نزال بن سبرہ ؓ کہتے ہیں کہ علی ؓ نے پانی منگوایا اور اسے کھڑے ہو کر پیا اور کہا: بعض لوگ ایسا کرنے کو مکروہ اور ناپسند سمجھتے ہیں حالانکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسے ہی کرتے دیکھا ہے جیسے تم لوگوں نے مجھے کرتے دیکھا ہے ١ ؎۔
Nazzal bin Samurah said: Ali asked for water and he drank it while standing. He then said: some people disapprove of doing this (drinking while standing ), but I saw the Messenger of Allah ﷺ doing as I have done.
Notes · وضاحت
١ ؎: پچھلی حدیث میں جو فرمان ہے وہ عام اوقات کے لئے ہے اور اس حدیث میں صرف جواز کی بات ہے۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مشکیزے میں منہ لگا کر پینے سے، نجاست کھانے والے جانور کی سواری سے اور جس پرندہ کو باندھ کر تیر وغیرہ سے نشانہ لگا کر مارا گیا ہو اسے کھانے سے منع فرمایا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جلّالہ وہ جانور ہے جو نجاست کھاتا ہے۔
Ibn Abbas said: The Messenger of Allah ﷺ forbade drinking from the mouth of a water-skin, and riding the animal which feeds on filth and eating the animal which is killed in confinement. Abu Dawud said: Jallalah means an animal which eats filth and impurities.
عبداللہ انصاری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے احد کے دن ایک مشکیزہ منگوایا اور فرمایا: مشکیزے کا منہ موڑو پھر آپ ﷺ نے اس کے منہ سے پیا۔
A man of the Ansar quoting from his father said that the Prophet ﷺ called for a skin-vessel on the day of the battle of Uhud. He then said: Invert the head of the vessel and he drank from its mouth.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأشربة ١٨ (١٨٩١)، (تحفة الأشراف: ٥١٤٩) (منکر) (سند میں عبیداللہ بن عمر ہیں، ابوعبیدالآجری سے روایت ہے کہ امام ابوداود نے کہا: ہذا لا یعرف عن عبیداللہ بن عمر، والصحیح حدیث عبدالرزاق عن عبداللہ بن عمر (تحفة الأشراف: ٥١٤٩) (یہ حدیث عبیداللہ بن عمر سے نہیں جانی جاتی، اس کو عبدالرزاق نے عبداللہ بن عمر سے روایت کیا ہے، واضح رہے کہ امام ترمذی نے عبدالرزاق سے اس طریق کی روایت کے بعد فرمایا: اس کی سند صحیح نہیں ہے، عبداللہ العمری حفظ کے اعتبار سے ضعیف ہیں، اور مجھے نہیں معلوم کہ انہوں نے عیسیٰ بن عبداللہ سے سنا ہے یا نہیں سنا ہے، خلاصہ یہ ہے کہ عبیداللہ بن عمر سے یہ روایت غلط ہے صحیح یہ ہے کہ اس کو عبدالرزاق نے عبداللہ بن عمرالعمری سے روایت کیا جس کے بارے میں امام ابوداود نے اوپر اشارہ کیا اور امام ترمذی نے اس پر تنقید فرمائی، نیز اوپر کی حدیث جو عبیداللہ بن عمر سے مروی ہے اس میں رسول اللہ صلی+اللہ+علیہ+وسلم سے مشک کے منہ سے موڑ کر پینے سے منع کیا گیا ہے )
ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ حذیفہ ؓ مدائن میں تھے، آپ نے پانی طلب کیا تو ایک زمیندار چاندی کے برتن میں پانی لے کر آیا تو آپ نے اسے اسی پر پھینک دیا، اور کہا: میں نے اسے اس پر صرف اس لیے پھینکا ہے کہ میں اسے منع کرچکا ہوں لیکن یہ اس سے باز نہیں آیا، حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے ریشم اور دیبا پہننے سے اور سونے، چاندی کے برتن میں پینے سے منع کیا ہے، اور فرمایا ہے: یہ ان (کافروں) کے لیے دنیا میں ہیں اور تمہارے لیے آخرت میں ہیں ۔
Ibn Abi Laila said: Whan Hudhaifah was in al-Mada’in, he asked for water. A peasant brought him a silver vessel. He threw it away and said: I threw it away, for I prohibited (him) but he did not stop. The Messenger of Allah ﷺ forbade to wear silk or brocade, and to drink from gold and silver vessels. He said: Others have them in this world and you will have them in the next.
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ اور آپ کے اصحاب میں سے ایک شخص ایک انصاری کے پاس آئے وہ اپنے باغ کو پانی دے رہا تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر تمہارے پاس مشکیزہ میں رات کا باسی پانی ہو تو بہتر ہے، ورنہ ہم منہ لگا کر نہر ہی سے پانی پی لیتے ہیں اس نے کہا: نہیں بلکہ میرے پاس مشکیزہ میں رات کا باسی پانی موجود ہے ١ ؎۔
Jabir bin Abdullah said: The Prophet ﷺ went to visit a man of the Ansar accompanied by one of his Companions who was watering his garden. The Messenger of Allah ﷺ said: If you have any water which has remained over night in a skin (we should like it), or shall sip (from a streamlet).
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نہر، نالی اور دریا سے منہ لگا کر پانی پی لینا اس صورت میں صحیح ہے کہ جب کوئی برتن ساتھ میں نہ ہو، لیکن ہاتھ سے پینا بہتر ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأشربة ٢٠ (٥٦١٣)، سنن ابن ماجہ/الأشربة ٢٥ (٣٤٣٢)، (تحفة الأشراف: ٢٢٥٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٢٨، ٣٤٣، ٣٤٤)، سنن الدارمی/الأشربة ٢٢ (٢١٦٩) (صحیح )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں نبی اکرم ﷺ کے پاس دودھ لایا گیا جس میں پانی ملایا گیا تھا، آپ کے دائیں ایک دیہاتی اور بائیں ابوبکر بیٹھے ہوئے تھے، آپ ﷺ نے دودھ نوش فرمایا پھر دیہاتی کو (پیالہ) دے دیا اور فرمایا: دائیں طرف والا زیادہ حقدار ہے پھر وہ جو اس کے دائیں ہو ١ ؎۔
Anas bin Malik (RA) said: The Prophet ﷺ was brought milk that was mixed with water. A nomad Arab was on his right and Abu Bakr was on his left. He himself drank and gave it to the nomad Arab, and said: He who is on the right, then he who is on his right then he who is on his right.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہر چیز کی ابتدا داہنی طرف سے مسنون و مستحب ہے، گرچہ بائیں طرف والے لوگ معاشرہ کے معزز افراد ہوں، ہاں اگر کسی نے پانی مانگا تو وہ سب سے پہلے اس کا مستحق ہے، لیکن وہ اپنے دائیں طرف والوں کو دے دے، جیسا کہ حدیث نمبر (٣٧٢٩) میں آ رہا ہے۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم ﷺ پیتے تو تین سانس میں پیتے اور فرماتے: یہ خوب پیاس کو مارنے والا، ہاضم اور صحت بخش ہے ۔
Anas bin Malik (RA) said: when the prophet ﷺ drank, he used to breathe three times in the course of a drink and say: It is more whole some, thrist-quenching and healthier.
عبداللہ بن بسر جو بنی سلیم سے تعلق رکھتے ہیں کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ میرے والد کے پاس تشریف لائے اور ان کے پاس قیام کیا تو انہوں نے آپ ﷺ کی خدمت میں کھانا پیش کیا، پھر انہوں نے حیس ١ ؎ کا ذکر کیا جسے وہ آپ ﷺ کے پاس لے کر آئے پھر وہ آپ کے پاس پانی لائے تو آپ ﷺ نے پیا پھر جو آپ کے داہنے تھا اسے دیدیا، آپ ﷺ نے کھجوریں کھائیں اور ان کی گٹھلیاں درمیانی اور شہادت والی انگلیوں کی پشت پر رکھ کر پھینکنے لگے، جب آپ ﷺ کھڑے ہوئے تو میرے والد بھی کھڑے ہوئے اور انہوں نے آپ کی سواری کی لگام پکڑ کر عرض کیا: میرے لیے اللہ سے دعا کر دیجئیے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اللهم بارک لهم فيما رزقتهم واغفر لهم وارحمهم اے اللہ جو روزی تو نے انہیں دی ہے اس میں برکت عطا فرما، انہیں بخش دے، اور ان پر رحم فرما ۔
Abdullah bin Busr from Banu Sulaim said: The Messenger of Allah ﷺ came to my father and he was a guest with him. He offered food to him and brought hais. He then brought a drink which he drank and he gave it to the one on his right. He ate dried dates and began to put the kernels on the back of his ring finger and middle finger. When he got up, my father also got up, and held the rein of his mount. He said: Pray to Allah for me. He said: O Allah, bless them in what you provided them, and have mercy on them.
Notes · وضاحت
١ ؎: ایک کھانے کا نام ہے جو کھجور وغیرہ سے تیار کیا جاتا ہے۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں میں ام المؤمنین میمونہ ؓ کے گھر میں تھا کہ اتنے میں رسول اللہ ﷺ تشریف لائے، آپ ﷺ کے ساتھ خالد بن ولید ؓ بھی تھے، لوگ دو بھنی ہوئی گوہ دو لکڑیوں پر رکھ کر لائے تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں دیکھ کر تھوکا، تو خالد ؓ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرا خیال ہے اس سے آپ کو گھن (کراہت) ہو رہی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس دودھ لایا گیا تو آپ ﷺ نے اسے پیا اور فرمایا: جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو اسے یہ دعا پڑھنی چاہیے اللهم بارک لنا فيه وأطعمنا خيرا منه اے اللہ! تو ہمارے لیے اس میں برکت عطا فرما اور ہمیں اس سے بہتر کھانا کھلا اور آپ ﷺ نے فرمایا: اور جب اسے کوئی دودھ پلائے تو اسے چاہیئے کہ یہ دعا پڑھے اللهم بارک لنا فيه وزدنا منه اے اللہ! تو ہمارے لیے اس میں برکت عطا فرما اور اسے ہمیں اور دے کیونکہ دودھ کے علاوہ کوئی ایسی چیز نہیں جو کھانے اور پینے دونوں سے کفایت کرے ۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : I was in the house of Maymunah. The Messenger of Allah ﷺ accompanied by Khalid ibn al-Walid entered. Two roasted long-tailed lizards (dabb) placed on the sticks were brought to him. The Messenger of Allah ﷺ spat. Khalid said: I think that you abominate it, Messenger of Allah. He said: Yes. Then the Messenger of Allah ﷺ was brought milk, and he drank (it). The Messenger of Allah ﷺ then said: When one of you eats food, he should say: O Allah, bless us in it, and give us food (or nourishment) better than it. When he is given milk to drink he should say: O Allah! bless us in it and give us more of it, for no food or drink satisfies like milk. Abu Dawud said: This is the Musaddads version.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدعوات ٥٥ (٣٤٥٥)، (تحفة الأشراف: ٦٢٩٨)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٣٥ (٣٣٢٢)، مسند احمد (١/٢٢٥)، سنن النسائی/ الیوم واللیلة (٢٨٦) (حسن) (علی بن زید بن جدعان ضعیف ہیں، لیکن دوسرے طریق سے تقویت پاکر یہ حدیث حسن ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحہ ٢٣٢٠ )
جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ کا نام لے کر اپنے دروازے بند کرو کیونکہ شیطان بند دروازوں کو نہیں کھولتا، اللہ کا نام لے کر اپنے چراغ بجھاؤ، اللہ کا نام لے کر اپنے برتنوں کو ڈھانپو خواہ کسی لکڑی ہی سے ہو جسے تم اس پر چوڑائی میں رکھ دو، اور اللہ کا نام لے کر مشکیزے کا منہ باندھو ۔
Jabir reported the Prophet ﷺ as saying: Shut your door and make mention of Allahs name, for the devil does not open a door which has been shut; extinguish your lamp and make mention of Allahs name, cover up your vessel even by a piece of wood that you just put on it and make mention of Allahs name, and tie up your water-skin mentioning Allahs name.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأشربة ٢٢ (٥٦٢٣)، صحیح مسلم/الأشربة ١٢ (٢٠١٢)، (تحفة الأشراف: ٢٤٤٦)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأدب ٧٤ (٢٨٥٧)، سنن ابن ماجہ/الأشربة ١٦ (٣٤١٠)، والأدب ٤٦ (٣٧٧١)، مسند احمد (٣/٣٥٥) (صحیح )
اس سند سے بھی جابر بن عبداللہ ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے یہی حدیث روایت کی ہے لیکن یہ پوری نہیں ہے، اس میں ہے کہ شیطان کسی بند دروازے کو نہیں کھولتا، نہ کسی بندھن کو کھولتا ہے اور نہ کسی برتن کے ڈھکنے کو، اور چوہیا لوگوں کا گھر جلا دیتی ہے، یا کہا ان کے گھروں کو جلا دیتی ہے ۔
Jabir bin Abdullah reported the Prophet ﷺ as saying this version is not complete ‘’for the devil does not open a shut door, or loosen a water-skin, or uncover a vessel, for a mouse sets a house on fire over its inhabitants’’.
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عشاء کے وقت اپنے بچوں کو اپنے پاس ہی رکھو (اور مسدد کی روایت میں ہے: شام کے وقت اپنے بچوں کو اپنے پاس رکھو) کیونکہ یہ جنوں کے پھیلنے اور (بچوں کو) اچک لینے کا وقت ہے ۔
Jabir bin Abdullah reported the Prophet ﷺ as saying: Gather your children when darkness spreads, or in the evening (according to Musaddad), for the jinn are abroad and seize them.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ بدء الخلق ١٦ (٣٣١٦)، الاستئذان ٤٩ (٦٢٩٥)، سنن الترمذی/ الأدب ٧٤ (٢٨٥٧)، (تحفة الأشراف: ٢٤٧٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٨٨) (صحیح )
جابر ؓ کہتے ہیں ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے آپ نے پانی طلب کیا تو قوم میں سے ایک شخص نے عرض کیا: کیا ہم آپ کو نبیذ نہ پلا دیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں (کوئی مضائقہ نہیں) تو وہ نکلا اور دوڑ کر ایک پیالہ نبیذ لے آیا، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تو نے اسے ڈھک کیوں نہیں لیا؟ ایک لکڑی ہی سے سہی جو اس کے عرض (چوڑان) میں رکھ لیتا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اصمعی نے کہا: تعرضه عليه یعنی تو اسے اس پر چوڑان میں رکھ لیتا۔
Jabir said: We were with Prophet ﷺ and he asked for something to drink. A man from the company asked: Should we not give you nabidh (drink made from dates) to drink ? He replied: Yes. The man went quickly and bought a cup of nabidh. The Messenger of Allah ﷺ said: Why did you not cover it up even by putting a piece of wood on it ? Abu Dawud said: Al-Asmais version has: You put it on it. . .
ام المؤمنین عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے لیے سقیا کے گھروں سے میٹھا پانی لایا جاتا۔ قتیبہ کہتے ہیں: سقیا ایک چشمہ ہے جس کی مسافت مدینہ سے دو دن کی ہے۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The water from as-Suqya was considered sweetest by the Prophet ﷺ . Qutaybah said: it was a well on two days journey from Madina.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٧٠٣٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٠٠، ١٠٨) (صحیح )