قیدیوں کو اسلام پیش کیے بغیر قتل کر ڈالنا
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ وَعَلَى رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ فَلَمَّا نَزَعَهُ جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ ابْنُ خَطَلٍ: مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ فَقَالَ: اقْتُلُوهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: ابْنُ خَطَلٍ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ وَكَانَ أَبُو بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيُّ قَتَلَهُ.
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مکہ میں فتح مکہ کے سال داخل ہوئے، آپ کے سر پر خود تھا، جب آپ ﷺ نے خود اتارا تو ایک شخص آیا اور کہنے لگا: ابن خطل کعبہ کے غلاف سے چمٹا ہوا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: اس کو قتل کر دو ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن خطل کا نام عبداللہ تھا اور اسے ابوبرزہ اسلمی نے قتل کیا۔
Anas bin Malik (RA) said “The Messenger of Allah ﷺ entered Makkah in the year of the conquest (of Makkah) wearing a helmet on his head. When he took off it a man came to him and said “Ibn Akhtal is hanging with the curtains of the Kaabah. ” He said “Kill him”. Abu Dawud said “The name of Ibn Akhtal is Abd Allaah and Abu Barzat Al Aslami killed him.