Sunan Abu Dawood 3374

خرید وفروخت کا بیان

3374Sunan Abu Dawood

کئی سال کے لئے پھل بیچنا درست نہیں

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيقٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى عَنْ بَيْعِ السِّنِينَ، وَوَضَعَ الْجَوَائِحَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: لَمْ يَصِحَّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الثُّلُثِ شَيْءٌ، وَهُوَ رَأْيُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے کئی سالوں کے لیے پھل بیچنے سے روکا ہے، اور آفات سے پہنچنے والے نقصانات کا خاتمہ کردیا ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نبی اکرم ﷺ سے ثلث کے سلسلے میں کوئی صحیح چیز ثابت نہیں ہے اور یہ اہل مدینہ کی رائے ہے ٢ ؎۔

Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Prophet ﷺ forbade selling fruits years ahead, and commanded that unforeseen loss be remitted in respect of what is affected by blight. Abu Dawud said: The attribution of the tradition regarding the effect of blight is one-third of the produce to the Prophet ﷺ is not correct. This is the opinion of the people of Madina.

Notes · وضاحت
١ ؎: کیوں کہ یہ بیع معدوم اور غیر موجود کی بیع ہے، اور آفات سے پہنچے نقصانات کا معاوضہ کیا ہے۔ ٢ ؎: مطلب یہ ہے کہ اہل مدینہ میں سے بعض لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ اگر آفت ثلث اور اس سے زیادہ مال پر آئی ہے تو یہ نقصان بیچنے والے کے ذمہ ہوگا اور اگر ثلث سے کم ہے تو مشتری یعنی خرید ار خود اس کا ذمہ دار ہوگا تو ثلث کی قید کے ساتھ کوئی چیز رسول اللہ ﷺ سے ثابت نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/البیوع ١٧ (١٥٣٦)، سنن النسائی/البیوع ٢٩ (٤٥٣٥)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٣٣ (٢٢١٨)، (تحفة الأشراف: ٢٢٦٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٠٩)، ٢٩ (٤٥٣٥) (صحیح )