Sunan Abu Dawood 515

نماز کا بیان

515Sunan Abu Dawood

بلند آواز سے اذان دینے کا بیان

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْمُؤَذِّنُ يُغْفَرُ لَهُ مَدَى صَوْتِهِ وَيَشْهَدُ لَهُ كُلُّ رَطْبٍ وَيَابِسٍ، وَشَاهِدُ الصَّلَاةِ يُكْتَبُ لَهُ خَمْسٌ وَعِشْرُونَ صَلَاةً وَيُكَفَّرُ عَنْهُ مَا بَيْنَهُمَا.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مؤذن کی بخشش کردی جاتی ہے، جہاں تک اس کی آواز جاتی ہے ١ ؎، اور اس کے لیے تمام خشک و تر گواہی دیتے ہیں، اور جو شخص نماز میں حاضر ہوتا ہے اس کے لیے پچیس نماز کا ثواب لکھا جاتا ہے اور ایک نماز سے دوسری نماز کے درمیان جو کوتاہی سرزد ہوئی ہو وہ مٹا دی جاتی ہے ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: The muadhdhin will receive forgiveness to the extent to which his voice reaches, and every moist and dry place will testify on his behalf; and he who attends (the congregation of) prayer will have twenty-five prayers recorded for him and will have expiation for sins committed between every two times of prayer.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس کے اتنے گناہ بخش دیے جاتے ہیں جو اتنی جگہ میں سما سکیں۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الأذان ١٤ (٦٤٦)، سنن ابن ماجہ/الأذان ٥ (٧٢٤)، (تحفة الأشراف: ١٥٤٦٦)، مسند احمد (٢/٤٢٩، ٤٥٨) (صحیح) (شواہد سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ مؤلف کی سند میں ابویحییٰ مجہول راوی ہیں، بعض لوگ کہتے ہیں: یہ ابویحییٰ اسلمی ہیں، اگر ایسا ہے تو یہ حسن کے مرتبہ کے راوی ہیں )