اگر کوئی مشرک مسلمانوں کے ساتھ ہو کر لڑے تو کیا اس کو مال غنیمت میں سے حصہ ملے گا؟
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ الْفُضَيْلِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِيَارٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَ: يَحْيَى إِنَّ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ لَحِقَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُقَاتِلَ مَعَهُ فَقَالَ: ارْجِعْ، ثُمَّ اتَّفَقَا فَقَالَ: إِنَّا لَا نَسْتَعِينُ بِمُشْرِكٍ.
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ مشرکوں میں سے ایک شخص نبی اکرم ﷺ سے آ کر ملا تاکہ آپ کے ساتھ مل کر لڑائی کرے تو آپ ﷺ نے فرمایا: لوٹ جاؤ، ہم کسی مشرک سے مدد نہیں لیتے ۔
Aishah said (this is the version of narrator Yahya). A man from the polytheists accompanied the Prophet ﷺ to fight along with him. He said “Go back. Both the narrators (Musaddad and Yahya) then agreed. The Prophet said “We do not want any help from a polytheist. ”