Sunan Abu Dawood

All 5,295 hadiths in order · Page 17 of 265

322Sunan Abu Dawood

تیمم کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنَّا نَكُونُ بِالْمَكَانِ الشَّهْرَ وَالشَّهْرَيْنِ، فَقَالَ عُمَرُ: أَمَّا أَنَا فَلَمْ أَكُنْ أُصَلِّي حَتَّى أَجِدَ الْمَاءَ، قَالَ: فَقَالَ عَمَّارٌ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَمَا تَذْكُرُ إِذْ كُنْتُ أَنَا وَأَنْتَ فِي الْإِبِلِ فَأَصَابَتْنَا جَنَابَةٌ، فَأَمَّا أَنَا فَتَمَعَّكْتُ، فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَقُولَ هَكَذَا، وَضَرَبَ بِيَدَيْهِ إِلَى الْأَرْضِ ثُمَّ نَفَخَهُمَا ثُمَّ مَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ إِلَى نِصْفِ الذِّرَاعِ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا عَمَّارُ، اتَّقِ اللَّهَ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنْ شِئْتَ وَاللَّهِ لَمْ أَذْكُرْهُ أَبَدًا. فَقَالَ، عُمَرُ: كَلَّا وَاللَّهِ لَنُوَلِّيَنَّكَ مِنْ ذَلِكَ مَا تَوَلَّيْتَ.

عبدالرحمٰن بن ابزیٰ کہتے ہیں کہ میں عمر ؓ کے پاس تھا کہ اتنے میں ان کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا: بسا اوقات ہم کسی جگہ ماہ دو ماہ ٹھہرے رہتے ہیں (جہاں پانی موجود نہیں ہوتا اور ہم جنبی ہوجاتے ہیں تو اس کا کیا حکم ہے؟ ) عمر ؓ نے کہا: جہاں تک میرا معاملہ ہے تو جب تک مجھے پانی نہ ملے میں نماز نہیں پڑھ سکتا، وہ کہتے ہیں: اس پر عمار ؓ نے کہا: امیر المؤمنین! کیا آپ کو یاد نہیں کہ جب میں اور آپ اونٹوں میں تھے (اونٹ چراتے تھے) اور ہمیں جنابت لاحق ہوگئی، بہرحال میں تو مٹی (زمین) پر لوٹا، پھر ہم نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: تمہیں بس اس طرح کرلینا کافی تھا اور آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے پھر ان پر پھونک ماری اور اپنے چہرے اور اپنے دونوں ہاتھوں پر نصف ذراع تک پھیرلیا، اس پر عمر ؓ نے کہا: عمار! اللہ سے ڈرو ١ ؎، انہوں نے کہا: امیر المؤمنین! اگر آپ چاہیں تو قسم اللہ کی میں اسے کبھی ذکر نہ کروں، عمر ؓ نے کہا: ہرگز نہیں، قسم اللہ کی ہم تمہاری بات کا تمہیں اختیار دیتے ہیں، یعنی معاملہ تم پر چھوڑتے ہیں تم اسے بیان کرنا چاہو تو کرو۔

Abdur-Rahman bin Abza said: While I was with Umar, a man came to him and said: We live at a place (where water is not found) for a month or two (what should we do, if we are sexually defiled). Umar said: So far as I am concerned, I do not pray until I find water. Ammar said: Commanded of the faithful, do you not remember when I and you were among the camels (For tending them)? There we became sexually defiled. I rolled down on the ground. We then came to the Prophet ﷺ and I mentioned that to him. He said: It was enough for you to do so. Then he struck the ground with both his hands. He then blew over them and wiped his face and both hands by means of them up to half the arms. Umar said: Ammar, fear Allah. He said: Commander of the faithful, if you want, I will never narrate it. Umar said: Nay, by Allah, we shall turn you from that towards which you turned (i. e. you have your choice).

Notes · وضاحت
١ ؎: اس بےاطمینانی کی وجہ یہ تھی کہ عمر ؓ خود اس قضیہ میں عمار ؓ کے ساتھ موجود تھے لیکن انہیں اس طرح کا کوئی واقعہ سرے سے یاد ہی نہیں آ رہا تھا۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبله، (تحفة الأشراف:: ١٠٣٦٢) (صحیح) (مگر إلى نصف الذراعين کا لفظ صحیح نہیں ہے، یہ شاذ ہے اور صحیحین میں ہے بھی نہیں )
323Sunan Abu Dawood

تیمم کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ ابْنِ أَبْزَى، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، فِي هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: يَا عَمَّارُ، إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ هَكَذَا، ثُمّ ضَرَبَ بِيَدَيْهِ الْأَرْضَ ثُمَّ ضَرَبَ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى ثُمَّ مَسَحَ وَجْهَهُ وَالذِّرَاعَيْنِ إِلَى نِصْفِ السَّاعِدَيْنِ وَلَمْ يَبْلُغْ الْمِرْفَقَيْنِ ضَرْبَةً وَاحِدَةً، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ وَكِيعٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، وَرَوَاهُ جَرِيرٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى يَعْنِي عَنْ أَبِيهِ.

ابن ابزی عمار بن یاسر ؓ سے اس حدیث میں یہ روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: اے عمار! تمہیں اس طرح کرلینا کافی تھا ، پھر آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو زمین پر ایک بار مارا پھر ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر مارا پھر اپنے چہرے اور دونوں ہاتھوں پر دونوں کلائیوں کے نصف تک پھیرا اور کہنیوں تک نہیں پہنچے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے وکیع نے اعمش سے، انہوں نے سلمہ بن کہیل سے اور سلمہ نے عبدالرحمٰن بن ابزی سے روایت کیا ہے، نیز اسے جریر نے اعمش سے، اعمش نے سلمہ بن کہیل سے، سلمہ نے سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزی سے اور سعید نے اپنے والد سے روایت کیا ہے۔

Ibn Abza reported on the authority of Ammar bin Yasir in this tradition as saying (from the Prophet): Ammar, it would have been enough for you (to do) so. He then stuck only one stroke on the ground with both his hands; he then stuck one with the other; then wiped his face and both arms up to half the forearms and did not reach the elbows. Abu Dawud said: This is also transmitted by Waki from al-Amash from Salamah bin Kuhail from Abdur-Rahman bin Abza. It is also transmitted through a different chain by Jarir from al-Amash from Salamah from Saeed bin Abdur-Rahman bin Abza from his father.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: ١٠٣٦٢) (صحیح) (” الذراعين ...“ کا جملہ صحیح نہیں ہے )
324Sunan Abu Dawood

تیمم کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمَّار، بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، فَقَالَ: إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ، وَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ إِلَى الْأَرْضِ ثُمَّ نَفَخَ فِيهَا وَمَسَحَ بِهَا وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ، شَكَّ سَلَمَةُ، وَقَالَ: لَا أَدْرِي فِيهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ يَعْنِي أَوْ إِلَى الْكَفَّيْنِ.

اس سند سے بھی عبدالرحمٰن بن ابزی سے عمار بن یاسر ؓ کے واسطہ سے یہی قصہ مروی ہے، اس میں ہے : آپ ﷺ نے فرمایا: تمہیں بس اتنا کرلینا کافی تھا ، اور پھر نبی اکرم ﷺ نے اپنا ہاتھ زمین پر مارا، پھر اس میں پھونک مار کر اپنے چہرے اور اپنی دونوں ہتھیلیوں پر پھیرلیا، سلمہ کو شک ہے، وہ کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ اس میں إلى المرفقين ہے یا إلى الكفين. (یعنی آپ ﷺ نے کہنیوں تک پھیرا، یا پہونچوں تک) ۔

Ibn Abdur-Rahman bin Abza reported on the authority of his father this incident from Ammar. He said: This would have been enough for you, and the Prophet ﷺ struck the ground with his hand. He then blew it and wiped with it his face and hands. Being doubtful Salamah said: I do not know (whether he wiped) up to the elbows or the wrists.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: ٣١٣٨ ، ١٠٣٦٢ ) (صحیح) (شک والا جملہ صحیح نہیں ہے، ملاحظہ ہو حدیث نمبر: ٣٢٦)
325Sunan Abu Dawood

تیمم کا بیان

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ يَعْنِي الْأَعْوَرَ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ، بِإِسْنَادِهِ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: ثُمَّ نَفَخَ فِيهَا وَمَسَحَ بِهَا وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ، أَوْ إِلَى الذِّرَاعَيْنِ، قَالَ شُعْبَةُ: كَانَ سَلَمَةُ، يَقُولُ: الْكَفَّيْنِ وَالْوَجْهَ وَالذِّرَاعَيْنِ، فَقَالَ لَهُ مَنْصُورٌ: ذَاتَ يَوْمٍ انْظُرْ مَا تَقُولَ، فَإِنَّهُ لَا يَذْكُرُ الذِّرَاعَيْنِ غَيْرُكَ.

حجاج اعور کہتے ہیں کہ شعبہ نے اسی سند سے یہی حدیث بیان کی ہے، اس میں ہے پھر آپ ﷺ نے اس میں پھونک ماری اور اپنے چہرے اور اپنی دونوں ہتھیلیوں پر کہنیوں یا ذراعین ١ ؎ تک پھیرا۔ شعبہ کا بیان ہے کہ سلمہ کہتے تھے: دونوں ہتھیلیوں، چہرے اور ذراعین پر پھیرا، تو ایک دن منصور نے ان سے کہا: جو کہہ رہے ہو خوب دیکھ بھال کر کہو، کیونکہ تمہارے علاوہ ذراعین کو اور کوئی ذکر نہیں کرتا۔

This is transmitted by Shubah through a different chain of narrators. This version adds: He (Ammar) said: He (the Prophet) then blew it and wiped with it his face and hands up to elbows or up to the forearms. Shubah said: Salamah used to narrate (the words) the hands and the face and the forearms. One day Mansur said to him: Look, what are you saying, because no one except you mentions the (word) forearms.

Notes · وضاحت
١ ؎: ذراع کا اطلاق بیچ کی انگلی کے سرے سے لے کر کہنی تک کے حصہ پر ہوتا ہے، یعنی مرفق اور ذراع دونوں ” کہنی “ کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: ١٠٣٦٢) (صحیح) ( المرفقين والذراعين والا جملہ صحیح نہیں ہے، ملاحظہ ہو حدیث نمبر: ٣٢٦ )
326Sunan Abu Dawood

تیمم کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَكَمُ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْأَبِيهِ،عَنْ عَمَّارٍ، فِي هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: فَقَالَ: يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَضْرِبَ بِيَدَيْكَ إِلَى الْأَرْضِ فَتَمْسَحَ بِهِمَا وَجْهَكَ وَكَفَّيْكَ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ شُعْبَةُ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمَّارًا يَخْطُبُ بِمِثْلِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: لَمْ يَنْفُخْ، وَذَكَرَ حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، فِي هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: ضَرَبَ بِكَفَّيْهِ إِلَى الْأَرْضِ وَنَفَخَ.

اس طریق سے عبدالرحمٰن بن ابزیٰ سے بواسطہ عمار ؓ اس حدیث میں مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ آپ نے یعنی نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: صرف اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مار کر انہیں اپنے چہرے اور اپنی دونوں ہتھیلیوں پر پھیرلینا تمہارے لیے کافی تھا ، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے شعبہ نے حصین سے، حصین نے ابو مالک سے روایت کیا ہے، اس میں ہے: میں نے عمار ؓ کو اسی طرح خطبہ میں بیان کرتے ہوئے سنا ہے مگر اس میں انہوں نے کہا: پھونک نہیں ماری ، اور حسین بن محمد نے شعبہ سے اور انہوں نے حکم سے روایت کی ہے، اس میں انہوں نے کہا ہے: آپ ﷺ نے زمین پر اپنی دونوں ہتھیلیوں کو مارا اور اس میں پھونک ماری۔

This is also transmitted by Ibn Abdur-Rahman bin Abza on the authority of his father from Ammar. He reported the Prophet ﷺ as saying: It would have been enough for you to strike the ground with you hands and then wipe them your face and your hands (up to the wrists). He then narrated the rest of the tradition. Abu Dawud said: This is also transmitted by Shubah from Husain on the authority of Abu Malik. He said: I heard Ammar saying so him his speech, except that in this version he added the words: He blew. And Husain bin Muhammad narrated from Shubah on the authority of al-Hakam and in this version added the words: He (the Prophet) struck the earth with his plans and blew.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: ١٠٣٦٢) (صحیح )
327Sunan Abu Dawood

تیمم کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ التَّيَمُّمِ، فَأَمَرَنِي ضَرْبَةً وَاحِدَةً لِلْوَجْهِ وَالْكَفَّيْنِ.

عمار بن یاسر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے تیمم کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے مجھے چہرے اور دونوں ہتھیلیوں کے لیے ایک ضربہ ١ ؎ کا حکم دیا۔

Ammar bin Yasir said: I asked the Prophet ﷺ about tayammum. He commanded me to strike only one stroke (i. e. the strike the ground) for (wiping) the face and the hands.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ایک بار مٹی پر ہاتھ مار کر چہرہ اور دونوں ہتھیلی پر پھیرا جائے۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: ١٠٣٦٢) (صحیح )
328Sunan Abu Dawood

تیمم کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، قَالَ: سُئِلَ قَتَادَةُ عَنْ التَّيَمُّمِ فِي السَّفَرِ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي مُحَدِّثٌ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ.

موسیٰ بن اسماعیل کہتے ہیں: ہم سے ابان نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں قتادہ سے سفر میں تیمم کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: مجھ سے ایک محدث نے بیان کیا ہے، اس نے شعبی سے شعبی نے عبدالرحمٰن بن ابزی سے ابزی نے عمار بن یاسر ؓ سے روایت کی ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کہنیوں تک (مسح کرے) ۔

Aban said: Qatadah was asked about tayammum during a journey. He said: A traditionist reported to me from al-Shabi from Abdur-Rahman bin Abza on the authority of Ammar bin Yasir who reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: (He should wipe) up to the elbows.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: ١٠٣٦٢) (منکر) (اس کی سند میں محدث ایک مبہم راوی ہے )
329Sunan Abu Dawood

حضر میں تیمم کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، أَخْبَرَنَا أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُ، يَقُولُ: أَقْبَلْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَسَارٍ مَوْلَى مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَبِي الْجُهَيْمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الصِّمَّةِ الْأَنْصَارِيِّ، فَقَالَ أَبُو الْجُهَيْمِ: أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ بِئْرِ جَمَلٍ، فَلَقِيَهُ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ السَّلَامَ حَتَّى أَتَى عَلَى جِدَارٍ فَمَسَحَ بِوَجْهِهِ وَيَدَيْهِ ثُمَّ رَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ.

عبداللہ بن عباس ؓ کے غلام عمیر کہتے ہیں کہ میں اور ام المؤمنین میمونہ ؓ کے غلام عبداللہ بن یسار دونوں ابوجہیم بن حارث بن صمہ انصاری ؓ کے پاس آئے تو ابوجہیم نے کہا: رسول اللہ ﷺ بئرجمل (مدینے کے قریب ایک جگہ کا نام) کی طرف سے تشریف لائے تو ایک شخص آپ ﷺ سے ملا اور اس نے آپ کو سلام کیا، تو آپ ﷺ نے اسے سلام کا جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ آپ ایک دیوار کے پاس آئے اور آپ نے (دونوں ہاتھوں کو دیوار پر مار کر) اپنے منہ اور دونوں ہاتھوں کا مسح کیا، پھر آپ ﷺ نے اس کے سلام کا جواب دیا۔

Umair, the freed slave of Ibn Abbas, said that he heard him say: I and Abdullah bin Yasar, the freed slave of Maimunah, wife of the Prophet ﷺ , came and entered upon Abu al-Juhaim bin al-Harith bin al-Simmat al-Ansari. Abu al-Juhaim said: The Messenger of Allah ﷺ came from Bir Jamal (a place near Madina) and a man met him and saluted him. The Messenger of Allah ﷺ did not return the salutation until he came to a wall and wiped his face and hands and then returned the salutation (i. e. after performing tayammum).

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/التیمم ٣ (٣٣٧)، صحیح مسلم/الحیض ٢٨ (تعلیقاً ) (٣٦٩)، سنن النسائی/الطھارة ١٩٥ (٣١٢)، (تحفة الأشراف: ١١٨٨٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٦٩) (صحیح )
330Sunan Abu Dawood

حضر میں تیمم کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَوْصِلِيُّ أَبُو عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ الْعَبْدِيُّ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، قَالَ: انْطَلَقْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَفِي حَاجَةٍ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَضَى ابْنُ عُمَرَ حَاجَتَهُ فَكَانَ مِنْ حَدِيثِهِ يَوْمَئِذٍ أَنْ، قَالَ: مَرَّ رَجُلٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سِكَّةٍ مِنَ السِّكَكِ وَقَدْ خَرَجَ مِنْ غَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ حَتَّى إِذَا كَادَ الرَّجُلُ أَنْ يَتَوَارَى فِي السِّكَّةِ، ضَرَبَ بِيَدَيْهِ عَلَى الْحَائِطِ وَمَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ ثُمَّ ضَرَبَ ضَرْبَةً أُخْرَى فَمَسَحَ ذِرَاعَيْهِ، ثُمَّ رَدَّ عَلَى الرَّجُلِ السَّلَامَ، وَقَالَ: إِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ السَّلَامَ إِلَّا أَنِّي لَمْ أَكُنْ عَلَى طُهْرٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: سَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، يَقُولُ: رَوَى مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ حَدِيثًا مُنْكَرًا فِي التَّيَمُّمِ، قَالَ ابْنُ دَاسَةَ: قَالَ أَبُو دَاوُد: لَمْ يُتَابَعْ مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ عَلَى ضَرْبَتَيْنِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَوَوْهُ فِعْلَ ابْنِ عُمَرَ.

نافع کہتے ہیں: میں ابن عمر ؓ کے ساتھ کسی ضرورت کے تحت ابن عباس ؓ کے پاس گیا، ابن عمر ؓ نے اپنی ضرورت پوری کی اور اس دن ان کی گفتگو میں یہ بات بھی شامل تھی کہ ایک آدمی ایک گلی میں رسول اللہ ﷺ کے پاس سے ہو کر گزرا اور آپ (ابھی) پاخانہ یا پیشاب سے فارغ ہو کر نکلے تھے کہ اس آدمی نے سلام کیا تو آپ ﷺ نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ جب وہ شخص گلی میں آپ کی نظروں سے اوجھل ہوجانے کے قریب ہوا تو آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ دیوار پر مارے اور انہیں اپنے چہرے پر پھیرا، پھر دوسری بار اپنے دونوں ہاتھ دیوار پر مارے اور اس سے دونوں ہاتھوں کا مسح کیا پھر اس کے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: مجھے تیرے سلام کا جواب دینے میں کوئی چیز مانع نہیں تھی سوائے اس کے کہ میں پاکی کی حالت میں نہیں تھا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل کو کہتے سنا کہ محمد بن ثابت نے تیمم کے باب میں ایک منکر حدیث روایت کی ہے۔ ابن داسہ کہتے ہیں کہ ابوداؤد نے کہا ہے کہ اس قصے میں نبی اکرم ﷺ سے دو ضربہ پر محمد بن ثابت کی متابعت (موافقت) نہیں کی گئی ہے، صرف انہوں نے ہی دو ضربہ کو رسول اللہ ﷺ کا فعل قرار دیا ہے، ان کے علاوہ دیگر حضرات نے اسے ابن عمر ؓ کا فعل روایت کیا ہے۔

Nafi said: Accompanied by Abdullah bin Umar (RA) , I went to Ibn Abbas for a certain work. He (Ibn Abbas) narrated a tradition saying: A man passed by the Messenger of Allah ﷺ in a street, while he returned from the toilet or just urinated. He (the man) saluted him, but the Prophet did not return the salutation. When the man was about to disappear (from sight) in the street he struck the wall with both his hands and wiped his face with them. He then struck another stroke and wipes his arms. He then returned the mans salutation. Then he said: I did not return the salutation to you because I was not purified. Abu Dawud said: I heard Ahmad bin Hanbal say: Muhammad bin Thabit reported a rejected tradition. Ibn Dasah said: Abu Dawud said: No one supported Muhammad bin Thabit in respect of narrating this tradition as to striking the wall twice (for wiping) from the Prophet ﷺ , but reported it as an action of Ibn Umar.

Takhrij · تخریج
تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: ٨٤٢٠) (ضعیف) (محمد بن ثابت لین الحدیث ہیں ایک ضربہ والی اگلی حدیث صحیح ہے )
331Sunan Abu Dawood

حضر میں تیمم کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى الْبُرُلُّسِيُّ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ، أَنَّ نَافِعًاحَدَّثَهُ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْغَائِطِ فَلَقِيَهُ رَجُلٌ عِنْدَ بِئْرِ جَمَلٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَقْبَلَ عَلَى الْحَائِطِ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى الْحَائِطِ ثُمَّ مَسَحَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ، ثُمَّ رَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الرَّجُلِ السَّلَامَ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ پاخانہ سے فارغ ہو کر آئے تو بئر جمل کے پاس ایک آدمی کی ملاقات آپ سے ہوگئی، اس نے آپ کو سلام کیا تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ ایک دیوار کے پاس آئے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو دیوار پر مارا پھر اپنے چہرے اور دونوں ہاتھوں کا مسح کیا، اس کے بعد آپ ﷺ نے اس آدمی کے سلام کا جواب دیا۔

Ibn Umar said: The Messenger of Allah ﷺ came from the privy. A man met him near Bir Jamal and saluted him. The Messenger of Allah ﷺ did not return the salutation until he came to a wall and placed his hands on the wall and wiped his face and hands; he then returned the mans salutation.

Takhrij · تخریج
تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: ٨٥٣٣) (صحیح )
332Sunan Abu Dawood

جنبی تیمم کرسکتا ہے

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ. ح حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيَّ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: اجْتَمَعَتْ غُنَيْمَةٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا أَبَا ذَرٍّ، ابْدُ فِيهَا، فَبَدَوْتُ إِلَى الرَّبَذَةِ فَكَانَتْ تُصِيبُنِي الْجَنَابَةُ فَأَمْكُثُ الْخَمْسَ وَالسِّتَّ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَبُو ذَرٍّ، فَسَكَتُّ، فَقَالَ: ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ أَبَا ذَرٍّ لِأُمِّكَ الْوَيْلُ، فَدَعَا لِي بِجَارِيَةٍ سَوْدَاءَ فَجَاءَتْ بِعُسٍّ فِيهِ مَاءٌ فَسَتَرَتْنِي بِثَوْبٍ وَاسْتَتَرْتُ بِالرَّاحِلَةِ وَاغْتَسَلْتُ فَكَأَنِّي أَلْقَيْتُ عَنِّي جَبَلًا، فَقَالَ: الصَّعِيدُ الطَّيِّبُ وَضُوءُ الْمُسْلِمِ وَلَوْ إِلَى عَشْرِ سِنِينَ، فَإِذَا وَجَدْتَ الْمَاءَ فَأَمِسَّهُ جِلْدَكَ فَإِنَّ ذَلِكَ خَيْرٌ، وَقَالَ مُسَدَّدٌ: غُنَيْمَةٌ مِنَ الصَّدَقَةِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَحَدِيثُ عَمْرٍو أَتَمُّ.

ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس کچھ بکریاں جمع ہوگئیں تو آپ ﷺ نے فرمایا: ابوذر! تم ان بکریوں کو جنگل میں لے جاؤ ، چناچہ میں انہیں ہانک کر مقام ربذہ کی طرف لے گیا، وہاں مجھے جنابت لاحق ہوجایا کرتی تھی اور میں پانچ پانچ چھ چھ روز یوں ہی رہا کرتا، پھر میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، آپ نے فرمایا: ابوذر!، میں خاموش رہا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: تمہاری ماں تم پر روئے، ابوذر! تمہاری ماں کے لیے بربادی ہو ١ ؎، پھر آپ ﷺ نے میرے لیے ایک کالی لونڈی بلائی، وہ ایک بڑے پیالے میں پانی لے کر آئی، اس نے میرے لیے ایک کپڑے کی آڑ کی اور (دوسری طرف سے) میں نے اونٹ کی آڑ کی اور غسل کیا، (غسل کر کے مجھے ایسا لگا) گویا کہ میں نے اپنے اوپر سے کوئی پہاڑ ہٹا دیا ہو، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: پاک مٹی مسلمان کے لیے وضو (کے پانی کے حکم میں) ہے، اگرچہ دس برس تک پانی نہ پائے، جب تم پانی پا جاؤ تو اس کو اپنے بدن پر بہا لو، اس لیے کہ یہ بہتر ہے ۔ مسدد کی روایت میں غنيمة من الصدقة کے الفاظ ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عمرو کی روایت زیادہ کامل ہے۔

Abu Dharr said: A few goats got collected with the Messenger of Allah ﷺ . He said: Abu Dharr, drive them to the wood. I drove them to Rabadhah (a place near Madina). I would have sexual defilement (during my stay there) and I would remain (in this condition) for five or six days. Then I came to the Messenger of Allah ﷺ . He said: O Abu Dharr. I kept silence. He then said: May your mother bereave you, Abu Dharr (RA) : woe be to your mother. He then called a black slave-girl for me. She brought a vessel which contained water. She then concealed me by drawing a curtain and I concealed myself behind a she-camel, and took a bath. I felt as if I had thrown away a mountain from me. He said: Clean earth is a means for ablution for a Muslim, even for ten years (he does not find water); but when you find water, you should make it touch your skin, for that is better. The version of Musaddad has: the goats (were collected) from the alms, and the tradition reported by Amr is complete.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس طرح کے الفاظ زبان پر یوں ہی بطور تعجب جاری ہوجاتے ہیں ان سے بددعا مقصود نہیں ہوتی۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطھارة ٩٢ (١٢٤)، سنن النسائی/الطھارة ٢٠٥ (٣٢٣)، (تحفة الأشراف: ١٢٠٠٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٥٥، ١٨٠) (صحیح) (بزار وغیرہ کی روایت کردہ ابوہریرہ ؓ کی حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کے ایک راوی عمرو بن بجدان مجہول ہیں )
333Sunan Abu Dawood

جنبی تیمم کرسکتا ہے

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَامِرٍ، قَالَ: دَخَلْتُ فِي الْإِسْلَامِ فَأَهَمَّنِي دِينِي، فَأَتَيْتُ أَبَا ذَرٍّ، فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ: إِنِّي اجْتَوَيْتُ الْمَدِينَةَ، فَأَمَرَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَوْدٍ وَبِغَنَمٍ، فَقَالَ لِي: اشْرَبْ مِنْ أَلْبَانِهَا، قَالَ حَمَّادٌ: وَأَشُكُّ فِي أَبْوَالِهَا، هَذَا قَوْلُ حَمَّادٍ، فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ: فَكُنْتُ أَعْزُبُ عَنِ الْمَاءِ، وَمَعِي أَهْلِي فَتُصِيبُنِي الْجَنَابَةُ فَأُصَلِّي بِغَيْرِ طَهُورٍ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنِصْفِ النَّهَارِ وَهُوَ فِي رَهْطٍ مِنْ أَصْحَابِهِ وَهُوَ فِي ظِلِّ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ: فَقُلْتُ: نَعَمْ هَلَكْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: وَمَا أَهْلَكَكَ ؟ قُلْتُ: إِنِّي كُنْتُ أَعْزُبُ عَنِ الْمَاءِ وَمَعِي أَهْلِي فَتُصِيبُنِي الْجَنَابَةُ فَأُصَلِّي بِغَيْرِ طُهُورٍ، فَأَمَرَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَاءٍ فَجَاءَتْ بِهِ جَارِيَةٌ سَوْدَاءُ بِعُسٍّ يَتَخَضْخَضُ مَا هُوَ بِمَلْآنَ فَتَسَتَّرْتُ إِلَى بَعِيرِي فَاغْتَسَلْتُ ثُمَّ جِئْتُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا أَبَا ذَرٍّ إِنَّ الصَّعِيدَ الطَّيِّبَ طَهُورٌ، وَإِنْ لَمْ تَجِدِ الْمَاءَ إِلَى عَشْرِ سِنِينَ، فَإِذَا وَجَدْتَ الْمَاءَ فَأَمِسَّهُ جِلْدَكَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، لَمْ يَذْكُرْ أَبْوَالَهَا. قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا لَيْسَ بِصَحِيحٍ، وَلَيْسَ فِي أَبْوَالِهَا إِلَّا حَدِيثُ أَنَسٍ، تَفَرَّدَ بِهِ أَهْلُ الْبَصْرَةِ.

قبیلہ بنی عامر کے ایک آدمی کہتے ہیں کہ میں اسلام میں داخل ہوا تو مجھے اپنا دین سیکھنے کی فکر لاحق ہوئی لہٰذا میں ابوذر ؓ کے پاس آیا، انہوں نے کہا: مجھے مدینہ کی آب و ہوا راس نہ آئی تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے کچھ اونٹ اور بکریاں دینے کا حکم دیا اور مجھ سے فرمایا: تم ان کا دودھ پیو ، (حماد کا بیان ہے کہ مجھے شک ہے کہ آپ ﷺ نے انہیں پیشاب بھی پینے کے لیے کہا یا نہیں، یہ حماد کا قول ہے) ، پھر ابوذر ؓ نے کہا: میں پانی سے (اکثر) دور رہا کرتا تھا اور میرے ساتھ میری بیوی بھی تھی، مجھے جنابت لاحق ہوتی تو میں بغیر طہارت کے نماز پڑھ لیتا تھا، تو میں رسول اللہ ﷺ کے پاس دوپہر کے وقت آیا، آپ صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ مسجد کے سائے میں (بیٹھے) تھے، آپ نے فرمایا: ابوذر؟ ، میں نے کہا: جی، اللہ کے رسول! میں تو ہلاک و برباد ہوگیا، آپ ﷺ نے فرمایا: کس چیز نے تمہیں ہلاک و برباد کیا؟ ، میں نے کہا: میں پانی سے دور رہا کرتا تھا اور میرے ساتھ میری بیوی تھی، مجھے جنابت لاحق ہوتی تو میں بغیر طہارت کے نماز پڑھ لیتا تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے میرے لیے پانی لانے کا حکم دیا، چناچہ ایک کالی لونڈی بڑے برتن میں پانی لے کر آئی جو برتن میں ہل رہا تھا، برتن بھرا ہوا نہیں تھا، پھر میں نے اپنے اونٹ کی آڑ کی اور غسل کیا، پھر آیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے ابوذر! پاک مٹی پاک کرنے والی ہے، اگرچہ تم دس سال تک پانی نہ پاؤ، لیکن جب تمہیں پانی مل جائے تو اسے اپنی کھال پر بہاؤ (غسل کرو) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے حماد بن زید نے ایوب سے روایت کیا ہے اور اس میں انہوں نے پیشاب کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ صحیح نہیں ہے اور پیشاب کا ذکر صرف انس بن مالک ؓ کی حدیث میں ہے، جس میں اہل بصرہ منفرد ہیں۔

A man from Banu Amir said: I embraced Islam and my (ignorance of the) religion made me anxious (to learn the essentials). I came to Abu Dharr. Abu Dharr said: The climate of Madina did not suit me. The Messenger of Allah ﷺ ordered me to have a few camels and goats. He said to me: Drink their milk. (The narrator Hammad said): I doubt whether he (the Prophet) said: their urine. Abu Dharr said: I was away from the watering place and I had my family with me. I would have sexual defilement and pray without purification. I came to the Messenger of Allah ﷺ at noon. He was resting in the shade of the mosque along with a group of Companions. He (the Prophet) said: Abu Dharr. I said: Yes, I am ruined, Messenger of Allah. He said: What ruined you ? I said: I was away from the watering place and I had family with me. I used to be sexually defiled and pray without purification. He commanded (to bring) water for me. Then a black slave-girl brought a vessel of water that was shaking as the vessel was not full. I concealed myself behind a camel and took bath and them came (to the Prophet). The Messenger of Allah ﷺ said: Abu Dharr, clean earth is a means of ablution, even if you do not find water for ten years. When you find water, you should make it touch your skin. Abu Dawud said: This is transmitted by Hammad bin Zaid from Ayyub. This version does not mention the words their urine. This is not correct. The words their urine occur only in the version reported by Anas and transmitted only by the people of Basrah

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٢٠٠٨) (صحیح) (ابوہریرہ ؓ کی حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ خود اس کی سند میں ایک راوی رجل من بنی عامر مبہم راوی ہیں اور یہ وہی عمرو بن بجدان ہیں )
334Sunan Abu Dawood

کیا سردی کے خوف سے جنبی تیمم کرسکتا ہے؟

حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، أَخْبَرَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَيُّوبَ يُحَدِّثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ الْمِصْرِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاص، قَالَ: احْتَلَمْتُ فِي لَيْلَةٍ بَارِدَةٍ فِي غَزْوَةِ ذَاتِ السُّلَاسِلِ فَأَشْفَقْتُ إِنِ اغْتَسَلْتُ أَنْ أَهْلِكَ، فَتَيَمَّمْتُ ثُمَّ صَلَّيْتُ بِأَصْحَابِي الصُّبْحَ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا عَمْرُو، صَلَّيْتَ بِأَصْحَابِكَ وَأَنْتَ جُنُبٌ ؟ فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي مَنَعَنِي مِنَ الِاغْتِسَالِ، وَقُلْتُ: إِنِّي سَمِعْتُ اللَّهَ، يَقُولُ: وَلا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا سورة النساء آية 29، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا، قَالَ أَبُو دَاوُد: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرٍ مِصْرِيٌّ مَوْلَى خَارِجَةَ بْنِ حُذَافَةَ، وَلَيْسَ هُوَ ابْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ.

عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ غزوہ ذات السلاسل کی ایک ٹھنڈی رات میں مجھے احتلام ہوگیا اور مجھے یہ ڈر لگا کہ اگر میں نے غسل کرلیا تو مرجاؤں گا، چناچہ میں نے تیمم کر کے اپنے ساتھیوں کو فجر پڑھائی، تو لوگوں نے نبی اکرم ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: عمرو! تم نے جنابت کی حالت میں اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی؟ ، چناچہ میں نے آپ ﷺ کو غسل نہ کرنے کا سبب بتایا اور کہا: میں نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان سنا کہ ولا تقتلوا أنفسکم إن الله کان بکم رحيما (سورۃ النساء: ٢٩) تم اپنے آپ کو قتل نہ کرو، بیشک اللہ تم پر رحم کرنے والا ہے یہ سن کر رسول اللہ ﷺ ہنسے اور آپ نے کچھ نہیں کہا۔

Narrated Amr ibn al-As: I had a sexual dream on a cold night in the battle of Dhat as-Salasil. I was afraid, if I washed I would die. I, therefore, performed tayammum and led my companions in the dawn prayer. They mentioned that to the Messenger of Allah ﷺ . He said: Amr, you led your companions is prayer while you were sexually defiled? I informed him of the cause which impeded me from washing. And I said: I heard Allah say: Do not kill yourself, verily Allah is merciful to you. The Messenger of Allah ﷺ laughed and did not say anything. Abu Dawud said: Abdur-Rahman bin Jubair is an Egyptian and a freed slave of Kharijah bin Hudhafah. He is not Jubair bin Nufair

Takhrij · تخریج
تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٠٧٥٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٠٣) (صحیح )
335Sunan Abu Dawood

کیا سردی کے خوف سے جنبی تیمم کرسکتا ہے؟

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ ابْنِ لَهِيعَةَ وَعَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِكَانَ عَلَى سَرِيَّةٍ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ نَحْوَهُ، قَالَ: فَغَسَلَ مَغَابِنَهُ وَتَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ صَلَّى بِهِمْ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَلَمْ يَذْكُرِ التَّيَمُّمَ، قَالَ أَبُو دَاوُد، وَرَوَى هَذِهِ الْقِصَّةَ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ، قَالَ فِيهِ: فَتَيَمَّمَ.

عمرو بن العاص ؓ کے غلام ابو قیس سے روایت ہے کہ عمرو بن العاص ایک سریہ کے سردار تھے، پھر انہوں نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی، اس میں ہے: تو انہوں نے اپنی شرمگاہ کے آس پاس کا حصہ دھویا، پھر وضو کیا جس طرح نماز کے لیے وضو کرتے ہیں پھر لوگوں کو نماز پڑھائی، آگے راوی نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی مگر اس میں تیمم کا ذکر نہیں کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ واقعہ اوزاعی نے حسان بن عطیہ سے روایت کیا ہے، اس میں فتيمم کے الفاظ ہیں (یعنی انہوں نے تیمم کیا) ۔

Abu Qais, the freed slave of Amr bin al-As, said Amr bin al-As was in a battle. He then narrated the rest of the tradition. He then said: He washed his armpits and other joints where dirt was found, and he performed ablution like that for prayer. Then he led them in prayer. He then narrated the tradition in a similar way but did not mention of tayammum. Abu Dawud said: This incident has also been narrated by al-Awzai on the authority of Hassan bin Atiyyah. This version has the words: Then he performed tayammum.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: ١٠٧٥٠) (صحیح )
336Sunan Abu Dawood

زخمی یا معذور تیمم کرسکتا ہے؟

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْطَاكِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ خُرَيْقٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: خَرَجْنَا فِي سَفَرٍ فَأَصَابَ رَجُلًا مِنَّا حَجَرٌ فَشَجَّهُ فِي رَأْسِهِ ثُمَّ احْتَلَمَ، فَسَأَلَ أَصْحَابَهُ، فَقَالَ: هَلْ تَجِدُونَ لِي رُخْصَةً فِي التَّيَمُّمِ ؟ فَقَالُوا: مَا نَجِدُ لَكَ رُخْصَةً وَأَنْتَ تَقْدِرُ عَلَى الْمَاءِ، فَاغْتَسَلَ فَمَاتَ. فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُخْبِرَ بِذَلِكَ، فَقَالَ: قَتَلُوهُ قَتَلَهُمُ اللَّهُ، أَلَا سَأَلُوا إِذْ لَمْ يَعْلَمُوا، فَإِنَّمَا شِفَاءُ الْعِيِّ السُّؤَالُ، إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيهِ أَنْ يَتَيَمَّمَ وَيَعْصِرَ أَوْ يَعْصِبَ شَكَّ مُوسَى عَلَى جُرْحِهِ خِرْقَةً ثُمَّ يَمْسَحَ عَلَيْهَا وَيَغْسِلَ سَائِرَ جَسَدِهِ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں نکلے، تو ہم میں سے ایک شخص کو ایک پتھر لگا، جس سے اس کا سر پھٹ گیا، پھر اسے احتلام ہوگیا تو اس نے اپنے ساتھیوں سے دریافت کیا: کیا تم لوگ میرے لیے تیمم کی رخصت پاتے ہو؟ ان لوگوں نے کہا: ہم تمہارے لیے تیمم کی رخصت نہیں پاتے، اس لیے کہ تم پانی پر قادر ہو، چناچہ اس نے غسل کیا تو وہ مرگیا، پھر جب ہم نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور آپ کو اس واقعہ کی خبر دی گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ان لوگوں نے اسے مار ڈالا، اللہ ان کو مارے، جب ان کو مسئلہ معلوم نہیں تھا تو انہوں نے کیوں نہیں پوچھ لیا؟ نہ جاننے کا علاج پوچھنا ہی ہے، اسے بس اتنا کافی تھا کہ تیمم کرلیتا اور اپنے زخم پر پٹی باندھ لیتا (یہ شک موسیٰ کو ہوا ہے) ، پھر اس پر مسح کرلیتا اور اپنے باقی جسم کو دھو ڈالتا ۔

Jabir said: We set out on a journey. One of our people was hurt by a stone, that injured his head. The then had a sexual dream. He asked his fellow travelers: Do you find a concession for me to perform tayammum? They said: We do not find any concession for you while you can use water. He took a bath and died. When we came to the Prophet ﷺ , the incident was reported to him. He said: They killed him, may Allah kill them! Could they not ask when they did not know ? The fire of ignorance is inquiry. It was enough for him to perform tayammum and to our some drops of water or bind a bandage over the wound (the narrator Musa was doubtful); then he should have wiped over it and washed the rest of his body.

Takhrij · تخریج
تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: ٢٤١٣) (حسن) ( إنما کان يكفيه یہ جملہ ثابت نہیں ہے )
337Sunan Abu Dawood

زخمی یا معذور تیمم کرسکتا ہے؟

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَاصِمٍ الْأَنْطَاكِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، أَخْبَرَنِي الْأَوْزَاعِيُّ، أَنَّهُ بَلَغَهُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَصَابَ رَجُلًا جُرْحٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ احْتَلَمَ، فَأُمِرَ بِالِاغْتِسَالِ فَاغْتَسَلَ فَمَاتَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: قَتَلُوهُ قَتَلَهُمُ اللَّهُ، أَلَمْ يَكُنْ شِفَاءُ الْعِيِّ السُّؤَالَ.

عطاء بن ابی رباح سے روایت ہے کہ انہوں نے عبداللہ بن عباس ؓ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک آدمی کو زخم لگا، پھر اسے احتلام ہوگیا، تو اسے غسل کرنے کا حکم دیا گیا، اس نے غسل کیا تو وہ مرگیا، یہ بات رسول اللہ ﷺ کو معلوم ہوئی تو آپ نے فرمایا: ان لوگوں نے اسے مار ڈالا، اللہ انہیں مارے، کیا لاعلمی کا علاج مسئلہ پوچھ لینا نہیں تھا؟ ۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : A man was injured during the lifetime of the Messenger of Allah ﷺ ; he then had a sexual dream, and he was advised to wash and he washed himself. Consequently he died. When this was reported to the Messenger of Allah ﷺ he said: They killed him; may Allah kill them! Is not inquiry the cure of ignorance?

Takhrij · تخریج
أخرجہ ابن ماجہ موصولاً برقم (٥٧٢)، (تحفة الأشراف: ٥٩٧٢)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الطھارة ٦٩ (٧٧٩) (حسن )
338Sunan Abu Dawood

تیمم کر کے نماز پڑھ لینے کے بعد پانی حاصل ہوجائے تو کیا کرنا چاہیئے؟

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمَسَيَّبِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: خَرَجَ رَجُلَانِ فِي سَفَرٍ فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ وَلَيْسَ مَعَهُمَا مَاءٌ فَتَيَمَّمَا صَعِيدًا طَيِّبًا فَصَلَّيَا، ثُمَّ وَجَدَا الْمَاءَ فِي الْوَقْتِ فَأَعَادَ أَحَدُهُمَا الصَّلَاةَ وَالْوُضُوءَ وَلَمْ يُعِدِ الْآخَرُ، ثُمَّ أَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ لِلَّذِي لَمْ يُعِدْ: أَصَبْتَ السُّنَّةَ وَأَجْزَأَتْكَ صَلَاتُكَ، وَقَالَ لِلَّذِي تَوَضَّأَ وَأَعَادَ: لَكَ الْأَجْرُ مَرَّتَيْنِ، قَالَ أَبُو دَاوُد وَغَيْرُ ابْنِ نَافِعٍ: يَرْوِيهِ عَنْ اللَّيْثِ، عَنْ عُمَيْرَةَ بْنِ أَبِي نَاجِيَةَ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَذِكْرُ أَبِى سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: لَيْسَ بِمَحْفُوظٍ وَهُوَ مُرْسَلٌ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ دو شخص ایک سفر میں نکلے تو نماز کا وقت آگیا اور ان کے پاس پانی نہیں تھا، چناچہ انہوں نے پاک مٹی سے تیمم کیا اور نماز پڑھی، پھر وقت کے اندر ہی انہیں پانی مل گیا تو ان میں سے ایک نے نماز اور وضو دونوں کو دوہرایا، اور دوسرے نے نہیں دوہرایا، پھر دونوں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو ان دونوں نے آپ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ ﷺ نے اس شخص سے فرمایا جس نے نماز نہیں لوٹائی تھی: تم نے سنت کو پا لیا اور تمہاری نماز تمہیں کافی ہوگئی ، اور جس شخص نے وضو کر کے دوبارہ نماز پڑھی تھی اس سے فرمایا: تمہارے لیے دوگنا ثواب ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن نافع کے علاوہ دوسرے لوگ اس حدیث کو لیث سے، وہ عمیر بن ابی ناجیہ سے، وہ بکر بن سوادہ سے، وہ عطاء بن یسار سے، وہ نبی اکرم ﷺ سے (مرسلاً ) روایت کرتے ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث میں ابو سعید خدری ؓ کا ذکر محفوظ نہیں ہے، یہ مرسل ہے۔

Abu Saeed al-Khudri said: Two persons set out on a journey. Meanwhile the time of prayer came and they had no water. They performed tayammum with clean earth and prayed. Later on they found water within the time of the prayer. One of them repeated the prayer and ablution but the other did not repeat. Then they came to the Messenger of Allah ﷺ and related the matter to him. Addressing himself to the one who did not repeat, he said: You followed the sunnah (model behavior of the Prophet) and your (first) prayer was enough for you. He said to the one who performed ablution and repeated: For you there is the double reward. Abu Dawud said: Besides Ibn Nafi this is transmitted by al-Laith from Umairah bin Abi Najiyyah from Bakr bin Sawadah on the authority of Ata bin Yasar from the Prophet ﷺ . Abu Dawud said: The mention of (the name of the Companion) Abu Saeed in this tradition is not guarded. This is a mural tradition (i. e. the Successor Ata bin Yasar directly narrates it from the Prophet, leaving the name of the Companion in the chain. )

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الغسل والتیمم ٢٧ (٤٣٣) (تحفة الأشراف: ٤١٧٦، ١٩٠٨٩، ١٦٥٩٩)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الطھارة ٦٤ (٧٧١) (صحیح) (اس کا مرسل ہونا زیادہ صحیح ہے کیونکہ عبداللہ بن نافع کے حفظ میں تھوڑی سی کمزوری ہے اور دیگر لوگوں نے اس کو مرسلاً ہی روایت کیا ہے )
339Sunan Abu Dawood

تیمم کر کے نماز پڑھ لینے کے بعد پانی حاصل ہوجائے تو کیا کرنا چاہیئے؟

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ.

عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ دو صحابی رسول ﷺ (سفر میں تھے) ، پھر انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔

Ata bin Yasar said: Two persons from the Companions of the Messenger of Allah ﷺ ; he then narrated the rest of the tradition to the same effect.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: ٤١٧٦، ١٩٠٨٩) (صحیح )
340Sunan Abu Dawood

جمعہ کے غسل کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، أَخْبَرَنَا مُعَاوِيَةُ، عَنْ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بَيْنَا هُوَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ، فَقَالَ عُمَرُ: أَتَحْتَبِسُونِ عَنِ الصَّلَاةِ ؟ فَقَالَ الرَّجُلُ: مَا هُوَ إِلَّا أَنْ سَمِعْتُ النِّدَاءَ فَتَوَضَّأْتُ، فَقَالَ عُمَرُ: وَالْوُضُوءُ أَيْضًا، أَوَ لَمْ تَسْمَعُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِذَا أَتَى أَحَدُكُمُ الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب ؓ جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دوران ایک آدمی ١ ؎ داخل ہوا تو آپ نے کہا: کیا تم لوگ نماز (میں اول وقت آنے) سے رکے رہتے ہو؟ اس شخص نے کہا: جوں ہی میں نے اذان سنی ہے وضو کر کے آگیا ہوں، اس پر عمر ؓ نے کہا: اچھا صرف وضو ہی؟ کیا تم لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے نہیں سنا ہے: جب تم میں سے کوئی جمعہ کے لیے آئے تو چاہیئے کہ غسل کرے ۔

Abu Hurairah said: While Umar bin al-Khattab was making a speech on Friday (in the mosque), a man came in. Umar said: Are you detained from prayer ? The man said: As soon as I heard the call for prayer, I perfumed ablution. Then Umar said: Only ablution ? Did you not hear the Messenger of Allah ﷺ say: When any one of you comes for Friday (prayer) he should take a bath.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے مراد عثمان بن عفان ؓ ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجمعة ٢ (٨٧٨)، ٥ (٨٨٢)، صحیح مسلم/الجمعة ١ (٨٤٥)، موطا امام مالک/النداء للصلاة ١(٣)، (تحفة الأشراف: ١٠٦٦٧)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الجمعة ٣ (٤٩٤)، سنن الدارمی/الصلاة ١٩٠ (١٥٨٠) (صحیح )
341Sunan Abu Dawood

جمعہ کے غسل کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: غُسْلُ يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جمعہ کے دن کا غسل ہر بالغ (مسلمان) پر واجب ہے ١ ؎۔

Abu Saeed al-Khudri reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: Taking bath on Friday is necessary for every adult.

Notes · وضاحت
١ ؎: جمہور علماء حتی کہ ائمہ اربعہ کا کہنا ہے کہ جمعہ کے دن غسل واجب نہیں بلکہ مستحب ہے، حدیث میں وجوب سے مراد وجوب اختیاری ہے نہ کہ وجوب لازمی، اگر غسل واجب ہوتا تو عمر ؓ اس آدمی کو واپس جا کر غسل کر کے آنے کے لئے حکم دیتے، شیخ الاسلام ابن تیمیہ (رح) کا کہنا ہے کہ جمعہ کے دن غسل مستحب ہے البتہ ایسے لوگ جن کے بدن سے تکلیف دہ پسینہ یا بو آتی ہو تو ان پر غسل واجب ہے، واللہ اعلم۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٦١ (٨٥٨)، والجمعة ٢ (٨٧٩)، ١٢ (٨٩٥)، والشہادات ١٨ (٢٦٦٥)، صحیح مسلم/الجمعة ١ (٨٤٦)، سنن النسائی/الجمعة ٨ (١٣٧٨)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٨٠ (١٠٨٩)، (تحفة الأشراف: ٤١٦١)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجمعة ١(٤)، مسند احمد (٣/٦)، سنن الدارمی/الصلاة ١٩٠ (١٥٧٨) (صحیح )