مشرکین کے ملک میں رہنے کی مذمت
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنُ سُفْيان، حَدَّثَنَا يَحْيى بْنُ حَسَّانَ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا جَعْفَر بْنُ سَعْدِ بْنُ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُب،حدَّثَنِي خُبَيْبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ سُلَيْمَانَ بْنِ سَمُرَةَ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُب، أَمَّا بَعْدُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ جَامَعَ المُشْرِكَ، وَسَكَنَ مَعَهُ فَإِنَّهُ مِثْلُهُ.
سمرہ بن جندب ؓ کہتے ہیں أما بعد، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص مشرک کے ساتھ میل جول رکھے اور اس کے ساتھ رہے تو وہ اسی کے مثل ہے ١ ؎۔
Narrated Samurah ibn Jundub (RA) : To proceed, the Messenger of Allah ﷺ said: Anyone who associates with a polytheist and lives with him is like him.
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ آپ ﷺ نے تغلیظاً اور تشدیداً فرمایا تاکہ آدمی مشرک کی صحبت سے بچے یا مراد یہ ہے کہ جب اس کے ساتھ رہے گا تو اسی کی طرح ہوجائے گا کیونکہ صحبت کا اثر یقینی طور پر پڑتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٤٦٢١)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/السیر ٤٢ (١٦٠٥) (حسن لغیرہ) (سند میں متعدد ضعیف ہیں لیکن دوسرے طریق جس کی تخریج حاکم نے کی ہے سے تقویت پاکر یہ حسن ہے (المستدرک ١/١٤١-١٤٢) ( ملاحظہ ہو الصحیحة: ٢٣٣٠ )