Sunan Abu Dawood 1244

نماز کا بیان

1244Sunan Abu Dawood

چھٹی صورت بعضوں نے کہا ہر ایک گروہ ایک رکعت امام کے ساتھ پڑھے پھر سلام پھیر دے اسکے بعد جو ان کے پیچھے ہیں وہ کھڑے ہوجائیں اور ایک رکعت پڑھ لیں پھر پچھلے ان کی جگہ پر آجائیں اور ایک رکعت نماز پڑھ لیں،،

حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا خُصَيْفٌ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ، فَقَامُوا صَفَّيْنِ صَفٌّ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَصَفٌّ مُسْتَقْبِلَ الْعَدُوِّ، فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً، ثُمَّ جَاءَ الْآخَرُونَ فَقَامُوا مَقَامَهُمْ وَاسْتَقْبَلَ هَؤُلَاءِ الْعَدُوَّ، فَصَلَّى بِهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً، ثُمَّ سَلَّمَ فَقَامَ هَؤُلَاءِ فَصَلَّوْا لِأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً، ثُمَّ سَلَّمُوا، ثُمَّ ذَهَبُوا فَقَامُوا مَقَامَ أُولَئِكَ مُسْتَقْبِلِي الْعَدُوِّ وَرَجَعَ أُولَئِكَ إِلَى مَقَامِهِمْ فَصَلَّوْا لِأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً، ثُمَّ سَلَّمُوا.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے نماز خوف پڑھائی تو ایک صف رسول اللہ ﷺ کے پیچھے اور دوسری صف دشمن کے مقابل کھڑی ہوئی، آپ نے ان کو ایک رکعت پڑھائی پھر دوسری جماعت آئی اور ان کی جگہ کھڑی ہوئی اور یہ جماعت دشمن کے سامنے چلی گئی، اب نبی اکرم ﷺ نے ان کو ایک رکعت پڑھائی، پھر سلام پھیر دیا، پھر یہ جماعت کھڑی ہوئی، اس نے دوسری رکعت ادا کر کے سلام پھیرا اور جا کر ان کی جگہ کھڑی ہوگئی، جو دشمن کے سامنے تھے، اب وہ لوگ ان کی جگہ آگئے اور انہوں نے اپنی دوسری رکعت ادا کی پھر سلام پھیرا۔

Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : The Messenger of Allah ﷺ led us in prayer in the time of danger. They (the people) stood in two rows. One row was behind the Messenger of Allah ﷺ and the other faced the enemy. The Messenger of Allah ﷺ led them in one rakah, and then the other section came and took their place; they went and faced the enemy. The Prophet ﷺ led them in one rakah and uttered the salutation. They stood up and prayed the second rakah by themselves and uttered the salutation and went away; they took the place of the other section facing the enemy. They came back and took their place. They prayed one rakah by themselves and then uttered the salutation.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٩٦٠٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٧٥، ٣٧٦، ٤٠٩) (ضعیف) ( ابوعبیدہ کا اپنے والد ابن مسعود ؓ سے سماع نہیں ہے )