Sunan Abu Dawood 3361

خرید وفروخت کا بیان

3361Sunan Abu Dawood

مزابنہ کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ كَيْلًا، وَعَنْ بَيْعِ الْعِنَبِ بِالزَّبِيبِ كَيْلًا، وَعَنْ بَيْعِ الزَّرْعِ بِالْحِنْطَةِ كَيْلًا.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے درخت پر لگی ہوئی کھجور کا اندازہ کر کے سوکھی کھجور کے بدلے ناپ کر بیچنے سے منع فرمایا ہے، اسی طرح انگور کا (جو بیلوں پر ہو) اندازہ کر کے اسے سوکھے انگور کے بدلے ناپ کر بیچنے سے منع فرمایا ہے اور غیر پکی ہوئی فصل کا اندازہ کر کے اسے گیہوں کے بدلے ناپ کر بیچنے سے منع فرمایا ہے (کیونکہ اس میں کمی و بیشی کا احتمال ہے) ۔

Narrated Ibn Umar (RA) : The Prophet ﷺ forbade the sale of fruits on the tree for fruits by measure, and sale of grapes for raisins by measure, and sale of harvest for wheat by measure.

Notes · وضاحت
١ ؎: درخت پر لگے ہوے پھل کا اندازہ کر کے اسے اسی قدر توڑے ہوے پھل کے بدلے بیچنے کو مزابنہ کہتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/البیوع ١٤ (١٥٤٢)، (تحفة الأشراف: ٨٢٧٣، ٨١٣١)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع ٨٢ (٢١٨٥)، سنن النسائی/البیوع ٣٠ (٤٥٣٧)، ٣٧ (٤٥٥٣)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٥٤ (٢٢٦٥)، موطا امام مالک/البیوع ٨ (١٠)، مسند احمد (٢/٧، ١٦٨) (صحیح )