Sunan Abu Dawood

All 5,295 hadiths in order · Page 189 of 265

3777Sunan Abu Dawood

دائیں ہاتھ سے کھانا کھانے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ لُوَيْنٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ أَبِي وَجْزَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ادْنُ بُنَيَّ، فَسَمِّ اللَّهَ وَكُلْ بِيَمِينِكَ وَكُلْ مِمَّا يَلِيكَ.

عمر بن ابوسلمہ ؓ کہتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میرے بیٹے! قریب آجاؤ اور اللہ کا نام (بسم اللہ کہو) لو داہنے ہاتھ سے کھاؤ، اور اپنے سامنے سے کھاؤ ۔

Narrated Umar ibn Abu Salamah (RA) : The Prophet ﷺ said: Come near, my son, mention Allahs name, eat with your right hand and eat from what is next to you.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٠٦٨٩)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأطعمة ٢ (٥٣٧٦)، صحیح مسلم/الأشربة ١٣ (٢٠٢٢)، سنن الترمذی/الأطعمة ٤٧ (١٨٥٧)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٧ (٣٢٦٧)، موطا امام مالک/صفة النبي ١٠ (٣٢)، مسند احمد (٤/٢٧)، سنن الدارمی/الأطعمة ١ (٢٠٦٢) (صحیح )
3778Sunan Abu Dawood

گوشت کھانے کا بیان

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَقْطَعُوا اللَّحْمَ بِالسِّكِّينِ فَإِنَّهُ مِنْ صَنِيعِ الْأَعَاجِمِ، وَانْهَسُوهُ فَإِنَّهُ أَهْنَأُ وَأَمْرَأُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَلَيْسَ هُوَ بِالْقَوِيِّ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: گوشت چھری سے کاٹ کر مت کھاؤ، کیونکہ یہ اہل عجم کا طریقہ ہے بلکہ اسے دانت سے نوچ کر کھاؤ کیونکہ اس طرح زیادہ لذیذ اور زود ہضم ہوتا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث قوی نہیں ہے۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said: Do not eat meat with a knife, for it is a foreign practice, but bite it, for it is more beneficial and wholesome. Abu Dawud said: This tradition is not strong.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٧٢٥١) (ضعیف) (اس کے راوی ابو معشر سندھی ضعیف ہیں )
3779Sunan Abu Dawood

گوشت کھانے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ،عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ، قَالَ: كُنْتُ آكُلُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَآخُذُ اللَّحْمَ بِيَدِي مِنَ الْعَظْمِ، فَقَالَ: أَدْنِ الْعَظْمَ مِنْ فِيكَ فَإِنَّهُ أَهْنَأُ وَأَمْرَأُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: عُثْمَانُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ صَفْوَانَ وَهُوَ مُرْسَلٌ.

صفوان بن امیہ ؓ کہتے ہیں میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ کھانا کھا رہا تھا اور اپنے ہاتھ سے گوشت کو ہڈی سے جدا کر رہا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ہڈی اپنے منہ کے قریب کرو (اور گوشت دانت سے نوچ کر کھاؤ) کیونکہ یہ زیادہ لذیذ اور زود ہضم ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عثمان نے صفوان سے نہیں سنا ہے اور یہ مرسل (یعنی: منقطع) ہے۔

Narrated Safwan ibn Umayyah (RA) : I was eating with the Prophet ﷺ and snatching the meat from the bone with my hand. He said: bring the bone near your mouth, for it is more beneficial and wholesome. Abu Dawud said: Uthman did not hear (traditions) from Safwan. This is a mursal tradition.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٤٩٤٦)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأطعمة ٣٢ (١٨٣٥)، مسند احمد (٣/٤٠١، ٦/٤٦٦)، سنن الدارمی/الأطعمة ٣٠ (٢١١٤) (ضعیف) (سند میں انقطاع ہے )
3780Sunan Abu Dawood

گوشت کھانے کا بیان

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ زُهَيْرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ سَعْدِ بْنِ عِيَاضٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: كَانَ أَحَبُّ الْعُرَاقِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُرَاقَ الشَّاةِ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ کو عراق (نلی) ١ ؎ میں سب سے زیادہ پسند بکری کی عراق (نلی) تھی۔

Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : The bone dearer to the Messenger of Allah ﷺ was the bone of sheep.

Notes · وضاحت
١ ؎: عُراق: ایسی ہڈی جس سے گوشت کا زیادہ تر حصہ اتار لیا جائے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٩٢٣٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٩٧) (صحیح )
3781Sunan Abu Dawood

گوشت کھانے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ الذِّرَاعُ، قَالَ: وَسُمَّ فِي الذِّرَاعِ وَكَانَ يَرَى أَنَّ الْيَهُودَ هُمْ سَمُّوهُ.

اسی سند سے عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو دست کا گوشت بہت پسند تھا، (ایک بار) دست کے گوشت میں زہر ملا دیا گیا، آپ کا خیال تھا کہ یہودیوں نے زہر ملایا تھا۔

Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : The tradition mentioned above (No. 3771) has also been narrated by Ibn Masud with a different chain of narrators. This version has: The Prophet ﷺ liked the foreleg (of a sheep). Once the foreleg was poisoned, and he thought that the Jews had poisoned it.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٩٢٣٣) (صحیح )
3782Sunan Abu Dawood

لوکی کھانے کا بیان

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: إِنَّ خَيَّاطًا دَعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ صَنَعَهُ، قَالَ أَنَسٌ: فَذَهَبْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى ذَلِكَ الطَّعَامِ، فَقُرِّبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُبْزًا مِنْ شَعِيرٍ، وَمَرَقًا فِيهِ دُبَّاءٌ وَقَدِيدٌ، قَالَ أَنَسٌ: فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَتَبَّعُ الدُّبَّاءَ مِنْ حَوَالَيِ الصَّحْفَةِ، فَلَمْ أَزَلْ أُحِبُّ الدُّبَّاءَ بَعْدَ يَوْمَئِذٍ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ ایک درزی نے رسول اللہ ﷺ کے کھانے کی دعوت کی جسے اس نے تیار کیا، تو میں بھی آپ ﷺ کے ساتھ کھانے گیا، آپ کی خدمت میں جو کی روٹی اور شوربہ جس میں کدو اور گوشت کے ٹکڑے تھے پیش کی گئی، میں نے آپ ﷺ کو رکابی کے کناروں سے کدو ڈھونڈھتے ہوئے دیکھا، اس دن کے بعد سے میں بھی برابر کدو پسند کرنے لگا۔

Anas bin Malik (RA) said: A tailor invited the Messenger of Allah ﷺ to a meal which he had prepared. Anas said: I went along with the Messenger of Allah ﷺ barley bread and soup containing pumpkin and dried sliced meat. Anas said: I saw the Messenger of Allah ﷺ going after the pumpkin round the dish, so I have always liked pumpkins since that day.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ٣٠ (٢٠٩٢)، الأطعمة ٤ (٥٣٧٩)، ٢٥ (٥٤٢٠)، صحیح مسلم/الأشربة ٢١ (٢٠٤١)، سنن الترمذی/الأطعمة ٤٢ (١٨٥٠)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٢٦ (٣٣٠٤)، (تحفة الأشراف: ١٩٨)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/النکاح ٢١ (٥١)، مسند احمد (٣/١٥٠)، سنن الدارمی/الأطعمة ١٩ (٢٠٩٤) (صحیح )
3783Sunan Abu Dawood

ثرید کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ السَّمْتِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ رَجُلٍ مَنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، عَنْعِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ أَحَبَّ الطَّعَامِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الثَّرِيدَ مِنَ الْخُبْزِ، وَالثَّرِيدُ مِنَ الْحَيْسِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهُوَ ضَعِيفٌ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ کا سب سے زیادہ پسندیدہ کھانا روٹی کا ثرید اور حیس کا ثرید تھا (جسے پنیر اور گھی سے تیار کیا جاتا تھا) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث ضعیف ہے۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The food the Messenger of Allah ﷺ liked best was tharid made from bread and tharid made from Hays. Abu Dawud said: It is a weak (tradition).

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٦٢٨٢) (ضعیف) ( اس کی سند میں ایک راوی رجل من اہل البصرة مبہم ہے )
3784Sunan Abu Dawood

کھانے کو گندا کہنا

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنِي قَبِيصَةُ بْنُ هُلْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنَّ مِنَ الطَّعَامِ طَعَامًا أَتَحَرَّجُ مِنْهُ ؟، فَقَالَ: لَا يَتَخَلَّجَنَّ فِي صَدْرِكَ شَيْءٌ ضَارَعْتَ فِيهِ النَّصْرَانِيَّةَ.

ہلب طائی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا اور آپ سے ایک شخص نے پوچھا: کھانے کی چیزوں میں بعض ایسی چیزیں بھی ہوتی ہیں جن کے کھانے میں میں حرج محسوس کرتا ہوں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اپنے دل میں کوئی شبہ نہ آنے دو (اگر اس کے سلسلہ میں تم نے شک کیا اور اپنے اوپر سختی کی تو) تم نے اس میں نصرانیت کے مشابہت کی ۔

Narrated Qabisah ibn Halb (RA) : A man asked the Messenger of Allah ﷺ : Is there any food from which I should keep myself away? I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Anything which creates doubt should not occur in your mind by which you resemble Christianity.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/السیر ١٦ (١٥٦٥)، سنن ابن ماجہ/الجہاد ٢٦ (٢٨٣٠)، (تحفة الأشراف: ١١٧٣٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٢٦) (حسن )
3785Sunan Abu Dawood

گندگی کھانے والے جانور اور اس کے دودھ کا حکم

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ الْجَلَّالَةِ وَأَلْبَانِهَا.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نجاست خور جانور کے گوشت کھانے اور اس کا دودھ پینے سے منع فرمایا۔

Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : The Messenger of Allah ﷺ prohibited eating the animal which feeds on filth and drinking its milk.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأطعمة ٢٤ (١٨٢٤)، سنن ابن ماجہ/الذبائح ١١ (٣١٨٩)، (تحفة الأشراف: ٧٣٨٧) (صحیح )
3786Sunan Abu Dawood

گندگی کھانے والے جانور اور اس کے دودھ کا حکم

حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى عَنْ لَبَنِ الْجَلَّالَةِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے نجاست خور جانور کا دودھ (پینے) سے منع فرمایا۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ prohibited to drink the milk of the animal which feeds on filth.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الضحایا ٤٣ (٤٤٥٣)، (تحفة الأشراف: ٦١٩١)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأطعمة ٢٤ (١٨٢٤)، سنن ابن ماجہ/الأشربة ٢٠ (٣٤٢٠)، حم ١/٢٢٦، ٢٤١، ٣٣٩)، وانظر ایضًا رقم: (٣٧١٩) (صحیح )
3787Sunan Abu Dawood

گندگی کھانے والے جانور اور اس کے دودھ کا حکم

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي سُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَهْمٍ، حَدَّثَنَا عُمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجَلَّالَةِ فِي الْإِبِلِ أَنْ يُرْكَبَ عَلَيْهَا، أَوْ يُشْرَبَ مِنْ أَلْبَانِهَا.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے غلاظت کھانے والے اونٹ کی سواری کرنے اور اس کا دودھ پینے سے منع فرمایا ہے۔

Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : The Messenger of Allah ﷺ forbade riding the camel which feeds on filth and drinking its milk.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٢٥٥٨)، (تحفة الأشراف: ٧٥٨٩) (حسن صحیح )
3788Sunan Abu Dawood

گھوڑے کے گوشت کھانے کا حکم

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ، وَأَذِنَ لَنَا فِي لُحُومِ الْخَيْلِ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے دن گھریلو گدھوں کے گوشت کھانے سے منع فرمایا اور گھوڑے کے گوشت کی ہمیں اجازت دی۔

Jabir bin Abdullah said: The Messenger of Allah ﷺ forbade the flesh of domestic asses on the day of Khaibar, but permitted horse flesh.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المغازي ٣٨ (٤٢١٩)، الصید ٢٧ (٥٥٢٠)، ٢٨ (٥٥٢٤)، صحیح مسلم/الصید ٦ (١٩٤١)، سنن النسائی/الصید ٢٩ (٤٣٣٢)، سنن ابن ماجہ/الذبائح ١٢ (٣١٩١)، (تحفة الأشراف: ٢٨١٠، ٢٦٣٩)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأطعمة ٥ (١٧٩٣)، مسند احمد (٣/٣٢٢، ٣٥٦، ٣٦١، ٣٦٢، ٣٨٥)، دی/ الصید ٦ (٢٠٥٥) (صحیح )
3789Sunan Abu Dawood

گھوڑے کے گوشت کھانے کا حکم

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: ذَبَحْنَا يَوْمَ خَيْبَرَ الْخَيْلَ، وَالْبِغَالَ، وَالْحَمِيرَ، فَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْبِغَالِ وَالْحَمِيرِ، وَلَمْ يَنْهَنَا عَنِ الْخَيْلِ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے خیبر کے دن گھوڑے، خچر اور گدھے ذبح کئے تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خچر اور گدھوں سے منع فرما دیا، اور گھوڑے سے ہمیں نہیں روکا۔

Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : On the day of Khaybar we slaughtered horses, mules, and assess. The Messenger of Allah ﷺ forbade us (to eat) mules and asses, but he did not forbid horse-flesh.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٢٦٩٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٥٦، ٣٦٢) (صحیح )
3790Sunan Abu Dawood

گھوڑے کے گوشت کھانے کا حکم

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ شَبِيبٍ، وَحَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ الْحِمْصِيُّ، قَالَ حَيْوَةُ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ يَحْيَى بْنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْخَيْلِ، وَالْبِغَالِ، وَالْحَمِيرِ، زَادَ حَيْوَةُ: وَكُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهُوَ قَوْلُ مَالِكٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: لَا بَأْسَ بِلُحُومِ الْخَيْلِ وَلَيْسَ الْعَمَلُ عَلَيْهِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا مَنْسُوخٌ، قَدْ أَكَلَ لُحُومَ الْخَيْلِ جَمَاعَةٌ مَنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ ابْنُ الزُّبَيْرِ، وَفَضَالَةُ بْنُ عُبَيْدٍ، وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، وَأَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ، وسُوَيْدُ بْنُ غَفَلَةَ، وَعَلْقَمَةُ، وَكَانَتْ قُرَيْشٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَذْبَحُهَا.

خالد بن الولید ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے گھوڑے، خچر اور گدھوں کے گوشت کھانے سے منع کیا ہے۔ حیوۃ نے ہر دانت سے پھاڑ کر کھانے والے درندے کا اضافہ کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ مالک کا قول ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: گھوڑے کے گوشت میں کوئی مضائقہ نہیں اور اس حدیث پر عمل نہیں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث منسوخ ہے، خود صحابہ کی ایک جماعت نے گھوڑے کا گوشت کھایا جس میں عبداللہ بن زبیر، فضالہ بن عبید، انس بن مالک، اسماء بنت ابوبکر، سوید بن غفلہ، علقمہ شامل ہیں اور قریش عہد نبوی میں گھوڑے ذبح کرتے تھے۔

Narrated Khalid ibn al-Walid: The Messenger of Allah ﷺ forbade us to eat horse-flesh, the flesh of mules and of asses. The narrator Haywah added: Every beast of prey with a fang. Abu Dawud said: This view is held by Malik. Abu Dawud said: There is no harm in (eating) horse-flesh and this tradition is not practised. Abu Dawud said: This tradition has been abrogated. A body of Companions of the Prophet ﷺ had eaten horse-flesh. OF them are: Ibn al-Zubair, Fudalah bin Ubaid, Anas bin Malik (RA), Asma daughter of Abu Bakr, Suwaid bin Ghaflah, Alqamah; the Quraish used to slaughter them (horses) during the time of the Messenger of Allah ﷺ .

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الصید ٣٠ (٤٣٣٦)، سنن ابن ماجہ/الذبائح ١٤ (٣١٩٨)، (تحفة الأشراف: ٣٥٠٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٨٩، ٩٠) (ضعیف) (اس کے راوی صالح ضعیف، اور یحییٰ مجہول ہیں، اور یہ جابر کی صحیح روایت کے خلاف ہے )
3791Sunan Abu Dawood

خرگوش کھانے کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كُنْتُ غُلَامًا حَزَوَّرًا، فَصِدْتُ أَرْنَبًا فَشَوَيْتُهَا، فَبَعَثَ مَعِي أَبُو طَلْحَةَ بِعَجُزِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَقَبِلَهَا.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ میں ایک قریب البلوغ لڑکا تھا، میں نے ایک خرگوش کا شکار کیا اور اسے بھونا پھر ابوطلحہ ؓ نے اس کا پچھلا دھڑ مجھ کو دے کر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں بھیجا میں اسے لے کر آیا تو آپ نے اسے قبول کیا۔

Anas bin Malik (RA) said: I was an adolescent boy. I hunted a hare and roasted it. Abu Talib sent its hunch through me to the Prophet ﷺ , So I bought it to him and accepted it.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الھبة ٥ (٢٥٧٢)، الصید ١٠ (٥٤٨٩)، ٣٢ (٥٥٣٥)، صحیح مسلم/الصید ٩ (١٩٥٣)، سنن الترمذی/الأطعمة ٢ (١٧٩٠)، سنن النسائی/الصید ٢٥ (٤٣١٧)، سنن ابن ماجہ/الصید ١٧ (٣٢٤٣)، (تحفة الأشراف: ١٦٢٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١١٨، ١٧١، ٢٩١)، سنن الدارمی/الصید ٧ (٢٠٥٦) (صحیح )
3792Sunan Abu Dawood

خرگوش کھانے کا بیان

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي خَالِدَ بْنَ الْحُوَيْرِثِ، يَقُولُ: إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو كَانَ بالصِّفَاحِ، قَالَ مُحَمَّدٌ: مَكَانٌ بِمَكَّةَ، وَإِنَّ رَجُلًا جَاءَ بِأَرْنَبٍ قَدْ صَادَهَا، فَقَالَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، مَا تَقُولُ ؟ قَالَ: قَدْ جِيءَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا جَالِسٌ، فَلَمْ يَأْكُلْهَا وَلَمْ يَنْهَ عَنْ أَكْلِهَا، وَزَعَمَ أَنَّهَا تَحِيضُ.

محمد بن خالد کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد خالد بن حویرث کو کہتے سنا کہ عبداللہ بن عمرو ؓ صفاح میں تھے (محمد (محمد بن خالد) کہتے ہیں: وہ مکہ میں ایک جگہ کا نام ہے) ایک شخص ان کے پاس خرگوش شکار کر کے لایا، اور کہنے لگا: عبداللہ بن عمرو! آپ اس سلسلے میں کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: اسے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لایا گیا اور میں بیٹھا ہوا تھا آپ نے نہ تو اسے کھایا اور نہ ہی اس کے کھانے سے منع فرمایا، اور آپ ﷺ کا یہ خیال تھا کہ اسے حیض آتا ہے۔

Abu Khalid bin al-Huwairith said: Abdullah bin ‘Amar was in al-safah. The narrator Muhammed (b. Khalid) said: it is a place in Makkah. A man brought a hare which he had haunted. He said: Abdullah bin Amr, what do you say ? He said: It was brought to the Messenger of Allah ﷺ when I was sitting (with him). He did not eat it, nor did he prohibit to eat it. He thought that it menstruated.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٨٦٢١) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی خالد لین الحدیث ہیں )
3793Sunan Abu Dawood

گوہ کھانے کا بیان

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ خَالَتَهُ أَهْدَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم سَمْنًا وَأَضُبًّا وَأَقِطًا، فَأَكَلَ مِنَ السَّمْنِ وَمِنَ الْأَقِطِ، وَتَرَكَ الْأَضُبَّ تَقَذُّرًا، وَأُكِلَ عَلَى مَائِدَتِهِ وَلَوْ كَانَ حَرَامًا مَا أُكِلَ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ان کی خالہ نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں گھی، گوہ اور پنیر بھیجا، آپ نے گھی اور پنیر کھایا اور گوہ کو گھن محسوس کرتے ہوئے چھوڑ دیا، اور آپ کے دستر خوان پر اسے کھایا گیا، اگر وہ حرام ہوتا تو رسول اللہ ﷺ کے دستر خوان پر نہیں کھایا جاتا۔

Ibn Abbas said that his maternal aunt presented to the Messenger of Allah ﷺ clarified butter, lizards and cottage cheese. He ate from clarified butter and cheese, but left the lizard abominably. It was eaten on the food cloth of the Messenger of Allah ﷺ . Had it been unlawful, it would not have been eaten on the food cloth of the Messenger of Allah ﷺ .

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الہبة ٧ (٢٥٧٥)، الأطعمة ٨ (٥٧٨٩)، ١٦ (٥٤٠٢)، الاعتصام ٢٤ (٧٣٥٨)، صحیح مسلم/الذبائح ٧ (١٩٤٧)، سنن النسائی/الصید ٢٦ (٤٣٢٤)، (تحفة الأشراف: ٥٤٤٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٥٥، ٢٨٤، ٣٢٢، ٣٢٩، ٣٤٠، ٢٤٧) (صحیح )
3794Sunan Abu Dawood

گوہ کھانے کا بیان

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْخَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتَ مَيْمُونَةَ، فَأُتِيَ بِضَبٍّ مَحْنُوذٍ، فَأَهْوَى إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، فَقَالَ بَعْضُ النِّسْوَةِ اللَّاتِي فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ: أَخْبِرُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا يُرِيدُ أَنْ يَأْكُلَ مِنْهُ، فَقَالُوا: هُوَ ضَبٌّ، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ، قَالَ: فَقُلْتُ: أَحَرَامٌ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟، قَالَ: لَا، وَلَكِنَّهُ لَمْ يَكُنْ بِأَرْضِ قَوْمِي فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ، قَالَ خَالِدٌ: فَاجْتَرَرْتُهُ فَأَكَلْتُهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ.

خالد بن ولید ؓ کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ام المؤمنین میمونہ ؓ کے گھر میں داخل ہوئے تو آپ کی خدمت میں بھنا ہوا گوہ لایا گیا، رسول اللہ ﷺ نے اس کی طرف ہاتھ بڑھانا چاہا تو میمونہ ؓ کے گھر میں موجود بعض عورتوں نے کہا: نبی کریم ﷺ کو اس چیز کی خبر کر دو جسے آپ کھانا چاہتے ہیں، تو لوگوں نے عرض کیا: (اللہ کے رسول! ) یہ گوہ ہے تو رسول اللہ ﷺ نے اپنا ہاتھ اٹھا لیا۔ خالد ؓ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا یہ حرام ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں لیکن میری قوم کی سر زمین میں نہیں پایا جاتا اس لیے مجھے اس سے گھن محسوس ہوتی ہے ۔ (یہ سن کر) میں اسے کھینچ کر کھانے لگا، رسول اللہ ﷺ دیکھ رہے تھے۔

Ibn Abbas said on the authority of Khalid bin al-Walid that he entered the house of Maimunah along with the Messenger of Allah ﷺ . A roasted lizard was offered to him. The Messenger of Allah ﷺ stretched his hand for it. Some of the women is going to eat. They said: It is a lizard. The Messenger of Allah ﷺ raised his hand. I (Khalid) asked: Is it forbidden, Messenger of Allah? He replied, No, but it is not found in the land of my people, so I find it distasteful. Khalid said: I then pulled it and ate it while The Messenger of Allah ﷺ was seeing.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأطعمة ١٠ (٥٣٩١)، ١٤ (٥٤٠٠)، الذبائح ٣٣ (٥٥٣٧)، صحیح مسلم/الذبائح ٧ (١٩٤٦)، سنن النسائی/الصید ٢٦ (٤٣٢١)، سنن ابن ماجہ/الصید ١٦ (٣٢٤١)، (تحفة الأشراف: ٣٥٠٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٨٨، ٨٩)، دی/الصید ٨ (٢٠٦٠) (صحیح )
3795Sunan Abu Dawood

گوہ کھانے کا بیان

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ ثَابِتٍ بْنِ وَدِيعَةَ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَيْشٍ فَأَصَبْنَا ضِبَابًا، قَالَ: فَشَوَيْتُ مِنْهَا ضَبًّا، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعْتُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، قَالَ: فَأَخَذَ عُودًا فَعَدَّ بِهِ أَصَابِعَهُ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ أُمَّةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ مُسِخَتْ دَوَابَّ فِي الْأَرْضِ، وَإِنِّي لَا أَدْرِي أَيُّ الدَّوَابِّ هِيَ، قَالَ: فَلَمْ يَأْكُلْ وَلَمْ يَنْهَ.

ثابت بن ودیعہ ؓ کہتے ہیں ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک لشکر میں تھے کہ ہم نے کئی گوہ پکڑے، میں نے ان میں سے ایک کو بھونا اور اسے لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور آپ کے سامنے رکھا، آپ ﷺ نے ایک لکڑی لی اور اس سے اس کی انگلیاں شمار کیں پھر فرمایا: بنی اسرائیل کا ایک گروہ مسخ کر کے زمین میں چوپایا بنادیا گیا لیکن میں نہیں جانتا کہ وہ کون سا جانور ہے پھر آپ ﷺ نے نہ تو کھایا اور نہ ہی اس سے منع کیا۔

Narrated Thabit ibn Wadiah (RA) : We were in an army with the Messenger of Allah ﷺ . We got some lizards. I roasted one lizard and brought it to the Messenger of Allah ﷺ and placed it before him. He took a stick and counted its fingers. He then said: A group from the children of Israil was transformed into an animal of the land, and I do not know which animal it was. He did not eat it nor did he forbid (its eating).

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الصید ٢٦ (٤٣٢٥)، سنن ابن ماجہ/الصید ١٦ (٣٢٣٨)، (تحفة الأشراف: ٢٠٦٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٢٠)، سنن الدارمی/الصید ٨ (٢٠٥٩) (صحیح )
3796Sunan Abu Dawood

گوہ کھانے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ، أَنَّ الْحَكَمَ بْنَ نَافِعٍ حَدَّثَهُمْ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ زُرْعَةَ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ أَبِي رَاشِدٍ الْحُبْرَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى عَنْ أَكْلِ لَحْمِ الضَّبِّ.

عبدالرحمٰن بن شبل اوسی انصاری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے گوہ کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ١ ؎۔

Narrated Abdur Rahman ibn Shibl (RA) : The Messenger of Allah ﷺ forbade to eat the flesh of lizard.

Notes · وضاحت
١ ؎: ضب: گوہ ایک رینگنے والا جانور جو چھپکلی کے مشابہ ہوتا ہے، اس کو سوسمار بھی کہتے ہیں، سانڈا بھی گوہ کی قسم کا ایک جانور ہے جس کا تیل نکال کر گٹھیا کے درد کے لئے یا طلاء کے لئے استعمال کرتے ہیں، یہ جانور نجد کے علاقہ میں بہت ہوتا ہے، حجاز میں نہ ہونے کی وجہ سے نبی اکرم ﷺ نے اس کو نہ کھایا لیکن آپ ﷺ کے دسترخوان پر یہ کھایا گیا اس لئے حلال ہے۔ جس جانور کو نبی اکرم ﷺ کے دسترخوان پر صحابہ کرام ؓ نے کھایا اس کو عربی میں ضب کہتے ہیں اور خود حدیث میں اس کی صراحت ہے کہ یہ نجد کے علاقہ میں پایا جانے والا جانور ہے، جو بلاشبہ حلال ہے۔ احناف اور شیعی فرقوں میں امامیہ کے نزدیک گوہ کا گوشت کھانا حرام ہے، فرقہ زیدیہ کے یہاں یہ مکروہ ہے، لیکن صحیح بات اس کی حلت ہے۔ نجد کے علاقے میں پایا جانے والا یہ جانور برصغیر ( ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش) میں پائے جانے والے گوہ یا سانڈے سے بہت سی چیزوں میں مختلف ہے:۔ ضب نامی یہ جانور صحرائے عرب میں پایا جاتا ہے، اور ہندوستان میں پایا جانے والا گوہ یا سانڈا زرعی اور پانی والے علاقوں میں عام طورپر پایا جاتا ہے۔۔ نجدی ضب (گوہ) پانی نہیں پیتا اور بلا کھائے اپنے سوراخ میں ایک لمبی مدت تک رہتا ہے، کبھی طویل صبر کے بعد اپنے بچوں کو کھا جاتا ہے، جب کہ برصغیر کا گوہ پانی کے کناروں پر پایا جاتا ہے، اور خوب پانی پیتا ہے۔۔ نجدی ضب ( گوہ) شریف بلکہ سادہ لوح جانور ہے، جلد شکار ہوجاتا ہے، جب کہ ہندوستانی گوہ کا پکڑنا نہایت مشکل ہوتا ہے۔۔ نجدی ضب ( گوہ) کے پنجے آدمی کی ہتھیلی کی طرح نرم ہوتے ہیں، جب کہ ہندوستانی گوہ کے پنجے اور اس کی دم نہایت سخت ہوتی ہیں، اور اس کے ناخن اس قدر سخت ہوتے ہیں کہ اگر وہ کسی چیز کو پکڑلے تو اس سے اس کا چھڑانا نہایت دشوار ہوتا ہے، ترقی یافتہ دور سے پہلے مشہو رہے کہ چور اس کی دم کے ساتھ رسی باندھ کر اسے مکان کے پچھواڑے سے اوپرچڑھادیتے اور یہ جانور مکان کی منڈیر کے ساتھ جاکر مضبوطی سے چمٹ جاتا اور پنجے گاڑلیتا اور چور اس کی دم سے بندھی رسی کے ذریعہ اوپرچڑھ جاتے اور چوری کرتے، جب کہ نجدی ضب (گوہ) کی دم اتنی قوت والی نہیں ہوتی۔۔ ہندوستانی گوہ سانپ کی طرح زبان نکالتی اور پھنکارتی ہے، جب کہ نجدی ضب ( گوہ) ایسا نہیں کرتی۔۔ ہندوستانی گوہ ایک بدبودار جانور ہے اور اس کے قریب سے نہایت ناگوار بدبوآتی ہے، جب کہ نجدی ضب ( گوہ) میں یہ نشانی نہیں پائی جاتی، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہندوستانی گوہ گندگی کھاتی ہے، اور کیڑے مکوڑے بھی، نجدی ضب ( گوہ) کیڑے مکوڑے اور خاص کر ٹڈی کھانے میں مشہور ہے، لیکن صحراء میں گندگی کا عملاً وجود نہیں ہوتا اور اگر ہو بھی تو معمولی اور کبھی کبھار، صحراء میں پائی جانے والی بوٹیوں کو بھی وہ کھاتا ہے۔۔ نجدی ضب ( گوہ) کی کھال کو پکاکرعرب اس کی کپی میں گھی رکھتے تھے، جس کو ضبة کہتے ہیں اور ہندوستانی گوہ کی کھال کا ایسا استعمال کبھی سننے میں نہیں آیا اس لیے کہ وہ بدبودار ہوتی ہے۔۔ نجدی ضب نامی جانور اپنے بنائے ہوئے پُرپیچ اور ٹیڑھے میڑھے بلوں (سوراخوں) میں اس طرح رہتا ہے کہ اس تک کوئی جانور نہیں پہنچ سکتا، اور اسی لیے حدیث شریف میں امت محمدیہ کے بارے میں ضب (گوہ) کے سوراخ میں چلے جانے کی تعبیرموجود ہے، اور یہ نبی اکرم ﷺ کی کمال باریک بینی اور کمال بلاغت پر دال ہے، امت محمدیہ سابقہ امتوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے طرح طرح کی گمراہیوں اور ضلالتوں کا شکار ہوگی، حتی کہ اگر سابقہ امتیں اپنی گمراہی میں اس حدتک جاسکتی ہیں جس تک پہنچنامشکل بات ہے تو امت محمدیہ وہ کام بھی کرگزرے گی، اسی کو نبی اکرم ﷺ نے اس طرح بیان کیا کہ اگر سابقہ امت اپنی گمراہی میں ضب (گوہ) کے سوراخ میں گھسی ہوگی تو امت محمدیہ کے لوگ بھی اس طرح کا ٹیڑھا میڑھا راستہ اختیار کریں گے اور یہ حدیث ضب (گوہ) کے مکان یعنی سوراخ کے پیچیدہ ہونے پر دلالت کررہی ہے، اور صحراء نجد کے واقف کار خاص کر ضب ( گوہ) کا شکار کرنے والے اس کو بخوبی جانتے ہیں، اور ضب (گوہ) کو اس کے سوراخ سے نکالنے کے لیے پانی استعمال کرتے ہیں کہ پانی کے پہنچتے ہی وہ اپنے سوراخ سے باہرآجاتی ہے، جب کہ ہندوستانی گوہ پرائے گھروں یعنی مختلف سوراخوں اور بلوں اور پرانے درختوں میں موجودسوراخ میں رہتی ہے۔ ضب اور ورل میں کیا فرق ہے؟ صحرائے عرب میں ضب کے مشابہ اور اس سے بڑا بالو، اور صحراء میں پائے جانے والے جانورکو وَرَل کہتے ہیں، تاج العروس میں ہے: ورل ضب کی طرح زمین پر رینگنے والا ایک جانور ہے، جو ضب کی خلقت پر ہے، إلا یہ کہ وہ ضب سے بڑا ہوتا ہے، بالو اور صحراء میں پایا جاتا ہے، چھپکلی کی شکل کا بڑا جانور ہے، جس کی دم لمبی اور سر چھوٹا ہوتا ہے، ازہری کہتے ہیں: وَرَل عمدہ قامت اور لمبی دم والاجانور ہے، گویا کہ اس کی دم سانپ کی دم کی طرح ہے، بسا اوقات اس کی دم دوہاتھ سے بھی زیادہ لمبی ہوتی ہے، اور ضب (گوہ) کی دم گانٹھ دار ہوتی ہے، اور زیادہ سے زیادہ ایک بالشت لمبی، عرب ورل کو خبیث سمجھتے اور اس سے گھن کرتے ہیں، اس لیے اسے کھاتے نہیں ہیں، رہ گیا ضب تو عرب اس کا شکار کرنے اور اس کے کھانے کے حریص اور شوقین ہوتے ہیں، ضب کی دم کھُردری، سخت اور گانٹھ والی ہوتی ہے، دم کا رنگ سبززردی مائل ہوتا ہے، اور خود ضب مٹ میلی سیاہی مائل ہوتی ہے، اور موٹا ہونے پر اس کا سینہ پیلاہوجاتا ہے، اور یہ صرف ٹڈی، چھوٹے کیڑے اور سبزگھاس کھاتی ہے، اور زہریلے کیڑوں جیسے سانپ وغیرہ کو نہیں کھاتی، اور ورل بچھو، سانپ، گرگٹ اور گوبریلاسب کھاتا ہے، ورل کا گوشت بہت گرم ہوتا ہے، تریاق ہے، بہت تیز موٹا کرتا ہے، اسی لیے عورتیں اس کو استعمال کرتی ہیں، اور اس کی بیٹ (کا سرمہ) نگاہ کو تیز کرتا ہے، اور اس کی چربی کی مالش سے عضوتناسل موٹا ہوتا ہے (ملاحظہ ہو: تاج العروس: مادہ ورل، و لسان العرب) سابقہ فروق کی وجہ سے دونوں جگہ کے نجدی ضب اور ورل اور ہندوستان پائے جانے والے جانور جس کو گوہ یا سانڈا کہتے ہیں، ان میں واضح فرق ہے، بایں ہمہ نجدی ضب ( گوہ) کھانا احادیث نبویہ اور اس علاقہ کے مسلمانوں کے رواج کے مطابق حلال ہے، اور اس میں کسی طرح کی قباحت اور کراہت کی کوئی بات نہیں، رہ گیا ہندوستانی گوہ کی حلت و حرمت کا مسئلہ تو سابقہ فروق کو سامنے رکھ کر اس کا فیصلہ کرنا چاہیے، اگر ہندوستانی گوہ نجاست کھاتا اور اس نجاست کی وجہ سے اس کے گوشت سے یا اس کے جسم سے بدبواٹھتی ہے تو یہ چیز علماء کے غور کرنے کی ہے، جب گندگی کھانے سے گائے بکری اور مرغیوں کا گوشت متاثر ہوجائے تو اس کا کھانا منع ہے، اس کو اصطلاح میں جلالہ کہتے ہیں، تو نجاست کھانے والا جانور گوہ ہو یا کوئی اور وہ بھی حرام ہوگا، البتہ برصغیر کے صحرائی علاقوں میں پایا جانے والا گوہ نجد کے ضب (گوہ) کے حکم میں ہوگا۔ ضب اور ورل کے سلسلے میں نے اپنے دوست ڈاکٹرمحمداحمد المنیع پروفیسرکنگ سعود یونیورسٹی، ریاض جو زراعت اور غذا سے متعلق کالج میں پڑھاتے ہیں، اور صحرائے نجد کے جانوروں کے واقف کار ہیں، سوال کیا تو انہوں نے اس کی تفصیل مختصراً یوں لکھ کردی: نجدی ضب نامی جانور کھایا جاتا ہے، اور ورل نہیں کھایا جاتا ہے ضب کا شکار آسانی سے کیا جاسکتا ہے اور ورل کا شکارمشکل کام ہے، ضب گھاس کھاتا ہے، اور ورل گوشت کھاتا ہے، ضب چیرپھاڑ کرنے والا جانور نہیں ہے، جب کہ ورل چیرپھاڑ کرنے والا جانور ہے، ضب کا ایک ہی رنگ ہوتا ہے، اور ورل دھاری دھار ہوتا ہے، ضب کی جلد کھُردری ہوتی ہے اور ورل کی جلد نرم ہوتی ہے، ضب کا سر چوڑا ہوتا ہے، اور وَرل کا سر دم نما ہوتا ہے، ضب کی گردن چھوتی ہوتی ہے، اور ورل کی گردن لمبی ہوتی ہے، ضب کی دم چھوٹی ہوتی ہے اور ورل کی دم لمبی ہوتی ہے، ضب کھُردرا اوکانٹے دارہوتا ہے، اور ورل نرم ہوتا ہے، ضب اپنی دم سے اپنا دفاع کرتا ہے، اور ورل بھی اپنی دم سے اپنا دفاع کرتا ہے، اور دم سے شکار بھی کرتا ہے، ضب گوشت باکل نہیں کھاتا، اور ورل ضب اور گرگٹ سب کھا جاتا ہے، ضب تیز جانور ہے، اور ورل تیز ترضب میں حملہ آوری کی صفت نہیں پائی جاتی جب کہ ورل میں یہ صفت موجود ہے، وہ دانتوں سے کاٹتا ہے، اور دم اور ہاتھ سے حملہ کرتا ہے، ضب ضرورت پڑنے پر اپنا دفاع کاٹ کر اور ہاتھوں سے نوچ کر یا دم سے مار کرتا ہے، اور وَرل بھی ایسا ہی کرتا ہے، ضب میں کچلی دانت نہیں ہے، اور وَرل میں کچلی دانت ہے، ضب حلال ہے، اور ورل حرام، ورل کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ زہریلا جانور ہے۔ صحرائے عرب کا ضب، وَرل اور ہندوستانی گوہ یا سانڈا سے متعلق اس تفصیل کا مقصدصرف یہ ہے کہ اس جانور کے بارے میں صحیح صورت حال سامنے آجائے، حنفی مذہب میں بھینس کی قربانی جائز ہے اور دوسرے فقہائے کے یہاں بھی اس کی قربانی اس بناپر جائز ہے کہ یہ گائے کی ایک قسم ہے، جب کہ گائے کے بارے میں یہ مشہور ہے اور مشاہدہ بھی کہ وہ پانی میں نہیں جاتی جب کہ بھینس ایساجانور ہے جس کو پانی سے عشق اور کیچڑ سے محبت ہے اور جب یہ تالاب میں داخل ہوجائے تو اس کو باہر نکالنا مشکل ہوتا ہے، اگر بھینس کی قربانی کو گائے پر قیاس کرکے فقہاء نے جائز کہا ہے تو دونوں جگہ گوہ کے بعض فرق کا اعتبار نہ کرتے ہوئے اس جنس کے جانوروں کو حلال ہونا چاہیے، اہل علم کو فقہی تنگنائے سے ہٹ کر نصوص شرعیہ کی روشنی میں اس مسئلہ پر غور کرنا چاہیے اور عاملین حدیث کے نقطہ نظر کو صحیح ڈھنگ سے سمجھنا چاہیے۔ گوہ کی کئی قسمیں ہیں اور ہوسکتا ہے کہ بہت سی چیزیں سب میں قدر مشترک ہوں جیسے کہ قوت باہ میں اس کا مفیدہونا اس کی چربی کے طبی فوائد وغیرہ وغیرہ۔ حکیم مظفر حسین اعوان گوہ کے بارے میں لکھتے ہیں: نیولے کے مانند ایک جنگلی جانور ہے، دم سخت اور چھوٹی، قد بلی کے برابرہوتا ہے، اس کے پنجے میں اتنی مضبوط گرفت ہوتی ہے کہ دیوار سے چمٹ جاتا ہے، رنگ زرد سیاہی مائل، مزاج گرم وخشک بدرجہ سوم ... اس کی کھال کے جوتے بنائے جاتے ہیں۔ (کتاب المفردات: ٤٢٧)، ظاہر ہے کہ یہ برصغیر میں پائے جانے والے جانور کی تعریف ہے۔ گوہ کی ایک قسم سانڈہ بھی ہے جس کے بارے میں حکیم مظفر حسین اعوان لکھتے ہیں: مشہورجانور ہے، جو گرگٹ یا گلہری کی مانند لیکن اس سے بڑا ہوتا ہے، اس کی چربی اور تیل دواء مستعمل ہے، مزاج گرم وتر بدرجہ اوّل، افعال واستعمال بطورمقوی جاذب رطوبت، معظم ذکر، اور مہیج باہ ہے (کتاب المفردات: صفحہ ٢٧٥ )
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٩٧٠٢) (حسن )