Sunan Abu Dawood 3370

خرید وفروخت کا بیان

3370Sunan Abu Dawood

درخت پر پھل پک جانے سے پہلے فروخت کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَلِيمِ بْنِ حَيَّانَ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُبَاعَ الثَّمَرَةُ حَتَّى تُشْقِحَ، قِيلَ: وَمَا تُشْقِحُ ؟، قَالَ: تَحْمَارُّ، وَتَصْفَارُّ، وَيُؤْكَلُ مِنْهَا.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اشقاح سے پہلے پھل بیچنے سے منع فرمایا ہے، پوچھا گیا: اشقاح کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: اشقاح یہ ہے کہ پھل سرخی مائل یا زردی مائل ہوجائیں اور انہیں کھایا جانے لگے ۔

Narrated Jabir bin Abdullah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ forbade the sale of fruits until they are ripened (tushqihah). He was asked: What do you mean by their ripening (ishqah)? He replied: They become red or yellow, and they are eaten.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ٨٥ (٢١٩٦)، ٨٧ (٢١٩٨)، ٩٣ (٢٢٠٨)، صحیح مسلم/البیوع ١٣ (١٥٣٦)، (تحفة الأشراف: ٢٢٥٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣١٩، ٣٦١) (صحیح )