عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ مجھ سے ام المؤمنین میمونہ (رض) نے بیان کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جبرائیل (علیہ السلام) نے آج رات مجھ سے ملنے کا وعدہ کیا تھا لیکن وہ مجھ سے نہیں ملے پھر آپ کو خیال آیا کہ ہماری چارپائی کے نیچے کتے کا پلا ہے، چناچہ آپ ﷺ نے حکم دیا تو وہ نکالا گیا، پھر اپنے ہاتھ میں پانی لے کر آپ نے وہاں چھڑکاؤ کیا تو جبرائیل آپ سے ملے اور کہنے لگے : ہم ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویر ہو پھر صبح ہوئی تو نبی اکرم ﷺ نے کتوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا یہاں تک کہ آپ چھوٹے باغوں کے کتوں کو بھی مار ڈالنے کا حکم دے رہے تھے صرف آپ بڑے باغوں کے کتوں کو چھوڑ رہے تھے (کیونکہ بغیر کتوں کے ان کی دیکھ ریکھ دشوار ہوتی ہے) ۔
Narrated Ibn Abbas (RA) : Maimunah, wife of the Prophet ﷺ reported him as saying: Gabriel ﷺ promised to visit me last night, but he did not visit me. Then it occurred to him that there was a pup under his bed. So he ordered and it was turned out. He then got water in his hand and sprinkled it on its place. When Gabriel ﷺ met him, he said: We do not enter a house which contains a dog or a picture. When the morning came, the Prophet ﷺ ordered to kill dogs. He ordered to kill the dog which guarded a small orchard, and left the dog which guarded the big orchard.
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میرے پاس جبرائیل (علیہ السلام) نے آ کر کہا : میں کل رات آپ کے پاس آیا تھا لیکن اندر نہ آنے کی وجہ صرف وہ تصویریں رہیں جو آپ کے دروازے پر تھیں اور آپ کے گھر میں (دروازے پر) ایک منقش پردہ تھا جس میں تصویریں بنی ہوئی تھیں، اور گھر میں کتا بھی تھا تو آپ کہہ دیں کہ گھر میں جو تصویریں ہوں ان کا سر کاٹ دیں تاکہ وہ درخت کی شکل کی ہوجائیں، اور پردے کو پھاڑ کر اس کے دو غالیچے بنالیں تاکہ وہ بچھا کر پیروں سے روندے جائیں اور حکم دیں کہ کتے کو باہر نکال دیا جائے ، تو رسول اللہ ﷺ نے ایسا ہی کیا، اسی دوران حسن یا حسین (رض) کا کتا ان کے تخت کے نیچے بیٹھا نظر آیا، آپ نے حکم دیا تو وہ بھی باہر نکال دیا گیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں : نضد چارپائی کی شکل کی ایک چیز ہے جس پر کپڑے رکھے جاتے ہیں۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said: Gabriel ﷺ came to me and said: I came to you last night and was prevented from entering simply because there were images at the door, for there was a decorated curtain with images on it in the house, and there was a dog in the house. So order the head of the image which is in the house to be cut off so that it resembles the form of a tree; order the curtain to be cut up and made into two cushions spread out on which people may tread; and order the dog to be turned out. The Messenger of Allah ﷺ then did so. The dog belonged to al-Hasan or al-Husayn and was under their couch. So he ordered it to be turned out. Abu Dawud said: Al-Nadd means a thing on which clothes are placed like a couch.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأدب ٤٤ (٢٨٠٦) ، سنن النسائی/الزینة من المجتبی ٦٠ (٥٣٦٧) ، (تحفة الأشراف : ١٤٣٤٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٣٠٥، ٣٠٨، ٤٧٨) (صحیح )
عبداللہ بن بریدہ سے روایت ہے کہ ایک صحابی رسول (رض) فضالہ بن عبید (رض) کے پاس مصر گئے، جب وہاں پہنچے تو عرض کیا : میں یہاں آپ سے ملاقات کے لیے نہیں آیا ہوں، ہم نے اور آپ نے رسول اللہ ﷺ سے ایک حدیث سنی تھی مجھے امید ہے کہ اس کے متعلق آپ کو کچھ (مزید) علم ہو، انہوں نے پوچھا : وہ کون سی حدیث ہے ؟ فرمایا : وہ اس اس طرح ہے، پھر انہوں نے فضالہ سے کہا : کیا بات ہے میں آپ کو پراگندہ سر دیکھ رہا ہوں حالانکہ آپ اس سر زمین کے حاکم ہیں ؟ تو ارشاد فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں زیادہ عیش عشرت سے منع فرماتے تھے، پھر انہوں نے پوچھا : آپ کے پیر میں جوتیاں کیوں نظر نہیں آتیں ؟ تو وہ بولے : نبی اکرم ﷺ ہمیں کبھی کبھی ننگے پیر رہنے کا بھی حکم دیتے تھے۔
Abdullah ibn Buraydah said: A man from the companions of the Prophet ﷺ travelled to Fudalah ibn Ubayd when he was in Egypt. He came to him and said: I have not come to you to visit you. But you and I heard a tradition from the Messenger of Allah ﷺ . I hope you may have some knowledge of it. He asked: What is it? He replied: So and so. He said: Why do I see you dishevelled when you are the ruler of this land? He said: The Messenger of Allah ﷺ has forbidden us to indulge much in luxury. He said: Why do I see you unshod? He replied: The Prophet ﷺ used to command us to go barefoot at times.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١١٠٢٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٢٢) (صحیح )
ابوامامہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے کچھ صحابہ نے ایک روز آپ کے پاس دنیا کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا : کیا تم سن نہیں رہے ہو ؟ کیا تم سن نہیں رہے ہو ؟ بیشک سادگی و پراگندہ حالی ایمان کی دلیل ہے، بیشک سادگی و پراگندہ حالی ایمان کی دلیل ہے اس سے مراد ترک زینت و آرائش اور خستہ حالی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : وہ ابوامامہ بن ثعلبہ انصاری ہیں۔
Narrated Abu Umamah Ilyas ibn Thalabah (RA) : The Companions of the Messenger of Allah ﷺ mentioned this word before him. The Messenger of Allah ﷺ said: Listen, listen! Wearing old clothes is a part of faith, wearing old clothes is a part of faith. Abu Dawud said: He is Abu Umamah bin Thalabat al-Ansari
کریمہ بنت ہمام کا بیان ہے کہ ایک عورت ام المؤمنین عائشہ (رض) کے پاس آئی اور ان سے مہندی کے خضاب کے متعلق پوچھا تو آپ نے کہا : اس میں کوئی مضائقہ نہیں، لیکن میں اسے ناپسند کرتی ہوں، میرے محبوب رسول اللہ ﷺ اس کی بو ناپسند فرماتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : مراد سر کے بال کا خضاب ہے۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : Karimah, daughter of Hammam, told that a woman came to Aisha (RA) (Allah be pleased with her) and asked her about dyeing with henna. She replied: There is no harm, but I do not like it. My beloved, the Messenger of Allah ﷺ , disliked its odour. Abu Dawud said: She meant the colour of hair of the head.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الزینة ١٩ (٥٠٩٣) ، (تحفة الأشراف : ١٧٩٥٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/١١٧، ٢١٠) (ضعیف )
ام المؤمنین عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ ہند بنت عتبہ (رض) نے عرض کیا : اللہ کے نبی ! مجھ سے بیعت لے لیجئیے، تو آپ نے فرمایا : جب تک تم اپنی دونوں ہتھیلیوں کا رنگ نہیں بدلو گی میں تم سے بیعت نہیں لوں گا، گویا وہ دونوں کسی درندے کی ہتھیلیاں ہیں ۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : When Hind, daughter of Utbah, said: Prophet of Allah, accept my allegiance, he replied; I shall not accept your allegiance till you make a difference to the palms of your hands; for they look like the paws of a beast of prey.
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ ایک عورت نے پردے کے پیچھے سے اشارہ کیا، اس کے ہاتھ میں رسول اللہ ﷺ کے نام کا ایک خط تھا، آپ نے اپنا ہاتھ سمیٹ لیا، اور فرمایا : مجھے نہیں معلوم کہ یہ کسی مرد کا ہاتھ ہے یا عورت کا تو اس نے عرض کیا : نہیں، بلکہ یہ عورت کا ہاتھ ہے، تو آپ نے فرمایا : اگر تم عورت ہوتی تو اپنے ناخن کے رنگ بدلے ہوتی یعنی مہندی سے۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : A woman made a sign from behind a curtain to indicate that she had a letter for the Messenger of Allah ﷺ . The Prophet ﷺ closed his hand, saying: I do not know this is a mans or a womans hand. She said: No, a woman. He said: If you were a woman, you would make a difference to your nails, meaning with henna.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الزینة ١٨ (٥٠٩٢) ، (تحفة الأشراف : ١٧٨٦٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٢٦٢) (حسن )
حمید بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ معاویہ بن ابی سفیان (رض) نے جس سال حج کیا میں نے آپ کو منبر پر کہتے سنا، آپ نے بالوں کا ایک گچھا جو ایک پہرے دار کے ہاتھ میں تھا لے کر کہا : مدینہ والو ! تمہارے علماء کہاں ہیں ؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ان جیسی چیزوں سے منع کرتے سنا ہے، آپ ﷺ فرما رہے تھے : بنی اسرائیل ہلاک ہوگئے جس وقت ان کی عورتوں نے یہ کام شروع کیا ۔
Narrated Humaid bin Adb al-Rahman (RA) : That he heard Muawiyah bin Abi Sufyan say during the Hajj when he was on the pulpit and took a lock of hair which was in the hand of the guard, saying: O people of Madina, where are your scholars ? I heard the Messenger of Allah ﷺ forbidding such a think as this and said: The children of Israil perished when their women practised it.
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے لعنت کی اس عورت پر جو دوسری عورت کے بال میں بال کو جوڑے، اور اس عورت پر اپنے بالوں میں اور بال جڑوائے، اور اس عورت پر دوسری عورت کا بدن گودے، اور نیل بھرے، اور اس عورت پر جو اپنا بدن گودوائے ١ ؎۔
Abdullah said: The Messenger of Allah ﷺ cursed the woman who adds some false hair and the woman who asks for it, the woman who tattoos and the woman who asks for it.
Notes · وضاحت
١ ؎ : اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بالوں میں اور بال ملا کر لمبے کرنا اور اپنا بدن گودوانا اور اس میں نیل بھرنا حرام ہے ، اور جس کے بال جوڑے جائیں اور جو عورت بال جوڑے اور جو عورت اپنا بدن گودوائے اور نیل بھروائے اور جو عورت گودے اور نیل بھرے ان پر لعنت پڑتی ہے ، اس لیے عورتوں کو ایسے کام کرنے اور کرانے سے پرہیز کرنا چاہیے۔
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ اللہ نے جسم میں گودنے لگانے والیوں اور گودنے لگوانے والیوں پر لعنت کی ہے، (محمد کی روایت میں ہے) اور بال جوڑنے والیوں پر، (اور عثمان کی روایت میں ہے) اور اپنے بال اکھیڑنے والیوں پر، جو زیب و زینت کے واسطہ منہ کے روئیں اکھیڑتی ہیں، اور خوبصورتی کے لیے اپنے دانتوں میں کشادگی کرانے والیوں، اور اللہ کی بنائی ہوئی صورت کو بدلنے والیوں پر۔ تو یہ خبر قبیلہ بنی اسد کی ایک عورت (ام یعقوب نامی) کو پہنچی جو قرآن پڑھا کرتی تھی، تو وہ عبداللہ بن مسعود کے پاس آئی اور کہنے لگی : مجھے یہ معلوم ہوا ہے کہ آپ نے گودنے والیوں اور گودوانے والیوں پر اور بال جوڑنے والیوں اور بال اکھیڑنے والیوں پر اور دانتوں کے درمیان کشادگی کرانے والیوں پر خوبصورتی کے لیے جو اللہ کی بنائی ہوئی شکل تبدیل کردیتی ہیں پر لعنت کی ہے ؟ تو عبداللہ بن مسعود نے کہا : میں ان پر کیوں نہ لعنت کروں جن پر رسول اللہ ﷺ نے لعنت کی ہو اور وہ اللہ کی کتاب کی رو سے بھی ملعون ہوں ؟ تو اس عورت نے کہا : میں تو پورا قرآن پڑھ چکی ہوں لیکن یہ مسئلہ مجھے اس میں کہیں نہیں ملا ؟ تو عبداللہ بن مسعود نے کہا : اللہ کی قسم ! اگر تم نے اسے پڑھا ہوتا تو یہ مسئلہ ضرور پاتی پھر آپ نے آیت کریمہ وما آتاکم الرسول فخذوه وما نهاكم عنه فانتهوا اور تمہیں جو کچھ رسول دیں اسے لے لو اور جس سے منع کریں رک جاؤ (الحشر : ٧) پڑھی تو وہ بولی : میں نے تو اس میں سے بعض چیزیں آپ کی بیوی کو بھی کرتے دیکھا ہے، آپ نے کہا : اچھا اندر جاؤ اور دیکھو تو وہ اندر گئیں پھر باہر آئیں تو آپ نے پوچھا : تم نے کیا دیکھا ہے ؟ تو اس عورت نے کہا : مجھے کوئی چیز نظر نہیں آئی تو آپ نے فرمایا : اگر وہ ایسا کرتی تو پھر میرے ساتھ نہ رہتی۔
Abdullah (b. Masus) said: Allah has cursed the woman who tattoo and the women who have themselves tattooed, the women who add false hair (according to the version of Muhammad bin Isa) and the women who pluck hairs from their faces (according to the version on Uthman). The agreed version then goes: The women who spaces between their teeth for beauty, changing what Allah has created. When a woman of Banu Asad called Umm Yaqub, who read the Quran (according to the version of Uthman) heard it, she came to him (according to the agreed version) and said: I have heard that you have cursed the women who tattoo, those have themselves tattooed, those who add false hair (according to the version of Muhammad), those pluck hairs from their faces, and those who make spaces between their teeth (according to the agreed version), for changing what Allah has created (according to the version of Uthman). He said: Why should I not curse those whom the Messenger of Allah ﷺ had cursed and those who were mentioned in Allahs Book ? She said: I have read it from cover to cover and have not found in it. He said: I swear by Allah, if you read it, you would have found it. He then read: What the Messenger has brought you accept, and what he has forbidden refrain from it. She said: I find some of these thing in you wife. He said: Enter (the house) and see. She said: I then entered (the house) and came out. He asked: What did you see ? She said: I did not see (anything). He said: Had it been so, she would have not have been with us. This is according to the version of Uthman.
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ ملعون قرار دی گئی ہے بال جوڑنے والی، اور جڑوانے والی، بال اکھیڑنے والی اور اکھڑوانے والی، اور بغیر کسی بیماری کے گودنے لگانے والی اور گودنے لگوانے والی۔ ابوداؤد کہتے ہیں : واصلة اس عورت کو کہتے ہیں جو عورتوں کے بال میں بال جوڑے، اور مستوصلة اسے کہتے ہیں جو ایسا کروائے، اور نامصة وہ عورت ہے جو ابرو کے بال اکھیڑ کر باریک کرے، اور متنمصة وہ ہے جو ایسا کروائے، اور واشمة وہ عورت ہے جو چہرہ میں سرمہ یا سیاہی سے خال (تل) بنائے، اور مستوشمة وہ ہے جو ایسا کروائے۔
Narrated Ibn Abbas (RA) : The woman who supplies fake hair and the one who asks for it, the woman who pulls out hair for other people and the woman who depilates herself, the woman who tattoos and the one who has it done when there is no disease to justify it have been cursed. Abu Dawud said: Wasilah means the woman who adds false hair to the hair of women. Mustawsilah means the one who asks for adding the hair to her hair. namisah means a woman who plucks hair from the brow until she makes it thin; mutanammisah means the woman who depilates herself ; washimah is a woman who tattoos in the face with antimony or ink ; mustawshimah is a woman with whom it is done.
سعید بن جبیر کہتے ہیں بالوں کی چوٹیاں بنا کر کسی چیز سے باندھنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : گویا وہ اس بات کی طرف جا رہے ہیں کہ جس سے منع کیا گیا ہے وہ دوسری عورت کے بال اپنے بال میں جوڑنا ہے نہ کہ اپنے بالوں کی چوٹی باندھنی۔ ابوداؤد کہتے ہیں : احمد کہتے تھے : چوٹی باندھنے میں کوئی حرج نہیں۔
Saeed bin Jubair said: There is no harm in fastening the hair with silk or woollen threads. Abu Dawud said: It appears that he held the view that what is prohibited is the adding of the hair of women. Abu Dawud said: Ahmad (b. hanbal) used to say: There is no harm in tying the hair with silk or woollen threads.
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جسے خوشبو کا (تحفہ) پیش کیا جائے تو وہ اسے لوٹائے نہیں کیونکہ وہ خوشبودار ہے اور اٹھانے میں ہلکا ہے ١ ؎۔
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: If anyone is presented some perfume, he should not return it, for it is a thing of good fragrance and light to bear.
Notes · وضاحت
١ ؎ : یعنی اسے رکھنے اور اٹھانے میں کسی پریشانی اور زحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الألفاظ من الأدب ٥ (٢٢٥٣) ، سنن النسائی/الزینة من المجتبی ٢٠ (٥٢٦١) ، (تحفة الأشراف : ١٣٩٤٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٣٢٠) (صحیح )
ابوموسیٰ اشعری (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب عورت عطر لگائے پھر وہ لوگوں کے پاس سے اس لیے گزرے تاکہ وہ اس کی خوشبو سونگھیں تو وہ ایسی اور ایسی ہے آپ نے (ایسی عورت کے متعلق) بڑی سخت بات کہی۔
Narrated Abu Musa (RA) : The Prophet ﷺ said: If a woman uses perfume and passes the people so that they may get its odour, she is so-and-so, meaning severe remarks.
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ ان سے ایک عورت ملی جس سے آپ نے خوشبو پھوٹتے محسوس کیا، اور اس کے کپڑے ہوا سے اڑ رہے تھے تو آپ نے کہا : جبار کی بندی ! تم مسجد سے آئی ہو ؟ وہ بولی : ہاں، انہوں نے کہا : تم نے مسجد جانے کے لیے خوشبو لگا رکھی ہے ؟ بولی : ہاں، آپ نے کہا : میں نے اپنے حبیب ابوالقاسم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے : اس عورت کی نماز قبول نہیں کی جاتی جو اس مسجد میں آنے کے لیے خوشبو لگائے، جب تک واپس لوٹ کر جنابت کا غسل نہ کرلے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اعصار غبار ہے ١ ؎۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : A woman met him and he found the odour of perfume in her. Her clothes were fluttering in the air. He said: O maid-servant of the Almighty, are you coming from the mosque? She replied: Yes. He said: For it did you use perfume? She replied: Yes. He said: I heard my beloved Abul Qasim ﷺ say: The prayer of a woman who uses perfume for this mosque is not accepted until she returns and takes a bath like that of sexual defilement (perfectly). Abu Dawud said: Al-isar means dust.
Notes · وضاحت
١ ؎ : یعنی وہ ہوا جو مٹی و غبار کے ساتھ گولائی میں ستون کے مانند اوپر اٹھتی ہے، جسے بگولہ کہا جاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الفتن ١٩ (٤٠٠٢) ، (تحفة الأشراف : ١٤١٣٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٢٤٦، ٢٩٧، ٣٦٥، ٤٤٤، ٤٦١) (صحیح )
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس عورت نے خوشبو کی دھونی لے رکھی ہو تو وہ ہمارے ساتھ عشاء کے لیے (مسجد میں) نہ آئے (بلکہ وہ گھر ہی میں پڑھ لے) ۔ ابن نفیل کی روایت میں العشاء کے بجائے عشاء الآخرة ہے (یعنی عشاء کی صلاۃ) ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: If a woman fumigates herself with perfume, she must not attend the night prayer with us. Ibn Nufayl said: Isha means night prayer.
عمار بن یاسر (رض) کہتے ہیں کہ میں اپنے گھر والوں کے پاس رات کو آیا، میرے دونوں ہاتھ پھٹے ہوئے تھے تو ان لوگوں نے اس میں زعفران کا خلوق (ایک مرکب خوشبو ہے) لگا دیا، پھر میں صبح کو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو سلام کیا تو آپ نے نہ میرے سلام کا جواب دیا اور نہ خوش آمدید کہا اور فرمایا : جا کر اسے دھو ڈالو میں نے جا کر اسے دھو دیا، پھر آیا، اور میرے ہاتھ پر خلوق کا اثر (دھبہ) باقی رہ گیا تھا، میں نے آپ ﷺ کو سلام کیا تو آپ نے میرے سلام کا جواب دیا اور نہ خوش آمدید کہا اور فرمایا : جا کر اسے دھو ڈالو میں گیا اور میں نے اسے دھویا، پھر آ کر سلام کیا تو آپ ﷺ نے سلام کا جواب دیا اور خوش آمدید کہا، اور فرمایا : فرشتے کافر کے جنازہ میں کوئی خیر لے کر نہیں آتے، اور نہ اس شخص کے جو زعفران ملے ہو، نہ جنبی کے اور آپ ﷺ نے جنبی کو رخصت دی کہ وہ سونے، کھانے، یا پینے کے وقت وضو کرلے۔
Narrated Ammar ibn Yasir: I came to my family at night (after a journey) with my hands chapped and they perfumed me with saffron. In the morning I went to the Prophet ﷺ and gave him a greeting, but he did not respond to me nor did he welcome me. He said: Go away and wash this off yourself. I then went away and washed it off me. I came to him but there remained a spot of it on me. I give him a greeting, but he did not respond to me nor did he welcome me. He said: Go away and wash it off yourself. I then went away and washed it off me. I then came and gave him a greeting. He responded to me and welcomed me, saying: The angels do not attend the funeral of an unbeliever bringing good to it, nor a man who smears himself with saffron, nor a man who is sexually defiled. He said: He permitted the man who was sexually defiled to perform ablution when he slept, ate or drank.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٠٣٧٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٣٢٠) وأعاد المؤلف بعضہ فی السنة (٤٦٠١) (حسن )