Sunan Abu Dawood 2732

جہاد کا بیان

2732Sunan Abu Dawood

اگر کوئی مشرک مسلمانوں کے ساتھ ہو کر لڑے تو کیا اس کو مال غنیمت میں سے حصہ ملے گا؟

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ الْفُضَيْلِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِيَارٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَ: يَحْيَى إِنَّ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ لَحِقَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُقَاتِلَ مَعَهُ فَقَالَ: ارْجِعْ، ثُمَّ اتَّفَقَا فَقَالَ: إِنَّا لَا نَسْتَعِينُ بِمُشْرِكٍ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ مشرکوں میں سے ایک شخص نبی اکرم ﷺ سے آ کر ملا تاکہ آپ کے ساتھ مل کر لڑائی کرے تو آپ ﷺ نے فرمایا: لوٹ جاؤ، ہم کسی مشرک سے مدد نہیں لیتے ۔

Aishah said (this is the version of narrator Yahya). A man from the polytheists accompanied the Prophet ﷺ to fight along with him. He said “Go back. Both the narrators (Musaddad and Yahya) then agreed. The Prophet said “We do not want any help from a polytheist. ”

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجھاد ٥١ (١٨١٧)، سنن الترمذی/السیر ١٠ (١٥٥٨)، سنن ابن ماجہ/الجھاد ٢٧ (٢٨٣٢)، (تحفة الأشراف: ١٦٣٥٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٦٧، ١٤٨)، سنن الدارمی/السیر ٥٤ (٢٥٣٨) (صحیح )