سر ڈھانپنے کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، قَالَ: قَالَ الزُّهْرِيُّ، قَالَ عُرْوَةُ، قَالَتْ عَائِشَةُرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: بَيْنَا نَحْنُ جُلُوسٌ فِي بَيْتِنَا فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ، قَالَ قَائِلٌ لِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقْبِلًا مُتَقَنِّعًا فِي سَاعَةٍ لَمْ يَكُنْ يَأْتِينَا فِيهَا، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنَ فَأُذِنَ لَهُ فَدَخَلَ.
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں ہم اپنے گھر میں گرمی میں عین دوپہر کے وقت بیٹھے تھے کہ اسی دوران ایک کہنے والے نے ابوبکر ؓ سے کہا: یہ رسول اللہ ﷺ سر ڈھانپے ایک ایسے وقت میں تشریف لا رہے ہیں جس میں آپ نہیں آیا کرتے ہیں چناچہ آپ آئے اور اندر آنے کی اجازت مانگی ابوبکر ؓ نے آپ کو اجازت دی تو آپ اندر تشریف لائے۔
Narrated Aisha (RA) : We were seated in our house in the noonday heat. Someone said to Abu Bakr (RA) : Here is the Messenger of Allah ﷺ coming to us shading his head at the hour when he would not generally come. The Messenger of Allah ﷺ then came; he asked for permission and he gave him permission and he entered.