standing straight up, he should sit down, but if he stands straight up, he must not sit down, but perform the two prostrations of forgetfulness. Abu Dawud said: I have not narrated in this book of mine any hadith from Jabir Al-Jufi (one of the narrators) except this one.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ١٥٧ (٣٦٥)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٣١ (١٢٠٨)، (تحفة الأشراف: ١١٥٢٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٥٣، ٢٥٤)، سنن الدارمی/الصلاة ١٧٦(١٥٤٢) (صحیح) (جابر جعفی کی کئی ایک متابعت کرنے والے پائے جاتے ہیں اس لئے یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ جابر ضعیف راوی ہیں، دیکھئے: ارواء الغلیل: ٣٨٨ و صحیح سنن أبی داود ٩٤٩ )
زیاد بن علاقہ کہتے ہیں مغیرہ بن شعبہ ؓ نے ہمیں نماز پڑھائی، وہ دو رکعتیں پڑھ کر کھڑے ہوگئے، ہم نے سبحان الله کہا، انہوں نے بھی سبحان الله کہا اور (واپس نہیں ہوئے) نماز پڑھتے رہے، پھر جب انہوں نے اپنی نماز پوری کرلی اور سلام پھیر دیا تو سہو کے دو سجدے کئے، پھر جب نماز سے فارغ ہو کر پلٹے تو کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسے ہی کرتے دیکھا ہے، جیسے میں نے کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح اسے ابن ابی لیلیٰ نے شعبی سے، شعبی نے مغیرہ بن شعبہ ؓ سے روایت کیا ہے اور اسے مرفوع قرار دیا ہے، نیز اسے ابو عمیس نے ثابت بن عبید سے روایت کیا ہے، اس میں ہے کہ مغیرہ بن شعبہ ؓ نے ہمیں نماز پڑھائی، پھر راوی نے زیاد بن علاقہ کی حدیث کے مثل روایت ذکر کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابو عمیس مسعودی کے بھائی ہیں اور سعد بن ابی وقاص ؓ نے ویسے ہی کیا جیسے مغیرہ، عمران بن حصین، ضحاک بن قیس اور معاویہ بن ابی سفیان ؓ نے کیا، اور ابن عباس ؓ اور عمر بن عبدالعزیز نے اسی کا فتوی دیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کا حکم ان لوگوں کے لیے ہے جو دو رکعتیں پڑھ کر بغیر قعدہ اور تشہد کے اٹھ کھڑے ہوں، انہیں چاہیئے کہ سلام پھیرنے کے بعد سہو کے دو سجدے کریں۔
Narrated Al-Mughirah ibn Shubah (RA) : Ziyad ibn Ilaqah said: Al-Mughirah ibn Shubah led us in prayer and he stood up at the end of two rakahs. We said: Glory be to Allah; he also said: Glory be to Allah, and he proceeded. When he finished the prayer and gave the salutation, he made two prostrations of forgetfulness. When he turned (to us) he said: I saw the Messenger of Allah ﷺ doing so as I did. Abu Dawud said: Ibn Abi Laila narrated this tradition in a similar manner from al-Shaibi from al-Mughirah bin Shubah. Abu Umais narrated it from Thabit bin Ubaid saying: Al-Mughirah bin Shubah led us in prayer, like the tradition reported by Ziyad bin Illaqah. Abu Dawud said: Abu Umais is the brother of al-Masudi. And Saad bin Abi Waqqas did the same as done by al-Mughirah, Imran bin Husain, Dahhak bin Qais and Muawiyah bin Abi Sufyan. Ibn Abbas and Umar bin Abd al-Aziz issued legel verdict to the same effect. Abu Dawud said: This applies to a person who stands up at the end of two rakahs and males prostration after giving the salutation.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ١٥٢ (٣٦٥)، (تحفة الأشراف: ١١٥٠٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٤٧، ٢٥٣، ٢٥٤)، سنن الدارمی/الصلاة ١٧٦(١٥٤٢) (صحیح) (مسعودی مختلط راوی ہیں، لیکن ان کے کئی متابعت کرنے والے پائے جاتے ہیں )
ثوبان ؓ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: ہر سہو کے لیے سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے ہیں ، عمرو کے سوا کسی نے بھی (اس سند میں) عن أبيه کا لفظ ذکر نہیں کیا۔
Narrated Thawban (RA) : The Prophet ﷺ said: For each forgetfulness there are two prostrations after giving the salutation. No one except Amr (ibn Uthman) mentioned the words from his father (in the chain Abdur Rahman ibn Jubayr ibn Nufayr from Thawban).
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٣٦ (١٢١٩)، (تحفة الأشراف: ٢٠٧٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٨٠) (حسن )
عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور آپ بھول گئے تو آپ نے دو سجدے کئے پھر تشہد پڑھا پھر سلام پھیرا۔
Narrated Imran ibn Husayn: The Prophet ﷺ led them in prayer and forgot something, so he made prostrations and uttered the tashahhud, then gave the salutation.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ١٧٨ (٣٩٥)، سنن النسائی/السہو ٢٣ (١٢٣٧)، والکبری/ صفة الصلاة ٥٨ (١١٥٩)، (تحفة الأشراف: ١٠٨٨٥) (شاذ) (اشعث حمرانی کے سوا کسی کی روایت میں تشھد کا تذکرہ نہیں ہے )
ام المؤمنین ام سلمی ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب (نماز سے) سلام پھیرتے تو تھوڑی دیر ٹھہر جاتے، لوگ سمجھتے تھے کہ یہ اس وجہ سے ہے تاکہ عورتیں مردوں سے پہلے چلی جائیں۔
Umm Salamah said; When the Messenger of Allah ﷺ gave the salutation, he stayed for a while. By this people thought that women should return earlier than men.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٥٢ (٨٣٧)، ١٥٧ (٨٤٩)، ١٦٣ (٨٦٦)، ١٦٧ (٨٧٠)، سنن النسائی/السھو ٧٧ (١٣٣٤)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٣٣ (٩٣٢)، (تحفة الأشراف: ١٨٢٨٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٩٦، ٣١٠، ٣١٦) (صحیح) ( وکانوا یرون أن ذلک ... مدرج اور زہری کا قول ہے )
ہلب طائی ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی ہے، آپ ﷺ (نماز سے فارغ ہو کر) اپنے دونوں جانب سے پلٹتے تھے (کبھی دائیں طرف سے اور کبھی بائیں طرف سے) ۔
Narrated Hulb (Yazid) at-Tai: Hulb prayed along with the Prophet ﷺ . He used to turn to both his sides (sometimes to the left and sometimes to the right).
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ١١٣ (٣٠١)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٣٣ (٩٢٩)، (تحفة الأشراف: ١١٧٣٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٢٦) (حسن صحیح) (اگلی حدیث نمبر: ( ١٠٤٢ ) سے تقویت پا کر یہ حسن صحیح ہے)
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ تم میں سے کوئی شخص اپنی نماز کا کچھ حصہ شیطان کے لیے نہ بنائے کہ وہ صرف دائیں طرف ہی سے پلٹے، حال یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے کہ آپ اکثر بائیں طرف سے پلٹتے تھے، عمارہ کہتے ہیں: اس کے بعد میں مدینہ آیا تو میں نے نبی اکرم ﷺ کے گھروں کو (بحالت نماز) آپ کے بائیں جانب دیکھا ١ ؎۔
Abdullah (bin Masud) said; One of you should not give a share from his prayer to the devil, that he does not turn away expect to his right side. I saw the Messenger of Allah ﷺ often turning away to his left side. the narrator Umarah said: I came to Madina afterwards and saw that the houses of the prophet ﷺ were (built) in the left.
Notes · وضاحت
١ ؎: آپ ﷺ کے حجرے آپ کے مصلیٰ سے (بحالت نماز) بائیں جانب پڑتے تھے، آپ ﷺ کبھی بائیں جانب مڑتے اور اٹھ کر اپنے حجروں میں تشریف لے جاتے تھے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٥٩ (٨٥٢)، صحیح مسلم/المسافرین ٧ (٧٠٧)، سنن النسائی/السھو ١٠٠ (١٣٦١)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٣٣ (٩٣٠)، (تحفة الأشراف: ٩١٧٧)، و قد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٨٣، ٤٢٩، ٤٦٤)، سنن الدارمی/الصلاة ٨٩ (١٣٩٠) (صحیح )