Sunan Abu Dawood 275

پاکی کا بیان

275Sunan Abu Dawood

مستحاضہ عورت کا بیان اور اس بات کا بیان کہ مستحاضہ عورت اپنے ایام حیض کے بقدر نماز چھوڑ دے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَيَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَجُلًا أَخْبَرَهُ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ امْرَأَةً كَانَتْ تُهَرَاقُ الدَّمَ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، قَالَ: فَإِذَا خَلَّفَتْ ذَلِكَ وَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَلْتَغْتَسِلْ، بِمَعْنَاهُ.

ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ ایک عورت کو (استحاضہ کا) خون آتا تھا، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی، اس میں ہے کہ: پھر جب یہ ایام گزر جائیں اور نماز کا وقت آجائے تو غسل کرے .... الخ۔

Sulaiman bin Yasar said that a man reported to him from Umm Salamah; There was a woman who had an issue of blood. And he narrated the rest of the tradition to the same effect saying; when the menstruation period is over and the time of prayer arrives, she should take a bath, as mentioned in the previous tradition.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: ١٨١٥٨) (صحیح) (گزری ہوئی حدیثِ سے تقویت پا کر یہ حدیث بھی صحیح ہے، اس کی سند میں واقع راوی کا مبہم ہونا مضر نہیں ہے، کیوں کہ خود سلیمان، ام سلمہ سے براہ راست بھی روایت کرتے ہیں، نیز ممکن ہے یہ رجل مبہم انصاری صحابی ہوں جن کا تذکرہ بعد والی حدیث میں ہے )