Sunan Abu Dawood 279

پاکی کا بیان

279Sunan Abu Dawood

مستحاضہ عورت کا بیان اور اس بات کا بیان کہ مستحاضہ عورت اپنے ایام حیض کے بقدر نماز چھوڑ دے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ عِرَاكٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: إِنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّمِ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: فَرَأَيْتُ مِرْكَنَهَا مَلْآنَ دَمًا، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: امْكُثِي قَدْرَ مَا كَانَتْ تَحْبِسُكِ حَيْضَتُكِ، ثُمَّ اغْتَسِلِي، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ قُتَيْبَةُ بَيْنَ أَضْعَافِ حَدِيثِ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ فِي آخِرِهَا، وَرَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، وَيُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ اللَّيْثِ، فَقَالَا: جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ام المؤمنین ام حبیبہ ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے (استحاضہ) کے خون کے بارے میں سوال کیا، عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے ان کے لگن کو خون سے بھرا دیکھا، تو ان سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جتنے دنوں تک تمہیں تمہارا حیض پہلے روکتا تھا اسی کے بقدر رکی رہو، پھر غسل کرو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسے قتیبہ نے جعفر بن ربیعہ کی حدیث کے آخر میں بین السطور یا حاشیہ میں روایت کیا ہے نیز اسے علی بن عیاش، اور یونس بن محمد نے لیث سے روایت کیا ہے، اور دونوں نے (جعفر کے بجائے) جعفر بن ربیعہ کہا ہے۔

Aishah reported: Umm Habibah asked the prophet ﷺ about the blood (which flows beyond the period of menstruation). Aisha (RA) said: I saw her wash-tub full of blood. The Messenger of Allah ﷺ said; Keep away (from prayer) equal (to the length of time) that your menses prevented you. Then wash yourself. Abu Dawud said: Qutaibah mentioned the name Jaftar bin Rabiah in the middle of the text of the tradition for the second time (i. e., Qutaibah, being doubtful about the narrator Jafar bin Rabiah, mentioned his name twice: once in the chain and again while reporting the text). Ali bin Ayyash and yunus bin Muhammad reported it on the authority of al-Laith. They mentioned the name Jafar bin Rabiah.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحیض ١٤ (٣٣٤)، سنن النسائی/الطھارة ١٣٤ (٢٠٧)، والحیض ٣ (٣٥٣)، (تحفة الأشراف: ١٦٣٧٠)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الطھارة ١١٦ (٦٢٦)، مسند احمد (٦/٨٣، ١٤١، ١٨٧، سنن الدارمی/الطھارة ٨٣ (٨٠٥) (صحیح )