دھوکہ والی بیع کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، وَعُثْمَانُ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى عَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ، زَادَ عُثْمَانُ وَالْحَصَاةِ.
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے دھوکہ کی بیع سے روکا ہے۔ عثمان راوی نے اس حدیث میں والحصاة کا لفظ بڑھایا ہے یعنی کنکری پھینک کر بھی بیع کرنے سے روکا ہے ١ ؎۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ forbade the type of sale which involves risk (or uncertainty) and a transaction determined by throwing stones.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی بائع مشتری سے یا مشتری بائع سے یہ کہے کہ جب میں تیری طرف کنکریاں پھینک دوں تو بیع لازم ہوجائے گی یا بکریوں کے گلے میں جس بکری پر کنکری پڑے وہ میں دے دوں گا یا لے لوں گا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/البیوع ٢ (١٥١٣)، سنن الترمذی/البیوع ٩٧ (١٢٣٠)، سنن النسائی/البیوع ٢٥ (٤٥٢٢)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٢٣ (٢١٩٤)، (تحفة الأشراف: ١٣٧٩٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٥٠، ٣٧٦، ٤٣٦، ٤٣٩، ٤٩٦)، سنن الدارمی/البیوع ٢٠ (٢٥٩٦) (صحیح )